EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

اسرائیلی سافٹ ویئر کے ذریعے انسانی حقوق کے کارکنوں اور صحافیوں کے فون ہیک کرنے کا انکشاف

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تل ابیب میں ایک خاتون این ایس او گروپ کی عمارت سے سامنے سے گزر رہی ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
ویب ڈیسک — دہشت گردوں اور جرائم پیشہ افراد کا سراغ لگانے کے لیے بنائے گئے اسرائیلی سپائی ویئر (سافٹ ویئر) کے ذریعے دنیا کے کئی ممالک میں انسانی حقوق کے کارکنوں، صحافیوں اور تاجروں کے اسمارٹ فونز ہیک کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔

اسرائیلی کمپنی نے پیگاسس نامی جاسوسی سافٹ ویئر کے استعمال کا لائسنس دنیا کے کئی ممالک کی حکومتوں کو دے رکھا تھا۔

جاسوسی سافٹ ویئر کے ذریعے صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور کاروباری شخصیات کے فون ہیک کرنے کا انکشاف عالمی سطح پر 17 میڈیا پارٹنرز کی تحقیقات کے بعد ہوا ہے۔

تحقیقات کے دوران دنیا کے مختلف ممالک میں شہریوں کے 50 ہزار اسمارٹ فونز کی نگرانی کرنے کا انکشاف ہوا ہے جن میں کئی ایسے اسمارٹ فونز بھی تھے جو صحافیوں، انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں اور بڑی کاروباری شخصیات کے زیرِ استعمال تھے۔

ان میں سے دو فونز اُن دو خواتین کے بھی زیرِ استعمال تھے جو مقتول سعودی صحافی جمال خشوگی کی قریبی ساتھی تھیں۔

یہ سافٹ ویئر اسرائیلی کمپنی ‘این ایس او’ نے بنایا ہے اور دنیا کے مختلف ممالک اس کے کلائنٹ ہیں۔ یہ کمپنی ریگولیشن سے آزاد جاسوسی کرنے والی نجی سپائی ویئر انڈسٹری میں اپنا مقام رکھتی ہے۔

میڈیا پارٹنرز میں سے ایک ‘واشنگٹن پوسٹ’ نے اس جاسوسی کرنے والے سافٹ ویئر کے بارے میں اپنے ایک مضمون میں کہا ہے کہ فہرست میں جو فون نمبر موجود ہیں ان میں نام شامل نہیں ہیں لیکن رپورٹرز نے 50 ممالک میں ایک ہزار افراد کو شناخت کیا ہے۔ ان میں عرب شاہی خاندان کے افراد، کم از کم 65 کاروباری شخصیات، 85 انسانی حقوق کے سرگرم کارکن، 189 صحافی اور 600 سے زیادہ سیاست دان اور حکومتی عہدیدار شامل ہیں۔ ان شخصیات میں متعدد سربراہان حکومت اور وزرائے اعظم بھی شامل ہیں۔

اس فہرست میں جو 2016 تک کا ڈیٹا فراہم کرتی ہے، اس میں وائس آف امریکہ، سی این این، نیو یارک ٹائمز، وال اسٹریٹ جرنل، بلومبرگ نیوز، فرانس کے لی منڈے، لندن میں فنانشل ٹائمز اور قطر کے الجزیرہ ٹی وی سے وابستہ صحافی بھی شامل ہیں۔

صحافت سے متعلق پیرس میں قائم ایک غیر منافع بخش ادارے ‘فاربڈن اسٹوریز’ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے جو انسانی حقوق کا ایک ادارہ ہے، اس فہرست تک رسائی حاصل کی اور اسے میڈیا تنظیموں کے ساتھ شیئر کیا جنہوں نے ان معلومات پر تحقیق کی۔

یہ واضح نہیں ہے کہ کس نے ان ٹیلی فون نمبروں کو فہرست میں شامل کیا اور آیا ان نمبروں کے صارفین کی جاسوسی کی گئی یا نہیں۔

‘این ایس او’ گروپ کا کہنا ہے کہ وہ جاسوسی کے اپنے سافٹ وئیر پیگاسس کا لائسنس جاری کرتی ہے اور اس کا مقصد دہشت گردوں اور مجرموں کا پتا لگانا ہوتا ہے۔ کمپنی نے کہا ہے کہ اس بارے میں میڈیا نے جو تحقیقات کی ہیں ان کے نتائج میں مبالغہ آرائی ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ جاسوسی والا سافٹ ویئر استعمال نہیں کرتی بلکہ اپنے کلائنٹس کو اس کے استعمال کا لائسنس دیتی ہے۔ کمپنی کے مطابق اس کے پاس تفصیل نہیں ہے کہ ان کے کلائنٹس نے کسی طرح کی خفیہ معلومات حاصل کیں۔

‘این ایس او’ نے کہا ہے کہ ان کے کلائنٹس میں 40 ممالک کے اندر انٹیلی جنس ایجنسیز، فوج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے شامل ہیں لیکن کمپنی نے اپنے کلائنٹس کا نام بتانے سے انکار کر دیا ہے۔

بھارت میں کئی اہم شخصیات کے فون ہیک ہونے کا انکشاف

اتوار کو نئی دہلی میں ایک ڈیجیٹل نیوز پلیٹ فارم ’دی وائر‘ کی جانب سے جاری کی جانے والی رپورٹ کے مطابق بھارت کے 300 موبائل فون نمبرز کو ہدف بنایا گیا جن میں موجودہ مودی حکومت کے دو وزرا، تین اپوزیشن رہنماؤں، ایک آئینی اتھارٹی، متعدد کاروباری شخصیات اور 40 صحافیوں کے نمبرز شامل ہیں۔

بھارت کی اپوزیشن جماعتوں نے اس معاملے کو انتہائی سنگین قرار دیتے ہوئے اسے آئینی حقوق اور شہریوں کی پرائیویسی پر حملہ قرار دیا ہے۔

اس وقت جب کہ پارلیمنٹ کے مون سون اجلاس کا آغاز ہو گیا ہے متعدد اپوزیشن اراکین نے اس معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث کرانے کا نوٹس دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اس معاملے پر جواب دے۔

اس فہرست میں بھارت کے جن 40 صحافیوں کے نام ہیں ان میں سینئر صحافی اور ہفت روزہ ’چوتھی دنیا‘ کے مدیر سنتوش بھارتیہ بھی شامل ہیں۔

انہوں نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ ان کا نام سب سے پہلے 2019 میں آیا تھا جس پر پہلے امریکی اخبار ’نیو یارک ٹائمز‘ اور پھر بھارتی میڈیا نے رپورٹنگ کی تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر اسی وقت بھارتی میڈیا اور سیاست دانوں نے توجہ دی ہوتی تو دیگر صحافیوں کی جاسوسی کی کوشش نہ ہوتی۔

انہوں نے اس بارے میں حکومت کو موردِ الزام ٹھیراتے ہوئے کہا کہ وہ غیر جانب دار صحافیوں سے خوفزدہ ہے اس لیے یہ سافٹ ویئر اُن کی جاسوسی کے لیے استعمال ہو رہا تھا۔

انہوں نے کہا کہ جاسوسی یا نگرانی کا یہ معاملہ 2018 سے 2019 کے درمیان کا ہے۔ اس وقت بھی نریندر مودی وزیرِ اعظم اور امت شاہ وزیرِ داخلہ تھے۔ ان کی مرضی کے بغیر اتنا بڑا کام نہیں ہو سکتا۔

انہوں نے کہا کہ اگر حکومت یہ کہتی ہے کہ وہ اس میں شامل نہیں ہے تو یہ بات قابلِ قبول نہیں ہے۔ کوئی غیر ملکی ایجنسی حکومت کی مرضی کے بغیر اتنا بڑا کام کیسے کر سکتی ہے اور اگر واقعی حکومت کو اس کا علم نہیں تھا تو یہ اور بھی خطرناک بات ہے۔

بھارتی حکومت نے اپوزیشن اور بعض صحافیوں کے اس الزام کی تردید کی ہے کہ وہ جاسوسی میں ملوث رہی ہے۔

انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت نے ایک بیان میں کہا کہ حکومت کی جانب سے مخصوص افراد کی جاسوسی کا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہے۔ بھارت ایک مضبوط جمہوریت ہے جو اپنے تمام شہریوں کی پرائیویسی کے بنیادی حق کا تحفظ کرتا ہے۔

اس کے مطابق ماضی میں بھی حکومت پر واٹس ایپ پر ‘پیگاسس’ سپائی ویئر کے استعمال کا دعویٰ کیا گیا تھا جس کی کوئی ٹھوس بنیاد نہیں تھی اور بھارتی سپریم کورٹ میں واٹس ایپ سمیت تمام فریقوں نے اس الزام کی واضح انداز میں تردید کی تھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 2594 posts and counting.See all posts by voa

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے