جمائما گولڈ سمتھ: مریم نواز اور عمران خان کی جلسوں میں ایک دوسرے کے بچوں پر تنقید اور جمائما کا شکوہ

منزہ انوار - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد


جمائما

Getty Images

’ایک دہائی تک میڈیا اور سیاستدانوں کی جانب سے کیے جانے والے یہود مخالف حملوں (ہر ہفتے موت کی دھمکیوں اور گھر کے باہر احتجاج) کے بعد میں نے سنہ 2004 میں پاکستان چھوڑ دیا تھا۔ لیکن آج بھی وہی سب کچھ جاری ہے۔‘

وزیرِ اعظم عمران کی سابقہ اہلیہ جمائمہ گولڈ سمتھ جو سنہ 2004 میں عمران خان سے علیحدگی کے بعد پاکستان چھوڑ کر واپس برطانیہ منتقل ہو گئیں تھیں، کسی نہ کسی بہانے آئے روز عمران خان کے سیاسی مخالفین کی جانب سے پاکستان میں موضوع بحث رہتی ہیں اور اکثر جمائما کو ان کے خاندان اور مذہب کی بنیاد پر نشانہ بنایا جاتا ہے۔

سنہ 2004 میں ایسے کیا حالات تھے جنھوں نے جمائما کو پاکستان چھوڑنے پر مجبور کیا، اس کی تفصیل میں جانے سے قبل یہ جاننا ضروری ہے کہ اب آخر ایسا کیا ہوا کہ انھیں یہ ٹویٹ کرنی پڑی ہے؟

اس کے لیے ہمیں مسلم لیگ نواز کی نائب صدر مریم نواز اور وزیر اعظم عمران خان کی پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں کی گئی حالیہ تقاریر کو سُننا ہو گا۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں عام انتخابات منعقد ہونے جا رہے ہیں، اسی لیے ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں کی قیادت یہاں جلسے، جلوسوں اور ریلیوں میں مشغول ہے۔ سیاسی قیادت کی جانب سے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے نہ صرف سخت تنقید کی جا رہی ہے بلکہ ذاتی نوعیت کے حملے بھی جاری ہیں۔

اتوار کے روز کشمیر میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے علاج کی غرض سے برطانیہ جانے والے سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کی لندن میں مریم نواز اور کیپٹن صفدر کے بیٹے جنید صفدر کے پولو میچ کے دوران لی گئی تصاویر پر تنقید کرتے ہوئے کہا جنید صفدر کو اپنے نشانے پر لیا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ’کمزور جیلوں میں جائے اور طاقتور این آر او لے لے اور باہر جا کر بیٹھ جائے اور اپنے پوتے کا پولو میچ دیکھے۔۔۔‘

’پوتا جو برطانیہ میں پولو میچ کھیل رہا ہے، میرے سے پوچھیے۔۔۔ آپ کے کشمیر سے کتنے لوگ باہر رہتے ہیں، میں آپ کے کتنے رشتہ داروں سے لندن اور مانچسٹر میں ملا ہوں، کبھی اُن سے پوچھیں کہ وہاں کس طرح کا انسان پولو کھیل سکتا ہے تو وہ آپ کو بتائیں گے کہ یہ بادشاہوں کا کھیل ہے۔‘

عمران خان کا کہنا تھا کہ ’عام آدمی پولو نہیں کھیل سکتا۔ برطانیہ میں گھوڑا رکھنا اور پولو کھیلنے کے لیے بڑا پیسہ چاہیے۔ تو یہ بتائیں کہ پوتا جی کے پاس اتنا پیسہ کدھر سے آیا؟‘

انھوں نے مجمعے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ’یہ آپ کا پیسہ ہے، یہ یہاں سے باہر گیا ہے۔‘

گذشتہ روز (پیر) مریم نواز نے بھی ایک عوامی جلسے کے دوران جنید صفدر پر کی گئی تنقید پر اپنا ردِعمل دیا۔

انھوں نے کہا ’وہ (جنید صفدر) وہاں کی پولو ٹیم کا کپتان بن کر پاکستان کی عزت میں اضافہ کر رہا ہے۔ وہ (عمران خان) کہتا ہے کہ نواسہ باہر جا کر پولو کھیل رہا ہے، وہ بچوں کو بھی نہیں بخشتا۔۔۔ وہ کہتا ہے جنید کے پاس پولو کے پیسے کہاں سے آئے ہیں۔‘

مریم نے مزید کہا کہ ’میں بچوں تک نہیں جانا چاہتی تھی لیکن جیسی بات کرو گے منھ توڑ جواب ملے گا۔۔۔ وہ (جنید صفدر) نواز شریف کا نواسہ ہے، وہ گولڈ سمتھ کا نواسہ نہیں ہے۔‘

مریم یہاں تک محدود نہیں رہیں بلکہ انھوں نے اس کے بعد ایک جملہ کہا جسے جمائما نے یہود مخالف قرار دیا۔

مریم نواز کی جانب سے اس ردعمل کے سامنے آنے کے بعد گذشتہ رات جمائما نے ٹویٹ کی۔ اپنی ٹویٹ میں انھوں نے مریم نواز کی جانب سے ادا کیے جانے والا جملہ دہراتے ہوئے لکھا کہ یہی وہ وجوہات تھیں جن کے باعث انھیں 2004 میں پاکستان چھوڑنا پڑا تھا۔

جمائما کو پاکستان کیوں چھوڑنا پڑا تھا؟

جمائما

Getty Images

برطانیہ کے ایک انتہائی دولت مند گھرانے سے تعلق رکھنے والی اور ایک ارب پتی تاجر کی بیٹی جمائما گولڈ سمتھ نے سنہ 1995 میں عمران خان سے محبت کی شادی کی تھی جس سے ان کے دو بیٹے سلیمان خان اور قاسم خان ہیں۔

لیکن یہ شادی صرف نو برس ہی چل سکی اور 22 جون 2004 کو دونوں میں علیحدگی ہو گئی تھی۔

اس وقت تحریک انصاف کے سیکرٹری اطلاعات اکبر ایس بابر کی جانب سے جاری کردہ بیان میں عمران خان کی جانب سے کہا گیا تھا کہ ’میرا گھر اور مستقبل پاکستان میں ہے جبکہ جمائما نے پاکستان میں رہنے کی بڑی کوشش کی، لیکن میری سیاسی زندگی نے اُن کی یہاں سکونت کو دشوار بنا دیا۔‘

اس حوالے سے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے بتایا کہ ’اس وقت مختلف عناصر کی جانب سے جمائما پر ’یہودی لابی‘ کی نمائندہ ہونے کا الزام لگایا جاتا تھا اور یہ دعوے کیے جاتے تھے کہ انھوں نے کسی سازش کے تحت عمران سے شادی کی ہے۔‘

سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ ’ظاہر ہے یہ سب بے بنیاد الزامات تھے اور اس وقت بھی مذہبی عناصر اس میں پیش پیش تھے اور مولانا فضل الرحمن تو آج بھی عمران خان کو ’یہودی ایجنٹ‘ کہہ کر پکارتے ہیں اور ظاہر ہے جب جمائما یہاں تھیں تو اس وقت تو انھیں ایسے الزامات لگانے کا زیادہ موقع ملتا تھا۔‘

یہ بھی پڑھیے

’جمائما کی وفا‘

جمائما کو قرض کی ادائیگی کا ریکارڈ طلب

جمائما کا ریحام خان کی کتاب پر ہتکِ عزت کے دعوے کا اعلان

سوشل میڈیا بحث: ’مجھے یقین ہے جمائما اندر سے کچھ ٹوٹ گئی ہوں گی‘

جمائما سمتھ نے اپنی ٹویٹ میں پاکستان چھوڑنے کی وجوہات میں خود کو ملنے والی قتل کی دھمکیوں اور گھر کے باہر احتجاج کا بھی ذکر کیا ہے۔ اس کے متعلق سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ جمائما کو مارنے کی دھمکیوں کے متعلق تو انھیں علم نہیں لیکن عمران خان کے گھر کے باہر احتجاج ہوتا رہتا تھا۔

یاد رہے سنہ 2013 میں سلیم صافی کو دیے گئے ایک انٹرویو کے دوران جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ ’میں نے عمران خان کا ایجنڈا سٹڈی کیا ہے اور اس کے پیچھے یہودی لابی کا بہت بڑا ہاتھ ہے اور میرے پاس اس کے ثبوت موجود ہیں، میں بغیر ذمہ داری کے ایسی بات نہیں کر رہا ہوں۔‘

پاکستانی آج بھی آپ کا بہت احترام کرتے ہیں

سوشل میڈیا پر جہاں ایک جانب بیشتر افراد مریم نواز اور عمران خان کے ایک دوسرے کے بچوں کے حوالے سے بیانات پر تنقید کرتے نظر آتے ہیں وہیں کئی افراد جمائما کو بتانے کی کوشش کرتے نظر آئے کہ پاکستانی آج بھی اُن کا کتنا احترام کرتے ہیں۔

محقق اور سماجی کارکن عمار علی جان نے جمائما کی ٹویٹ کا جواب دیتے ہوئے لکھا ’مریم نواز کے آپ اور آپ کے بچوں کے خلاف جملے انتہائی ناماسب تھے۔ پاکستانی عوام آپ کے خاندان کا احترام کرتے ہیں۔ امید ہے کہ یہ تنقید ان لوگوں کے لیے سبق آموز ثابت ہو گی جو سیاسی مخالفین کے خلاف تعصب کا استعمال کرتے رہتے ہیں۔‘

انوا الحق نے لکھا ’ایک خاتون جو اپنا ملک چھوڑ کر پاکستان آئی اسے پاکستان میں بھی جینے نہ دیا اور وہ مجبور ہو کر واپس چلی گئی۔ اس خاتون نے آج تک پاکستان اور اسلام کے حوالے سے کوئی منفی بات نہیں کی۔ لیکن یہ لوگ اب بھی اس خاتون اور اس کے بچوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ سلام ہے جمائما کے صبر پر۔‘

اسی طرح بلاگر ہارون ریاض نے مریم نواز پر تنقید کرتے ہوئے لکھا ’انتہائی ناگوار۔ مریم نواز کو معافی مانگنی چاہیے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں یہود مخالف رویہ ہی چلتا ہے۔‘

تاہم کچھ افراد جمائما خان سے یہ بھی پوچھتے نظر آئے کہ ’کیا آپ نے اپنے سابق شوہر کا مریم نواز کے بیٹے کے متعلق بیان سُنا ہے؟ اور کیا آپ کو وہ قابلِ اعتراض نہیں لگا؟‘

سعود نے ٹویٹ کیا ’جمائما اگر اپنے بچوں کے دفاع سے ایک قدم آگے بڑھ کر عمران خان کے مریم نواز کے بیٹے پر حملے کی بھی مذمت کر دیتیں تو بات میں کچھ وزن ہوتا۔‘

بیشتر افراد کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر عمران خان، نواز شریف پر علاج کے بہانے برطانیہ جانے اور وہاں جا کر پولو میچ دیکھنے پر تنقید کرنا چاہتے ہیں تو ضرور کریں لیکن اس میں ان کے نواسے کو گھسیٹنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے تھی۔

پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے شرجیل انعام میمن نے لکھا ’بدقسمتی سے ہمارے ہاں سیاست میں مخالفین کے گھر والوں پر ذاتی حملے ایک نیا کلچر ہے۔ اس طرح کے ذاتی حملے بند ہونا چاہیے اور قائدین کو شائستگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words