حج اور کورونا وائرس
حج ایک اسلامی عبادت ہے اور اسلام کا ایک اہم رکن بھی ہے جو ہر سال 9 ذوالحجہ کو ادا کی جاتی ہے جس میں بڑی تعداد میں دنیا کے کونے کونے سے مسلمان شرکت کرتے ہیں اور اپنے پروردگار کے ہاں اس کے گھر میں پیش ہو جاتے ہیں لیکن پچھلے سال سے کورونا وائرس نے پوری دنیا کو لپیٹ میں لے کر رکھا ہے اور اس مہلک وبا کی وجہ سے ہر جگہ لاک ڈاؤن لگایا گیا۔
کورونا وائرس نے نا صرف مذہبی اور دنیاوی چیزوں کو ہلا کر رکھا بلکہ دنیا کے بڑے بڑے سپر پاور ممالک نے بھی اس مہلک وبا کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے، اس وبا نے ہمیں یہ سکھا دیا کہ اس تمام کائنات کا مالک صرف اور صرف ایک ہمارا اللہ ہے اور مغربی دنیا کو بھی پتا چل گیا کہ وہ اس وبا کا مقابلہ نہیں کر سکتے اور سب سے زیادہ مغربی ممالک ہی اس وبا کی ضد میں آئے اور تباہی مچا دی۔
لیکن اب آتے ہیں حج کی طرف تو کورونا وائرس وبا کی صورتحال کے پیش نظر حج بھی متاثر ہوا اور اس سال بھی حج میں صرف مخصوص لوگ ہی عبادت ادا کر سکتے ہیں یہ ہماری امت مسلمہ کے لیے اچھی خبر نہیں ہے کیونکہ اس بار تو کورونا وائرس ویکسین بھی نصف آبادی کو لگ چکی ہے اور سعودی عرب میں اتنے کیسز بھی نہیں ہیں لیکن پھر بھی باقی ممالک والے نہیں جا سکتے حج کے لیے اور اگر آپ مغربی دنیا کی طرف نظر ثانی کرے تو حال ہی میں انگلینڈ اور اٹلی کے درمیان فٹبال ورلڈ کپ کا فائنل میچ بھی کھیلا گیا اور اس میں تماشائی بھی تھے اور خوب جشن بھی منایا گیا گراؤنڈ کے اندر بھی اور باہر بھی اور ہزاروں لوگ اس میں شریک ہوئے تھے لیکن اگر اس طرف دیکھا جائے تو سعودی عرب کی قیادت حج کے لیے باقی ممالک کو نہیں چھوڑتے ہیں یہ کھلا تضاد ہے اور اگر آپ معاشی اعتبار سے دیکھیں تو حج سے سب سے زیادہ آمدن ہوتی ہے لیکن پھر بھی ہمارے مسلمان ملکوں کے عوام اور حکمران دونوں سوئے ہوئے ہیں، میری سعودی عرب کی حکومت سے اپیل ہے کہ براہ کرم اس فیصلے پر نظرثانی کرے۔


