EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

میناروں کا کون سا مذہب ہوتا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دسمبر 2020 میں کالعدم تحریک لبیک کے تین کارکنان نے پولیس میں رپورٹ درج کرائی جس میں دیگر شکایتوں کے علاوہ یہ شکایت بھی کی گئی کہ شاہ مسکین ضلع ننکانہ میں احمدیوں کی عبادت گاہ میں ایک مینارہ بھی موجود ہے جو کہ قانون کی خلاف ورزی ہے۔ اس کا یہ نتیجہ نکلا کہ 29 اور 30 دسمبر 2020 کی درمیانی رات کو رات کے اندھیرے میں پولیس نے شاہ مسکین میں احمدیوں کی عبادت گاہ کا مینارہ منہدم کر دیا۔ نہ یہ وضاحت ضروری سمجھی گئی کہ اس مینارے سے کس قانون کی طبع نازک کو صدمہ پہنچ رہا ہے اور نہ ہی کسی عدالت کی طرف رجوع کرنے کی زحمت کی گئی۔

8 جنوری 2021 کو ضلع ننکانہ میں ہی کوٹ دیالداس کے مقام پر احمدیوں کی عبادت گاہ میں نہ صرف مینارے بلکہ محرابیں بھی دریافت ہو گئیں۔ یعنی یک نہ شد دو شد۔ اس پر مقامی پولیس نے اس گاؤں کے احمدیوں کو فون کیا کہ آپ کی عبادت گاہ میں میناروں اور محرابوں کی موجودگی کی تشویشناک اطلاعات موصول ہوئی ہیں اس لئے پولیس سٹیشن میں حاضر ہو کر وضاحت پیش کریں۔

لیکن معلوم ہوتا ہے کہ اب میناروں کے انکشاف کی وبا صرف ضلع ننکانہ تک محدود نہیں ہے کیونکہ ایک ایسا ہی واقعہ ضلع فیصل آباد کے گاؤں 261 آر بی ادھوالی میں بھی پیش آیا۔ اس گاؤں میں بھی احمدیوں کی عبادت گاہ میں ایک مینارے کا انکشاف ہوا اور کافی بحث کے بعد 17 جون کو پولیس کے چاق و چوبند سپاہیوں نے رات کو آٹھ بجے دیگر کارروائیوں کے علاوہ احمدیوں کی عبادت گاہ کو منہدم کر دیا۔ اور باوجود اس کے کہ وہاں پر بجلی بند کر دی گئی تھی اور کسی کو ویڈیو بنانے کی اجازت نہیں تھی لیکن پھر بھی پولیس کے جو اہلکار میناروں کو گرانے کا کارنامہ سرانجام دے رہے تھے انہوں نے اپنے منہ کپڑے سے چھپا رکھے تھے۔ اور اتنی احتیاط کی گئی کہ ان میناروں کو منہدم کرنے کے بعد پولیس ملبہ بھی اپنے ساتھ لے گئی۔

میناروں کے خلاف اس مہم کے پیچھے یہ ذہنیت ہے کارفرما ہے کہ مینارہ تو مسلمانوں کے مساجد کی علامت ہے اور آئین پاکستان میں دوسری ترمیم کے ذریعہ احمدیوں کو قانون اور آئین کی اغراض کے لئے غیر مسلم قرار دیا گیا تھا اس لئے ان کو کیا حق پہنچتا ہے کہ وہ اپنی عبادت گاہ میں میناروں یا محراب کا استعمال کریں۔

کسی بحث میں الجھنے سے پہلے ہمیں چند بنیادی سوالوں کا جائزہ لینا ہوگا۔ کیا عبادت گاہوں میں میناروں کا استعمال مسلمانوں کی مساجد میں شروع ہوا یا اس سے قبل دوسرے مذاہب کی عبادت گاہوں کے ساتھ مینارے تعمیر کیے جا رہے تھے؟ کیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں مساجد کے ساتھ مینارے تعمیر کیے جا رہے تھے۔ جس کی بناء پر یہ نتیجہ اخذ کیا جائے کہ مینارے مساجد کی عمارت کا لازمی حصہ ہیں۔

سب سے پہلے تو یہ بات قابل ذکر ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں مساجد کے ساتھ کوئی مینارہ تعمیر نہیں کیا گیا تھا۔ اسی طرح خلفاء راشدین کے دور میں بھی مساجد کے ساتھ مینارے تعمیر نہیں کیے گئے تھے۔ تاریخی طور پر سب سے پہلے مسجد کے ساتھ مینارے کی تعمیر کا ذکر بنو امیہ کے ولید ابن عبد المالک کے دور میں ملتا ہے اور اس کا دور 86 ہجری سے 96 ہجری تک تھا۔

اس سے بہت قبل کہ مسلمانوں کی مساجد کے ساتھ مینارے تعمیر کیے جاتے مسیحی گرجاؤں کی تعمیر میں مینارے شامل تھے۔ اور ایسے شہروں میں بھی جنہیں مسلمانوں نے فتح کیا تھا ان گرجاؤں میں مینارے موجود تھے۔ بلکہ یہ دعویٰ بھی کیا جاتا ہے کہ بنو امیہ کے دور میں مساجد کے ساتھ میناروں کی تعمیر کا خیال دمشق کے ایک بڑے گرجا گھر میں میناروں کو دیکھ کر آیا تھا۔

اور اس سے بھی سو دو سال قبل کی چرچ کی عمارت میں ایک ٹاور یا مینارہ تعمیر کیا جاتا تھا۔ قدیم زمانے سے چرچ کی عمارت کے ساتھ ایک ٹاور ہوتا تھا جس میں گھنٹیاں نصب ہوتی تھیں اور روایتی طور پر یہ گھنٹیاں خاص مواقع پر بجائی جاتی تھیں۔ جس طرح اذان کا مقصد لوگوں کو نماز کے وقت کی اطلاع دینا ہوتا ہے، چرچ کی گھنٹیوں کا مقصد لوگوں کو چرچ کی سروس کے لئے بلانا ہوتا ہے۔ اور اس غرض کے لئے ایک ٹاور بنا کر اس میں گھنٹیاں نصب کی جاتی ہیں۔ اور قدیم چرچوں کے ساتھ اس قسم کے ٹاور پورے یورپ میں بکھرے ہوئے ہیں۔ اسی طرح اس دور میں بھی یہودیوں کی کئی عبادت گاہوں میں بھی مینارے موجود ہیں۔ مثال کے طور پر ہنگری کے مشہور Dohány Street Synagogue کے ساتھ مینارے موجود ہیں۔

(The Origin and History of the Minaret Author (s) : Richard J. H. Gottheil Source: Journal of the American Oriental Society , Mar., 1910, Vol. 30, No. 2 (Mar., 1910) , pp. 132-154)

خلاصہ کلام یہ ہے کہ یہ نظریہ کہ مینارہ ایک ایسی چیز ہے جو کہ صرف مساجد کے ساتھ ہی بن سکتی ہے اور اگر کسی اور عبادت گاہ کے ساتھ بنایا گیا تو یہ ایک ایسا جرم ہے جس کے بارے میں پولیس سٹیشن جا کر رپورٹ درج کرائی جائے گی اور اسے ایسا سنگین جرم سمجھا جائے گا کہ بغیر کسی عدالت سے رجوع کیے پولیس کے اہلکار اس مینارے کو منہدم کر دیں گے بلکہ اس کا ملبہ بھی ساتھ اٹھا کر لے جائیں گے، ایک بے بنیاد نظریہ ہے۔

میناروں کے خلاف یہ مہم اس ذہنی روش کا حصہ ہے جس کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں کہ مذہب کی بنیاد پر پاکستان کی آبادی کو تقسیم در تقسیم کیا جائے۔ اور اس کا فائدہ صرف پاکستان کے دشمنوں کو ہی ہو سکتا ہے۔ اس سوچ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 2018 میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنے ایک تفصیلی فیصلہ میں اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ احمدیوں کا لباس اور حلیہ مسلمانوں سے ملتا جلتا ہے۔ اس فیصلہ کے اس حصہ کے الفاظ یہ تھے

Most of the minorities residing in Pakistan hold a separate identification in reference to their names and identity but according to the constitution one of the minorities do not hold a distinct identification due to their names and general attire which leads to crisis.

نام اور پہچان کے حوالے سے پاکستان کی اکثر اقلیتوں کی علیحدہ شناخت ہے۔ لیکن آئین کی رو سے ایک اقلیت ہے جس کی نام اور لباس اور حلیہ کے اعتبار سے علیحدہ تشخص نہیں ہے جس کی وجہ سے بحران پیدا ہو رہا ہے۔

یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ آئین کی کون سی شق یہ مطالبہ کرتی ہے کہ ہر مذہب سے وابستہ افراد کا لباس اور حلیہ علیحدہ ہو؟ اور اگر احمدیوں کا لباس اور حلیہ پاکستان کے دوسرے شہریوں کی طرح ہو گا تو اس سے ایک ایسا بحران کس طرح پیدا ہو جائے گا کہ عدالت کو اس کا نوٹس لینا پڑ جائے۔ اگر یہ معیار تسلیم کر لیا جائے تو یورپ اور امریکہ کے ممالک کے باشندے یہ مطالبہ کر سکتے ہیں کہ ہمارے ممالک میں جو مسلمان نقل مکانی کر کے آباد ہوئے ہیں ان پر پابندی ہونی چاہیے کہ وہ کوٹ پتلون پہنیں۔ کیونکہ اس طرح ان کا اور ہمارا حلیہ ایک جیسا ہو جائے گا اور اس سے ہمارے ملک میں بحران پیدا ہو جائے گا۔

اگر آج ہم پاکستان میں تعصب کی ان لہروں کو بڑھنے دیں اور طاقت پکڑنے دیں تو ماضی کی طرح آخر کار یہ لہریں ایک طوفان کا روپ دھار لیں گی جسے قابو کرنا کسی کے بس میں نہیں ہوگا اور پھر یہ طوفان پاکستان کی سرحدوں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کے نتائج دوسرے ممالک میں بھی ظاہر ہوں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے