یہاں ہر کوئی بد معاش ہے!


کیا آپ کو معلوم ہے کہ آپ بد معاش ہیں؟ کیا آپ کو معلوم ہے کہ میں بھی بد معاش ہوں، کیا آپ کو معلوم ہے کہ ہم سب بد معاش ہیں؟ جی ایسا ہی ہے ہم سب کسی نہ کسی مقام پر پہنچ کر بدمعاشی کے عہدے پر فائز ہو جاتے ہیں۔ ہم سب اپنے ماتحت کے لئے بد معاش ہوتے ہیں، ہم ان لوگوں کے لئے بد معاش ہیں جن پر ہمارا زور چلتا ہے۔ ہم اپنے سے کمزور لوگوں کے لئے بد معاش بن جاتے ہیں۔ ہم پر وہ بد معاشی کرتے ہیں جو ہم سے زیادہ طاقتور ہیں اور ہم ان پر بد معاشی کرتے ہیں جو ہم سے کمزور ہوتے ہیں۔

بد معاشی کیا ہے؟ زور زبردستی، بزور طاقت کوئی کام کروانا، مظلوم پر ظلم کرنا، کسی کا حق کھانا، دو نمبری، زمین پر قبضہ، تجاوزات قائم کرنا، غیر قانونی کام کرنا یہ سب بد معاشی کے زمرے میں آتا ہے۔ البتہ کچھ لوگ حق مانگنے کے لئے احتجاج کرنے والوں کو بھی بد معاشی کے زمرے میں لے آتے ہیں جو کہ بالکل غلط سوچ ہے۔ بد معاشی ہمارے نظام میں بھی ہے اور ہماری شخصیت میں بھی۔ یہ ہماری زندگی کا لازمی جزو ہے بلکہ ہماری شخصیت کا بھی، مگر ہم اس سے ناواقف ہیں۔

ہم سب اپنی اپنی حیثیت و استطاعت کے مطابق بد معاش بنے پھرتے ہیں اور اپنے سے کمزور لوگوں پر دھونس جماتے ہیں۔ البتہ جہاں کوئی ہم سے بڑا ٹکڑا جائے ہم فوری بھیگی بلی بن جاتے ہیں۔ بد معاشی کا یہ سلسلہ کسی نہ کسی موقع پر جاری رہتا ہے۔ کبھی ہماری یہ بدمعاشی ہمارے گھروں پر کام کرنے والے ملازمین پر ہوتی ہے اور کبھی یہ آفس میں کام کرنے والے جونئیر ملازمین کے لئے۔ البتہ بد معاشی کا یہ ہی سلسلہ ہم سے بڑے افسر ہم پر جاری رکھتے ہیں۔

آپ خیال کرتے ہوں گے کہ یہ تو نظام ہے اس میں بد معاشی کیسی؟ آپ بھی صحیح خیال کرتے ہیں لیکن اگر ملازمین کو ان کے دائرہ اختیار کے مطابق ہی کام دے رہے ہیں تو بالکل یہ نظام ہے مگر اس سے ہٹ کر کوئی کام تفویض کرنا تو سراسر زیادتی ہے کیونکہ آپ طاقت کا یا کرسی کا فائدہ اٹھا رہے ہیں تو یہ بد معاشی ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ جس کی جتنی حیثیت و استطاعت وہ اتنا بڑا بدمعاش بنا پھرتا ہے۔ جیسے کہ :

مولوی مذہبی بدمعاشی کر کے زمین پر قبضہ کرتا ہے اور مسجد بناتا ہے اور پھر وہاں سے اپنا معاملات چلاتا ہے۔ اب اگر کوئی مسجد کے خلاف بولے تو وہ دین کا دشمن ٹھہرایا جاتا ہے۔

اسی طرح لینڈ گریبر کی بدمعاشی یہ ہے کہ وہ زمین پر قبضہ کر کے پلازہ بناتا ہے اور بڑے بڑے افسران کو رشوت کھلاتا ہے اور پھر اپنا کاروبار چمکاتا ہے۔

دکانداروں کی بد معاشی کی حد یہ ہے کہ وہ آگے سڑک تک تجاوزات قائم کر لیتا ہے یا پھر اپنی مرضی سے اشیاء کی قیمتیں بڑھا دیتا ہے۔

بائیک سواروں کی بدمعاشی کی حد یہ ہے کہ قانون توڑتے ہیں، اشاروں کی پرواہ کیے بغیر سگنل توڑتے ہیں اور رانگ آتے ہیں۔

پھل اور سبزی فروشوں کی بد معاشی کی حد یہ ہے کہ وہ سبزیوں اور پھلوں پر رنگ کرتے ہیں اور اسے کئی گنا زیادہ قیمت پر بیچتے ہیں یا پھر اپنی مرضی سے آدھی سڑک پر ٹھیلا کھڑا کر کے اپنا سامان بیچتے ہیں۔

سیاست دان تو ہر اس جگہ بدمعاشی کرتے ہیں جہاں ان کا زور چلتا ہے البتہ ایک جگہ یہ بھی مجبور ہو جاتے ہیں۔

اسی طرح میڈیا ورکر کی بدمعاشی کارڈ میں چھپی ہوتی ہے اور وہ اپنے میڈیا کارڈ سے کافی جگہوں پر بد معاشی کرتے نظر آتے ہیں۔

بیوروکریسی کی بدمعاشی کا سلسلہ تو پاکستان کے وسیع و عریض سلسلے میں پھیلا ہوا ہے اور پاکستانیوں کو اس کا ذاتی حیثیت میں تجربہ ہو گیا ہوگا۔

گویا بد معاشی کرنا جیسے ہماری ثقافت کا حصہ بن گیا ہو۔ یہ بلاشبہ ہماری خوبصورت ثقافت کے خلاف ایک داغ ہے مگر یہ داغ لگ چکا ہے البتہ اگر اس کو مٹانا چاہتے ہیں تو علم و تربیت کا سلسلہ مضبوط کرنا ہوگا اور بچے کو بچپن ہی سے اس بد معاشی جیسے غلط فعل سے آگاہی دینا ہوگی۔

Facebook Comments HS