پیپلزپارٹی پنجاب سے غائب کیوں ہو گئی؟
بھٹو خاندان کی خون جگر سے سینچی اور مسلسل 40 برس تک جمہوریت دشمن ”اصطبلشمنت“ کی تمام تر سازشوں اور جبر و کراہ کا جوانمردی سے مقابلہ کرتے ہوئے ملکی سیاست میں اپنی جگہ بنانے اور قائم رکھنے والی عظیم الشان ملک گیر پارٹی کی بربادی کا آغاز کب، کیسے اور کیونکر ہوا؟
جی ہاں ؛ پارٹی کی حالیہ صورتحال پر کڑھنے والے درد مند خواتین و حضرات اس سوال پر ایک دفعہ غور ضرور فرمائیں کہ
کیا زرداری صاحب نے 2008 میں بی بی رانی کی (بیرون ملک بیٹھ کر) کامیاب سیاست کے نتیجے میں ملنے والی پنجاب اسمبلی میں پارٹی کی 107 نشستوں کے ساتھ آزاد حیثیت میں جیتنے والے 50 میں سے پارٹی میں شمولیت کے لئے خود چل کر آنے والے 40 (بعض اطلاعات کے مطابق 35 ) ارکان کو ساتھ ملا کر 1977 کے بعد پہلی مرتبہ پنجاب میں حکومت بنانے کے ہاتھ آئے سنہری موقع سے فائدہ اٹھانے کی بجائے ؛
ان آزاد ارکان کو نواز شریف کی جھولی میں ڈال کر پنجاب سمیت ملک بھر سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ”رضاکارانہ دست برداری“ اختیار نہیں کر لی تھی؟
جبکہ مشرف سے چھٹکارا اور تیسری باری وزارت عظمیٰ پر پابندی کا خاتمہ پیپلز پارٹی سے زیادہ خود نواز شریف کی اپنی ضرورت تھی؛
اور وہ پنجاب میں حکومت نہ ملنے کے باوجود جنرل مشرف کے مواخذہ اور اٹھارہویں ترمیم دونوں کی حمایت پر مجبور تھا۔
یاد رہے کہ الیکشن رزلٹس کے مطابق پنجاب کی صوبائی اسمبلی میں نشستوں کی تعداد کے اعتبار سے نواز لیگ پیپلز پارٹی سے صرف بارہ پندرہ آگے تھی؛
اور پارٹی میں شمولیت کے خواہاں ان پینتیس 40 آزاد ارکان کے علاوہ چھوٹی پارلیمانی جماعتیں بھی صوبے میں حکومت تشکیل دینے کی صورت میں پیپلز پارٹی کا ساتھ دینے پر تیار تھیں۔
خواتین و حضرات؛ بالفرض محال یہ مان بھی لیا جائے کہ پنجاب حکومت (وزیراعلیٰ کی پوزیشن) نواز لیگ کے حوالے کرنا کوئی اشد شدید مجبوری اور وقت کی ضرورت تھی تب بھی زرداری صاحب کو پارٹی میں شمولیت کے لئے خود رابطہ کرنے والے آزاد ارکان کو نواز شریف کے پاس بھیجنے کی بجائے پیپلز پارٹی میں شامل کر کے پارٹی پوزیشن کو مضبوط نہیں بنا لینا چاہیے تھا؟ (جیسا کہ منظور وٹو کی پنجاب میں اقلیتی حکومت کی روایت خود پیپلز پارٹی پہلے ہی قائم کر چکی تھی) ۔
ان کم و بیش 40 آزاد ارکان کی پارٹی میں شمولیت سے آپ کی پارلیمانی پارٹی ڈیرہ سو کے لگ بھگ پہنچ جاتی اور بعد ازاں نواز لیگ کے لئے وفاقی حکومت سے علیحدگی کا فیصلہ اور شہباز شریف کے لئے صوبائی حکومت سے پیپلز پارٹی کے وزراء کی یک طرفہ فراغت کا مرحلہ اتنا آسان نہ رہتا؛ اور نہ ہی پنجاب میں پیپلز پارٹی اس طرح اچانک صفر تک پہنچ جاتی۔
سوال تو یہ بھی بنتا ہے کہ اتنے بڑے اقدام کے بعد پارٹی کو ملک کے سب سے بڑے صوبے میں فعال رکھنے کے لئے تنظیمی ذمہ داریاں بھٹو اور بی بی دور کے آزمودہ کار اور تجربہ کار سینئر جیالوں (جو اس وقت خاصی بڑی تعداد میں موجود بھی تھے ) کی بجائے پہلے تنظیمی صلاحیتوں سے عاری پیر تسمہ پا منظور احمد وٹو اور پھر صوبائی تنظیم کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کے بعد وسطی پنجاب کا ٹھیکہ صرف ناک کی سیدھ میں دیکھنے کے عادی خود پسند قمر زمان کائرہ اور جنوبی پنجاب کی لیز گردن میں سریا والے مغرور فیوڈل مخدوم احمد محمود کو دے کر پورے پنجاب سے کامل دستبرداری کی توثیق بھی خود کر دی؟
سب سے زیادہ خطرناک بلکہ چونکا دینے والا امر یہ ہے کہ 2008 میں پنجاب اسمبلی میں بی بی کی دی ہوئی 107 نشستوں کے دو الیکشن بعد 2018 میں پورے 100 کی کمی (مائنس سینچری) کے ساتھ صرف 7 تک محدود ہو جانے کے باوجود پارٹی کی موجودہ قیادت پنجاب سمیت ملک بھر میں پارٹی اور ووٹ بینک کی بحالی کے لئے ادنیٰ سی کوشش کرتی بھی دکھائی نہیں دے رہی؟


