EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

ایک کارڈ۔ آدمی کو صحافی بنا دیتا ہے!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دیہات میں آپ کو کھیتوں کے درمیان میں بنی ہوئی پگڈنڈیاں عام نظر آئیں گی۔ لوگ اصل راستہ چھوڑ کر ان کا استعمال کرتے ہیں۔ کئی بار تو فصلوں کو اس عوامی شارٹ کٹ کے باعث نقصان بھی پہنچتا ہے۔ شہروں میں لوگ فٹ پاتھ پر موٹر سائیکل چلاتے اور پیدل افراد جنگلے پھلانگتے نظر آئیں گے۔ اردو بازار کے فٹ پاتھ پر ایسی کتابیں بھی ملیں گی جن کا دعوی ہے کہ ”چالیس دن میں ڈاکٹر بنیے“ سٹوڈنٹ طبقہ سلیبس کے بجائے نوٹس پڑھ کر آگے نکلنا چاہتا ہے۔ شارٹ کٹ کی عادی قوم نجانے کیوں ابھی تک ترقی کی منزل تک نہیں پہنچ پائی۔

ملکی صحافت کا جو حال ہے اس کے ذمہ دار بھی اسی قماش کے لوگ ہیں جن کا درجہ بالا سطور میں ذکر کیا گیا ہے۔ پہلے بزنس مین کا جی للچایا اور وہ اپنے مکروہ عزائم سمیت اس شعبے میں در آ یا اور پھر نام نہاد پروفیشنل صحافیوں کے بنائے ہوئے ادارے بھی اسی روش پر چل نکلے۔ تعلیم، تجربہ میرٹ لسٹ سے آؤٹ ہو گیا، پیسے دو، کارڈ لو۔ صحافی بن جاو۔ انتہائی آسان اور سادہ ریسیپی ہے۔

اعلی پائے کے ادیبوں، دانشوروں کا لگایا گیا پودا آج تھڑے بازوں کے ہتھے چڑھ گیا ہے۔ اپنے کاروبار کو چلانے کے لئے بطور سکیورٹی، سلام دعا، سیاستدانوں، سرکاری اداروں سے تعلقات بنانے کا مقصد ذہن میں رکھ کر ”کارڈ پر سرمایہ کاری“ کی جاتی ہے۔ ظاہر ہے نیت کے حساب سے پھل ملے گا۔ چاہے اس دھندے میں صحافت کا دامن داغدار ہو جائے۔

کمیونیکیشن ایک سائنس ہے۔ صحافت کی الگ زبان ہے۔ الفاظ کا چناو لوگوں کی نفسیات پر اثر انداز ہوتا ہے۔ کون سا کانٹینٹ موزوں ہے اور کون سا ذہنی صحت کے لئے مضر۔ ٹی وی پر بولے یا اخبار میں لکھے ہوئے الفاظ کے معاشرے پر کس قدر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ فریمنگ کیا ہے، گیٹ کیپنگ سے کیا مراد ہے، صحافتی اخلاقیات کیا ہیں۔ خبر ہوتی کیا ہے اس کی زبان اور ہیئت۔ ”سوشل ریسپانسبیلیٹی تھیوری“ کے کیا تقاضے ہیں؟ آزادی اظہار کا حق کن ذمہ داریوں کے ساتھ نتھی ہے۔ اب جو دکان پر ویلا بیٹھا اٹھ کر گیا اور کارڈ لے آیا، اسے اس پیشے کی حساسیت کون سمجھائے گا!

صحافت واقعی ایک مشن تھی اور یہ انہی لوگوں کا کام تھا ”جن کو ساجھے“ خود بھی کھاو اور ہمیں بھی کھلاو والے صحافت کا بیڑہ ڈبونے آئے اور اپنے مقصد میں تقریباً کامیاب ہو چکے ہیں۔ آغا شورش کاشمیری سے معذرت کے ساتھ ؛

میرے وطن کی ”صحافت“ کا حال مت پوچھو
گھری ہوئی ہے طوائف تماش بینوں میں

ایک وقت تھا اخبار میں لکھے الفاظ کی حرمت تھی ان کو سنجیدگی سے لیا جاتا تھا۔ تنقید برائے تنقید، ذاتی عناد کے باعث الزام تراشی اور بلیک میلنگ سے کسی کو کچھ نہیں ہوا۔ بس صحافت کہیں کی نا رہی۔ صحافت معاشرے کا آئینہ ہوتی ہے، یہ آئینہ اناڑیوں کے ہاتھوں ٹوٹ چکا ہے۔ ایک آدمی کے کئی چہرے دکھاتا ہے۔ جس طرف لوگ سچ کی تلاش میں رجوع کرتے تھے وہ شعبہ اب کنفیوژن پھیلانے میں پیش پیش ہے۔ نظریات نہیں رہے۔ مفادات ہیں، گروپنگ ہے۔ ایک مخصوص طبقہ مزے لے رہا ہے، پروفیشنل صحافی کے لئے دو وقت کی روٹی مشکل ہو گئی ہے۔

صحافت کے دشمن خود صحافی ہیں۔ ابھی بھی وقت ہے کالی بھیڑوں سے چھٹکارا حاصل کر لیں۔ کارڈ کے تقدس کو بحال کریں۔ ہر ایرے غیرے کو مت گھسنے دیں۔ یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل نوجوانوں کی تربیت کر کے ان کو مواقع دیں۔ ریاست کے چوتھے ستون کی مضبوطی کے ہم سب خواہاں ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے