لاہور بار ایسوسی ایشن اور قربانی کے بکرے


عید سے دو روز قبل جب ملک میں عید کی تیاریاں اپنے عروج پر تھیں۔ بہت سے لوگ عید کی رخصت پر اپنے گھروں کو روانہ ہو رہے تھے۔ اکثر لوگ اپنے فرائض سے غافل ہو کر عید منانے اور تکے بنانے کی تیاریاں کر رہے تھے۔ لیکن اس وقت بھی لاہور بار ایسوسی ایشن نے فرض شناسی کی ایک مثال قائم کر دی۔ لاہور بار ایسوسی ایشن کے سیکریٹری مکرم مدثر بٹ صاحب نے ایڈیشنل سیکریٹری پنجاب کو ایک خط لکھ کر ان کو کچھ فرائض کی طرف بھر پور توجہ دلائی۔ انہوں نے تحریر کیا کہ آئین کی شق 260 (b) ( 3 ) کی رو سے قادیانی اور لاہوری گروہوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا ہے۔

اس کے بعد کے پیراگراف میں وہ لکھتے ہیں کہ عید الاضحیٰ کے موقع پر قربانی سنت ابراہیمی اور سنت محمد ﷺ اور شعائر اسلامی میں سے ہے۔ اور چودہ سو سال سے یہ فریضہ صرف مسلمان سر انجام دے رہے ہیں۔ خط کو پڑھتے ہوئے انسان تعجب میں پڑ جاتا ہے کہ سیکریٹری لاہور بار ایسوسی ایشن آئین کی ایک شق کا ذکر کرتے ہوئے یکلخت عید الاضحیٰ کے موقع پر کی جانے والی بکروں کی قربانی تک کیسے پہنچ گئے۔ آئین کی اس شق میں غیر مسلم کی تعریف کی گئی ہے۔ اور ظاہر ہے کہ اس شق میں قربانی کرنے یا نہ کرنے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ اور نہ ہی اس میں شعائر اسلامی کا کوئی ذکر ہے۔

اس خط کے اگلے پیراگراف میں قاری کو اس مخمصے سے نکالنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس میں لکھا ہے کہ پاکستان کا آئین اور تعزیرات پاکستان کی متعلقہ شقیں اور سپریم کورٹ کے فیصلے اس بات کی ممانعت کرتے ہیں کہ قادیانی اور لاہوری گروپ کے لوگ شعائر اسلامی کو اختیار کریں۔ اس کے باوجود احمدی اس عید کے موقع پر دن دیہاڑے بکروں کو ذبح کر رہے ہیں۔ اس لئے حکومتی مشینری احمدیوں کو چاہیے کہ احمدیوں کو بکرے ذبح کرنے سے روکے۔

مناسب ہوتا اگر اس خط میں سیکریٹری صاحب لاہور بار ایسوسی ایشن آئین کی متعلقہ شق کے اصل الفاظ بھی درج کر دیتے۔ اس خط کے آغاز میں آئین کی جس شق کا حوالہ دیا گیا ہے اس میں شعائر اسلامی کا کوئی ذکر ہی نہیں ہے۔ اس خط کے آغاز میں تعزیرات پاکستان کی دفعات 298 (B) اور 298 (C) کا حوالہ دیا گیا ہے۔ اور ان دفعات میں شعائر اسلامی کے الفاظ استعمال نہیں ہوئے اور نہ ہی عید الاضحیٰ کے موقع پر قربانی کا کوئی ذکر ہے۔ ان دفعات میں یہ ممانعت کی گئی ہے کہ احمدی رسول اللہ ﷺ کے خلفاء یا صحابہ کے علاوہ کسی اور شخصیت کے لئے امیرالمومنین، خلیفۃ المومنین، خلیفۃ المسلمین، صحابی یا رضی اللہ عنہ کے القابات نہیں استعمال کر سکتے۔ رسول اللہ ﷺ کے ازدواج مطہرات کے علاوہ کسی اور کے لئے ام المومنین اور آپ کے اہل خانہ کے علاوہ کسی اور کے لئے اہل بیت اور اپنی عبادت گاہ کے لئے مسجد کے الفاظ استعمال نہیں کر سکتے۔ نماز سے قبل اذان نہیں دے سکتے۔ اپنے مسلک کی تبلیغ نہیں کر سکتے اور اپنے آپ کو مسلمان ظاہر نہیں کر سکتے اور نہ ہی اپنے مسلک کو اسلام کا نام دے سکتے ہیں۔

مناسب ہوتا کہ اگر سیکریٹری لاہور بار ایسوسی ایشن یہ وضاحت فرما دیتے کہ آئین کی کون سی شق یا قانون کی کون سی دفعات میں اس بات کی ممانعت کی گئی ہے کہ عید الاضحیٰ کے ان تین دنوں میں مسلمانوں کے علاوہ کوئی بکروں کو ذبح نہیں کر سکتا۔ اسی تعین کے بعد صحیح طور پر ان کے نظریات کے بارے میں کسی رائے کا اظہار کیا جا سکتا تھا۔

اس کے بعد یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ قرآن کریم میں یا احادیث نبویہ ﷺ کی معتبر ترین چھ کتب یعنی صحاح ستہ میں کہیں پر شعائر اسلامی کی اصطلاح استعمال نہیں ہوئی البتہ شعائر اللہ کی اصطلاح استعمال ہوئی ہے۔ یعنی یہ ساری بحث ایک ایسی مذہبی اصطلاح کے بارے میں کی جاتی ہے جس کا ذکر قرآن مجید یا احادیث کی معتبر کتب میں پایا ہی نہیں جاتا۔

اور اگر یہ سوال اٹھایا جائے کہ اگرچہ قرآن اور حدیث میں شعائر اسلامی کا ذکر نہیں ہے لیکن شعائر اللہ کا ذکر تو موجود ہے۔ پاکستان میں کسی غیر مسلم کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ ان طریقوں کو اپنائے جنہیں قرآن کریم میں شعائر اللہ قرار دیا گیا ہے۔ اس سوال کا جائزہ لینے سے قبل یہ دیکھنا ضروری ہے کہ قرآن کریم میں کن چیزوں کو شعائر اللہ قرار دیا گیا ہے؟ سورۃ الحج، سورۃ البقرۃ اور سورۃ المائدہ میں صفا اور مروہ [ وہ پہاڑیاں جن کے گرد پانی ختم ہونے کے بعد حضرت اسماعیل علیہ السلام کی والدہ نے پانی کی تلاش میں چکر لگائے تھے ] اور حج کے موقع پر ذبح کیے جانے والے قربانی کے اونٹوں کو شعائر اللہ قرار دیا گیا ہے۔

اور یہ تاریخی حقیقت ہے کہ اسلام سے قبل بھی مشرکین مکہ صفا اور مروہ کا احترام کرتے تھے اور ان کے گرد چکر لگاتے تھے، جس طرح اب مسلمان ان کے گرد چکر لگاتے تھے۔ اسی طرح اسلام کی آمد سے قبل بھی مشرکین خانہ کعبہ کا طواف کرتے تھے۔ اسی طرح اسلام سے قبل بھی مشرکین حج کے موقع پر اونٹوں کی قربانی کیا کرتے تھے، اور مسلمان آج تک حج کے موقع پر جانوروں کی قربانی کرتے ہیں۔

[تفسیر ابن کثیر اردو ترجمہ از مولانا محمد جونا گڑھی جلد 2 ناشر فقہ الحدیث پبلیکیشنز مارچ 2009 ص 332

تفسیر ابن کثیر اردو ترجمہ از مولانا محمد جونا گڑھی جلد 1 ناشر فقہ الحدیث پبلیکیشنز مارچ 2009 ص 324 تا 327 ]

اگر یہ اصول قبول کیا جائے کہ ایک عقیدہ اور مسلک سے وابستہ لوگ ان طریقوں کو اختیار نہیں کر سکتے جس پر پہلے سے دوسرے عقیدہ یا مسلک کے لوگ عمل کر رہے ہوں تو پھر کیا اس دور کے مشرکین کو یہ حق پہنچتا تھا کہ وہ مسلمانوں کو صفا اور مروہ کے گرد چکر لگانے یا خانہ کعبہ کا طواف کرنے سے روکتے کیونکہ یہ رسومات پہلے سے ان میں رائج تھیں۔ یا وہ مسلمانوں کو خانہ کعبہ کے پاس قربانی کرنے سے روکتے اور کہتے یہ تو صدیوں سے ہمارے مذہب کا طریق ہے اور مسلمانوں کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ قربانی کریں۔ ظاہر ہے کہ کوئی ذی ہوش اس کی تائید نہیں کر سکتا۔

اور صلح حدیبیہ کے موقع پر اسی بات پر اہل مکہ سے اختلاف تھا۔ کہ گو مکہ پر مشرکین مکہ کا قبضہ تھا لیکن مسلمانوں کا یہ موقف تھا کہ ہم بھی خانہ کعبہ کے طواف اور عمرہ کا حق رکھتے ہیں۔ اور مشرکین مکہ کو اپنے موقف سے ہٹ کر مسلمانوں کا یہ اصولی حق تسلیم کرنا پڑا۔ اور وہ یہ دلیل پیش نہیں کر سکتے تھے کہ یہ تو ہمارے مذہب کا مقدس مقام ہے اور ہم مسلمانوں کو اس کے قریب آنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔

ہم سب جانتے ہیں کہ اسلام سے صدیوں پہلے سے یہودیوں میں لڑکوں کے ختنہ کرنے کی رسم موجود تھی۔ اور بائیبل کی کتاب پیدائش کے باب 17 میں اس حکم کا ذکر ہے کہ لڑکوں کا ختنہ کیا جائے۔ اگر اسرائیل میں کوئی متعصب یہ اعتراض کر دے کہ ختنہ تو ہماری رسم ہے اور اسلام سے بہت قبل یہ رسم ہمارے میں رائج تھی۔ اور ثبوت کے طور پر بائیبل کی کتاب ’پیدائش‘ کے باب 17 کی عبارت پیش کردے۔ اور یہ مطالبہ کرے کہ اسرائیل میں مسلمانوں پر پابندی لگا دی جائے کہ وہ اپنے بچوں کا ختنہ کریں۔ تو کیا کوئی ذی ہوش اس لا یعنی فرمائش کو معقول مطالبہ سمجھ سکتا ہے؟

اس پس منظر میں یہ اصول ہی غلط ہے کہ اگر کسی مذہب میں کوئی طریقہ کار رائج ہے تو دوسرے مذہب کے پیروکاروں پر یہ پابندی ہونی چاہیے کہ وہ اس طریقہ کار کو اپنائیں۔ اور اگر یہ لایعنی اصول قبول کر لیا جائے تو تمام دنیا میں مذہبی آزادی سلب ہو جائے گی۔ کسی بھی مطالبہ کو سامنے رکھتے ہوئے اس کے مضمرات کا اچھی طرح جائزہ لے لینا چاہیے۔ لیکن معلوم ہو تا ہے اس مطالبہ کو پیش کرنے سے قبل لاہور بار کونسل کے سیکریٹری صاحب نے یہ غور کرنے کی زحمت نہیں فرمائی کہ وہ کس قسم کا مطالبہ پیش کر رہے ہیں۔

Facebook Comments HS