افغانستان: ہمارے لئے سبق؟

یکم جولائی 2021 ء کو پارلیمنٹ ہاؤس میں قومی سلامتی سے متعلق کمیٹی کو افغانستان کی تازہ صورتحال پر بند کمرے میں بریفنگ دی گئی۔ موضوع اتنا دلچسپ تھا کہ میں تمام مصروفیات کو بالائے طاق رکھ کر پارلیمنٹ میں موجود تھا۔ بریفنگ کے اختتام پر اجلاس میں موجود کچھ ارکان قومی اسمبلی نے اس کی تفصیلات بتائیں تو پتہ چلا کہ اس میں ماضی کی غلطیوں کے اعتراف کے ساتھ ساتھ اراکین پارلیمنٹ کو باور کرایا گیا کہ اس بار ہم افغانستان میں شروع ہونے والے تنازعے کے دوران کسی فریق کے ساتھ نہیں۔

تفصیلات تو بہت تھیں مگر اہم بات یہی تھی کہ ”اب کی بار ہم مکمل طور پر غیرجانبدار ہیں“ ۔ غیرجانبداری کا خوشگوار تاثر لے کر میں اگلے روز افغانستان کے دارالحکومت کابل میں موجود تھا۔ کابل پہنچا تو یہ تاثر دھندلا ہونے لگا۔ وہاں حالات کو سمجھنے کے لئے حکومت، اپوزیشن، صحافیوں، دانشوروں، سول سوسائٹی کے چیدہ چیدہ نمائندوں اور سب سے بڑھ کر عام آدمی کے ساتھ ملاقاتیں کیں تو درج ذیل نتائج اخذ کیے۔

1۔ افغانستان میں کم و بیش 65 فیصد آبادی نوجوانوں کی ہے جن کی عمریں 16 سے 30 سال کے درمیان ہیں۔ یہ وہ نوجوان ہیں جو طالبان دورحکومت یا امریکہ میں نائن الیون واقعات کے اردگرد پیدا ہوئے۔ انہیں افغانستان کی 9 / 11 جنریشن کہہ لیجیے۔ افغانستان میں تعلیم چونکہ مفت ہے اس لیے اس نسل کی اکثریت اسکولوں میں ہے۔ یہ وہ طبقہ ہے جو جنگ سے نفرت کرتا ہے۔

2۔ افغانستان میں حکومت، اپوزیشن یا عام آدمی سب اس بات پر مکمل طور پر متفق ہیں کہ طالبان کی مدد و معاونت پاکستان کر رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ طالبان کی اعلیٰ قیادت پاکستان میں بستی ہے اور اسے سرحد پار آنے جانے اوراسلحہ افغانستان لانے میں کوئی دقت نہیں تو ایسے میں یہ طالبان کی معاونت ہے یا پاکستان کی طرف سے غیرجانبداری کا مظاہرہ؟

3۔ طالبان تنہا نہیں ان کے ہمراہ القاعدہ، ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ، کالعدم تحریک طالبان اوردیگر بین الاقوامی وعلاقائی طور پر دہشت گرد قراردی گئی تنظیمیں بھی افغان حکومت سے لڑرہی ہیں جس سے بڑی تعداد میں لوگوں کو دربدر ہونا پڑ رہا ہے اس صورتحال سے عام باشعور یا پڑھا لکھا طبقہ شدید ناراض ہے۔

4۔ افغانستان میں ایک ایسا طبقہ بھی موجود ہے جو طالبان کو ایک حقیقت سمجھتا ہے اور چاہتا ہے کہ وہ بھی حکومت میں آ جائیں مگر یہ طبقہ بھی مارا ماری اور خونریزی کے حق میں نہیں۔

5۔ پاکستان کے بارے میں فضا چونکہ مخاصمانہ ہے اس لیے حکومت اور اپوزیشن کے بعض کردار ہمیں ایک ولن کے طور پر ہی پیش کرتے ہیں اس ضمن میں دونوں ملکوں کے درمیان سرحد یعنی ڈیورنڈ لائن کو غیرحقیقی سرحد تصور کیا جاتا ہے۔ اس حوالے سے طالبان کی پالیسی بھی افغان حکومت سے مختلف نہیں۔ یاد رہے طالبان نے اپنے دور حکومت میں ڈیورنڈ لائن کے بارے میں وہی رویہ اختیار کیا تھا جو اشرف غنی حکومت نے اختیار کر رکھا ہے۔

6۔ افغانستان میں امن نہیں لہٰذا پاکستان اور افغانستان کے درمیان سیاحت کا وجود ہی نہیں البتہ تجارت ضرور موجود ہے۔ سال 2018ء تک افغانستان پاکستان سے 8 ارب ڈالر سالانہ کی امپورٹ کرتا تھا مگر ہماری نا اہلی اور عاقبت نااندیشانہ پالیسیوں کے باعث اب افغانستان کی پاکستان سے امپورٹ سکڑ کر کم و بیش 7 سے 8 ملین ڈالرتک رہ گئی ہے۔ تجارت کا رخ پاکستان سے نکل کر ایران اور دیگر پڑوسی ممالک کی طرف بڑھ رہا ہے۔ حالیہ تنازعے میں تجارت کے مزید سکڑنے کے امکانات اور بھی بڑھ گئے ہیں۔

7۔ طالبان نے افغانستان میں مختلف علاقوں پر قبضے کے تناظر میں واضح برتری حاصل کرلی ہے تاہم آبادی کی اکثریت مرکزی شہروں میں ہے جس پر حکومت کی راج نیتی بدستور قائم ہے۔

8۔ وزارت دفاع کے ماتحت افغان فوج، ایئرفورس اوراسپیشل آپریشن فورسز کی کل تعداد 1 لاکھ 85 ہزار ہے جبکہ وزارت داخلہ کے ماتحت پولیس اورپیراملٹری دستوں کی تعداد 1 لاکھ 3 ہزار ہے۔ فوج جدید اسلحہ سے لیس ہے جبکہ ایئرفورس کو مینٹی ننس کے حوالے سے مسائل کا سامنا ہے جن علاقوں میں افغان فوج نے طالبان کے سامنے ہتھیارڈالے، یہ زیادہ تر وہ علاقے ہیں جہاں فوج کو سپلائی نہیں مل سکی۔ مرکزی شہروں میں صورتحال مختلف ہے۔

9۔ طالبان سے ماضی میں شمالی اتحاد نے ہی دوبدو لڑائی کی تھی۔ اب شمالی اتحاد ایک بارپھر اپنی صفیں درست کر رہا ہے اس سلسلے میں ترکی، بھارت، تاجکستان، ازبکستان اور دیگر ممالک سے مدد بھی لی جا رہی ہے۔ اگر تنازعہ بڑھا تو شمالی اتحاد دیگر عناصر کے ساتھ بدستور اہم رہے گا۔

مندرجہ بالا نکات کو مدنظر رکھتے ہوئے آپ آسانی سے یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ اگر طالبان نے افغانستان کے شہری علاقوں کا رخ کر بھی لیا تو شدید خونریزی ہوگی۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ طالبان کا شہروں پرقبضہ کرنا آسان نہیں ہوگا اور اگر قبضہ کربھی لیا گیا تو افغانستان میں امن تب بھی نہیں رہے گا کیونکہ شمالی اتحاد ملک میں کوئی نہ کوئی محاذ ضرور گرم رکھے گا۔

امریکہ کے جانے کے بعد افغانستان تنازعہ ایک بار پھر جنم لے رہا ہے کروٹ بدلتے حالات نئے مسائل لے کر ایک بار پھر پاکستان کے دروازے پر دستک دے رہے ہیں۔ مگرعملی طور پر ہمیں کسی بات کی کوئی فکر ہی نہیں دکھائی دے رہی۔ آج تک افغانستان سے متعلق پاکستان کی پالیسی سیاسی جماعتوں کی بجائے کسی اور کے پاس رہی ہے جس کا بنیادی نکتہ ہمیشہ ہی افغان عوام کی بجائے ”اسٹرٹیجک ڈیپتھ“ رہا ہے۔ اب سیاسی جماعتوں کو یہ پالیسی مثبت انداز میں بدلنے کے لئے اپنے اپنے فریم ورک کے ساتھ سامنے آنا ہوگا تاکہ دونوں قومیں قریب آئیں اورنفرت کی فضا ختم ہو۔ اگر بروقت ذمہ داری کا مظاہرہ کر کے افغانستان سے آتے سیلاب کو نہ روکا گیا تو خاکم بدہن افغانستان سے ملتی جلتی تباہی ہمارا بھی مقدر ہوگی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words