عارف نظامی کا انتقال اور آزاد کشمیر میں انتخابات

عید کی وجہ سے گزشتہ ہفتے بہت عرصے بعد چار ایسے دن ملے جب صبح اُٹھتے ہی یہ کالم نہیں لکھنا تھا۔ ’’دی نیشن‘‘ کے لئے انگریزی میں قومی اسمبلی کی کارروائی کی بابت پریس گیلری لکھنے کی بھی ضرورت نہیں تھی۔ نہایت اعتماد سے لہٰذا ارادہ باندھ لیا کہ یہ دن بچوں سے گفتگو کے علاوہ سرہانے رکھی دو کتابیں بالآخر پڑھ لینے میں صرف کروں گا۔ یوں معمول کی مصروفیات سے ہٹ کر شاید میرا ذہن نئے خیالات سوچنے کے قابل ہوجائے ۔

میری بچیاں اگرچہ اسلام آباد میں ایک اور بچی کے وحشیانہ قتل کی وجہ سے بہت اداس اور پریشان ہوچکی تھیں۔ نور مقدم کی ہلاکت سے زیادہ مضطرب وہ اس وجہ سے بھی تھیں کہ سوشل میڈیا پر چھائے پارسائی فروش اس بدنصیب بچی ہی کو اپنے قتل کا ذمہ دار ٹھہرا رہے تھے۔ اس کے والدین کے طرز زندگی پر بھی سنگدلانہ سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔

میری مرحومہ ساس نے عید کے روز اسلام آباد میں مقیم عزیزوں کو عید کی دوپہر پلائو کی دعوت پر بلانے کی روایت شروع کی تھی۔ اُن کی رحلت کے بعد ہم اسے برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ ملازمو ں کے بغیر مہمانوں کی دیکھ بھال ہم سب کو مصروف رکھتی ہے۔ عید کے روز میں بھی ایسی ہی تیاریوں میں اپنا حصہ ڈال رہا تھا کہ فون کی گھنٹی بجی۔ کراچی کے نمبر سے ایک فون تھا۔ اسے سنا تو خبر ملی کہ عارف نظامی صاحب اس دُنیا میں نہیں رہے۔ جیو ٹی وی کے لئے ان کی ذات سے جڑی یادوں کا ذکر درکار تھا۔ مختصر وقت میں اس سمے جو بھی ذہن میں آیا بیان کردیا۔ رات گئے تک مگر اس کے بعد عارف صاحب کے ساتھ گزرے وقت کے بے تحاشہ لمحات فلموں کے فلیش بیک کی صورت دماغ میں گھومتے رہے۔ موت نے وہ توانائی یاد کروا دی جو ہم دونوں نے تقریباََ جنون کے ساتھ ’’دی نیشن‘‘ کو انگریزی کا ایک معتبر اخبار بنانے کے لئے وقف کی تھی۔

بہت کم لوگوں کو یہ علم ہے کہ ’’دی نیشن‘‘ کے اسلام آباد دفتر کے لئے میرا انتخاب مجید نظامی صاحب کی وجہ سے ہوا تھا۔ میرے نظریات اور طرز زندگی کا انہیں بخوبی علم تھا۔ صحافت کے تقاضوں کو وہ مگر جبلی طورپر جانتے تھے اور مرتے دم تک انہیں اعتماد رہا کہ ’’خبر‘‘ کے معاملے میں بہت کھوجی اور بدلحاظ ہوں۔ اس کے علاوہ رزق کمانے کے لئے محض صحافت پر قناعت کرنے کو بضد بھی ہوں۔ میری ضد اور لگن کو وہ سراہتے تھے۔ ان کی جانب سے آئے فون کے بعد عارف صاحب نے اسلام آباد آکر میرے ساتھ ملاقات کی اور یوں میں ’’دی نیشن‘‘ کے اسلام آباد بیورو کا اولیں انچارج بن گیا۔

میری طرح عارف صاحب کو بھی ازخود ’’خبر‘‘ ڈھونڈنے کا جنون تھا۔ اسلام آباد کے حوالے سے ہمارا مسئلہ یہ بھی تھا کہ اس شہر میں صبح میسر ’’دی نیشن‘‘ ان دنوں لاہورسے چھپتا تھا۔ اسے چھاپ کر اسلام آباد پہنچانے کے لئے لازمی تھا کہ رپورٹر اپنی خبریں زیادہ سے زیادہ شام کے ساڑھے آٹھ بجے تک مرکزی دفتر بھجوا دیں۔ ڈیڈ لائن کی وجہ سے مسلط ہوئی اس کمزوری کے باوجود ہم نے اپنے اخبار کو کئی تاریخی ایکسلسیو دئیے۔ لاہور میں مقیم ہوتے ہوئے بھی عارف صاحب نے اس ضمن میں مجھے اکثر بے تحاشہ ٹپس دیں۔ ذاتی طورپر میں ایڈیٹر کی دی ٹپس کو خیرات تصور کرتا تھا۔ مزید لگن سے عارف صاحب کو بھی چونکانے کی عادت اپنا لی۔ میں اس ضمن میں کریز سے باہر آکر چوکے چھکے لگاتا تو عارف صاحب مگر پریشان ہو جاتے۔ ان دنوں جنرل ضیاء اور جونیجو مرحوم کے درمیان شدید تنائو شروع ہوگیا تھا۔ دونوں مگر اسے چھپاتے ہوئے ’’سب اچھا‘‘ دکھانے کا ڈھونگ رچاتے۔ ’’دی نیشن‘‘ کا اسلام آباد بیورو مگر مسلسل بڑھتے تنائو کی تفصیلات بیان کرتا رہتا۔

حکومتیں ایسی جسارتیں پسند نہیں کرتیں۔ کئی بار میری دی ’’خبر‘‘ کو لاہور آفس اخبار کے عمومی مفاد کو ذہن میں رکھتے ہوئے روک لینے کی سفارش کرتا۔ عارف صاحب نہایت راز دری سے مجھے سینئر ساتھیوں کی رائے پہنچا دیتے۔ اس تجویز کے ساتھ کہ میں مجید صاحب سے رابطہ کر کے مذکورہ خبر کی کلیئرنس لے لوں۔ میرے اس ضمن میں ہوئے فونوں کی تعداد بڑھنا شروع ہوگئی تو ایک دن مجید صاحب نے اُکتا کر لاہور میں بیٹھے میرے سینئرز سے استفسار کیا کہ اگر ’’آپ کو نصرت صاحب کی دی خبر پر اعتبار نہیں تو انہیں اسلام آباد کا بیورو چیف کیوں بنا رکھا ہے؟‘‘ ساتھ ہی یہ اعلان بھی کر دیا کہ انہیں میری دی ہر خبر پر کامل اعتبار ہے۔ مجھے اگرچہ ’’بچ بچا کر‘‘ خبر دینے کا ڈھنگ میسر نہیں۔ عارف صاحب اور دیگر مدیران کو اسے چھاپنے کی راہ نکالنا چاہیے۔ مجید صاحب کی مذکورہ گفتگو کے بعد میرا راستہ صاف ہوگیا۔ میں اور عارف صاحب ’’تخریبی‘‘ خبریں دینے میں بلکہ پارٹنرز اِن کرائم ہو گئے۔ اس تناظر میں ہم دونوں کے مابین بے تکلف دوستی کے ساتھ ہی ساتھ صحت مندانہ مسابقت بھی شروع ہوگئی۔ کسی بھی اخبار کو توانا اور جاندار رکھنے کے لئے رپورٹروں کے مابین ایسا ’’مقابلہ‘‘ ضروری ہے۔

نواز شریف کے پہلے دورِ حکومت میں تاہم وزیر اعظم اور عسکری قیادت کے مابین تنائو کا آغاز ہوا تو نواز شریف کے مشیروں نے ’’دی نیشن‘‘ کے اسلام آباد بیورو کو بے پرکی اُڑانے کا مرتکب ٹھہرانا شروع کر دیا۔ عارف صاحب کی مشکلیں آسان کرنے کے لئے میں مستعفی ہو گیا۔ مجید صاحب کو مگر یہ فیصلہ پسند نہیں آیا۔ تیر اگرچہ کمان سے نکل چکا تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کی رحلت سے چند ماہ بعد میں ’’آنے والی تھاں‘‘پر واپس آ گیا۔ عارف صاحب اگرچہ اب اس ادارے سے الگ ہو چکے تھے۔ ایک دوسرے کے لئے ہم مگر ہمیشہ نیک تمنائوں کا اظہار کرتے رہے۔ باہمی احترام کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ پیشہ وارانہ تناظر میں وہ بھی ذات کے رپورٹر تھے۔ مرتے دم تک چونکا دینے والی خبر کی تلاش میں جتے رہے۔ ربّ کریم سے ان کی مغفرت کی دُعا کے علاوہ اس ضمن میں مزید لکھنے کی ہمت نہیں۔ ان کی موت نے ایک بار پھر شدت سے احساس دلایا ہے کہ بالآخر ’’بس یادیں رہ جاتی ہیں‘‘۔

عارف صاحب کے انتقال کی خبر نہ آئی ہوتی تو یہ کالم یقینا آزادکشمیر کے انتخاب کے ذکر تک محدود رہتا۔ اتوار کی صبح سے پولنگ کا آغاز ہوچکا ہے۔ ممکنہ نتائج کے لئے میڈیا کا ’’ذہن ساز‘ ‘ طبقہ مگر ہمیں تیار کر چکا ہے۔ ’’غیر جانب دار‘‘ شمار ہوتے صحافیوں کی اکثریت بھی اس عمومی سوچ سے متفق ہے کہ آزادکشمیر میں وہی جماعت انتخاب کے بعد حکومت بناتی ہے جو وفاق میں بھی برسراقتدار ہو۔ یہ ’’حقیقت‘‘ تسلیم کرتے ہوئے اندازے اب فقط اس امر کی بابت لگائے جا رہے ہیں کہ تحریک انصاف اپنے تئیں اکثریت حاصل کرلے گی یا حکومت سازی کے لئے اسے دیگر جماعتوں خاص کر مسلم کانفرنس سے رجوع کرنا ہوگا۔ بحث یہ بھی ہو رہی ہے کہ ’’دوسرے نمبر‘‘ پر کونسی جماعت رہے گی۔ اکثر دوستوں کا اصرار ہے کہ یہ اعزاز نواز شریف کے نام سے منسوب مسلم لیگ کو نہیں بلکہ پیپلز پارٹی کو نصیب ہو گا۔

آزادکشمیر کی سیاسی حقیقتوں سے میں قطعاَ نابلد ہوں۔ فیلڈ میں جائے بغیر انتخابی نتائج طے کردینے والی ’’فراست‘‘ سے بھی یکسرمحروم۔ افغانستان میں ابھرتی صورتحال کی وجہ سے لیکن پاکستان ہی نہیں اس خطے کے کئی ممالک اور وسطی ایشیاء میں افغانستان کے قریب ہمسائے شدید تنائو کی زد میں آچکے ہیں۔ ایسے عالم میں آزادکشمیر کے انتخاب کو ہر صورت صاف وشفاف دکھانا ہوگا۔ خدانخواستہ اگر ڈھٹائی سے ’’دھاندلی‘‘ کے الزامات کو چند ٹھوس شواہد میسر ہو گئے تو معاملات پاکستان کے لئے مزید دُگرگوں ہو جائیں گے۔ ان سے گریز ہی میں عافیت ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words