قربانی کا بکرا

”قربانی کا بکرا“ صدیوں پرانا اردو کا سدا بہار محاورہ۔

قربانی کے بکرے کی کہانی کافی دلچسپ ہوتی ہے۔ مالک سال بھر بڑے لاڈ سے پالتا ہے۔ بکرا یہ سمجھتا ہے کہ مالک کتنا رحم دل اور پیار کرنے والا ہے۔ ایک دن بہت اہتمام کے ساتھ اس کو منڈی تک پہنچایا جاتا ہے۔ جہاں یہ بکرا اپنے ہم قبیلہ جانوروں اور دیگر بکروں سے مل کر اور منڈی کی ہلچل دیکھ کر بہت خوش ہوتا ہے۔ اکثر سادہ لوح بکرے گاؤں سے شہر کی منڈی تک پہنچ کر حیران بھی ہوتے ہیں اور یوں خیال کرتے ہیں کہ ان کو شہر کے سیر سپاٹے پر لایا گیا ہے۔

پھر ایک کے بعد ایک انسان آ کر ان کو دیکھتے اور مالک سے کھسر پھسر کر کے چلے جاتے ہیں۔ لوگوں کی بڑھتی دلچسپی اور رش دیکھ کر بکرا اپنے حسن پر ناز کرتا ہے۔ بکرے کا خیال ہوتا ہے کہ لوگ ان کے حسن سے متاثر ہو کر ان کو دیکھنے آتے ہیں۔ بکرا ساری انسانی خفیہ سازشوں سے ناواقف ہوتا ہے۔ ایک دن مالک اور گاہک کے درمیان بکرے کو لاعلم رکھ کر اس کا سودا طے ہوجاتا ہے۔ بکرے کو کسی سوزکی میں بیٹھا کر جب لے جایا جاتا ہے تو وہ ہوا خوری سے بہت لطف اندوز ہوجاتا ہے۔

شہر کی مرکزی سڑک سے گزر کر انسانی ترقی اور کمالات دیکھ کر دل ہی دل میں اشرف المخلوقات کی قابلیت کا معترف ہوجاتا ہے ۔ قربانی کے گھر پہنچ کر اہل خانہ کی خاطر مدارت دیکھ کر خوشی سے پھولے نہیں سماتا ہے۔ بچے بڑے سب ان کا طواف کرتے اور پیٹ پر ہاتھ پھیر کر محبت کا اظہار کرتے ہیں۔ اہل محلہ خصوصی طور پر ان سے ملنے آتے ہیں۔ خود کو اپنے قبیلے سے الگ اور تنہا پا کر دل میں ایک خفیف سا شک بھی جنم لیتا ہے مگر انسانوں کی بے پناہ محبت دیکھ کر ان کا وہ شک دور ہوجاتا ہے۔

بکرے کی خوب خاطر مدارت ہوتی ہے۔ اس کے پروٹو کول میں پہلے سے کئی گنا زیادہ اضافہ ہوجاتا ہے۔ نت نئی چیزیں ان کی خدمت میں کھانے کے لئے پیش کی جاتی ہیں۔ نیاء ماحول اور نئے لوگوں سے وہ جلد مانوس ہوجاتا ہے۔ دل ہی دل میں خوشی کا اظہار کرتا اور اپنے مستقبل کو روشن اور خوشحال سمجھتا ہے۔ پھر وہ دن آ جاتا ہے جس کے لئے سارا اہتمام کیا گیا ہوتا ہے۔ اہل خانہ اور دیگر لوگ اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ بکرا حیرت سے سب کو تکتا ہے۔

ایک ساتھ بہت سے لوگوں کو اکٹھے دیکھ کر حیرت زدہ اور کچھ نروس بھی ہوجاتا ہے۔ رسیوں سے باندھ کر جب بکرا لٹایا جاتا ہے تو اس دوران ان کی پریشانی میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ دل گھبرانے لگتا ہے، دھڑکنیں تیز ہوجاتی ہیں اور سانس گھٹنے لگتی ہے۔ ان کا شک یقین میں بدل جاتا ہے۔ اب ان کو معلوم ہوجاتا ہے کہ ان کے ساتھ کچھ غیر معمولی سلوک ہونے جا رہا ہے۔ اچانک انسانی بے دردی اور سر مہری کو بڑھتے دیکھ کر وہ چلانے لگتا ہے۔

وہ بھاگنا چاہتا ہے جس کے لئے وہ ہاتھ پیر ہلاتا ہے۔ مگر اب وہ چاروں طرف سے رسیوں اور انسانی ہاتھوں میں بری طرح جکڑا ہوتا ہے۔ جان بچانے کی ہر ممکنہ تدبیر ناکام ہوجاتی ہے۔ انسانوں کے تیور بدلتے دیکھ کر ان کو دکھ ہوتا ہے۔ سال بھر کی خاطر مدارات کی اصل وجہ اب ان کو سمجھ آتی ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ انسان چلاک اور مفاد پرست ہوتا ہے۔ اس کی محبت اور پیار میں مفاد چھپا ہوتا ہے۔ انسان جانوروں سے بے غرض محبت نہیں کرتا۔ انہی خیالات کے درمیان ایک سفاک چھری بکرے کی گردن میں پھیر دی جاتی ہے۔ ان کی گردن اور منہ سے آخری چیخ نکل جاتی ہے اور یوں ان کام تمام ہوجاتا ہے۔ ایک دن کے اندر اندر وہ بوٹی بوٹی ہو کر انسانوں کے شکم میں داخل ہوجاتا ہے۔

قربانی کے جانور کی اس دردناک کہانی کے پس منظر میں جو حقائق، منصوبہ بندی، مناظر اور سوچ پائی جاتی ہے اسی کی وجہ سے ”قربانی کا بکرا“ محاورہ کے طور پر صدیوں سے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ جو انسان کسی خاص مقصد کے لئے خاطر مدارت کے بعد تیار کیا جاتا ہے اور مقررہ وقت پر خود کو مصیبت سے بجانے کے لئے ان کو قربانی کے لئے پیش کیا جاتا ہے اس کو محاورتا ”قربانی کا بکرا“ کہا جاتا ہے۔ جیسے انسان اپنی تمام تر کوتاہیوں، تعصب، نفرتوں، گناہوں، جرائم اور خباثتوں کی قربانی دینے کی بجائے بکرے کی قربانی دے کر خود کو بری الذمہ قرار دیتا ہے بالکل اسی طرح قربانی کا بکرا نما انسان کو قربانی کی بھینٹ چڑھا کر شاطر انسان بچ جاتا ہے۔

انسان روز اپنی جگہ دوسرے انسانوں کو قربان کرنے کی تدبیر سوچتا رہتا ہے۔ اس کی بہترین مثال حکمران اور عوام ہیں۔ صدیوں سے حکمران عوام کو قربانی کے بکرے بناتے رہے ہیں۔ اصلی بکروں کی طرح عوام کو بھی اس وقت تک حکمرانوں کی نیت کا معلوم نہیں ہوجاتا ہے جب تک وہ قربان گاہ میں داخل نہیں ہو جاتے ہیں اور ان کے گلے میں چھری نہیں پھیری جاتی ہے اس سے قبل وہ اسی طرح ہی لاعلم، بیوقوف اور سادہ لوح ہوتے ہیں جیسے اصلی بکرے ہوتے ہیں۔ لہذا یہ کہنا بے جا نہیں ہوگا کہ ”قربانی کا بکرا“ کا صدیوں پرانا محاورہ صدیوں بعد بھی سدا بہار ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words