سیاست ، کارکن اور سیاسی جماعتیں

کارکن کسی بھی سیاسی جماعت میں ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہوتے ہے۔ کارکن دن رات، گرمی سردی، طوفان، سیلاب اور دیگر قدرتی و انسانی آفات کی پرواہ کیے بغیر جماعت کے لیے کام کرتے ہیں۔ جلسے جلوس میں اگے اگے پیش ہوتے ہیں۔ نہ جیل کی سلاخوں کی پرواہ، نہ مار پیٹ سے ڈر، نہ بھوک و افلاس سے گھبراہٹ، جان تک پارٹی کے لئے وقف کرتے ہیں۔ دراصل کارکن پارٹی کا اثاثہ ہوتا ہے۔ بنیادی طور پر لوگ سیاسی پارٹیاں اور سیاست میں شمولیت تین وجوہات کی بنیاد پر کرتے ہیں۔

پہلی اور بنیادی وجہ نظریاتی سیاست ہے۔ یہ سیاست نظریے کی بنیاد پر قائم دائم رہتی ہے۔ نظریہ انسانی زندگی میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ اس وقت دنیا میں پانچ اہم سیاسی نظریات موجود ہیں۔ جن میں اسلام ازم، سوشل ازم، کمیونزم، لبرل ازم اور آمر شاہی قابل ذکر ہیں۔ اسلام ازم کے نظریے پر کاربند کارکن ہمیشہ اپنی نظریے کی خاطر قربانیاں برداشت کرے گا۔ اور اپنی نظریے پر کوئی آنچ نہیں آنے دے گا۔ اس طرح سوشل ازم کا حامی کبھی سوشلسٹ نظریات پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

یہ کارکن ہر سیاسی جماعت میں موجود ہوتے ہیں۔ یہی جماعت کے اصل روح کے مطابق کام کرتے ہیں۔ یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ہر پارٹی میں اور ہر وقت نظریاتی لوگ قربانیاں دیتے ہیں۔ نہ پارٹی سے ناراضگی، نہ پارٹی اصولوں پر سمجھوتہ، نہ چاپلوسی، اور نہ چمچہ گیری کر سکتے ہیں۔ لہذا ہمیشہ پارٹیوں میں نظریاتی کارکن نظرانداز ہوتے ہیں۔ اس قسم کے کارکن مرتے دم تک اپنی پارٹی سے منسلک رہتے ہیں۔ تقریباً 4 سے 6 فیصد لوگ نظریہ کی سیاست کرتے ہیں۔

دوسری وجہ ذاتی مفادات اور ترجیحات ہے۔ یہ لوگ بنیادی طور پر مفاد پرست ہوتے ہیں۔ ان کا نظریے سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ ذاتی خواہشات کے تکمیل کے لیے کبھی ایک پارٹی تو کبھی دوسری پارٹی یا ایک ہی جماعت میں شمولیت اختیار کرتے ہیں۔ ان کا مطلع نظر۔ ذاتی مفادات کا حصول ہے۔ بے روزگار کارکن نوکری کی چکر میں، ٹھیکیدار کارکن ٹھیکوں اور پرمٹ کے لیے، کاروباری کارکن کاروبار کی بڑھوتری، ٹیکسوں سے چھوٹ، کاروبار کی ترویج، سرکاری ملازمین اعلی عہدوں پر تعیناتی، اور دیگر اغراض و مقاصد کارفرما ہوتے ہیں۔

یہ پیداگری کارکن ہوتے ہیں۔ یہ کارکن پارٹی سے زیادہ ذاتی خواہشات کے لیے سرگرم عمل ہوتے ہیں۔ ہر پارٹی میں اس قسم کے لوگ اعلی عہدوں تک پہنچ پاتے ہیں۔ کیونکہ لینڈ کروزر، پراڈو، بنگلوں، ہوٹلوں میں کنونشنز اور پارٹی فنڈز میں پیسے ڈال کر ذاتی مفادات اور مراعات لے لیتے ہیں۔ ہر سیاسی جماعت میں یہ طبقہ خوشحال ہوتا ہے۔ ہر سیاسی جماعت میں تقریباً 52 سے 60 فیصد کارکن ذاتی مفادات کے لیے سیاست کرتے ہیں۔

تیسری وجہ گروپس اور با اثر افراد کی چاپلوسی اور چمچہ گیری ہے۔ یہ کارکن خانوں، نوابوں، جاگیرداروں، بدمعاشوں، کارخانہ داروں، وڈیروں اور لینڈز لارڈز کی وجہ سے کسی پارٹی میں آتے ہیں۔ یہ وہی روایتی ذہانت اور سوچ کو لے کر سیاسی جماعت پر قبضہ جما لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ کارکن جماعت کی بجائے گروپس کی نوکری کرتے ہیں۔ ہر وقت اور ہر موقع پر ان کی گانے گنگناتے رہتے ہیں۔ آج کل تو سوشل میڈیا پر اس طرح کارکن دن رات گروپس اور اپنے آقاؤں کی پوسٹس لگاتے رہتے ہیں ان کی ثنا خوانی اور تعریفوں میں زمین آسمان ایک کرتے ہیں۔ تعریفوں کی ایسے پل باندھتے ہیں۔ کہ بندہ حیران رہ جاتا ہے۔ یہ سب سے خطرناک اور مضر کارکن ہوتے ہیں۔ اور ان کو ہر سیاسی جماعت میں باآسانی تلاش کیا جاسکتا ہے۔ عام طور پر ہر سیاسی جماعت میں 30 سے 36 فیصد تک ان کارکنوں کی نمائندگی ہوتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words