بہار کی کاجل کے ساتھ سب کچھ ہو گیا اور محلے والوں نے کچھ سنا ہی نہیں؟

شبھم کشور - بی بی سی نامہ نگار

منجو دیوی کے آنسو رکنے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔ جمعہ کو قریب تین گھنٹے تک وہ پورے خاندان کے ساتھ بہار کے نالندا ضلع کے ہلسہ تھانے میں ڈی ایس پی کے دفتر میں بیٹھی رہیں۔

کافی دیر تک پولیس سے بات چیت ہوئی اور یقین دہانی کرائی گئی کہ انھیں انصاف ملے گا۔ منجو کی حاملہ بیٹی کا مبینہ طور پر ان کے شوہر اور سسرال والوں نے جہیز کا مطالبہ پورا نہ ہونے پر قتل کر دیا ہے۔

ان پر الزام ہے کہ قتل کے بعد لاش کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے اور بعد میں جلاکر دفنانے کی کوشش کی گئی۔

کاجل کے خاندان والوں کا دعوی ہے کہ ‘ لاش کاجل کے سسرال کے گھر قریب کے ہی ایک کھیت میں ملی ہے۔ لاش اتنی بری حالت میں تھی کہ اس کے ٹکڑوں کو ایک تھیلے میں بھر کر لانا پڑا’۔

20 جولائی کو اس معاملے میں مقدمہ درج کرلیا گیا ہے لیکن پولیس ابھی تک ملزمان کو گرفتار نہیں کرپائی ہے۔

پورا معاملہ کیا ہے؟

پٹنہ ضلع میں بختیارپور کے بہاٹہ گاؤں کی رہنے والی کاجل کی شادی گزشتہ برس نالندا ضلع کے ہلسہ کے نونیا بگھا گاؤں کے رہنے والے سنجیت کمار سے ہوئی تھی۔ سنجیت ریلوے میں گروپ ڈی یعنی صفائی کے محکمے میں ملازم ہے اور بنگلورو میں کام کرتا ہے۔

کاجل کےخاندان والوں کا کہنا ہے کہ شادی کے وقت انھوں نے تقریباً 12 لاکھ روپے جہیز کے طور پر دیئے تھے اور اس کے علاوہ زیورات اور موٹر سائیکل بھی دی تھی۔ لیکن ایک سال کے بعد لڑکے نے اپنے پروموشن کا حوالہ دیتے ہوئے چھ لاکھ روپے کا مزید مطالبہ کیا۔

کاجل کے خاندان والوں نے تھانے میں درج اپنی شکایت میں کہا ہے کہ ‘لڑکا ، جو ریلوے کے گروپ ڈی میں ملازم تھا ، پرموشن کے بعد ٹی ٹی ای ہن گیا تھا لہذا وہ مزید جہیز کا مطالبہ کر رہا تھا۔’

خاندان والوں کا الزام ہے کہ اس نے کاجل کے ساتھ بدسلوکی کی اور اس کی پٹائی کی تھی۔ کاجل نے اس بارے میں اپنے گھر والوں سے شکایت بھی کی تھی۔

منجو دیوی کے مطابق 17 جولائی کو آخری بار ان کی اپنی بیٹی سے بات ہوئی تھی۔

انہوں نے بی بی سی کو بتایا، ‘وہ کہہ رہی تھی کہ اسے ڈر لگ رہا ہے۔ نو بجے اس کا فون بند ہوگیا۔ اس کے بعد کسی کی بھی اس سے فون پر بات نہیں ہوپائی۔‘

انھوں نے بتایا اس کے سسرال والے بھی کاجل سے ان کی بات نہیں کروا رہے تھے۔ اس سے قبل وہ اسے میکے بھیجنے کے لیے بھی راضی نہیں ہوئے تھے۔

منجو دیوی بتاتی ہیں ’وہ لوگ اسے میکے آنے نہیں دیتے تھے۔ اسے ہمارے پاس آنے کی اجازت نہیں تھی۔ کاجل کے والد اور اس کے بھائی اسے لینے گئے تھے لیکن انھوں نے آنے نہیں دیا۔‘

‘لاش کے ٹکڑے تھیلے میں بھرے’

کاجل سے رابطہ نہ ہونے کے بعد اس کے گھر والوں نے اس کو ڈھونڈنا شروع کیا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ گاؤں کے بعض لوگوں نے انھیں قریب کے کھیتوں میں کاجل کو تلاش کرنے کے لیےکہا۔ کاجل کے خاندان والوں اور پولیس کو سڑک سے تقریباً 500 میٹر دور ایک کھیت کے اندر کئی ٹکڑوں میں ایک لاش ملی۔

خاندان والوں کا دعویٰ ہے کہ پولیس کی موجودگی میں انھوں نے لاش کے ٹکڑوں کو خود ہی تھیلے میں بھرا۔

کاجل کے والد اروند کمار نے بی بی سی کو بتایا ’اور کیسے لاتے۔ وہ 17 تاریخ کو غائب ہوئی اور چار دن کے بعد ملی۔ 21 تاریخ کو اسے جلا کر دفنا دیا گیا۔ اس پر کیا گزری ہوگی۔ ہاتھ اور پیر سب کاٹ کر الگ کردیے تھے۔ اس لیے تھیلوں میں لے کر آئے۔‘

وہ مزید بتاتے ہیں ’وہاں پولیس والے موجود تھے لیکن انھوں نے لاش کے ٹکڑوں کو ہاتھ بھی نہیں لگایا۔ یہ انتظامیہ کی ذمہ داری تھی لیکن ہم کیا کریں۔’

ان کا دعویٰ ہے کہ لاش برآمد ہونے سے ایک دن پہلے تک ملزمان گاؤں میں ہی تھے۔

جہاں پر لاش کے ٹکڑے ملے اس سے تھوڑی ہی دو پر جلی ہوئی لکڑی اور جلی ہوئی گھاس کے نشان ملے ہیں۔ اوپر پیڑ کی پتیاں جلی ہوئی ہیں۔

خاندان والوں کا دعویٰ ہے کہ کھیتوں میں کام کرنے والی ایک خاتون نے بتایا تھا کہ اس نے کھیت میں ایک لاش دیکھی ہے۔

قتل کا مقدمہ درج

پولیس نے 20 جولائی کو مقدمہ درج کیا۔ 20 جولائی کو ہی لاش کے ٹکڑوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دی گیا حالانکہ خاندان والوں کو ابھی بھی پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کا اتنظار ہے۔

پولیس نے 23 جولائی کو کاجل کے خاندان والوں کو لاش کے ٹکڑے سونپ دیئے جس کے بعد پٹنہ کی گنگا ندی کے کنارے ان کی آخری رسومات ادا کر دی گئیں۔

ہلسہ کے ڈی ایس پی کرشنا مراری پرساد نے بی بی سی کو بتایا، ‘دفعہ 304 بی کے تحت معاملہ درج ہوا ہے۔ اذیتوں کی وجہ سے موت ہوئی ہے۔ ہلاکت کا کیس ہے یا خودکشی یا معلوم نہیں۔ اس معاملے میں سات افراد کو نامزد کیا گیا ہے جن میں کاجل کا شوہر، اس کا بھائی، دو بہنیں اور ان کے شوہر شامل ہیں۔‘

پولیس کا کہنا ہے کہ اس بات کی تصدیق نہیں کی جاسکتی ہے کہ یہ قتل کا معاملہ ہے یا خودکشی کے بعد لاش کو کاٹا اور جلایا گیا ہے لیکن اس بات کا پختہ ثبوت ہے کہ موت اذیتوں کے نتیجے میں ہوئی ہے۔

اس رپورٹ کے فائل کیے جانے کے وقت تک اس معاملے میں کوئی گرفتاری نہیں ہوئی تھی۔

ملزمان کا گھر اور انجان پڑوسی

کاجل کے لاش جس مقام سے ملی ہے وہاں سے ملزمان کا گھر 500 میٹر کی دوری پر ہے۔ راستے میں دونوں طرف گھر بنے ہوئے ہیں۔ یہ ایک گنجان آبادی والا علاقہ ہے لیکن پڑوسیوں کا کہنا ہے کہ اس معاملے سے متعلق انھیں کوئی معلومات نہیں ہے۔

وہاں موجود ایک خاتون کا کہنا تھا کہ کاجل کی سسرال والوں سے ان کا بہت زیادہ رابطہ نہیں تھا حالانکہ ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے اس سے پہلے ان کے گھر سے کسی طرح کی لڑائی یا جھگڑے کی آواز نہیں سنی۔

کاجل کے سسرال والے فرار ہوگئے ہیں اور پڑوسیوں کا کہنا ہے کہ انہیں اس کی بھنک بھی نہیں لگی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ وہ جلد ہی ملزمان کو گرفتار کر لے گی۔ کاجل کے خاندان والوں کو انصاف کی امید ہےلیکن انھیں اس بات کا پچھتوا ہے کہ اگر انھوں نے اپنی بیٹی کو صحیح وقت پر واپس اپنے گھر بلا لیا ہوتا تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔

کاجل کے والد اروند کمار کہتے ہیں، ‘ہم نے ایک جلاد کے ہاتھ میں اپنی بیٹی کا ہاتھ دے دیا تھا۔ جب وہ گھر آئی تھی تو ہم اسے واپس بھیجنا نہیں چاہتے تھے۔ ہمار خیال تھا کہ بچے کی پیدائش کے بعد اسے واپس بھیج دیں يے لیکن جب اس کے سسرال والوں نے بلایا تو ہم نے اسے واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ ہم نے سوچا کہ اگر نہیں بھیجا تھا وہ ناراض ہوجائیں گے۔ سوچا تھا کہ پھر جاکر لے آئیں گے۔ لیکن ہمیں وہ دن نصیب نہیں ہوا۔ ہماری بیٹی اس سے پہلے ہی اس دنیا سے چلی گئی۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words