لاہور کی مختصر تاریخ


صدیاں بیت گئیں اور قبل از مسیح کا زمانہ حال از مسیح میں تندیل ہو گیا۔ دسویں صدی کے آغاز میں ہندوستان کے شمالی علاقہ اور ملحقہ افغانستان میں کئی تاریخ ساز تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ اس وقت لاہور اور اس کے شمال میں ہندو پال خاندان کی حکومت تھی جس کا پایہ تخت لاہور تھا۔ افغانستان میں سلطان محمود غزنوی تخت نشین ہوا اور جیسے ازل سے اب تک ہوتا آیا ہے کہ بادشاہ وقت اور حاکم اپنے علاقہ حکومت میں وسعت کرنے میں پامال غنیمت حاصل کرنے کے لیے یا تاوان لینے کی نیت سے ہمسایہ ملک پر جنگ مسلط کر دیتے تھے۔

سلطان محمود غزنوی نے بھی 1001 ء میں پال خاندان کے علاقہ پر حملہ کر دیا۔ پال خاندان کے حاکم راجہ جے پال نے موجودہ پشاور کے مقام پر مقابلہ کیا لیکن شکست سے دوچار ہوا۔ سلطان محمود نے خطیر مال غنیمت سمیٹا اور واپس غزنی چلا گیا۔ اپنی حکومت کی اقتصادی حالت کو مزید بہتر بنانے کے لیے 1008 ء میں پھر پال خاندان پر حملہ آور ہوا۔ اب کی بار مقابلہ پال خاندان کی راج دھانی لاہور میں ہوا اور راجہ جے پال کو پھر شکست فاش ہوئی۔

اس بار بھی سلطان محمود بہت سا مال غنیمت بصورت ہیرے، جواہرات سونا اور چاندی وغیرہ اکٹھا کر کے واپس غزنی چلا گیا۔ راجہ جے پال اب کی شکست کی ذلت کو برداشت نہ کر سکا اور خود کو گھی میں لت پت کر کے (موجودہ موری دروازہ) کے باہر خود کو آگ لگا کر جل مرا۔ جنگوں کے مروجہ اصولوں کے خلاف سلطان محمود نے نہ تو پال خاندان کی سلطنت کا کوئی علاقہ اپنی سلطنت میں شامل کیا اور نہ ہی سالانہ تاوان ادا کرنے کی شرط رکھی۔ بلکہ ”تاوان“ بقلم خود حاصل کرنے کے لیے جے پال کے خاندان پر 117 بار حملہ آور ہوا اور ہر بار بے انتہا ہیرے، جواہرات اور سونا چاندی سمیٹ کر واپس غزنی جا تا رہا۔

آخری بار سومنات گجرات پر حملہ کیا اور واپس غزنی جاتے ہوئے اپنے ایک قابل اعتماد اور پسندیدہ غلام ایاز کو اپنا قائم مقام بنا کر واپس غزنی چلا گیا۔ یہ وہ ایاز تھا جس پر علامہ اقبال کا شعر ”ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز۔ نہ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز“ مشہور ہوا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ انہوں نے لاہور میں کچھ رفاہ عامہ کے کام سرانجام دیے اور یہیں وفات پائی۔ آپ کا مقبرہ موجودہ شاہ عالمی دروازہ کے علاقہ رنگ محل میں ہے۔

گیارھویں صدی کے آخری عشرہ میں افغانستان کے علاقہ ”غور“ سے ایک اور سلطان شہاب الدین محمود ہندوستان پر 1191 ء میں حملہ آور ہوا اور ہندوستان کے شمالی علاقہ کے راجہ پرتھوی راج سے شکست کی ذلت اٹھانے پر واپس ”غور“ چلا گیا۔ اس ہزیمت کا بدلہ لینے کے لیے 1193 ء میں پھر حملہ آور ہوا اور اس بار فتح یاب ہوا۔ سلطان محمود غزنوی کی طرح اس نے بھی شکست خوردہ راجہ کا علاقہ نہ ہی اپنی سلطنت میں شامل کیا اور نہ ہی تاوان عائد کیا۔

بلکہ خود ہی ”تاوان“ اکٹھا کر کے واپس جاتے ہوئے اپنے ایک قابل اعتماد غلام قطب الدین ایبک کو گورنر متعین کیا لیکن موجودہ روات (راولپنڈی سے تقریباً 10 میل کے فاصلہ پر) گکھڑ قبائل کے ساتھ ایک لڑائی میں مارا گیا۔ قطب الدین ایبک نے خاندان غلاماں ( اس خاندان کے تمام حکمران پہلے غلام تھے اور اسی حاکم کے داماد ہوئے ) کی ہندوستان میں بنیاد رکھی۔ یہ سلطان ایک رات چوگان (موجودہ شکل پولو) کھیلتے ہوئے گھوڑے سے گر کر فوت ہوا۔

ان کی قبر انار کلی بازار کی لیڈی ایچسن ہسپتال کو جاتی ہوئی ایک ذیلی سڑک پر ایک تنگ گلی کے اوپر چاروں طرف کچھ جگہ چھوڑ کسی ”صاحب ثروت“ نے اپنا رہائشی مکان تعمیر کر لیا تھا۔ پچھلی صدی کے آخر میں پنجاب کے محکمہ آثار قدیمہ کو کچھ خیال یا شرم آئی۔ اور اس مکان اور گلی کے دوسرے مکانات اور اردگرد کا کافی علاقہ خرید کر اور سلطان کی پرانی حکمرانی کو عزت دیتے ہوئے ایک خوبصورت مقبرہ اور انہی کے نام پر ایک پارک بنا دیا۔

سلطان قطب الدین ایبک کی وفات 1210 ء میں ہوئی اور ان کا غلام اور داماد شمس الدین التمش تخت نشین ہوا۔ ان کی وفات پر ان کی دختر رضیہ سلطانہ ہندوستان کی پہلی خاتون حکمران کے طور پر مشہور و معروف ہوئی۔ 1440 ء میں ان کی وفات کے بعد کئی نامور اور غیر نامور سلطان کے عہدہ پر سرفراز ہوئے۔ اس خاندان کی حکمرانی کے اختتام پر سلطان کا تخت لاہور سے دہلی منتقل ہو گیا۔ یہ خاندان غلاماں یا مملوک خاندان کہلایا کیونکہ اس کے تمام سلطان پہلے غلام تھے اور پھر سلطان، فرماں روا بنے۔

اس خاندان کی حکمرانی 1290 ء میں ختم ہو گئی جب ایک افغان ترک نژاد جلال الدین فیروزی خلجی کی حکومت کی بنیاد رکھی جو 1321 ء تک رہی۔ جب ایک اور ترک نژاد افغان غیاث الدین تغلق سے خاندان تغلق کی حکمرانی کا دور شروع ہوا جو 1412 ء تک رہا۔ 1412 ء میں ایک سید فرجان نے تیمور لنگ کا ساتھ دیتے ہوئے ”چہ خوب“ سید خاندان کی حکومت کی بنیاد رکھی۔ جو صرف 1451 ء تک رہی (صرف 37 سال ) جب ایک اور افغان بہلول لودھی نے لودھی خاندان کی بنیاد رکھی۔ یہ خاندان 1526 ء تک حکمران رہا اور اس کا خاتمہ ظہیرالدین بابر نے اس خاندان کے آخری فرماں روا کو پانی پت کے میدان میں شکست دے کر خاندان مغلیہ کی بنیاد رکھی اور اس خاندان نے ہندوستان پر تقریباً 330 سال حکومت کی۔

اس خاندان کے تیسرے فرماں روا جلال الدین اکبر کے دور حکومت میں پھر لاہور کا نام آیا جب انہوں نے اس شہر کو اپنا دارالخلافہ بنایا۔ لاہور کے 13 دروازوں میں اپنے نام پر اکبری دروازہ بنایا۔ اس کے علاوہ دہلی دروازہ، موچی دروازہ (اصل نام اپنے ایک اہلکار موتی رام کے نام پر موتی دروازہ ) اور موری دروازہ کی تعمیر بھی آپ سے منسوب کی جاتی ہے۔ آپ کے دور حکومت کے کئی مشہور واقعات ہیں لیکن ایک واقع کا تاریخ میں عام طور پر ذکر نہیں کیا جاتا۔

وہ یہ ہے کہ عبد اللہ بھٹی المشہور دلا بھٹی کو بغاوت کے ”الزام“ پرا نہیں ٹکسالی دروازہ کے باہر پھانسی پر لٹکایا گیا تھا اور اس وقت پنجابی کے مشہور معروف صوفی شاعر شاہ حسین موجود تھے۔ راجپوت بھٹی قبیلہ کے نام پر دربار داتا گنج بخش سے تھوڑے سے فاصلہ پر بھاٹی دروازہ ہے۔ جلال الدین اکبر نے لاہور قلعہ کی تعمیر شروع کی۔ آپ کے بیٹے اور اگلے فرماں روا نورالدین محمد سلیم جہانگیر کو اس شہر سے عشق تھا۔ لاہور میں ہی اپنی محبوبہ اور ملکہ نورجہاں کے لیے 1619 ء میں شالیمار باغ بنوایا۔ اپنا اور اپنی ملکہ کا مقبرہ بھی اسی شہر میں ہے۔

1631۔ 32 ء میں شاہجہاں نے لاہور قلعہ کی تعمیر مکمل کروائی۔ اورنگ زیب عالمگیر نے بھی لاہور ہی میں بادشاہی مسجد تعمیر کروائی جس کو کئی صدیوں تک دنیا کی سب سے بڑی کشادہ اور خوبصورت ترین مسجد کا اعزاز حاصل رہا۔ مغلیہ خاندان کا زوال اورنگ زیب عالمگیر کی وفات کے بعد شروع ہوا اور اس خاندان کے 20 افراد حکمران رہے۔ آخری فرماں روا بہادر شاہ ظفر تھے۔ جس کو 1857 ء کی جنگ آزادی ہند کے بعد انگریز حکمرانوں نے قید کر کے رنگوں (برما) بھیج دیا۔

جہاں 1862 ء میں وفات پائی اور وہیں دفن ہوئے۔ ”کتنا ہے بدنصیب ظفر دفن کے لیے۔ دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں“ ۔ تاریخ میں لاہور کا ذکر پھر 1780 ء میں آیا جب مہاراجہ رنجیت سنگھ نے اس کو بھنگی خاندان سے فتح کر کے اپنا پایہ تخت بنایا۔ آپ نے اپنے دور حکومت میں ملتان، پشاور اور کشمیر کو فتح کیا۔ آپ کافی مدبر، زیرک اور سیکولر خیال رکھنے والے حکمران تھے یہاں تک کہ آپ کے وزیراعظم ایک مسلمان فقیر سید عزیز الدین تھے۔ انگریز حکمران بھی آپ کی فراست، دانائی اور عقل سے بہت متاثر تھے۔ اس لیے آپ سے مذاکرات بڑی احتیاط او ر ڈپلومیسی سے کرتے تھے۔ آپ کا انتقال 1829 ء میں ہوا لیکن آپ کے جانشین پنجاب میں حکومت قائم نہ رکھ سکے اور صرف 20 سال بعد 1849 ء میں انگریزوں نے سکھ راج ختم کر کے پنجاب کو بھی اپنی حکومت میں شامل کر لیا۔

پاکستان کی تاریخ میں 1849 ء سے تا حال اب تک لاہور کا نام نمایاں رہا اور 1039 ء میں حضرت علی بن عثمان ہجویری کی آمد۔ ان کے کردار اور تبلیغ کی وجہ سے آپ کی تکریم اور عزت میں اس قدر اضافہ ہوا کہ عوام الناس نے آپ کو نا صرف داتا گنج بخش کے خطاب سے یاد کیا بلکہ پورے شہر لاہور کو ”داتا کی نگری“ سے منسوب کر دیا۔ لاہور کی آبادی میں اضافہ ہوتا گیا۔ نئی نئی بستیاں معرض وجود میں آتی گئیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ ہر شعبہ میں نمایاں ترقی ہوتی رہی اور کئی اصحاب نے لاہور پر کئی کتابیں تحریر کیں۔

اس شہر پر اردو زبان میں لکھنے والوں میں کنہیا لال مشہور ادیب اے۔ حمید، طاہر لاہوری اور لطیف ملک اور انگریزی زبان میں فقیر سید اعجازالدین، میجر ایون بیل، اپین ٹالبٹ اور طاہر کامران کافی مشہور ہوئے۔ ان تمام کتب میں داتا گنج بخش کا یا تو سرسری سا ذکر ہے یا زیادہ سے زیادہ ایک دو صفحات پر آپ کا ذکر خیر ہے۔ اس ذکر میں بھی عام طور پر یہ لکھا گیا ہے کہ بھاٹی دروازہ کے قریب آپ کا مزار ہے۔ یہ بھی حیران کن ہے کہ آپ کا مزار 1072 ء میں تعمیر ہوا۔ جب بھاٹی دروازہ کا نام یا وجود تک نہیں تھا۔ لاہور کو ”داتا کی نگری کا نام دیا گیا نہ کہ“ بھاٹی دروازہ کی نگری ”یہ تحریریں کچھ پھیکی پھیکی اور سوکھی ہیں۔

مندرج بالا متذکرہ کتابوں میں راقم نے جناب کنہیالال اور اے حمید صاحب کی کتابوں کو پڑھا ہے جبکہ دیگر کتابوں کے کچھ اقتباسات نظر سے گزرے ہیں۔ فقیر سید اعجازالدین صاحب کی کتاب Lahore Illustrated view of the Century 19 میں میرے پیش لفظ میں تحریر کردہ مزار یا کونے کا اشارتا بھی ذکر نہیں۔ آپ کی کتاب میں 43 رنگین اور 76 دوسری تصاویر اور اندرون شہر کی کئی پرانی مساجد (بادشاہی، وزیر خان، سنہری) کے ذکر کے ساتھ سکی میاں منو، خواجہ محمود اور مردان خان کے مقبروں کا ذکر ہے۔ لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ حضرت علی ہجویری کی ذاتی خرچ پر تعمیر کردہ 1090 مسجد اور آپ کے مزار یا دربار کا ذکر تک نہیں۔ مزار داتا گنج بخش سے ذرا فاصلہ پر اندرون بھاٹی دروازہ میں فقیر صاحب کے بزرگان کا رہائش پذیر ہے اور اب بھی وہیں۔

Facebook Comments HS

سید احسان کاظمی

سید احسان کاظمی سنہ 1935 میں لاہور میں پیدا ہوئے۔ لاہور میں ہی تعلیم پائی۔ ان کی خاص دلچسپی تاریخ و ادب میں ہے۔ انہوں نے تقسیم سے پہلے اور بعد میں لاہور کو جس طرح بنتے بگڑتے دیکھا، اور یہاں کے ادیبوں اور مشاہیر سے جو تعلق رہا، اسے انہوں نے اپنی کتاب میں بیان کیا ہے۔

syed-ahsan-kazmi has 5 posts and counting.See all posts by syed-ahsan-kazmi