واٹر کولر کی قربانی


روس میں سفید رات کا جشن منایا جاتا ہے۔ اٹلی میں لوگ سنگتروں کی لڑائی کا تہوار مناتے ہیں اور ایک دوسرے پر پکے ہوئے سنگترے اچھالتے ہیں۔ سپین میں بپھرے ہوئے بد مست بھینسوں کو اشتعال دلا کر ان کے آگے دوڑنے کا رواج ہے۔ ہندو دیوالی پر پھلجڑیاں چھوڑتے ہیں اور آتش بازی کرتے ہیں، ہولی پر رنگ بکھیرتے ہیں۔ برطانیہ میں ایسٹر اور کرسمس پر لوگ عمدہ کھانے کھاتے ہیں اور شراب نوشی کر کے ناچتے گاتے ہیں۔ چینی نئے سال کو خوش آمدید کہنے کا شغل کرتے ہیں اور سفید فام باکسنگ ڈے پر کھیلوں کے مقابلے منعقد کرتے ہیں۔

عالمی سطح پر پنتالیس بڑے تہوار منائے جاتے ہیں جن میں دنیا بھر سے لوگ حصہ لیتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہزاروں چھوٹے اور علاقائی رواج ہیں۔ یہ آتے ہیں، لوگ سیلی بریٹ کرتے ہیں اور گزر جاتے ہیں۔ کہیں کوئی بحث جنم نہیں لیتی مگر جیسے ہی مسلمانوں کی عید آتی ہے شور برپا ہو جاتا ہے۔ عید الفطر پر فضول خرچی، یتیموں اور بیواؤں کے حقوق، اسپتالوں میں بیماروں کہ کسمپرسی اور عید الضحی پر جانوروں کے حقوق، سبزیوں کی آفادیت، قربانی نہ کرنا اور پیسے بچا کر رفاہی کام کرنا جس میں گلیوں کے نکروں پر پانی کے کولر لگانا اور غریبوں کی بیٹیوں شادی کرنا وغیرہ جیسی بحث کی جاتی ہے۔

قربانی محض ایک تہوار نہیں ہے بلکہ ایک معاشی، سماجی اور روحانی فلسفہ ہے۔ یہ فلسفہ عظیم ہے، اس پر معروضی بحث نہیں کی جا سکتی۔ معاشی طور پر یہ سرمایے کی گردش کا بہترین محرک ہے۔ جہاں سرمایہ دار کی جیب سے روپیہ نچلی سطح پر منتقل ہوتا ہے۔ غریب لوگ سارا سال جانور پالتے ہیں اور قربانی پر بیچتے ہیں۔ اس جانور کے گوشت میں ان کا بھی حصہ ہوتا ہے۔ لیدر انڈسٹری کا خام مال یہیں سے بنتا ہے۔ ان جانوروں کی چربی اور الائشوں سے پرندوں کی خوراک بنتی ہے۔

ہڈیوں سے بٹن اور کھلونے بنتے ہیں۔ یہ سب معاشی بہتری لاتے ہیں۔ دولت کا ارتکاز ٹوٹتا ہے، لیکن پھر بھی یہ کم ہے۔ منڈی بہت کشادہ ہے۔ دنیا کی تین بڑی تیز خوراک بنانے والی کمپنیاں کے ایف سی، مکڈونالڈز اور برگر کنگ سالانہ ایک ارب پرندے کاٹتے ہیں اور مختلف صورتوں میں بیچتے ہیں۔ اور ان کا سالانہ بزنس کھربوں میں یہ جو ان کے ایک ایک مالک کی جیب تک جاتا ہے۔

چمڑے کی مصنوعات ریشم کے بعد مہنگی ترین ہیں۔ ان کے لیے سالانہ دس کروڑ سے زائد لومڑ، بھیڑیں، ریچھ، گیدڑ، کچھوے، سنپولے، مگر مچھ، لگڑ بگڑ، بھیڑیے، سور وغیرہ جھٹکا کیے جاتے ہیں لیکن تب یہ بحث جنم نہیں لیتی کہ جانور بھی درد محسوس کرتے ہیں۔ سمارٹ فون بنانے والی کمپنی ایپل کا کاروبار ملکوں کے مجموعی زرمبادلہ سے زیادہ مگر یہ فضول خرچی نہیں ہے۔ لمبر گنی کی کاریں کروڑوں میں آتی ہیں رولیکس کی گھڑیاں لاکھوں سے کم نہیں ملتی مگر تب اسپتال کی ایمبولینسں اور مریضوں کی دواوں کی ڈسکشن نہیں کی جاتی۔ شیو بنانے والی کمپنی جیلٹ کا مجموعی کاروبار دنیا بھر میں کی جانے والی قربانی سے کہیں زیادہ ہے لیکن کبھی آپ نے نہیں سنا کہ ایک دن شیو نہ کی جائے اور اس کے بدلے صدقہ کیا جائے۔

قربانی ایک عظیم جذبے کی یاد ہے۔ ایک بے مثال واقعے کو خراج تحسین ہے۔ یہ آپ کا اور آپ کے خالق کے روحانی رشتے کا تعلق ہے جس نے آپ کو حیثیت بخشی۔ یہ سماجی طور پر محروموں کو اپنی خوشیوں میں شامل کرنے کا فلسفہ ہے۔ یہ گوالوں، خانہ بدوشوں، چرواہوں، قصابوں، چمڑا بانوں، کٹھیکوں، مزدوروں، کاشتکاروں، کسانوں کی بریڈ ایند بٹر ہے۔ جو شاندار اسلامی اصولوں کے مطابق اگر کی جائے تو بے حد احسن ہے۔

رفاہی کام جاری رہنے چاہیے لیکن قربانی نہ کر کے نہیں بلکہ آئی فون، گوچی، رے بین، بر بری، ارمانی، رولیکس، زارا، اومیگا، بینز، بی ایم ڈبلیو کی مصنوعات نہ خرید کر۔ تب آپ کی انسانی ہمدردی کا اصل مظاہرہ ہو گا۔

 

Facebook Comments HS