پاکستان بمقابلہ ویسٹ انڈیز ٹی ٹوئنٹی سیریز پر سمیع چوہدری کا کالم: بے خوف کرکٹ بمقابلہ ’واقعی بے خوف کرکٹ‘

سمیع چوہدری - کرکٹ تجزیہ کار

چند ہی ماہ پہلے کی بات ہے کہ جنوبی افریقی دورے پر بابر اعظم بے خوف کرکٹ کھیلنے کی بات کر رہے تھے۔ بطور کپتان بھی وہ اپنا ویسا ہی تاثر جمانا چاہ رہے تھے جو بطور بلے باز ان کی شناخت بن چکا ہے۔

گو اس بے خوف کرکٹ کی اپروچ نے انہیں پے در پے چار سیریز میں کامیابی سے نوازا مگر پچھلے چند ہفتے جو نتائج اس ٹیم کے سامنے آئے، وہ کسی بھی طور متوقع نہیں تھے۔

انگلینڈ کی جز وقتی الیون کے ہاتھوں ون ڈے کلین سویپ کا زخم ابھی ہرا تھا کہ ٹی ٹونٹی سیریز کی ناکامی نے اس پہ بھی نمک چھڑک دیا۔ اور اب یہ ٹورنگ پارٹی کریبئین جزائر میں آج سے پھر اپنی جدوجہد کا آغاز کرنے جا رہی ہے۔

اگرچہ فتوحات کے بعد تو کافی ساری بیان بازی سننے کو ملتی ہے مگر شکست کئی عوامل بدل دیتی ہے اور ٹیم کے ذمہ داران کیمرے اور مائیک سے گریز ہی کرتے ہیں۔ مگر پچھلی سیریز کے اختتام اور حالیہ سیریز کے آغاز کے بیچ جو چھوٹا سا وقفہ میسر آیا ہے، اس دوران مصباح الحق کی جانب سے ایک بیان سامنے آیا۔

گو اس بیان میں کچھ بھی ایسا نہیں کہ جو خبر کہلا سکے مگر بہرطور ایک اعترافی بیان کے تناظر میں خاصی حد تک حقیقت پسندانہ دکھائی دیتا ہے کہ ٹیم ابھی تک انہی مسائل کا سامنا کر رہی ہے جو اسے دو سال پہلے درپیش تھے۔

یہ مسائل مڈل آرڈر سے متعلق ہیں۔ محمد حفیظ کی فارم ایک الجھن بنی ہوئی ہے اور پانچویں چھٹے بلے باز کا انتخاب ہو کے نہیں دے رہا۔ ہر سیریز میں ایک آدھ تجربہ دیکھنے کو ملتا ہے مگر کوئی بھی ابھی تک اپنی نشست پکی نہیں کر پایا۔

مڈل آرڈر میں سے محمد رضوان کو منہا کرنا ایسی دقیق گتھی بن چکی ہے کہ اس ڈور کو جس قدر سلجھایا جائے، سرا ملنا محال ہے۔

محمد رضوان کی اوپننگ شراکت داری کی اوسط اگرچہ کسی بحث کی گنجائش ہی نہیں چھوڑتی مگر یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ اب سابقہ اوپنر فخر زمان اس بیٹنگ آرڈر میں ‘بے گھر’ ہو چکے ہیں۔

وہاب

Getty Images

سب کا خیال ہے کہ وہ محض ایک پاور ہٹر ہیں مگر ابھی تک کی کارگزاری میں واضح ہو چکا ہے کہ وہ بطور اوپنر زیادہ مفید ثابت ہو رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

یہ ٹرافی صرف ‘ایک فیصلہ’ دور تھی

پاکستان بمقابلہ انگلینڈ: ’میرے خیال میں جیسن روئے کسی اور ٹریک پر بیٹنگ کر رہے تھے‘

’مصباح اور وسیم اکرم عوام سے مکی آرتھر کی برطرفی پر معافی مانگیں‘

کیا بابر اعظم کی ٹیم اپنی شناخت بحال کر پائے گی؟

حسن علی کی فارم گو ایک ایسا مثبت پہلو ہے جس کی روشنی میں پاکستانی بولنگ اپنا قبلہ درست کرنے کی کوشش کر سکتی ہے کیونکہ حارث رؤف اور دیگر احباب کے اکانومی ریٹ ایسے گھمبیر ہیں کہ ورلڈ کپ میں فیورٹ کی دوڑ میں شمولیت حقیقت سے پرے کی بات لگتی ہے۔

مگر ایسا بھی نہیں ہے کہ سبھی خراب چل رہا ہے۔ ٹاپ آرڈر اپنے حصے سے زیادہ رنز اگل رہا ہے۔ لوئر آرڈر بھی اپنی بساط مطابق کچھ نہ کچھ حق ادا کر رہا ہے اور بولنگ ڈیپارٹمنٹ میں شاہین شاہ آفریدی اور حسن علی وہ مثبت پیلو ہیں جن پہ پاکستان اس سیریز کے نتائج سے کوئی امید باندھ سکتا ہے۔

یہ امر بھی خوش کن ہے کہ پچھلی ون ڈے سیریز کے برعکس ٹی ٹونٹی مرحلے میں یہ ٹیم کہیں بہتر فائٹ کرتی نظر آئی۔ یہ فارمیٹ ویسے بھی رینکنگ کے اعتبار سے اس ٹیم کا مضبوط ترین فارمیٹ ہے۔ مگر یہاں حریف کی قوت بھی کچھ کم نہیں۔

ایک طرف ایون لوئیس اور نکولس پورن ورلڈ کپ سے پہلے اپنی فارم کو مہمیز دے رہے ہیں تو دوسری طرف کرس گیل جیسے جہاندیدہ ’بزرگ‘ بھی سیٹ اپ میں واپس آ چکے ہیں۔ آسٹریلیا کے خلاف حالیہ سیریز میں جس طرح اس ٹی ٹونٹی سائیڈ نے جان لڑائی، یہ ٹیم واقعی اپنے ٹائٹل کے دفاع کو تیار نظر آ رہی ہے۔

کیونکہ یہ ٹیم واقعی بے خوف کرکٹ کھیلتی ہے اور ٹی ٹونٹی فارمیٹ میں اس ٹیم کی برتری کا راز ہی یہی ہے اور مقابل اس کے وہ ٹیم ہے جو بے خوف کرکٹ کھیلنے کی کوشش کر رہی ہے۔ نتیجے کا اندازہ لگانا کسی قیاس کا محتاج نہیں مگر بسا اوقات قسمت قیاس کو مات بھی کر جاتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words