وہ وہاں گئی ہی کیوں تھی

کسی بھی معاشرے میں جب ظلم و جور کا کوئی اندوہناک واقعہ ہوتا ہے تو اس میں فقط دو فریق ہوا کرتے ہیں، ظالم اور مظلوم۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم کس کے ساتھ کھڑے ہیں، ظالم کے ساتھ یا مظلوم کے ساتھ۔ وکٹم بلیمنگ دراصل ظالم کی حمایت کا دوسرا نام ہے۔ جب ہم ظلم کا جواز ڈھونڈتے ہیں تو مظلوم کے ہاتھ مضبوط کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ ایسے معاشروں میں ظلم و ستم اور درندگی کے واقعات بڑھتے ہیں کم نہیں ہوتے۔ جیسا کہ نور مقدم کے بہیمانہ قتل کے بعد بعض خود ساختہ دانشور یہ کہتے ہیں کہ نور مقدم اپنے قاتل ظاہر جعفر کے گھر گئی ہی کیوں تھی۔ یہ اس کی غلطی ہے اگر وہ اس کے گھر نہ جاتی تو اس طرح قتل نہ ہوتی۔

اگر ایک شخص سڑک پر نکلے اور طاقت کے نشے میں چور کوئی ڈرائیور اسے اپنی گاڑی سے کچل کر ہلاک کر ڈالے تو کیا ہم یہ کہیں گے کہ وہ شخص سڑک پر آیا ہی کیوں تھا، اسے تو مرنا ہی تھا۔ چناں چہ یہ جواز نہایت بودا ہے۔ بالفرض محال اگر یہ دلیل مان بھی لی جائے تو پھر ان واقعات کے بارے میں کیا کہیں گے؟ پنڈی بھٹیاں میں شوہر نے دوسری شادی کی خاطر اپنی پہلی بیوی نیلم کو تیل چھڑک کر مار ڈالا۔ فیصل آباد کے سبینہ ٹاؤن میں ایک شخص نے پلاٹ نام نہ کرنے پر اپنی بیوی کو جلا کر مار ڈالا۔

مئی 2019 میں سکھر میں ایک شوہر نے سیاہ کاری کا الزام لگا کر بیوی کو تشدد کے بعد زندہ دفن کر دیا تھا۔ اخبارات ایسے واقعات سے بھرے پڑے ہیں۔ نام اور مقامات تبدیل ہوتے رہتے ہیں لیکن ظلم کی داستانیں ایک جیسی ہیں۔ کیا ان عورتوں کے بارے میں بھی یہی دلیل ہے کہ وہ اپنے گھر میں کیوں تھیں۔ یہاں نام نہاد دانشور نئی دلیل لائیں گے بیوی نے شوہر کی بات نہیں مانی ہوگی، شوہر کو غصہ آ گیا ہو گا وہ کیا کرتا۔

اب جو تازہ ترین واقعہ اوکاڑہ میں ہوا ہے، پانچ افراد نے جنسی فعل کے بعد بکری کو بے رحمی سے مار ڈالا۔ کیا یہ بھی اس بے زبان بکری کا قصور تھا؟

نور مقدم اگر ظاہر جعفر کے گھر گئی تھی تو اس درندے کو یہ حق حاصل نہیں ہو جاتا کہ وہ نور پر وحشیانہ تشدد کرے اور پھر اس کی گردن کاٹ کر دھڑ سے الگ کر دے۔ اطلاعات سے یہ بھی پتا چلا ہے کہ ظاہر جعفر نے اسے یرغمال بنایا ہوا تھا۔ نور نے اپنے ڈرائیور کو فون کر کے سات لاکھ روپے بھی منگائے تھے اور وہ تین لاکھ لے بھی آیا تھا جو ظاہر جعفر کے ملازم نے وصول کیے ۔ اس کے باوجود نور مقدم کو رہائی نہ مل سکی۔ وہ ایک بار اس کے چنگل سے نکل کر باہر کی طرف بھی بھاگی، گارڈ کے کمرے میں پناہ لی لیکن ظاہر جعفر پھر اسے گھسیٹ کر اندر لے گیا۔ اس کے گارڈز اور محلے داروں نے بھی بے حسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نور مقدم کی مدد نہ کی اور اسے مرنے کے لیے چھوڑ دیا۔

ظاہر شاہ بھی طاقت کے نشے میں چور تھا، اسے اپنی دولت اور غیر ملکی شہریت کا غرور تھا۔ اس نے اپنے سفلی جذبات کی تسکین کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی سے قتل کیا، وہ اگلے دن کی فلائٹ سے ملک چھوڑنے والا تھا۔ اسے معلوم تھا کہ قتل کے بعد وہ صاف نلوہ بچ نکلے گا۔ اسے خبر تھی کہ وہ ایک ایسے سماج کا فرد ہے جہاں طاقت ور کا ساتھ دینے والے اکثریت میں ہیں۔ وہ اس کی درندگی کا کوئی نہ کوئی جواز ڈھونڈ لیں گے۔ اسی لئے تو قتل کے بعد جب اسے گرفتار کیا گیا تو اس کے چہرے پر شرمندگی نہیں تھی۔ ایک سفاک قاتل پراعتماد تھا کہ لوگ یہی کہیں گے کہ قصور لڑکی کا ہے، وہ وہاں گئی ہی کیوں تھی۔

نور مقدم اگر قصوروار ہے تو پھر اس کا پہلا قصور یہ ہے کہ وہ پیدا ہی کیوں ہوئی تھی۔ پیدا ہونا ہی تھا تو کم از کم ایسے سماج میں پیدا نہ ہوتی جہاں عورت کو انسان ہی نہیں سمجھا جاتا۔

وکٹم بلیمنگ سے ظلم اور درندگی کے واقعات نہیں رک سکتے۔ ایک دو مجرموں کو سخت ترین سزائیں دینے سے بھی بہتری کا امکان نہیں ہے۔ بات مائنڈ سیٹ کی ہے۔ ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ہم کس کے ساتھ ہیں؟ مظلوم کے ساتھ کھڑے ہو کر ہم ظالم کو یہ پیغام دے سکتے ہیں کہ اب یہ وحشیانہ کھیل نہیں چلے گا۔ یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ حکومت کہاں ہے؟ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ اور انصاف کی فراہمی حکومت کا نہایت اہم فریضہ ہے۔ اگر جرم کرنے کو یہ پتا ہو کہ وہ ہر صورت میں پکڑا جائے گا اور سزا پائے گا خواہ وہ کتنا ہی دولت مند اور با اثر ہو تو جرائم میں نمایاں کمی ہو سکتی ہے۔ کسی سفاک مجرم کا شریک جرم بننے کے بجائے مظلوم کا ساتھ دیں، اندھیرا نور میں ڈھل جائے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words