مریم نواز: کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد گھر میں قرنطینہ

مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کا کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد انھوں نے گھر میں قرنطینہ کر لیا ہے۔

مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب نے بدھ کو سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری بیان میں بتایا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز شریف کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے جس کے بعد انھوں نے خود کو قرنطینہ کر لیا ہے۔

انھوں نے مریم نواز شریف سمیت تمام مریضوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی اپیل بھی کی ہے۔

اس خبر کے سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین نے ردعمل کا اظہار کیا اور ان کی دعاؤں اور نیک خواہشات کے پیغامات کے جواب میں مریم نواز نے بھی جواب دیا۔

مریم نواز نے ٹوئٹر پر لکھا کہ انھیں زکام، بخار اور کھانسی جیسی علامات ہیں لیکن ان کا علاج گھر پر ہو رہا ہے۔

مریم نواز کے کورونا میں مبتلا ہونے کی خبر پر عوام کی جانب سے بھیجے گئے پیغامات پر ان کا شکریہ بھی ادا کیا ہے۔

مسلم لیگ ن کے رہنما اور مریم نواز کے چچا شہباز شریف نے ان کی صحتیابی کی دعا کرتے ہوئے کہا کہ انھیں مریم نواز کا کورونا ٹیسٹ مثبت آنے پر افسوس ہے۔

سوشل میڈیا صارف راحیلہ عاطف نے لکھا کہ ’آپ پریشان نہ ہوں میڈم، اللہ آپ کو صحت یاب کرے، بس آپ گھر پر رہیے۔‘

خیال رہے کہ مریم نواز نے حال ہی میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں اور بعد ازاں سیالکوٹ میں الیکشن مہم میں بڑے عوامی اجتماعات سے خطاب کیا تھا۔

مزید پڑھیے

’سٹیج پر بیٹھے شخص کو کورونا ہو سکتا ہے تو عوام کا کیا ہو گا‘

جیل میں حمزہ شہباز میں کورونا وائرس کی تشخیص

مریم نواز کی جانب سے جلسوں میں شرکت کیے جانے اور ماسک اور ایس او پیز کی مبینہ خلاف ورزی پر انھیں تنقید کا نشانہ بھی بنایا جا رہا ہے۔

وہیں بہت سے لوگ انھیں صحت یابی کی دعا کے ساتھ یہ بھی پوچھ رہے ہیں کہ کیا انھوں نے ویکسین نہیں لگوائی تھی اور اگر لگوائی تھی تو کونسی لگوائی تھی۔

محمد سرور نے لکھا ’انشا اللہ آپ جلد ٹھیک ہوں گی، پاکستان کو آپ جیسی نڈر بہادر لیڈر کی ضرورت ہے۔ اللّٰہ اپنے حفظ و امان میں رکھے‘۔

اس سے قبل وزیراعظم عمران خان، پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو اور متعدد وزرا بھی کورونا وائرس میں مبتلا ہو چکے ہیں۔

مریم نواز کے کورونا مثبت ہونے پر ان کی صحت یابی کے لیے دعا تو کی جا رہی ہے لیکن یہاں بھی مسلم لیگ اور پاکستان تحریک انصاف کے حامی ایک دوسرے پر طنز کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words