ملزم ظاہر جعفر 19 جولائی کو ایئر پورٹ جاتے ہوئے واپس پلٹ آیا، نور مقدم ننگے پاؤں ہمراہ تھی

سابق سفیر کی صاحبزادی نور مقدم قتل کیس میں مزید پیش رفت ہوئی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ ملزم ظاہر جعفر نے 19 جولائی کو نجی ایئرلائن سے امریکا جانا تھا۔ جیو نیوز کے مطابق ملزم ظاہر جعفر نے اسلام آباد سے نیویارک کے لیے ون وے ٹکٹ حاصل کیا تھا۔

ذرائع کےمطابق نور مقدم قتل کے ملزم کا ٹکٹ ایک ٹریول ایجنسی سے بک کرایا گیا تھا، اس کی صبح 3 بج کر 50 منٹ پر فلائٹ تھی۔ تاہم ظاہر جعفر نے 18 اور 19 جولائی کی درمیانی رات ایک بجے ٹریول ایجنٹ کو فون کیا اور پوچھا کہ اگر نہ جاؤں تو کیا ہو گا؟

ظاہر جعفر اور ٹریول ایجنٹ کے درمیان 18 اور 19 جولائی کی درمیانی شب 5 مرتبہ رابطہ ہوا۔

ذرائع کے مطابق ملزم نے 18 جولائی کی دوپہر 12 بج کر 59 منٹ پر ایئرپورٹ جانے کے لیے ٹیکسی بک کرائی۔ ملزم رات سوا 2 بجے نور مقدم کے ساتھ گھر سے باہر آیا، مقتولہ اُس وقت ننگے پاؤں تھی۔

ٹیکسی ڈرائیور رات 2 بج کر 20 منٹ پر ظاہر جعفر اور نور مقدم کو لے کر ائرپورٹ روانہ ہوا۔ کلثوم انڈر پاس کے قریب پہنچنے پر ملزم نے ٹیکسی ڈرائیور کو واپس گھر چلنے کا کہا۔ ڈرائیور نے واپسی کی وجہ پوچھی تو ملزم نے کہا کہ ہم ایئرپورٹ نہیں پہنچ سکتے کیونکہ ہم لیٹ ہیں۔

ٹیکسی ڈرائیور نے گاڑی موڑ لی اور 2 بج کر 35 منٹ پر ملزم ظاہر جعفر اور نور مقدم کو گھر واپس پہنچا دیا۔

ذرائع کےمطابق ملزم نور مقدم کو ٹیکسی ڈرائیور کے سامنے سامان سمیت گھر کے اندر لے گیا، اس دوران نور مقدم خاموش رہی اور ننگے پاؤں گاڑی سے اترکر گھر میں داخل ہوئی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words