پاکستانی ڈرامے اور ہمارے معاشرے میں بگاڑ
کیا پاکستانی ڈرامے یا ان کی کہانیاں ہمارے معاشرے کی عکاسی کرتی ہیں؟ یہ ایک سوال انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ ان ڈراموں میں دکھائی جانے والی کہانیاں کئی گھروں کو اجاڑ چکی ہیں۔ اس سب کا ذمہ دار کون ہے؟
60 کی دہائی سے پاکستان ٹیلی وژن نے اپنے سفر کا آغاز کیا اور خوب کیا سارا گھرانا بچے سے لے کر بوڑھے تک نشر ہونے والے نہ صرف ڈرامے بلکہ تمام پروگرامز بڑے شوق سے دیکھتے تھے اور باقاعدہ انتظار کیا جاتا تھا اور ایک ساتھ بیٹھ کر دیکھنے میں کوئی شرم محسوس نہ کرتے تھے۔ اس وقت کے ڈراموں میں حیا ’تہذیب و تمدن کے ساتھ ساتھ تعلیم و تربیت کا عنصر بھی واضح تھا۔ 90 کی دہائی تک ڈراموں کو عروج حاصل رہا۔ اس زمانے میں وسائل کم تھے لیکن کہانی سے لے کر اداکاری‘ ڈائیلاگ کی ادائیگی ’مکالمے سب کا بہت خیال رکھا جاتا تھا۔ اداکار بھی اپنے کردار میں سما جاتے تھے بالکل ایسے کہ وہ کردار بس اسی کے لئے بنایا گیا ہے۔ جیسے ہی آٹھ بجتے سب گھر والے ٹی وی والے کمرے میں اکٹھے ہو جاتے اور ڈرامہ دیکھتے‘ گلی کوچے سب ویران ہو جاتے۔
چند ڈرامے ایسے تھے جو اپنی کہانیوں اور کرداروں کی وجہ سے امر ہو گئے فہرست کافی لمبی ہے لیکن ان میں سے چند ایک تنہائیاں ’دھوپ کنارے‘ خدا کی بستی ’جانگلوس‘ آنگن ٹیڑھا ’وارث‘ اندھیرا اجالا ’ان کہی‘ دھواں وغیرہ شامل ہیں۔
لیکن جیسے ہی وقت نے کروٹ لی سیٹلائیٹ کا دور آیا بے شمار ٹی وی چینلز کی بھرمار ہوتی گئی اور اس کے ساتھ ہی ڈراموں کا معیار گرنا شروع ہو گیا یعنی زوال شروع ہو گیا۔ اب ڈرامے اور ٹی وی چینلز بے شمار ہیں لیکن دیکھنے والے نہیں ملتے۔
کیا دور حاضر میں بننے والے ڈرامے ہمارے معاشرے کی عکاسی کرتے ہیں؟ کیا یہ کہانیاں ہماری روایات ’رسم و رواج‘ تہذیب و تمدن کے مطابق ہیں؟
ہر چینل پر عجیب و غریب اور کم و بیش معمولی تبدیلیوں کے ساتھ کہانیاں گردش کر رہی ہیں۔ جو زیادہ تر رومانوی ناولز سے بھی لی جاتی ہیں۔ گھسی پٹی ’فحاشی پر مبنی کہانیاں جن میں ایک سگی بہن ہی اپنے بہنوئی پر ڈورے ڈالتی ہے تعلقات رکھتی ہے اپنی ہی بہن کا گھر خراب کرتی ہے‘ سگی بہنیں ہی ایک دوسرے کے لئے سازشیں کرتی ہیں ’بلاوجہ طلاق دینا اور خلع لینا‘ نوکرانی کے ساتھ تعلقات ’ایک شوہر کے ہوتے ہوئے اسی کے دوست کے ساتھ دوستی کر لینا پھر طلاق لے کر شادی کرنا۔
طلاق کا لفظ جس کو اللہ تعالی نے ناپسندیدہ فعل قرار دیا ہے اس کو ایسے ادا کیا جاتا ہے جیسے عام سی بات ہو۔ علاوہ ازیں اب ہر ڈرامہ طلاق کے فعل کے بغیر ادھورا سمجھا جاتا ہے۔ ہر ڈرامے میں عورت‘ وہ جو اپنے گھر کو بچانے کے لئے ایثار و قربانی کا پیکر سمجھی جاتی تھی اور ہے اب چیخ چیخ کر طلاق مانگتی ہے اپنے شوہر کے سامنے ہی نہ صرف اپنے افئیرز کا ذکر کرتی ہے بلکہ سب کی آنکھوں میں دھول جھونک کر ملنے بھی جاتی ہے۔
۔ روپے پیسے کے پیچھے بھاگنا ’دولت حاصل کرنے کے جنون میں کسی بھی حد سے گزر جانا‘ منصوبہ بندی کر کے ہنستے بستے گھروں کو اجاڑ دینا ’اگر ایک شخص برا ہے اور غلط کام کر رہا ہے تو وہ ڈرامے کی 100 اور اس سے اوپر اقساط میں اپنی ہر سازش میں کامیاب ہوتا رہے گا اور باقی سارا گھرانا اس کی سازشوں کا شکار ہوتا رہے گا اور اپنی نہیں اس ایک کی عقل سے چلے گا۔ کیا یہ سب ہمارے معاشرے کی عکاسی کرتا ہے جو ہمارے ڈراموں میں دکھایا جا رہا ہے۔ ان کہانیوں سے ہم اپنی نوجوان نسل کو کیا سکھا رہے ہیں کہ سازشیں کرو اپنے مقاصد کے لئے ہر حد پار کر جاؤ اور اپنی اور دوسروں کی زندگیوں سے کھیلتے چلے جاؤ نہ شرمندگی‘ نہ ہی کسی پچھتاوے کا احساس ہی جنم لیتا ہے۔
آج کل کے ڈرامے انٹرٹینمنٹ نہیں بلکہ ڈپریشن کا موجب بنتے جا رہے ہیں۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ اخلاقی قدروں کو پامال کرتے ہوئے ٹاک شوز اور مارننگ پروگرامز بھی دکھائے جا رہے ہیں جو معاشرے میں مزید بگاڑ پیدا کرنے کے ذریعہ بنتے ہیں۔
پہلے ڈراموں میں کردار اور کہانیاں سبق آموز ہوتی تھیں ’رکھ رکھاؤ‘ تہذیب اور زمانے کی اونچ نیچ کو مدنظر رکھا جاتا تھا ’ملبوسات کا انتخاب بھی کیا باکمال ہوتا تھا۔ کردار میں ڈوب کر اس میں رچ بس کر کردار کو کہانی کو نبھایا جاتا تھا حتٰی کہ وہ کردار امر ہو جاتا تھا۔
عورت کو وفا کا پیکر دکھایا جاتا تھا ایک تقدس تھا احترام تھا جو اپنے بچوں اور عزت کی خاطر شوہر کے در پر بیٹھی رہتی تھی ہر ظلم برداشت کرتی رہتی تھی لیکن آج کے ڈراموں میں عورت کو خواہشوں کا غلام دکھایا جا رہا ہے جو اپنے خواب پورے کرنے کے لئے اپنے معصوم بچوں کو پیروں تلے روندتی چلی جاتی ہے۔
ان ڈراموں کے ذریعے ہم اپنی نوجوان نسل کو یہ سکھا رہے ہیں کہ کیسے گھر کو برباد کیا جاتا ہے ’کیسے بچوں کو وقت سے پہلے بالغ کر دیا جاتا ہے اور ان کی معصومیت‘ بچپنے کو نوچ لیا جاتا ہے۔
بے شک حالات و واقعات بہت بدل گئے ہیں۔ زمانہ بدل گیا ہے۔ ٹیکنالوجی کا دور ہے تو کیا ہم اپنی تہذیب کو بھول جائیں؟ اپنی عزتوں کو داؤ پر لگا دیں؟ ان کے دماغوں میں غلاظت بھر دیں؟
ان کی وقت کے مطابق تعلیم و تربیت کرنے کی بجائے ان میں ڈپریشن ’انتشار‘ خودغرضی ’موقع پرستی‘ سازشیں کرنا سکھایا جا رہا ہے۔ پھر یہ کہنا کہ زمانہ بہت خراب ہے ’معاشرہ‘ لوگوں کی سوچ بہت خراب ہو گئی ہے ’ریپ‘ ریاکاری ’زنا‘ چوری چکاری ’ڈاکے بڑھ گئے ہیں ان سب کے پیچھے محرکات کیا ہیں یہ سوچنا گوارا نہیں کرتے۔
جب عریاں ہونے کو فیشن قرار دیا جائے گا تب معاشرے میں انتشار ’مایوسی ہی پھیلے گی روحانیت نہیں۔
جیسے ایک بچے کی پرورش میں گھر کا ماحول اہم کردار ادا کرتا ہے بالکل اسی طرح معاشرے کی فلاح و بہبود ’ترقی میں ہمارا سوشل میڈیا‘ الیکٹرانک میڈیا اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
جب سارا سارا دن فضول پروگرامز چلیں گے اور اخلاق سے گرے ڈرامے جو کہ ہمارے پاس واحد اور سستی انٹرٹینمنٹ ہے تو پھر ویسا ہی معاشرہ گند کا ڈھیر بنے گا۔ جیسا بوئیں گے ویسا ہی کاٹیں گے۔
حال ہی میں افسانوی شہرت رکھنے والے انور مقصود نے ڈرامہ لکھنے سے انکار کر دیا کیونکہ جس طرح آج کل ڈرامے بن رہے ہیں اور کہانیاں چل رہی ہیں ان میں اعلی پائے کے ادیب ’ڈرامہ نگار‘ شاعر اور لکھاری مایوسی کا شکار ہیں۔ آخر یہ ٹرینڈ اور ریٹنگ کا سلسلہ کب اور کہاں سے شروع ہوا۔
حکومت اور پیمرا کو اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ ہم اچھا اور اعلی قدروں والا معاشرہ ترتیب دیں سکیں۔ اس سلسلے میں انتہائی اہم اور سخت فیصلے کیے جائیں تاکہ اس قوم کو تباہی سے بچایا جا سکے۔
نوجوان نسل کی وقت کی ضرورت کے مطابق تعلم و تربیت کا اہتمام کیا جائے اور ان کو کامیاب زندگی گزارنے کے طور طریقے سکھائے جائیں تاکہ وہ معاشرے کی ترقی میں اپنا اہم کردار ادا کر سکیں۔ معاشرہ لوگوں اور ان کی سوچ سے بنتا ہے لہٰذا مثبت سوچ اور عمل کی ضرورت ہے تاکہ آخری سانسیں لیتی اخلاقی قدروں کو پھر سے زندہ کیا جا سکے۔
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ کسی عالمی سازش کے ذریعے ہماری قوم پر ایسے ڈرامے اور پروگرامز مسلط کیے جا رہے ہیں تاکہ لوگ بے راہ روی کا شکار ہو جائیں۔ حیرت اس بات پر ہے کہ ڈرامہ نگار اور پروڈکشن ٹیم یہاں کی ہے ’فنکار مقامی ہیں‘ ڈرامے ہماری قومی زبان میں ہیں پھر ہم دشمنوں کے آلہ کار کیوں بن رہے ہیں؟
ہمارے میڈیا کے سربراہان کو چاہیے کہ اپنی ذمہ داری نبھائیں اور دولت کی ہوس کی خاطر قوم کے اخلاق کو تباہ نہ کریں۔ ڈراموں اور پروگرامز کا مقصد لوگوں کو سستی تفریح مہیا کرنا ہوتا ہے نہ کہ قوم کو گمراہ کن مواد دکھا کر تباہی کے دہانے پر کھڑا کر دیا جائے۔


