کچھ تو ہم سندھ والوں کے لیے بھی چھوڑ دو!


اسلام آباد میں ایک دوست کے پاس جانے کے لیے میں نے بائیکیا کا سفر کیا، چوں کہ سفر طویل تھا اس لیے راستے میں اس بائیکیا والے ڈرائیور سے غیر رسمی سلام دعا بھی ہوئی جس کے بعد اس نے میرے لہجے سے بھانپ لیا کہ میں سندھ سے ہوں تو اس نے سوال کیا کہ بھائی آپ سندھ کے کون سے علاقے سے تعلق رکھتے ہیں؟ میں نے جواب دیا کہ میں حیدرآباد کا رہائشی ہوں، جس پر اس نے دوسرا سوال کیا کہ آپ کی تعلیم کتنی ہے؟ میں نے جواب دیتے ہوئے کہا ماسٹرز کی ہے میں نے، جس پر اس نے کہا یار میں تو پنڈی کا رہائشی ہوں، پھر بھی میں آٹھویں پاس ہوں، میں نے پوچھا کیوں آپ نے آگے تعلیم کیوں نہیں حاصل کی پنڈی جیسے بڑے شہر میں ہوتے ہوئے بھی آپ آٹھویں پاس کیوں ہیں؟

تو جواب ملا کہ پڑھائی بہت مشکل ہے بھائی، آپ سندھ والے تو خوش قسمت ہو جو بیٹھے بٹھائے ڈگریاں و نوکریاں مل جاتی ہیں، جس پر میں نے جواب دیا کہ یہ آپ سے کس نے کہہ دیا کہ ہمیں بیٹھے بٹھائے ڈگریاں و نوکریاں مل جاتی ہیں تو اس بندے نے کسمساتے ہوئے جواب دیا کہ میرا ایک رشتہ دار ہے سرگودھا کا اس نے سرگودھے میں بیٹھے ہی سندھ سے انٹر کیا اور آج کل سرکاری ملازمت کر رہا ہے، اس کے پاس تو ڈومیسائل بھی سندھ کا ہے، شاید سانگھڑ کا ہے، اور مزے کی بات تو یہ ہے کہ وہ سندھ ہی کے ڈومیسائل پر یہاں ایک منسٹری میں 15 ویں گریڈ کا ملازم ہے، آپ کیا خبریں کر رہیں جناب، میں اس کا جواب سن کر کچھ سوچ ہی رہا تھا تو اس نے اگلا سوال کیا کہ میں بھی سوچ رہا ہوں کہ سندھ ہی سے میٹرک کرلوں، پھر کہیں نہ کہیں اٹک جاؤں گا۔

نہ صرف پنجاب پر دوسرے صوبے کے لوگوں نے بھی سندھ کو مال غنیمت سمجھ کر ہمیشہ لوٹا ہے، ہر جائز و ناجائز کام کے لیے انہیں سندھ یاد آتی ہے، جو لوگ کلرک لگنے کے لائق نہیں ہوتے وہ سندھ کوٹہ پر افسر لگ جاتے ہیں۔

گزشتہ برس سندھ کے نوجوانوں نے دیگر صوبوں کے لوگوں کے جعلی ڈومیسائل والے معاملے پر ٹویٹر پر ایک ٹرینڈ چلا کر تاریخ ساز احتجاج کیا، تاہم کافی ایسے بہروپیوں کو بھی بے نقاب کیا جو دوسروں کا حق مار کر بیٹھے تھے۔

مضحکہ خیز بات تو یہ ہے کہ اس سنگین مسئلہ پر سندھ حکومت نے بھی سوائے زبانی جمع خرچ کے کچھ نہیں کیا حتیٰ کہ مقامی لوگوں کے حقوق غصب کیے جا رہے ہیں، جن لوگوں نے کبھی سندھ دیکھا ہی نہیں وہ اسی سندھ کے ڈومیسائل پر اعلیٰ عہدوں پر براجمان ہیں، جبکہ سندھ کے مقامی لوگ در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔

نااہلی کا عالم تو یہ ہے پاکستان کے سب سے بڑے و اعلیٰ امتحان سی ایس ایس میں جعلی ڈومیسائل کا معاملہ عروج پر ہے، ہر سال کئی ایسے لوگ جنہیں سندھ کا پتہ تک نہیں وہ اسی سندھ کے کوٹہ پر بھرتی ہو جاتے ہیں، 2017 کی سی ایس ایس میں بھی لاہور کے ایک رہائشی نے کراچی کا جعلی ڈومیسائل بنوا کر سندھ کے کوٹہ کی اسسٹنٹ کمشنر کی سیٹ ہتھیا لی۔

حال ہی میں سی ایس ایس 2020 کے فائنل نتائج میں بھی کم و بیش 8 امیدوار ایسے تھے جو مشکوک تھے، جس پر محکمہ داخلہ سندھ نے فیڈرل پبلک سروس کمیشن کو خط کے ذریعے ان کے ڈومیسائل تصدیق کرنے کی استدعا کی جس کے بعد یہ ثابت ہوا کہ 8 میں سے 7 امیدوار پنجاب کے تھے- اور مزے کی بات یہ ہے کہ ان میں سے سب کی اچھے گروپس میں ایلوکیشن ہوئی ہے، جن میں پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروسز و دیگر قابل ذکر گروپس شامل ہیں، حتا کہ یہ ثابت ہو چکا ہے یہ لوگ جعلی ڈومیسائل کی بنا پر ایلوکیٹ ہوئے ہیں پر ان کے خلاف کارروائی کرنے سے ادارے لرز رہے ہیں۔

تاہم سندھ کے اپنے صوبائی محکموں میں حالات کوئی مختلف نہیں وہاں بھی پنجاب کے لوگوں کی کثیر تعداد جعلی ڈومیسائل پر بھرتی ہوئے بیٹھے ہیں، اس ساری صورتحال میں تو سندھ کا نوجوان یہی کہے گا نہ کہ ”کچھ تو ہم سندھ والوں کے لیے بھی چھوڑ دو“

متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ اس معاملے کو دیکھیں اور ایسے دو نمبر لوگوں کے خلاف مثالی کارروائی کر کے ایک مثال قائم کی جائے، اور ان لوگوں کے خلاف بھی کڑی کارروائی کی جائے جو ڈومیسائل بنوانے میں سہولت کار تھے، تاکہ مستقبل میں سندھ کے حقوق کو غصب کرنے سے روکا جا سکے۔

Facebook Comments HS