روبوٹ مرد یا عورتوں کی عزت: پاکستانی معاشرہ کی حقیقت کیا ہے؟

ایک امریکی نیوز پروگرام کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان اور مسلمان ملکوں میں عورتوں کو جو عزت و احترام دیا جاتا ہے، مغربی ممالک میں اس کا تصور بھی نہیں ہے۔ ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ پاکستان میں ریپ کے واقعات مغربی ممالک کے مقابلے میں عشر عشیر بھی نہیں۔ گو کہ انہوں نے تسلیم کیا کہ ہمارے معاشرے کو اپنے طور پر بعض سماجی مسائل کا سامنا ہے۔ وزیر اعظم نے ان مسائل کی تفصیل بتانے کی زحمت نہیں کی۔

وزیر اعظم کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خواتین کے خلاف تشدد اور ظلم و زیادتی کے متعدد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ اسلام آباد میں ایک سابق پاکستانی سفیر کی بیٹی کے دردناک اور وحشیانہ قتل کا واقعہ ابھی تک پورے ملک کو ہراساں و خوفزدہ کئے ہوئے ہے۔ اس کے باوجود عمران خان کا اصرار ہے کہ انہوں نے پوری دنیا دیکھی ہے اور وہ جانتے ہیں کہ مسلمان ملکوں میں خواتین کو جو احترام و عزت دی جاتی ہے وہ مغربی ممالک کی خواتین کو میسر نہیں۔ اپنے اس دعویٰ کے لئے عمران خان کے پاس کوئی دلیل نہیں۔ اس لئے وہ اتنا کہنا کافی سمجھتے ہیں کہ مسلمان ملکوں میں خواتین کے عزت و وقار کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اسلام عورتوں کے احترام کا سبق دیتا ہے۔

حیرت انگیز طور پر یہ دلیل دیتے ہوئے عمران خان جیسا شخص بھی اپنی کوتاہ نظری اور سخت گیر قدامت پسند سوچ کی وجہ سے یہ ماننے اور دیکھنے کو تیار نہیں کہ جسے مسلمان ملکوں میں خواتین کی نام نہاد عزت و احترام کہا جاتا ہے، اسے انسانی حقوق کے کنونشن اور مساوات و برابری کی عالمگیر تفہیم کے مطابق صنفی تعصب پر استوار طریقہ سمجھا جاتا ہے۔  90 کی دہائی میں طالبان نے افغانستان میں اپنی حکومت کے دوران اس ’ احترام و وقار‘ کا عملی نمونہ یوں پیش کیا تھا کہ خواتین کو زندگی کے کسی بھی شعبہ میں حصہ لینے یا مردوں کے برابر کھڑے ہونے کا حق حاصل نہیں تھا۔ حتی کہ ان سے تعلیم اور علاج معالجہ کا بنیادی انسانی حق بھی سلب کرلیا گیا تھا۔ طالبان کے افغانستان میں عورتیں عملی طور سے گھروں میں قید کردی گئی تھیں یا انہیں مردوں کی ملکیت کا درجہ دیا گیا تھا۔ یہ ملکیت باپ، شوہر یا بھائی محرم ہونے کے نام پر حاصل کرتا ہے۔ اور اسے اسلامی شریعت و طریقہ کا نام دیا جاتا ہے۔ سعودی عرب میں خواتین کے حقوق کی صورت حال بھی اس سے مختلف نہیں رہی لیکن اب ولی عہد پرنس محمد بن سلمان کی سرکردگی میں اس شدید سماجی طریقہ کار کو تبدیل کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ کئی دہائیوں کی جد و جہد کے بعد سعودی خواتین کو ڈرائیونگ کا حق نصیب ہوسکا ہے یا اب محرم کی پابندی میں نرمی کی جارہی ہے اور کسی عورت کو تن تنہا آزادی سے رہنے کا حق دینے کے لئے قوانین میں تبدیلی کی گئی ہے۔

پاکستان میں بھی صورت حال مختلف نہیں ہے۔ ملک میں عورت کے لئے ماں، بہن، بیٹی یا بیوی کا درجہ مختص کرتے ہوئے درحقیقت اس کی آزاد انفرادی حیثیت کو تسلیم کرنے سے انکار کیا جاتا ہے لیکن عمران خان جیسے لیڈر اسے معاشرے میں عورت کے وقار اور احترام کی بنیاد اور اسلام کا پیغام قرار دیتے ہیں۔ جس پردہ کی عمران خان تبلیغ کرتے ہیں، اس پردہ کے تحت خواتین  سے کہا جاتا ہے کہ وہ خود کو مکمل طور سے ڈھانپ کے رکھیں۔ معاشرے کا بہت بڑا حصہ اپنے گھروں کی عورتوں کو یہ فیصلہ کرنے کا حق دینے پر تیار نہیں کہ وہ اپنے لباس اور طریق زندگی کے بارے میں خود کوئی فیصلہ کرسکیں۔ یہ تسلیم کر لیا گیا ہے کہ اس کا فیصلہ مردوں کو کرنے کا حق حاصل ہے۔ اس طرح مرد و زن کے درمیان حقوق کی تقسیم کو پہلے ہی مرحلے میں غیر متوازن کردیا جاتا ہے۔

اب عمران خان وضاحتی بیان میں خواہ کہتے رہیں کہ پردہ تو مردوں کے لئے بھی ہوتا ہے لیکن مانا اور کہا تو یہی جاتا ہے کہ جسم کو چھپاناعورت ہی کی ذمہ داری ہے۔ جس فحاشی کے خلاف ملک کے وزیر اعظم دلائل کا انبار لاتے ہیں، اس کا تعلق مردوں کے مزاج اور سماجی برتاؤ سے نہیں ہے بلکہ اس کا سارا بوجھ معاشرے کی خواتین پر ڈالا جاتا ہے۔ اس مؤقف کو مدلل بنانے اور مرد کی بالادستی کو فقہی سند فراہم کرنے کے لئے اسلامی تعلیمات کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ عمران خان اور ان کی سوچ سے اتفاق کرنے والے اس ملک میں کئی سو سال پہلے کا ایک ایسا قبائلی طریقہ کار متعارف کروانا چاہتے ہیں جہاں عورت کو گھر سے باہر پاؤں رکھنے کے لئے مرد کی اجازت درکار ہوگی۔ اس تشریح کو مزید شدت دینے والے معاشرے کسی بھی عورت کا کسی محرم کے بغیر گھر سے نکلنا ناقابل قبول اور غیر اسلامی سمجھتے ہیں۔ عمران خان شستہ انگریزی میں اسی رجعت پسند اسلامی تصور کا پرچار کرتے ہیں، اسی لئے انہیں یہ لگتا ہے کہ اگر عورتیں مناسب لباس نہیں پہنیں گی تو پاکستان جیسے معاشرے میں مردوں کا بہک جانا سہل ہوگا اور جنسی جرائم میں اضافہ ہوگا۔ اسی لئے انہوں نے کہا تھا ایسی صورت میں احساس و جذبات والا مرد تو نہیں البتہ کوئی روبوٹ ہی ہوگا جو متاثر نہ ہو۔ انہوں نے دعوے سے اس تصور کو ’کامن سینس‘ بھی قرار دیا تھا۔

اب پی بی ایس کے نیوز آور میں اس حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے عمران خان نے ملک کی عورتوں پر یہ ’احسان‘ ضرور کیا ہے کہ وہ جنسی زیادتی کا ارتکاب کرنے والے مرد کو ہی قصور وار اور اپنے غیرقانونی، غیر انسانی، غیر اخلاقی اور وحشیانہ اقدام کا ذمہ دار کہتے ہیں۔ انہوں نے صراحت سے یہ بھی کہا ہے کہ کسی بھی صورت میں جنسی تشدد کا شکار ہونے والی کسی خاتون کو اس کا ذمہ دار قرار نہیں دیا جاسکتا۔ لیکن جب ملک کا وزیر اعظم بدستور پردہ کی ایک غیر واضح تشریح پر اصرار کرتا ہے اور فحاشی یا عریانی کو سماجی مسائل کی بنیاد قرار دینے میں کوئی قباحت نہیں سمجھتا تو بحث کا اختتام تو اسی نکتہ پر ہوگا کہ اصل ذمہ دار عورت ہی ہے۔ اگر وہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرتی، ایسا لباس نہ پہنتی جس کی وجہ سے معاشرے میں ہیجان پیدا ہوتا ہے اور مرد بے چین ہو جاتے ہیں تو شاید کوئی جنسی جرم بھی سرزد نہ ہوتا۔ ریپ کرنے والے کو جرم کا اصل ذمہ دار کہہ کر وزیر اعظم نے دراصل گزشتہ کئی ماہ سے جاری بحث میں سرخرو ہونے کی کوشش کی ہے کیوں کہ پاکستان کا فوجداری قانون بھی عمران خان کے اس مؤقف کودرست تسلیم نہیں کرتا کہ کم لباسی کی وجہ سے مرد ریپ پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ عمران خان کے تازہ بیان کو ’سیاسی طور سے درست مؤقف‘ اختیار کرنے کی نیم دلانہ کوشش ہی کہا جا سکتا ہے۔

 انٹرویو کے دوران اسی سانس میں وہ یہ ثابت کرتے ہیں کہ پاکستانی معاشرہ عورتوں کو عزت و احترام دیتا ہے اور اپنے ذاتی تجربہ سے اس کی دلیل لاتے ہیں۔ انٹرویو کرنے والی اینکر جوڈی وڈرف نے استفسار کیا کہ ’کیا مذہب اور خاص طور سے اسلام کو غیر ضروری طور سے اہمیت دے کر آپ عورتوں کے خلاف جرائم کے بارے میں سخت اور دوٹوک مؤقف اختیار کرنے میں ناکام تو نہیں ہو رہے؟‘ اس پر عمران خان کا جواب تھا کہ ’ہرگز نہیں‘۔ اسلام تو عورتوں کو عزت و احترام دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمان ملکوں میں عورتوں کے ساتھ زیادہ عزت کا سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ اس جواب سے درحقیقت وزیر اعظم نے پروگرام کی اینکر کے اٹھائے ہوئے شبہ کو یقین میں تبدیل کردیا۔ جب وزیر اعظم اسلام کی من پسند تشریح کرتے ہوئے عورت کا احترام، اس کی آزادی سلب کرنے کے طالبانی تصور سے مشروط کریں گے اور دعویٰ کریں گے کہ پاکستان میں ریپ کے واقعات مغربی ممالک کے مقابلے میں بہت کم ہیں تو وہ مغربی معاشروں کے بارے میں ہی نہیں بلکہ پاکستانی سماج کی کمزوریوں اور خرابیوں سے بھی ناواقفیت کا اعتراف کرتے ہیں۔

عمران خان کے پاس ایسے کوئی اعداد و شمار نہیں ہیں جن سے وہ کسی بھی فورم پر یہ ثابت کر سکیں کہ مغربی ممالک میں ریپ کے جرائم پاکستان سے کئی گنا زیادہ ہوتے ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ نوٹ کرنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان اور مغرب میں ریپ کی تشریح بالکل مختلف طریقے سے کی جاتی ہے۔ کوئی مغربی عورت اپنی مرضی کے خلاف شوہر کی جنسی دسترس کو بھی ریپ کہہ سکتی ہے۔ اور معاشرے کے قوانین اپنے جسم پر خاتون کے حتمی اور مکمل اختیار کا اصول تسلیم کرتے ہوئے ایسے کسی واقعہ کو ریپ ہی کہتے ہیں۔ مغرب میں اب یہ سماجی تصور ٹھوس بنیاد اختیار کر چکا ہے کہ ریپ کا شکار ہونے والی کوئی خاتون باعث شرم نہیں ہے بلکہ ایسا مرد معاشرے کے لئے باعث ننگ ہے۔ ان دو اصولوں کو پاکستانی مزاج کی روشنی میں پرکھ کر ہی دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوجائے گا۔

مغرب میں جب کوئی عورت ریپ کے خلاف آواز اٹھاتی ہے تو اسے کسی سماجی تعصب کا خوف نہیں ہوتا بلکہ یقین ہوتا ہے کہ قانون ہی نہیں بلکہ سماج بھی اس کی پشت پر ہوگا۔ پاکستان میں ریپ کے بیشتر واقعات اس لئے رپورٹ نہیں ہوتے کیوں کہ سماجی توہین یا خاندان کی ہتک کا خوف آڑے آتا ہے۔ پاکستان تو ایک ایسا معاشرہ ہے جہاں خاندان کی عزت کے نام پر عورتوں کو قتل کرنا معمول بن چکا ہے۔ ایسے معاملات میں سماج ہی نہیں بلکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اور انصاف فراہم کرنے والے منصف کی ہمدری بھی مجرموں کے ساتھ ہوتی ہے۔

 ستم ظریفی ہے کہ عمران خان کے ممدوح طالبان ایک بار پھر افغانستان میں اقتدار سنبھالنے کے لئے پر تول رہے ہیں لیکن خواتین کے حقوق کی کوئی ضمانت فراہم کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔ عمران خان کی طرح طالبان کی دلیل بھی اسلام اور شرعی قوانین ہیں۔ خواتین کی آزادی اور فیصلہ کرنے کا حق چھین کر احترام کے ڈھونگ اور سماجی ظلم کو جب تک شرعی لبادہ پہنانے کی کوشش ہوتی رہے گی، پاکستان سمیت کسی بھی معاشرے میں عورتوں کے تحفظ اور عزت و وقار کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words