ہنزہ کے قلعے اور زندان

صبح نماز کے لئے اٹھے تو طلوع آفتاب کا نظارہ کرنے کی خاطر ہوٹل کی ٹیرس پر جا بیٹھے۔ ٹیرس پر چھوٹو کو بیٹھا دیکھ کر حیرت ہوئی۔ یہ تو چھٹی کے دن، بارہ بجے سے پہلے کبھی اٹھی ہی نہیں تھی۔ میں نے پوچھا ”اتنی جلدی کیسے اٹھنا ہوا“ کہنے لگی میں تو ابھی سوئی ہی نہیں۔ ساری رات چاند کا نظارہ کرتی رہی ”۔ رات ویسے بھی بہت چھوٹی تھی۔ ساڑھے چار بجے سورج نکل آتا ہے۔ ہم دونوں سورج بادشاہ کی آمد کے منتظر مودب بیٹھے تھے۔ سورج کی پہلی کرن نے سامنے کے چوٹی کو منور کیا جو پہلے سنہری سے رنگ بدلتی سفید ہو رہی تھی کہ ایک کالا بادل آوارگی کرتا ہوا ہمارے اور روپہلی چوٹی کے درمیان حائل ہو گیا۔ پھر بادل پورے آسمان پر پھیلنے لگے۔ چھوٹو کی مایوسی اس کے چہرے سے عیاں تھی۔ ہم کمرے میں جاکر چادر تان کر سو گئے۔

دس بجے کمرے میں گھنٹیاں بجنا شروع ہوئیں تو آنکھ کھل گئی۔ سب نے الارم لگائے ہوئے تھے کہ ہوٹل میں ساڑھے دس بجے تک کمپلیمنٹری ناشتے کا وقت تھا۔ سب لوگ ٹائم ختم ہونے سے دس منٹ پہلے ڈائننگ ہال میں موجود تھے۔ چھوٹو مگر نہیں اٹھی وہ سوئی رہی۔

کریم آباد کے بازار میں بہت رش تھا۔ گاڑی آہستہ آہستہ رینگتی آگے بڑھ رہی تھی۔ موڑ پر بیکری کے سامنے پولیس والے سے پوچھ کر نعمان نے گاڑی پارک کی۔ نعمان کے پوچھنے پر کہ گاڑی یہاں محفوظ ہے؟ سپاہی نے جواب دیا ”آپ اپنا پرس بھی یہاں رکھ کر چلے جائیں، کوئی نہیں اٹھائے گا۔ واقعی ہنزہ میں لٹریسی 100 %اور کرائم 0 % ہے۔ لوگ سلجھے ہوئے، باتمیز اور ایماندار ہیں۔

ہلکی ہلکی بوندا باندی ہو رہی تھی۔ ہوا ٹھنڈی اور تیز تھی۔ ہم کریم آباد کے بازار کے ساتھ بلتیت فورٹ کی چڑھائی طے کر رہے تھے۔ ہمارے ساتھ ایک دو گاڑیاں دھواں اڑاتی اوپر نکلیں تو چھوٹو کہنے لگی ہم نے گاڑی کیوں پیچھے چھوڑ دی؟ مگر دس گز آگے سکول کے ساتھ بنے پارکنگ ایریا سے آگے بلتیت فورٹ تک ساری چڑھائی پیدل کی ہے، جسے ہم جیسے یکمشت طے نہیں کر سکتے۔ موسم ٹھنڈا اور ہوا تیز ہوتی جا رہی تھی۔ فورٹ تک پہنچتے ہوا نے آندھی کی شکل اختیار کرلی، وہ بھی مٹی والی۔ حیرت ہوئی، ہنزہ میں مٹی والی آندھی بھی چلتی ہے۔

بلتیت فورٹ وادی ہنزہ کی بلند ترین تعمیر ہے۔ یہ ہنزہ کے شاہی خاندان کی رہائش اور دربار تھا۔ یہ قلعہ جو مٹی، پتھر اور لکڑی کا بنا ہوا ہے، کوئی چھ سو سال پرانا ہے۔ 1891 میں جب انگریز نے یہ علاقہ فتح کیا تو والی ہنزہ نے چین جاکر پناہ لے لی۔ میر آف ہنزہ کے چھوٹے بھائی کو مگر وفاداری کے بدلے انگریز نے ریاست چلانے کی اجازت دے دی۔ 1947 میں پاکستان بننے کے بعد یہ ریاست پاکستان کے ساتھ منسلک ہو گئی۔ 1974 میں بھٹو نے ریاست کا درجہ ختم کر کے اسے پاکستان کا حصہ بنا دیا۔

1945 میں والئی ہنزہ یہ قلعہ چھوڑ کر اپنی موجودہ ماڈرن رہائش گاہ میں منتقل ہو گئے۔ قلعے کی عمارت خستگی کا شکار ہوتی جا رہی تھی۔ 1996 میں آغا خان ٹرسٹ نے اس کی مرمت کروا کر اسے پبلک پراپرٹی بنوا دیا۔ آپ 600 روپے کا ٹکٹ خرید کر گائیڈ کے ہمراہ قلعے کے اندر جا سکتے ہیں۔

چھوٹو کو ٹکٹ پر اعتراض تھا۔ اس کا خیال تھا کہ اتنے پرانے قلعے کو دیکھنے ہم ہزاروں میل کا سفر کر کے پہنچے ہیں۔ اتنی پیدل چڑھائی سر کی ہے۔ ہمیں اس قلعے کو دیکھنے کے پیسے ملنے چاہئیں۔ وہ والئی ہنزہ کے طرز زندگی کا تنقیدی جائزہ لے رہی تھی۔ اور معترض تھی کہ یہاں نہ تو ٹی وی لاونج ہے نہ بچوں کے علیحدہ کمرے، کیسے حکمران ہیں جو ایک ہی چھت کے نیچے کھاتے، پیتے مہمانوں کو ملتے اور یہیں اپنا دربار بھی لگاتے تھے۔

اس قلعے میں دربار کے علاوہ شاہی بیڈ روم، کھانے پکانے اور کھانے کے ایک بڑے کمرے، جہاں شاہی خاندان فرشی نشست پر تناول فرماتے، غلے کے چھ گودام کہ والئی ہنزہ غلے کی صورت لگان وصول کیا کرتے تھے۔ اس کے علاوہ حکومت مخالفین کے لئے ایک زندان بھی موجود ہے، جہاں مکمل تاریکی اور تنہائی، جلد ہی قیدی کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیتی تھی۔ چھوٹو کے سوال پر کہ زندان میں اترنے کے لئے سیڑھیاں تو ہیں نہیں؟ گائیڈ نے بتایا ”قیدی کے ہاتھ پاؤں باندھ کر نیچے پھینک دیا جاتا تھا۔ چھوٹو نے اس ظلم پر شدید احتجاج کیا۔ حیرت ہے حکومت مخالف کا انجام ہمیشہ سے ہی عبرت ناک رہا ہے۔ حکومت چاہے آمریت ہو، پارٹی مناپلی ہو یا جمہوریت، حکومت مخالف کو جبر اور تشدد کے ذریعے قائل کیا جاتا ہے۔

قلعے سے باہر نکلے تو تیز ہوا بدستور چل رہی تھی۔ قلعے کے ساتھ تھوڑا نیچے تنگ سی گلی کی نکر پر قیمتی پتھروں کی دکان میں بچے انگوٹھیوں کے نگ خریدنے گھسے تو میں بیگم کے ساتھ، چائے پینے بائیں ہاتھ، فروٹ آرچرڈ کے بیچ بنی کینٹین پر آ گیا۔ یہاں چیری، خوبانی اور سیب کے گھنے درخت آندھی سے جھول رہے تھے۔ چیری سے لدے درخت کے نیچے بیٹھ کر ہم نے چائے کی بجائے چیری کا جوس آرڈر کر دیا۔

شام کے سائے لمبے ہوتے جا رہے تھے۔ سورج پہاڑوں کی اوٹ میں چلا گیا تھا۔ آسمان پر بادل نہیں تھے، مگر فضا مٹیالی سی تھی۔ ہم نے شیڈول کے مطابق ابھی ”آلتیت فورٹ“ بھی جانا تھا۔ چھ بجے قلعے عوام کے لئے بند۔ کر دیے جاتے ہیں کہ رات کو والیان قلعہ اور ان کے خاندان کی روحیں چین سے رہ سکیں۔

شاہراہ ریشم سے کریم آباد جاتے ہوئے پہلے چوک سے کریم آباد کی بجائے دائیں جانب مڑ جائیں تو کوئی ایک کلومیٹر کے فاصلے پر قلعہ آلتیت واقعہ ہے۔ یہ قلعہ کوئی ایک ہزار سال پرانا ہے۔ اس قلعے کی تعمیر میں تھوڑی تبدیلی انگریز نے 1891 میں کی جب انگریز فوجیوں نے اسے اپنی چھاؤنی بنایا۔ یہ قلعہ بھی مٹی پتھر گارے اور لکڑی کے امتزاج سے بنا ہے۔ یونیسکو ورلڈ ہیریٹیج ایوارڈ قلعہ کے نام ہو چکا۔ آغا خان ٹرسٹ نے اسے مرمت کر کے عوام کے لئے کھولا ہے اور یہ اب حکومت پاکستان کی ملکیت ہے۔

بچوں نے انگوٹھیوں کے نگ خریدتے کافی وقت لگایا۔ نعمان اور چھوٹو ان پتھروں کی کرامات سے واقف تھے۔ دکاندار نے ان کی معلومات سے خوش ہو کر کچھ رعایت بھی کی۔ نعمان کا خیال تھا ہنزہ کے لوگ بے ایمانی نہیں کرتے، یہاں خالص پتھر ملتے ہیں۔

ہم جب آلتیت ٹاؤن پہنچے، چھ بجنے والے تھے۔ یہ قلعہ آلتیت ٹاؤن کی آبادی میں واقع ہے۔ بھاگم بھاگ تنگ سی گلی سے گزر کر ٹکٹ گھر پہنچے اور ٹکٹ لے کر گائیڈ کے ہمراہ قلعہ کے اندر چلے گئے۔ یہاں بھی وہی دربار سرکار اور زندان کے قصے تھے۔ بادشاہوں کی تاریخ دیکھیں تو خلاصہ یہی نکلتا ہے کہ بادشاہ سونے کا چمچہ لے کر پیدا ہوتے، جوانی میں خوبصورت لڑکیاں تاراج کرتے، بادشاہ بنتے ہی اپنے مخالفوں کو قتل کرتے یا زندان میں ڈال دیتے۔ چھوٹو بادشاہوں کی طرز زندگی اور طرز حکومت کی مخالف تھی، اس لئے قلعے کی سیر کے بعد کافی دیر مغموم رہی، حتیٰ کہ ہم ”روایت“ پر ڈنر کرنے پہنچے۔ جہاں کھانا اچھا اور چھوٹو کی پسند کی کافی مل گئی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words