میں بھی نبی پاکﷺ کے مدحت کدے میں تھی


چند دن پہلے سعودی عرب میں حکام نے خانہ کعبہ کے جنوب مشرقی حصے پر موجود مقدس پتھر حجراسود کی کچھ نئی اور نایاب تصاویر جاری کیں۔ ایسی تصاویر پہلی مرتبہ منظر عام پر لائی گئی تھیں جو فوٹوگرافی کی جدید ترین تکنیک کے ذریعے بنائی گئی تھیں۔ میں اس پتھر کی قسمت پر حیران تھی اور اس بارے میں لکھنا چاہتی تھی کہ فاروق اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کے فرمان نے ساری وضاحت فرما دی:

”اے حجراسود! میں جانتا ہوں تو پتھر ہے، نفع و نقصان کا مالک نہیں، اگر میں نے رسول اللہﷺ کو تجھے چومتے نہ دیکھا ہوتا تو تجھے کبھی نہ چومتا۔“ (بلد الامین ص 61)

لہٰذا سارا معاملہ نسبت کا ہے کہ نسبت ہماری اوقات بدل کر رکھ دیتی ہے۔ جیسے خوشبو سے نسبت تن من کو معطر کرتی ہے، اچھوں کی نسبت ہمارے بارے میں اچھے تاثر کا سبب بنتی ہے۔ بارش کا قطرہ مٹی پر گرے تو کیچڑ کہلاتا ہے اور سیپ میں گرے تو موتی بن جاتا ہے۔

روایت ہے کہ حضرت جنید بغدادی رحمة اللہ ولایت سے پہلے بادشاہ وقت کے دربار سے وابستہ شاہی پہلوان تھے، جنھیں ہم سب بطور ولی اللہ اور بزرگان دین میں سے نمایاں مقام و مرتبے پر فائز اللہ کے ایک برگزیدہ بندے کی حیثیت سے نہایت عزت و احترام سے یاد کرتے ہیں، بڑے سے بڑا پہلوان بھی انھیں ہرانے کا نہیں سوچ سکتا تھا۔ ان کے ولی اللہ بننے کی کہانی بھی بے حد دلچسپ ہے۔ بادشاہ کو ان کی کشتی کا مقابلہ دیکھنے کا شوق ہوا تو اس نے منادی کروائی کہ جو کوئی شاہی پہلوان جنید کو ہرائے گا اسے منہ مانگا انعام دیا جائے گا۔

شاہی اعلان سن کر ایک فاقہ زدہ کمزور و ناتواں شخص دربار میں حاضر ہوا اور شاہی پہلوان سے لڑنے کی خواہش ظاہر کی۔ بادشاہ نے اس کی حالت دیکھ کر کہا کیوں اپنی جان کے دشمن بنتے ہو، تمہارا ہمارے جنید سے بھلا کیا مقابلہ! جاؤ بھاگ جاؤ۔ مگر وہ شخص اپنی بات پر اڑا رہا کہ شاہی پہلوان کو مقابلہ میں ہرائے گا۔ اس کی ضد دیکھ کر بادشاہ کو مجبوراً مقابلے کا اعلان کرنا پڑا۔ دن تاریخ اور وقت مقرر کیا گیا اور ایک خلقت مقابلہ دیکھنے پہنچی۔

بادشاہ کے جلوہ افروز ہوتے ہی پہلے شاہی پہلوان جنید اور پھر اس کو چیلینج کرنے والا کمزور و ناتواں شخص اکھاڑے میں اترا۔ مقابلہ شروع ہونے سے پہلے اس شخص نے موقع ملتے ہی جنید کے کان میں سرگوشی کی کہ وہ ایک غریب و مسکین آدمی ہے مگر اس کا تعلق سادات خانوادے سے ہے۔ وہ نہ تو پہلوان ہے نہ ہی اسے کشتی لڑنا آتا ہے۔ اس نے خود کو اور اپنے بچوں کو فاقوں سے بچانے کے لیے اکھاڑے میں اترنے کا فیصلہ کیا ہے۔ لہذا اگر وہ نبی کریم ﷺ سے اس کی نسبت کا لحاظ کر کے مقابلے میں اس سے ہارنے کی ذلت برداشت کر لے تو اس کے سارے درد دور ہوجائیں گے کیونکہ بادشاہ سے منہ مانگا انعام پاکر وہ اپنی غربت و افلاس مٹا کر خوشحال لوگوں کی صف میں شامل ہو جائے گا۔

شاہی پہلوان جنید کو اس کی معصوم خواہش سے زیادہ اس بات نے متاثر کیا کہ وہ آقا و مولا روحی فدا محمد مصطفیٰ ﷺ سے نسبت رکھتا ہے اور اس نے فیصلہ کر لیا کہ وہ اسے جتوا کر انعام کا حقدار قرار دلوائے گا۔ مقابلہ شروع ہوا اور ایک دم شور مچا کہ شاہی پہلوان ہار گیا۔ بادشاہ نے بھی دیکھا کہ جنید زمین پر چت پڑا ہے اور وہ شخص اس کے سینے پر سوار ہے۔ وہ چیخا کہ یہ نہیں ہو سکتا ۔ اس کے حکم پر دوبارہ مقابلہ ہوا مگر اس بار بھی وہی شخص پہلے کی طرح فاتح اور انعام کا حقدار قرار پایا۔

جنید کو اکھاڑے میں ہار کی ذلت برداشت کرنے کے علاوہ بادشاہ کی لعنت و ملامت بھی سننا پڑی لیکن رات کو اس کی ساری کوفت اس وقت دور ہو گئی جب خواب میں حضور پاک ﷺ کی زیارت نصیب ہوئی۔ آپ ﷺ نے فرمایا جنید! تم نے اکھاڑے میں شکست مان کر اس شخص کی مجھ سے نسبت کی لاج رکھی، اللہ اس کے بدلے دنیا میں تمہاری عظمت و بزرگی کے ڈنکے بھجوائے گا اور پھر دنیا جانتی ہے کہ ایسا ہی ہوا۔

میں ابھی حجر اسود کی نسبت کے سحر میں تھی اور اس سے پہلے کہ کچھ لکھتی کہ انکل الیاس بابر اعوان کا نعتیہ مجموعہ ”مدحت کدہ“ شائع ہوا جس کا باقاعدہ تعارف فیس بک پہ پیش کیا گیا۔

میں نے بابا سے سنا ہے کہ اگر کوئی اللہ اور اس کے رسولﷺ کے قریب ہو تو اس کی دل سے عزت کرو کہ یہ بڑے نصیب کی بات ہے۔ میں نے سوچا کہ حضور پاک ﷺ کے ثنا خواں سے بھی یقیناً رسول اللہ ﷺ کی خاص نسبت ہوگی اور یہ بابا کے دوست ہیں تو اس وسیلے سے روز قیامت میری بھی نسبت ہوگی لہٰذا میں نے انکل سے اس کتاب کو تحت اللفظ پڑھنے کی اجازت چاہی جو کہ بخوشی عنایت کر دی گئی۔

مختلف شاعروں، تنقید نگاروں اور مصنفین کی تصاویر مذکورہ نعتیہ مجموعے کے ساتھ سوشل میڈٰیا پر شیئر کی گئیں جس میں وہ مدحت کدہ کا مطالعہ کر رہے تھے۔ مجھے یہ سب دیکھ کر بہت اچھا لگا کہ ثنا خوان رسولﷺ اپنے لیے توشہ آخرت اکٹھا کرنے کے ساتھ ساتھ نبی پاک ﷺ کی نسبت کے مدارج طے کر رہے ہیں۔ معرفت کی منازل آسان ہو رہی تھیں، میں جب جب کسی مصنف کے ہاتھ میں مدحت کدہ دیکھتی تو میرا دل مدینہ منورہ کی دف بجاتی بچیوں کی طرح مچل جاتا جو حضور پاک ﷺ کی مدینہ آمد پر دف بجا بجا کر استقبال کر رہی تھیں۔ میرا دل چاہا کہ جیسے فاصلے کا نظریہ فیس بک کے توسط سے مٹ گیا ہے اور میں جدہ میں بیٹھ کر کسی دعا کی مانند مدحت کدے تک بغیر کسی پرواز کے پہنچ گئی ہوں۔ بزبان شاعر:

وہاں تلک کوئی پرواز ہی نہیں جاتی
جو راستہ مجھے حرف دعا سے ملتا ہے

میری دعا ہے کہ اے کاش وقت کا تصور بھی مٹ جائے اور میں مدحت کدہ ہاتھ میں لے کر ثنا خوان رسولﷺ کی نسبت کے سہارے نبی کریم ﷺ کے دربار میں پہنچ جاؤں اور ادب سے عرض کروں کہ یا رسول اللہﷺ یہ انکل الیاس بابر نے آپ سے محبت کا شاعرانہ اظہار کیا ہے۔ فرماتے ہیں :

مجھ گناہ گار تک آتی ہے مدینے کی ہوا
ورنہ کون آج پرائے کی طرف جاتا ہے

سنا ہے کہ جب نعت پڑھی جاتی ہے تو اس محفل میں سرکار دو عالم ﷺ خود تشریف فرما ہوتے ہیں۔ سماعت فرماتے ہیں۔ پڑھنے والے کا یہ مقام ہے تو لکھنے والے کا کیا مقام ہوگا! اللہ غنی عن العالمین!

پس میں وقت کا پردہ چاک کر کے چشم تصور میں مدحت کدہ ہاتھوں میں لیے حضور پر نور ﷺ کے دربار میں پہنچی تو آپﷺ نے پوچھا کہ اس کے لکھنے والا کہاں ہے؟ میں نے حضرت اویس قرنی ؒ کا حوالہ دیتے ہوئے انتہائی ادب سے عرض کی یا رسول اللہﷺ! وقت اور فاصلہ آڑے ہے اور لکھنے والے کی آپ ﷺ کے حضور حاضری کی تڑپ مدحت کدہ کے ہر صفحے پر نعت کی صورت میں موجود ہے اور وہ آپ ﷺ کی نظر کرم کے منتظر ہیں :

در رسول سے مجھ کو رسد ملے گی ناں
میرے کلام کو ان کی سند ملے گی ناں
حضور پاک کے مدحت کدے کی لو کے طفیل
میں جب مروں گا تو مجھ کو مدد ملے گی ناں