غریب اور غریب کی بیٹی کی شادی

اللہ کے فضل و کرم سے ہم سب مسلمان ہیں۔ ہم سب کو ہی اپنی اپنی بخشش کی بڑی فکر رہتی ہے۔ اعمال اچھے ہوں یا برے مومن غیر ارادی طور پر جنت جانے والے رستے پر جھاڑو مارتا ہی رہتا ہے۔ ہمارے ملک میں سب سے مظلوم اور قابل رحم فرقہ غریب ہے اور سب سے زیادہ فائدہ میں بھی۔ دو پاٹوں کی چکی میں تو بے چارہ سفید پوش پس کر رہ جاتا ہے، نہ کسی سے مانگ سکتا ہے اور نہ ہی کسی کو یہ خیال آتا ہے کہ اس کی بھی کوئی ضرورت ہوگی۔ اس کی بھی کچھ مدد کی جائے۔

غریب کو جو چاہیے بنداس ہو کر مانگتا ہے، غریب جو ٹھہرا، اس کا حق ہے بھئی! دینے والے ٹھہرے اللہ کے بندے، اس سے ڈرتے ہیں، اس کو خوش کرنے کی خاطر، غریب کی جیب اور پیٹ دونوں بھرنے کا انتظام کرتے ہیں۔ اس سے بھی بڑا دھندہ، اوہ معاف کیجیے گا، میرا مطلب مسئلہ ہے غریب کی بیٹی کی شادی۔ کہتے ہیں جہیز نہ ہونے کی وجہ سے غریب گھر کی بیٹیاں گھر بیٹھے بوڑھی ہو رہی ہیں۔ ممکن ہے یہ کوئی مطلق وجہ نہ ہو اور ہو بھی سکتی ہے۔

لوگ اپنے تئیں اس کو حل کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں بہت بڑی تعداد میں اجتماعی خودکشی، میرا مطلب اجتماعی شادیوں کا انتظام کیا جاتا ہے، کچھ متحرک لوگ جو معاشرہ میں بدلاؤ لانا چاہتے ہیں، پیسے والوں کی جیبیں ڈھیلی کرتے ہیں اور غریب لڑکیوں کا جہیز تیار کر کے انہیں پی کے گھر رخصت کرتے ہیں۔ ان منتظمین میں بہت سے این جی اوز، سماجی کارکن، مذہبی جماعتیں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہیں۔ مذہبی رہنماؤں کا کردار بھی بڑا روشن ہے۔

اکثر اجتماعات میں وہ ہاتھ اٹھا اٹھا کر رو رو کر صاحب حیثیت افراد سے چندے کی اپیل کرتے ہیں کہ ان کے دیے ہوئے مال سے غریب کا بوجھ کم ہو جائے گا اس کی بیٹی رخصت ہو جائے گی اور دینے والا سیدھا جنت کا ٹکٹ کٹائے گا۔ سو دینے والا چندہ دے کر خوشی خوشی اپنے گھر جاتا ہے اور وہ غریب جو جہیز دے نہیں سکتا لیکن جہیز لے کر کسی دوسرے غریب کی بیٹی کو اپنے گھر لے جائے گا۔ کسی مہارتی کو یہ خیال نہیں آتا جہیز کو ایک لعنت قرار دے کر اس کو بند کروانے کی کوشش کرے۔

کسی مولوی، کسی مفتی کو یہ خیال نہیں آتا کہ ان غریبوں کو یہ سمجھائے کہ بندے دا پتر بن، نہ جہیز دے، نہ جہیز لے۔ ایک غریب کی بیٹی دوسرے غریب کے گھر بغیر جہیز کے بھی جا سکتی ہے۔ کیا ضروری ہے کہ اپنے اور اپنے خصم کے سونے کا پلنگ وہ اپنے باپ کے گھر سے ہی لائے۔ اس سے پہلے خصم کہاں سوتا تھا؟ کیا درختوں پر لٹکتا تھا؟ بیوی کے لائے برتنوں ہی میں کھانا پکے گا اور کھایا جائے گا، اس سے پہلے کیا پتوں میں کھاتے تھے؟

کیوں میاں! اگر اپنی بیوی کے سونے کے لیے بستر کا انتظام نہیں کر سکتے تو اس کا مطلب تم شادی کے لیے تیار نہیں ہو۔ معاشرے کے ان بدبودار ناسوروں پر میک اپ لگانے سے اچھا ہے کہ اس کا ٹکا کر علاج کر لیا جائے۔ مذہبی رہنما اس سلسلے میں بڑا کردار ادا کر سکتے ہیں کیونکہ ہماری عوام سنتی ہی ان کو ہے۔ ان کے ریڈیو اسی سگنل کو پکڑتے ہیں، لیکن اس کے بجائے مولویان اور مفتیان اعلی سرمہ لگی آنکھوں میں آنسو آنسو بھر بھر کر چندے کی اپیل کرتے نظر آتے ہیں۔

آدھی امداد کا جہیز بانٹا جاتا ہے اور بقیہ آدھا اپنی انٹی میں۔ غریب آدمی بے چارہ، چار برتن، دو جوڑے ایک الماری اور ایک چارپائی لے کر سمجھتا ہے گنگا نہا لیے۔ بھائی غریب سے بھی گزارش ہے، بھیا میرے، لڑکیاں بوجھ نہیں، انہیں پڑھاؤ، کوئی ہنر سکھاؤ۔ ان کی تعلیم سے اچھا کوئی جہیز نہیں جو وہ اپنے ساتھ لے کر اگلے گھر جا سکتی ہیں اور حقیقی معنوں میں ایک نئی زندگی شروع کر سکتی ہیں۔ غریب کو دوسرے غریب کا سہارا بننا ہوگا تب ہی بدلاؤ آ سکتا ہے۔ شاید کچھ سست روی سے آئے، لیکن آئے گا۔ تو مسلمانوں، دین کے متوالوں، غریب گھرانوں کی بچیوں کی تعلیم کے لیے دل کھول کر مدد کرو، ان کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کے لئے ہر طرح کی مدد کرو لیکن جہیز۔ ! اس کے لیے ایک بہت بڑا انکار ہی ان بیٹیوں کی قسمت بدلے گا۔ آزمائش شرط ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words