کشمیر پریمیئر لیگ: پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر میں منعقدہ لیگ انڈیا اور پاکستان کے درمیان تنازع کی وجہ کیوں؟

محمد صہیب - بی بی سی اردو ڈاٹ کام

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں اگست کے پہلے ہفتے میں منعقد ہونے والی کشمیر پریمیئر لیگ اب پاکستان اور انڈیا کے درمیان تنازع کی وجہ بن چکی ہے اور اس سلسلے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے بعد اب پاکستانی دفتر خارجہ کا بھی مذمتی بیان سامنے آ گیا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں ایسی خبروں پر ناراضگی کا اظہار کیا گیا ہے جن کے مطابق بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا (بی سی سی آئی) نے متعدد ممالک کو بلا کر انھیں اپنے ریٹائرڈ کرکٹرز کو کشمیر پریمیئر لیگ میں حصہ نہ لینے پر مجبور کیا ہے۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ پی سی بی سمجھتا ہے کہ بی سی سی آئی نے آئی سی سی کے متعدد ممبران کو وارننگ جاری کرتے ہوئے اپنے ریٹائرڈ کرکٹرز کو کشمیر پریمیئر لیگ میں شرکت سے روک کر کھیل کو بدنام کیا ہے بلکہ بی سی سی آئی نے مزید دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کو کرکٹ سے متعلق کام کے لیے انڈیا میں داخلے کی اجازت نہیں ہو گی۔

ادھر پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چوہدری نے کہا ہے کہ ’پاکستان انڈیا کی جانب سے کرکٹ کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی شدید مذمت کرتا ہے اور نوجوان کشمیریوں سے کرکٹ کے بڑے ناموں کے ساتھ ڈریسنگ روم شیئر کرنے کا موقع چھیننا افسوسناک ہے۔‘

بی سی سی آئی کے ترجمان سے اس سلسلے میں ردِ عمل لینے کے لیے رابطہ کیا گیا تاہم اب تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

پاکستان اور انڈیا کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان سنہ 2012/13 میں ہونے والی ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے سیریز کے بعد سے اب تک کوئی سیریز نہیں ہوئی اور دونوں بورڈز کرکٹ سے متعلق فیصلوں میں حکومتی پالیسیوں کے مطابق فیصلے کرتے آئے ہیں۔

یہاں یہ سوالات پیدا ہوتے ہیں کہ یہ حالیہ تنازع شروع کیسے ہوا، کشمیر پریمیئر لیگ کیا ہے اور اس میں کون سے کھلاڑی شامل ہیں۔

یہ تنازع شروع کیسے ہوا؟

دراصل جمعے کے روز سابق پاکستانی وکٹ کیپر راشد لطیف نے ایک ٹویٹ میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ بی سی سی آئی نہ صرف مختلف ممالک کے بورڈز سے رابطہ کر کے کچھ کھلاڑیوں کو کشمیر پریمیئر لیگ میں حصہ لینے روک رہا ہے بلکہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں آئندہ انھیں انڈیا میں داخلے اور وہاں کام کرنے سے بھی روکنے کی بھی دھمکی دے رہا ہے۔

اگلے ہی روز ان کی بات کی تائید کرتے ہوئے سابق جنوبی افریقی کرکٹر ہرشل گبز جو کشمیر پریمیئر لیگ میں اوورسیز واریئرز کی ٹیم کا حصہ ہیں نے ایک ٹویٹ میں یہ دعویٰ کیا کہ ’بی سی سی آئی کی جانب سے پاکستان کے ساتھ اپنا سیاسی ایجنڈا درمیان میں لاتے ہوئے مجھے کے پی ایل میں کھیلنے سے روکنے کا اقدام انتہائی غیر ضروری عمل ہے۔‘

’ساتھ ہی مجھے دھمکایا جا رہا ہے کہ مجھے انڈیا میں کرکٹ سے متعلق کسی بھی کام کے سلسلے میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔ یہ مضحکہ خیز ہے۔‘

کشمیر پریمیئر لیگ کے صدر عارف ملک نے سنیچر کو ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ ’سری لنکا کے تلاکارتنے دلشان اور جنوبی افریقہ کے ہرشل گبز اس لیگ میں حصہ لینے کے لیے تیار ہیں اور وہ چار اگست کو پاکستان پہنچیں گے۔‘

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’اس کے علاوہ کچھ کمنٹیٹرز کو بھی روکا گیا ہے، جن کی کمی ہم پوری کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

ہرشل گبز کی ٹویٹ کے بعد سے پاکستان میں نہ صرف کشمیر پریمیئر لیگ اور ہرشل گبز ٹرینڈ کر رہے ہیں بلکہ سابق کرکٹرز اور سیاست دانوں کی جانب سے بی سی سی آئی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

سوشل میڈیا پر اس بحث کے بارے میں بعد میں بات کرنے سے پہلے یہ جانتے ہیں کہ کشمیر پریمیئر لیگ ہے کیا اور اس میں کون سے کھلاڑی شامل ہیں۔

کشمیر پریمیئر لیگ کیا ہے اور ایک نجی لیگ کو پی سی بی سے منظوری کیسے ملی؟

کشمیر پریمیئر لیگ چھ فرنچائز ٹیموں پر مشتمل ایک ٹی ٹوئنٹی لیگ ہے جسے کاروباری شخصیات کی جانب سے چلایا جا رہا ہے تاہم اسے پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے مشروط منظوری دی جا چکی ہے۔

اس لیگ میں چھ ایسے غیر ملکی کھلاڑیوں کو شامل کیا جا رہا ہے جو اب کرکٹ کو خیرباد کہہ چکے ہیں جن میں ٹورنامنٹ انتظامیہ کے مطابق مونٹی پنیسار، میٹ پرائر، فل مسٹرڈ، ٹینو بیسٹ، تلاکارتنے دلشان اور ہرشل گبز شامل تھے۔

اس لیگ کی فرنچائز میں سے اکثر کے نام اس خطے کے مختلف اضلاع کے نام پر رکھے گئے ہیں جن میں میرپور، مظفرآباد، باغ، کوٹلی، راولاکوٹ اور ایک اوورسیز نامی ٹیم شامل ہے۔

اس لیگ کو منظوری دینے سے متعلق پاکستان میں پہلے سے کھیلی جانے والی لیگ پاکستان سپر لیگ کے فرنچائز مالکان کی جانب سے بھی خدشات کا اظہار کیا گیا تھا تاہم اس وقت پاکستان کرکٹ بورڈ کے سی ای او نے یہ یقین دہانی کروائی تھی کہ پاکستان سپر لیگ کی اہمیت میں کمی نہیں آنے دی جائے گی۔

پی سی بی کے ترجمان سمیع برنی سے جب پوچھا گیا کہ پاکستان سپر لیگ اور نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ کی موجودگی میں اس لیگ کو منظوری کیوں دی گئی تو انھوں نے کہا کہ ’پی ایس ایل، پی سی بی کا سب سے اہم ٹورنامنٹ ہے، نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ ایک ڈومیسٹک ایونٹ ہے جبکہ کشمیر پریمیئر لیگ ایک پرائیویٹ ٹورنامنٹ ہے۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا مستقبل میں دیگر نجی کمپنیوں کو اس طرح کے ٹورنامنٹ کرنے کی اجازت دی جائے گی، تو انھوں نے کہا کہ ’میں مستقبل کے بارے میں تو کچھ نہیں کہہ سکتا لیکن فی الحال ہم نے پی ایس ایل کے فرنچائز مالکان کو یہ بات بتا دی ہے کہ پی ایس ایل ہمارا سب سے اہم ٹورنامنٹ رہے گے۔‘

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’اس ٹورنامنٹ میں صرف کئی سال پہلے ریٹائر ہونے والے کھلاڑیوں کو شامل کیا جا رہا ہے اور سینٹرل کنٹریکٹ کھلاڑی اس لیگ کا حصہ نہیں ہوں گے کیونکہ ابھی وہ ویسٹ انڈیز میں ہیں جس کے بعد افغانستان اور انگلینڈ کی سیریز بھی ہیں جس کے لیے کھلاڑیوں کا ورک لوڈ بھی دیکھنا ہو گا۔‘

اس سے قبل پی سی بی نے ایک اعلامیے میں کہا تھا کہ ’بی سی سی آئی نے ایک بار پھر نہ صرف آئی سی سی ممبران کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی ہے بلکہ بی سی سی آئی کے رویے سے کھیل کے سپرٹ کو نقصان پہنچا ہے کیونکہ پی سی بی کشمیر پریمیئر لیگ کی منظوری دے چکا ہے۔‘

پی سی بی اس معاملے کو آئی سی سی کے مناسب فورم پر اٹھائے گا بلکہ آئی سی سی چارٹر کے مطابق مزید کارروائی کا حق بھی محفوظ رکھتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’انڈیا اور پاکستان کے مابین کرکٹ سیریز کا کوئی امکان نہیں‘

’انڈیا نہیں کھیلنا چاہتا تو آئی سی سی کیا کرے؟‘

’دیکھنے ہم بھی گئے تھے پہ تماشہ نہ ہوا‘

سوشل میڈیا پر ردِ عمل

انڈیا کی جانب سے اپنائے گئے اس رویے پر سوشل میڈیا پر بھی کافی تبصرے دیکھنے کو مل رہے ہیں۔

تحسین پونا والا نے گبز کو ٹویٹر پر اپنے پیغام میں لکھا ’مسٹر گبز آپ بشمول پاکستان کہیں بھی کھیلنے کے لیے آزاد ہیں، بالکل بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ لیکن اگر آپ کشمیر پریمیئر لیگ میں حصہ لینا چاہتے ہیں تو یہ آپ کی اپنی چوائس ہے مگر پھر ہم آپ کو انڈیا میں کرکٹ کی کسی بھی سرگرمی میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ کشمیر ہمارا علاقہ ہے۔‘

پاکستان کے سابق کرکٹر شاہد آفریدی نے بی سی سی آئی کے رویے کو مایوس کن قرار دیا۔

انھوں نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا کہ ’واقعی بہت مایوسی ہو رہی ہے کہ بی سی سی آئی نے ایک بار پھر کرکٹ اور سیاست کو ملایا ہے۔ کے پی ایل کشمیر، پاکستان اور پوری دنیا میں کرکٹ کے شائقین کی لیگ ہے۔ ہم ایک بہترین شو کریں گے اور اس قسم کے رویے سے حوصلہ نہیں ہاریں گے۔‘

خیال رہے کہ آفریدی کے پی ایل کے بڑے حمایتیوں میں سے ایک سمجھے جاتے ہیں۔

لیکن ابھیجیت ماجوندر کی نظر میں یہ بی بی سی آئی کا بہترین قدم ہے۔

وہ لکھتے ہیں کہ ’کوئی بھی کھلاڑی اور افسر جو پاکستان کی کشمیر پریمیئر لیگ میں شامل ہو، پر انڈیا میں داخلے یا انڈین کرکٹ میں شمولیت پر مکمل پابندی ہونی چاہیے۔ جائیں کہیں اور کھیلیں یہاں نہیں۔ ہماری نظر میں آپ دہشت کے معاون ہیں۔‘

پاکستانی صحافی اور تجزیہ نگار حامد میر نے لکھا کہ کرکٹ کے کھیل کو نریندر مودی کی پاکستان مخالف سیاست کا یرغمال نہیں بننا چاہیے۔

اپنی ٹوئٹ میں انھوں نے مزید لکھا کہ ’انڈین کرکٹ بورڈ کے حکام کو بین الاقوامی کھلاڑیوں کو کشمیر پریمیئر لیگ میں حصہ لینے سے نہیں روکنا چاہیے۔ یہ کرکٹ کی روح کے منافی ہے۔‘

کرکٹ تجزیہ نگار ڈاکٹر نعمان نیاز نے پاکستانی کرکٹ بورڈ کی جانب سے انڈین کرکٹ بورڈ کے اقدام پر دیے جانے والے ردعمل کو سراہا۔

ان کا کہنا ہے کہ ’ہمیں اس ضمن میں اتحاد کا مظاہرہ کرنے اور اس قسم کے اقدامات کی مذمت کرنے کی ضرورت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ کرکٹ اپنی کمرشل اہمیت اور چھوٹی سطح پر کی جانے والی سیاست سے بہت بڑی ہے۔‘

پی ٹی آئی حکومت میں شامل جی ڈی اے کی رہنما ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے اس پر اپنے ردعمل میں لکھا کہ ’کھیل کو سیاست اور سرحدوں سے بالا ہونا چاہیے۔ کھیل سیاحت، مقامی ٹیلنٹ کی ترویج اور امن کو حاصل کرنے میں مدد دیتا ہے۔ ہرشل کو کھیلنے کی اجازت ملنی چاہیے ،امید ہے سوچ سمجھ کا مظاہرہ کیا جائے گا۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words