دیوار پر ایک تصویر نقش ہے!

پاکستان جمہوری تحریک (پی ڈی ایم) کو تارپیڈو کرنے کے بعد ملک میں جس سیاسی منظر نامہ کی نشان دہی کی گئی تھی، آزاد کشمیر انتخابات میں اس کے کچھ نقوش واضح ہوئے ہیں۔ سیالکوٹ کے ضمنی انتخاب میں تصویر کو نمایاں کرنے کے لئے کچھ نئے رنگ بھرے گئے ہیں۔ اب مباحث، تجزیوں اور سیاسی مشاورت کے نام پر یہ تسلیم کروانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ ملک میں ایک ہی سیاسی طاقت ہے۔ جو سیاسی لیڈر یا عناصر کسی غلط فہمی کا شکار ہیں، وہ اپنی اصلاح کرلیں۔

پاکستان میں جو سیاسی ماحول عسکری مداخلت، سیاسی لیڈروں کی طالع آزمائی اورعوام میں بڑھتے ہوئے احتیاج نے پیدا کیا ہے اس کی روشنی میں دیکھا جائے تو اس صورت حال کو دیوار پر نقش ایک ایسی تصویر سمجھنا چاہئے جس میں رد و بدل یا ترمیم و اضافہ کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہوسکتی۔ اول تو ایسی کوشش کی نہیں جاتی کیوں کہ یہ مان لیا گیا ہے کہ تصویریں مصور بناتا ہے اور باقی لوگ تماشائی ہوتے ہیں۔ ’مصور ‘کے موئے قلم کی حرکت پر اعتراض کرنے کے باوجود کبھی یہ جاننے کی کوشش نہیں کی جاتی کہ جسے مصور مان لیا گیا ہے، وہ دراصل تصویر گر نہیں بلکہ وہ تو نقش کا محافظ تھا جس نے برش سنبھال کر تصویر میں ترمیم و اضافہ کا کام شروع کردیا۔ اب اس کوتاہی کی نشاندہی کرنے والے کو قومی مفاد کا دشمن قرار دیا جاتا ہے۔ لہذا سناٹا طاری ہے اور ایک اناڑی کو فنکار مان کر سب ہی کسی طرح وقت گزارنا چاہتے ہیں۔

اس معاملہ کا دوسرا پہلو اس سے بھی زیادہ بھیانک اور افسوسناک ہے۔ جن لوگوں کو احساس ہے کہ موئے قلم دراصل عوام کے ہاتھ میں ہونا چاہئے تاکہ وہ خود اپنی تقدیر بنا سنوار سکیں ، وہی عوام کا سامنا کرنے اور انہیں رجھانے کی بجائے ، یہ چاہتے ہیں کہ کسی طرح ’ نقاش‘ کی نگاہ میں آجائیں تاکہ تصویر میں ان کی جگہ بھی بنا لی جائے۔ یہ توجہ حاصل ہوجائے تو ساری پریشانی دور ہوجاتی ہے ۔ پھر ایک مدت تک عوام کو یہ جھانسہ دے کر مطمئن کیا جاتا ہے کہ وہ کوئی نقش نہیں کہ جسے کوئی کلاکار جب چاہے حرف غلط کی طرح مٹا دے یا اس میں ترمیم کردے۔ بلکہ درحقیقت وہی عوام کے خادم اور ان سے حاصل اختیار کو عوامی بہبود و بہتری کے لئے استعمال کرنے کے مجاز ہیں۔ تصویر ویسی ہی بنے گی جو عوام چاہیں گے اور اس تصویر کو بنانے سنوارنے والے ہاتھ کسی مستعار شدہ ’مصور‘ کے نہیں ہوں گے بلکہ عوام کے منتخب کردہ ہوں گے۔

دیوار پر ایک تصویر نقش ہے۔ اسے دیکھ کر قیاس کیا جاسکتا ہے کہ اس میں عوامی خواہشات کی کتنی آمیزش ہے اور زور زبردستی کا کتنا معاملہ ہے۔ نہ آہ و پکار اور صدائے احتجاج کیوں کہ یہ طے کیا جاچکا ہے کہ پاکستان جیسے ملکوں میں جو جمہوری راہگزر ضروری ہے اس کے خد و خال تو ایک ہی جگہ طے ہوں گے پھر عوام کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر انہیں ان بھول بھلیوں پر چلایا جائے گا۔ کچھ اسے درست راستہ مان لیں گے، کسی کو اس کے پیچ و خم پر اعتراض ہوگا تو انہیں یہ کہہ کر تسلی دی جائے گی کہ یہی راستہ طے کیا گیا ہے۔ مطمئن نہ ہونے والے شر پسند اور فسادی کہلائیں گے جنہیں کسی بھی نظام میں قبول نہیں کیا جاسکتا۔ ان کا انجام گزشتہ 70 برس کی ملکی تاریخ متعدد صورتوں میں دیکھا جاسکتا ہے۔ عبرت کی علامات بہت ہیں ۔ کچھ ایبڈو زدہ ہیں، کچھ نظریہ ضرورت کے ڈسے ہیں اور کسی کو ’انصاف‘ کے نام پر تختہ دار پر چڑھایا گیا، کچھ ملک بدر ہوئے اور بعض کا علاج ’مسنگ پرسنز ‘ کی صورت میں تلاش کیا گیا ہے۔ ہے کوئی جسے اب بھی اعتراض ہو؟ راستہ بھی کھلا ہے ۔ پسند اپنی اپنی ، انتخاب بھی آپ ہی کے ہاتھ میں ہے۔

ایسا کھلا ماحول ہو تو کون ہے جو سوئے دار بڑھنے کا حوصلہ کرے گا۔ ناامیدی کا ایسا اندھیرا راستہ جہاں نہ زندگی کا یقین ہو اور نہ ہی عزت و آبرو کی حفاظت کا کوئی امکان۔ تصویر بھی ایک ہی ہے اور موئے قلم بھی محفوظ ہاتھوں میں ہے۔ بس اب ایک ہی محفوظ راستہ ہے کہ کسی طرح یہ محفوظ ومضبوط ہاتھ ہمارے سروں پر دراز ہوجائیں۔ وہی جائے امان ہے ، باقی سب کھیل تماشہ ہے۔ کون کھیلنے سے منع کرتا ہے۔ بس جھٹپٹا ہوتے ہی اچھے بچوں کی طرح آشیانے کی طر ف پلٹ آنا چاہئے ورنہ اندھیری راہوں میں مارے جانے کے سوا اور کیا راستہ ہوگا؟ دیکھنے سننے والے جان سکتے ہیں کہ کون کون شام ہوتے ہی گھر پلٹنے کی جلدی میں ہیں۔ جو یہ اعلان کررہے ہیں کہ دیوار پر نقش تصویر دھوکا ہے، اختیار کا یہ ارتکاز عوامی خواہشات پر ڈاکہ ہے، انہیں سمجھانے بجھانے کی کوششیں شروع ہوچکی ہیں۔ کہ دیکھو شام اترنے والی ہے اور ایسے وقت میں حجت نہیں کرتے بلکہ سیدھے ناک کی سیدھ اسی طرف روانہ ہوتے ہیں جو سب کا ٹھکانہ ہے اور جس کا ایک ہی محافظ ہے۔

پاکستان پر یہ شام دو سال بعد نئے عام انتخابات کی صورت میں اترنے والی ہے۔ یہ اشارے بھی دیے جارہے ہیں کہ ضروری ہؤا تو وقت سے پہلے ہی شام ہونے کا اعلان بھی کیا جاسکتا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے اسی لئے گزشتہ روز پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو تیار رہنے کا مشورہ دیا ہے کہ انتخابات کسی بھی وقت ہو سکتے ہیں۔ شہباز شریف نے آزاد کشمیر کے انتخابات سے دور رہ کر پہلے ہی اعلان کردیا تھا کہ ان کو تو ’رولز آف دی گیم‘ ازبر ہیں۔ بلکہ وہ کوشش کررہے ہیں کہ کسی طرح مریم اور نواز شریف کو بھی یاد دہانی کروادیں : کہ کھیل کود ہوچکی۔ اب شام ہونے والی ہے۔ اب گھروں کو لوٹنے کا وقت ہے۔ دیکھیں کون اچھے بچوں کی طرح وقت سے گھر پہنچتا ہے۔ دیر کرنے والا راستہ بھول بھی سکتا ہے یا اس پر داخلے کا دروازہ بند بھی کیا جاسکتا ہے۔

فی الوقت مریم اور نواز شریف وہ قاعدہ پڑھنے سے انکار کررہے ہیں جسے پیپلز پارٹی نے نصاب کا حصہ مان لیا ہے۔ شہباز شریف تابعداری اور مصلحت کوشی کی علامت ہونے کے باوجود پریشان حال ہیں کیوں کہ وہ نواز شریف سے ’بغاوت‘ کرنے پر تیار نہیں ہیں۔ ان سے بغاوت کی امید کرنے والے یہ سمجھنے سے قاصر دکھائی دیتے ہیں کہ احتجاج اور سرکشی شہباز شریف کے ’ڈی این اے‘ میں نہیں ہے۔ وہ تو وقت ٹالنا چاہتے ہیں کہ شاید عین وقت پر بڑے بھائی کو ان کے حال پر رحم آجائے۔ برادر کلاں تیل دیکھو تیل کی دھار دیکھو پر یقین رکھتا ہے۔ وہ کوٹ لکھپت کی کوٹھری سے لندن کے محل تک پہنچ چکا ہے۔ اب اس کے پاس سوچنے اور غور کرنے کا وقت اور مہلت ہے۔ شام ہونے میں ابھی دیر ہے۔ وہ بساط پر مہرے بچھائے مناسب چال کے انتظار میں ہے۔ کیا وہ شہ مات دینے کی پوزیشن میں ہے۔ شاید نواز شریف کو اس کا زعم ہو لیکن پیشانیوں پر شکوک کی لکیریں گہری اور واضح ہورہی ہیں۔

آزاد کشمیر اور سیالکوٹ کے بعد جو تصویر ابھری ہے اس کے نقوش سے بعض نتیجے اخذ کئے جاسکتے ہیں:

1)تابعداری میں تحریک انصاف کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا۔ عمران خان نے اکھڑ، خود مختار اور سب اداروں کو ’اپنے نیچے‘ رکھنے والے لیڈر کا کردار کامیابی سے نبھایا ہے ۔ انہوں نے تابعداری کی نئی مثال قائم کی ہے۔ اب ان کی نیت پر شک نہیں کرنا چاہئے اور نہ ہی ان کے ’گمراہ ‘ ہونے کا کوئی امکان ہے۔ انہیں حکومت کرنا نہیں آتا اور جذباتی نعروں اور بے بنیاد وعدوں کی وجہ سے بھی صورت حال کو خراب کیا گیا ہے لیکن افغانستان سے لے کر کشمیر تک کے معاملہ میں وہ جس طرح طے شدہ مسودہ کے مطابق کام کررہے ہیں ، انہیں اس کاکریڈٹ ملنا چاہئے۔ البتہ اگر آئیندہ انتخابات میں بھی تحریک انصاف کو کامیاب ہونا ہے تو انہیں پنجاب میں عثمان بزدار کا متبادل فراہم کرنا ہوگا۔ اور خراب معیشت کی وجہ سے عوام تحریک انصاف سے مکمل ’بغاوت‘ پر نہ اتر آئے تو موجودہ حکومت کا تسلسل ملکی و ادارہ جاتی مفاد میں ہوگا۔

2)پیپلز پارٹی چونکہ کسی بھی قیمت پر سندھ کے اقتدار سے محروم ہونا نہیں چاہتی ، اس لئے تحریک انصاف کے بعد پیپلز پارٹی مناسب متبادل ہوسکتا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری اپنے والد سے ’سب کو ساتھ لے کر چلو اور سب کے ساتھ بنا کر رکھو‘ کا سبق اچھی طرح سیکھ رہے ہیں۔ شروع میں انہوں نے پارٹی کی تنظیم اور نیا خون لاکر اسے ایک بار پھر ’انقلابی بنانے کی جو کوششیں کی تھیں، وہ اب ماند پڑ چکی ہیں۔ اب وہ اسکرپٹ کے مطابق کام کرتے ہیں۔ پی ڈی ایم میں کاوشیں، سینیٹ انتخاب میں کارکردگی اور اب آزاد کشمیر میں ’متوازن و بردبار‘ لیڈر کے طور پر نمائیندگی نے ان کی ساکھ کو بہتر کیا ہے۔ البتہ پنجاب میں پیپلز پارٹی کسی بھی طرح مسلم لیگ (ن) کا زور نہیں توڑ سکی۔ مرکز میں اقتدار کے لئے پی ٹی آئی کا کوئی باغی گروپ اس سلسلہ میں معاون ہوسکتا ہے۔ اس طرح عمران خان اور بلاول بھٹو زرداری دونوں کو قابو میں رکھا جاسکتا ہے۔

3)شہباز شریف مصلحت پسند اور اچھے منتظم ہیں لیکن وہ نون لیگ کو نواز شریف کے چنگل سے نہیں نکال سکے۔ انہیں موقع دینے کا مطلب نواز شریف کی سیاسی اپیل میں اضافہ ہوگا۔ نواز شریف کی سیاسی طاقت کی واحد وارث اب مریم نواز ہی ہے۔ اس کا راستہ روکنے کے لئے مسلم لیگ (ن) کو اس وقت تک کمزور رکھنا ضروری ہے جب تک نواز شریف اختیار شہباز کو منتقل کرنے پر مجبور نہ ہوجائیں۔ سیاست میں متبادل کی ضرورت تو ہمیشہ ہوتی ہے، شہباز شریف سے بہتر متبادل کبھی نہیں مل سکتا۔

تصویر مبہم مگر خطوط واضح ہیں۔ انتخابات میں دو برس باقی ہیں۔ اس مدت میں ان خطوط کی شکل صورت تبدیل ہوسکتی ہے۔ کوئی انہونی نہ ہوئی تو یہ تصویر ہی نمایاں ہوگی اور نتائج بھی زیادہ مختلف نہیں ہوں گے۔ پاکستانی سیاست میں جب تک جمہوری جد و جہد کا مقصد ’اقتدار‘ سمجھا جاتا رہے گا ، اس وقت تک یہ تصویر راسخ رہے گی ۔ البتہ اگر نواز شریف اقتدار سے لاپرواہ ہو کر واقعی ’ووٹ کو عزت دو‘ کے لئے میدان میں نکل آئے تو نئی تاریخ رقم ہوسکتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words