تین سال اور گزر گئے


کیا میرے حال پہ سچ مچ انھیں غم تھا قاصد؟
تو نے دیکھا تھا ستارہ سرے مژگاں کوئی

جہاں تک میرا خیال ہے ہم عصروں میں راقم کو زیادہ پسینہ آتا ہے۔ انتہائی تنگ ہونے کے باوجود آج بڑی خوشی ہوئی مینگورہ شہر کی سخت گرمی پہ بڑا پیار آیا کہ پسینہ پونچھتے ہوئے آنسوؤں کو بھی ٹشو سے صاف کرتا گیا۔ مجھے آج چارلی چپلن بڑے شدت سے یاد آ رہے تھے انھوں نے کہا تھا میں بارش میں اس وجہ سے چلنا پسند کرتا ہوں کہ لوگ میرے آنسوں نہ دیکھے۔ منیر نے چار سال بڑے کٹن حالات میں گزارے مراد ذہنی میچورٹی اور حساسیت ہے۔ بھائیوں جیسا تعلق رہا۔

آج صبح رخصتی کے وقت اک ساتھ ہاسٹل سے نکلے۔ تین سالوں میں میرا نہیں خیال کہ ہم نے پانچ دفعہ بھی ناشتہ کیا تھا۔ ناشتہ نہ کرنے کی اک وجہ کلاس سے پندرہ منٹ پہلے اٹھنا تھا اٹھتے تو ہاتھ منہ دھو کر کلاس میں حاضری لگواتے۔ حسب معمول آج بھی کوئی من نہیں تھا لیکن آخری لمحات اک ساتھ گزارنے کے لیے ناشتہ کا کہہ دیا تو حامی بھر لی۔

پچھلے کئی سالوں سے عموماً کھانے کے بعد سب سے پہلے ہی منیر چائے ختم کرتا۔ آج چائے کو بڑے آرام سے پی رہے تھے چوں کہ ہم بھی نفسیات میں دلچپسی رکھتے ہیں تو یک دم ہی پوائنٹ پکڑ لیا۔ ناشتے کے بعد ہم دونوں پسینے کے بہانے آنسوؤں کو ٹشو میں جذب کرنے میں مصروف رہے۔ میرا دل چاہا کہ دھاڑیں مار مار کر روؤں۔ آج اپنے ساتھ اک وعدہ کروں گا کہ آئندہ اگر زندگی رہی تو کبھی بھی کسی کے ساتھ ڈیپ نہیں جانا کبھی بھی کسی کو نہیں پیار نہیں کرنا۔ کم بخت پھر وہ جی سے بھلایا نہیں جاتا یعنی اس شخص کو رخصت کرتے وقت آنسوں تھمتے ہی نہیں۔

ویٹر حضرات ہمارے چہروں کو دیکھ کر یہ تاثر لیتے کہ شاید پسینے کی وجہ سے بار بار ٹشو مانگ رہے ہیں حالانکہ ایسا کچھ بھی نہیں تھا۔ میں نے ہاسٹل لائف میں قدم رکھتے ہی نئے روم میں سب سے پہلے ملاقات منیر سے ہی کی تھی۔ اور آج پھر ہم دونوں روم سے اکٹھے نکلے تو یوں لگا ابھی روم آئے اور ابھی نکل گئے۔ ہائے زندگی تو اتنی ظالم کیوں ہے؟ یہاں بچھڑنا ہی ہے تو ملتے کیوں ہیں؟ یہاں محبت ہے تو دوریاں کیوں ہے؟ یہاں ہم خیالی ہے تو احساسات کی ترجمانی کیوں نہیں ہے؟

آج پورے تین سالوں میں اک اک لمحہ نظروں کے سامنے پھر رہا ہے۔ گاڑی میں ہوں شور دونوں جانب مسلسل تنگ کر رہا ہے مگر پھر بھی دماغ منتشر نہیں یہ بات کہنے کی اشد ضرورت محسوس اس وجہ سے ہوئی کہ عموماً تنہائی میں لکھتا ہوں۔ مگر آج اس قدر دل خون کے آنسو رو رہا ہے کہ باہر کے شور سے زیادہ اندر کا شور ڈسٹرب کر رہا ہے۔

مینگورہ ہاسٹل کے روم نمبر پینتیس جیسا ماحول میں حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ کہیں نہیں ہوگا اور نہ ہی ہے لیکن آئندہ کی بھی کوئی امید نہیں ہاں نا امید نہیں ہوں مگر جو دکھائی دیتا ہے وہی قلم بند کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ کھانا کھایا پیسے کس نے دیے کچھ خبر نہیں۔ ہر جگہیں ہاسٹلائز بچوں کا اک اصول یہ بھی ہے کہ ہر بندے کا الگ صابن الگ تیل کا ڈبہ الگ تولیہ الگ پالش غرض روزانہ استعمال کا جتنا کچھ بھی ہوتا ہے وہ الگ ہونا کوئی انوکھی بات نہیں لیکن میں حیران ہوں کہ ہم نے کبھی یہ نہیں کیا کہ آیا صابن ختم ہے تیل میری ہے۔ شیم پو کیوں استعمال کیا۔ اس بار فلاں چیز میں لایا ہوں تو اگلی بات آپ کی باری ہیں۔

ہم دیکھتے جس چیز کی ضرورت محسوس کرتے کبھی اک دوسرے کے سہارے نہیں بیٹھے رہتے ہر کوئی یہ خواہش کرتا یہ چیز میں لے آؤں۔ عارضی طور پر اک بندہ روم میں رہ رہا تھا جب دوسرے روم شفٹ ہوا تو اس بات کا رونا رو رہا تھا کہ غضب ہے سب کچھ اپنا ہونا چاہیے ورنہ کسی دوسرے کے صابن کو بھی ہاتھ لگایا تو گویا ایسا دیکھتا ہے کہ ہم نے اسے گندی گالی دی ہو۔

آج ہم رخصت ہو رہے تھے تو یوں لگ رہا تھا جیسے کوئی کلیجہ چیر رہا ہے۔ یہ مرد ہونا بھی کیا قیامت ہے انسان تو رو بھی نہیں سکتا۔ جب من کا بوجھ ہلکا کرنا چاہیں گے تو بے بزدلی کا طعنہ دیا جاتا ہے۔ آج سے ہم اک دوسرے کا انتظار نہیں کریں گے کہ یار جلدی آؤ بھوک لگی ہے۔ آج سے ہم اک دوسرے کو یہ نہیں کہیں گے کہ روم کی چابی فلاں جگہ رکھ دینا۔ آج سے ہم اک دوسرے کو یہ نہیں کہیں گے کہ آج فلاں ہوٹل میں کھانا کھائیں گے۔ آج سے یہ بھی نہیں کہیں گے کہ آپ نے کب ہاسٹل آنا ہے؟

دم رخصت وہ چپ رہے عابد
آنکھ میں پھیلتا گیا کاجل

مندرجہ بالا شعر کے مصداق اپنی حالت تھی۔ بالکل اسی طرح ایوب اور فاروق کی بھی اس سے ملتی جلتی کیفیت تھی فرق اس وجہ سے محسوس کی کہ فاروق صبح جلدی چلا گیا اور ایوب شیخ کسی خدمت خلق میں مصروف ہونے کی وجہ سے راقم اور منیر کو وقت نہ دے سکا۔ یہ تین سالوں میں پہلا موقع تھا کہ ہم اک دوسرے کے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر باتیں نہ کر سکے۔

ان سالوں میں ہم نے اک دوسرے کے ساتھ بھائیوں والا تعلق بنایا تو دوسری جانب اکثر ہم مستیوں میں ریسلنگ ٹیم بھی بناتے۔ دو اک طرف ہوتے دو دوسری جانب منیر چوں کہ Political Science کا طالب علم تھا تو میدان جنگ میں بھی politics کرتا اور دونوں پارٹیوں میں کسی اک کے حق میں اپنی رائے دیتا۔ جان بوجھ کر زیادہ تر ویر کے خلاف ہی ہوتا۔

اک دفعہ تو حد ہی ہو گئی دو تین دنوں سے مسلسل ریسلنگ کرتے تھے تو نیچے فلور والے اک دن پانچ چھے بندے آ گئے کہ آج ان کو سبق سکھاتے ہیں کہ چھت پر شور کرنے سے نیچے بیٹھے لوگ کس اذیت اور پریشانی سے گزرتے ہیں؟ لیکن ہماری خوش قسمتی تھیں کہ اس دن ہم مطالعے میں مصروف تھے لیکن ساتھ والے کمرے میں نئے بچے ہاسٹل آئے تھے اور آج وہ مستی میں اک دوسرے کے ساتھ زور آزمائی کر رہے تھے۔ ہمیں مطالعے میں دیکھ کر ساتھ والوں پر ٹوٹ پڑے۔ انھیں کھری کھری سنانے لگے کہ پچھلے کئی دنوں سے ہم نوٹ کر رہے ہیں آپ لوگ شور کرتے ہیں، تو موقعے کو غنیمت جان کر فاروق بھی ساتھ والے بچوں کو غصہ ہوا تاکہ ہم بدنامی سے بچ جائیں۔

اور لکھنے بیٹھ جاؤں تو ان شاء اللہ کم از کم اک Booklet تو لکھ سکتا ہوں لیکن آج دل بڑا اداس ہے بس اسی پہ اکتفا کرتا ہوں کہ امیدوں پر دنیا قائم ہے سو جتنا وقت رہ گیا ہے یہی امید کرتا ہوں کہ ان جیسے دوست ملیں گے اگر منیر شیخ اور فاروق جیسے لوگ زندگی میں نہیں تو مجھے اور روم میٹس کی بھی ضرورت نہیں۔ فائینلی گریجویٹ ہو گئے۔ سلامت رہیں شاد رہیں آباد رہیں الوداع تو کبھی نہیں کہنا اور نہ خدا حافظ کہوں گا کیونکہ اک فلسفی کے نزدیک جو چیز خدا کو حوالہ کی جائے تو خدا اسے جلد اپنے پاس بلاتا ہے خیر جو بھی ہو ہم نیک خواہشات اور نیک تمناؤں کے ساتھ آپ کو جلد ملنے پر رخصت کرتے ہیں۔ اک تجربہ یہ بھی ہوا کہ انسان کو بچھڑنا ضروری ہے۔ چاہے وہ کسی شکل میں ہی کیوں نہ ہوں۔

Facebook Comments HS