سپریم کورٹ میں ججوں کی تعیناتی

جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے حال ( 28 جولائی) ہی میں ایک معزز جج جسٹس محمد علی مظہر کی سپریم کورٹ میں ترقی کی منظوری دے دی ہے جو سندھ ہائی کورٹ کی سینیارٹی لسٹ میں پانچویں نمبر پر تھے۔ وکلاء کے اعلی ترین ادارے پاکستان بار کونسل کی جانب سے سخت رد عمل کے باوجود پانچ و چار کی نسبتی اکثریت سے ترقی کی منظوری دی گئی ہے۔ جسٹس مظہر نے سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس احمد علی شیخ، جسٹس عرفان سادات خان، جسٹس عقیل احمد عباسی اور جسٹس حسن اظہر مرزا سبقت حاصل کرلی ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے جب کسی ہائی کورٹ کے جونیئر جج کو سپریم کورٹ میں ترقی دی گئی ہو۔ اس سے قبل اپریل 2018 میں سندھ ہائی کورٹ کی سینیارٹی لسٹ میں چوتھے نمبر پر والے جسٹس منیب اختر کو اس وقت فوقیت دی گئی تھی جب لاہور ہائی کورٹ کے اس وقت کے چیف جسٹس خواجہ محمد شریف کو نظر انداز کر کے دو چیف جسٹس صاحبان ثاقب نثار اور آصف سعید خان کھوسہ کو عدالت عظمیٰ میں ترقی دی گئی تھی۔

قانونی برادری اس معاملے میں واضح طور پر منقسم ہے۔ کچھ لوگوں کا موقف ہے کہ چونکہ سپریم کورٹ ملک کی سب سے بڑی عدالت ہے، اس لئے صرف ’اہل‘ اور ’راست باز‘ ججوں کو سپریم کورٹ میں ترقی دی جانی چاہیے۔ ان کا موقف ہے کہ آئین کے آرٹیکل 175۔ اے کے تحت سپریم کورٹ میں ترقی گزشتہ معاملات، دیانت داری کے ساتھ ساتھ صوبائی ہائی کورٹس کے جج کے طور پر فیصلوں میں طرز عمل میں مجموعی سابقہ ساکھ اور مہارت کو پرکھنے کے بعد کی جانی چاہیے ؛ کہ ججوں کو ان کے ’وژن‘ اور ’جذبے‘ کو مدنظر رکھتے ہوئے ترقی دی جانی چاہیے ؛ججوں کی ترقی میں سینیارٹی کا اصول ’اوسط درجے‘ کو فروغ دیتا ہے۔

2002 کے فقیر کھوکھر کیس میں عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے مطابق سپریم کورٹ میں ترقی کو ایک نئی تقرری سمجھا جاتا ہے۔ لہذا ہائی کورٹ سے کسی بھی جج کو یہاں تک کہ جونیئر جج کو بھی سپریم کورٹ میں ترقی دی جا سکتی ہے۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن بمقابلہ فیڈریشن آف پاکستان کے عنوان سے کیس میں سپریم کورٹ نے کہا کہ الجہاد ٹرسٹ اور اسد علی کے مقدمات میں سینیارٹی اور جائز توقع کے اصولوں کا دائرہ کار ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور چیف جسٹس آف پاکستان کی تقرری تک محدود ہے اور یہ اصول نہ تو سپریم کورٹ کے ججوں کی تقرری پر لاگو ہوتے ہیں اور نہ ہی سپریم کورٹ کے ججوں کی تقرری تک انہیں بڑھایا جا سکتا ہے۔

اس کے برعکس یہ دلیل دی جاتی ہے کہ ججوں کی سپریم کورٹ میں ترقی میں سینیارٹی کے اصول پر عمل کیا جانا چاہیے اور عدالتی تقرریوں میں میرٹ اور شفافیت کو فروغ دینے کے لئے چننے اور منتخب کرنے کے طریقہ کار سے گریز کیا جانا چاہیے۔ یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ کیا سینئر جج جن کو ترقی کے لئے اہل نہیں سمجھا جاتا، وہ ’اہل‘ اور ’راست باز‘ نہیں ہیں؟ موقف اختیار کیا جاتا ہے کہ جوڈیشل کمشن آف پاکستان کا اکثریتی فیصلہ آئین کی خلاف ورزی ہے اور الجہاد ٹرسٹ اور اسد علی کے مقدمات میں بیان کردہ سینیارٹی اصول کی خلاف ورزی ہے۔ یہاں تک کہ بار کونسلوں نے جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے فیصلے کی مخالفت کرنے کے لئے 28 جولائی کو ’سیاہ دن‘ منایا اور مستقبل کا لائحہ عمل طے کرنے کے لئے 5 اگست کو ایک اجلاس بلایا ہے۔

اگر عدلیہ کی طرف سے سینیارٹی کے اصول کی خلاف ورزی کی جاتی ہے (یعنی اگر ہائی کورٹ کے جونیئر جج کو کئی سینئر ججوں کو نظر انداز کر کے ملک کی اعلیٰ ترین عدالت میں ترقی دی جا سکتی ہے ) تو کیا اس سے عدلیہ کی ساکھ متاثر نہیں ہوگی؟ کیا اس طرح کے فیصلے ایگزیکٹو اداروں میں سنیارٹی کے اصول کی خلاف ورزی کرنے کے لئے ایک مثال کے طور پر نہیں لئے جائیں گے؟ کیا اس طرح کے فیصلے ایگزیکٹو کی ترقیوں میں سینیارٹی اصول کے نفاذ کی بابت عدلیہ کو کمزور نہیں کریں گے؟ کیا یہ سرکاری محکموں میں تقرری اور ترقی کے پورے عمل میں ذاتی رجحان کو فروغ دے کر متاثر نہیں کرے گا؟

اگر دلیل کی خاطر یہ فرض کیا جاتا ہے کہ جونیئر جج سینئر ججوں سے زیادہ اہل اور راست باز ہے تو کیا اس سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ سینئر جج اتنے اہل اور راست باز نہیں ہیں؟ اس طرح کے مفروضوں سے یہ سوال اٹھایا جاسکتا ہے کہ مبینہ طور پر نا اہل افراد کو پہلی بار کیسے جج بنایا جاسکتا ہے؟ یا عدلیہ میں رہنے کی اجازت کیسے دی جا سکتی ہے جب ان کی ’اہلیت‘ اور ’دیانتداری‘ پر جوڈیشل کمشن آف پاکستان خود شک کرتا ہے؟

کیا جوڈیشل کمشن آف پاکستان کو اعلیٰ عدلیہ میں کوئی تقرری کرنے سے پہلے ہی ’اہلیت‘ اور ’راست بازی‘ کی کسوٹی کی وضاحت نہیں کرنی چاہیے؟ سپریم کورٹ کے سینئر ججوں کے ساتھ ساتھ وکلاء کی سینیارٹی کے اصول اور مسابقتی طریقوں پر متضاد فیصلوں کے پیش نظر عدالتی تقرریوں کے عمل کو مزید شفاف بنانے کے لئے اس معاملے کو حل کرنے کے لئے سپریم کورٹ کا فل بنچ تشکیل دیا جاسکتا ہے۔ اس سلسلے میں ہمارے نظام انصاف کو مضبوط بنانے کے لئے عدلیہ، بار کونسلوں اور پارلیمنٹ سے مشاورت لی جا سکتی ہے۔

جب تک ’اہلیت‘ اور ’راست بازی‘ کی واضح طور پر متعین کسوٹی تیار نہیں کی جاتی، جوڈیشل کمشن آف پاکستان عدلیہ میں تقرریوں کے لئے سینیارٹی کے اصول پر عمل کرنے پر غور کر سکتی ہے۔ ویسے بھی عدالتی تقرریوں کے عمل کو ’وژن‘ ، ’روح‘ ، ’اہلیت‘ ، ’راست بازی‘ ، اور ’دیانتداری‘ جیسے الفاظ کے جانبدارانہ معنی اور تشریح پر نہیں چھوڑا جاسکتا؛ عدالتی پالیسی سازوں کو ان تصورات کے معروضی معنی کی وضاحت کے لئے قابل پیمائش پیمانہ فراہم کرنا چاہیے۔ قانونی برادری اور سول سوسائٹی کے خدشات کے شدید ماحول کو مدنظر رکھتے ہوئے جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے فیصلے کا دوبارہ جائزہ لیا جاسکتا ہے اور عدالتی تقرریوں کے عمل کو مزید شفاف بنایا جاسکتا ہے۔

(ڈاکٹر ضیا اللہ رانجھا، ایڈووکیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان کے انگریزی کالم کا ترجمہ۔ 30 / 07 / 2021 )
https://www.thefridaytimes.com/elevating-judges-to-the-supreme-court/

Comments - User is solely responsible for his/her words
فیاض احمد چوہدری کی دیگر تحریریں