آزاد کشمیر کا وزیراعظم کون؟

ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت کے لئے آزاد کشمیر کے الیکشن اتنے مشکل نہیں تھے جتنا آزاد کشمیر کا وزیراعظم منتخب کرنا مشکل بن چکا ہے۔ وزارت عظمیٰ کے ہیوی ویٹ امیدواروں میں سردار تنویر، بیرسٹر سلطان محمود چوہدری، خواجہ فاروق اور انوارالحق شامل ہیں جبکہ مجموعی طور پر وزارت عظمیٰ کے لئے امید سے ہونے والوں کی تعداد ماشا اللہ ایک درجن ہو چکی ہے۔

سوشل میڈیا پر اگر کوئی سردار تنویر کے حق میں فیصلہ سناتا ہے تو ساتھ ہی دوسری پوسٹ بیرسٹر سلطان کے حق میں نمودار ہوجاتی ہے۔ دوسری طرف بنی گالہ اور وزیراعظم سیکرٹریٹ میں وزیراعظم کے عہدے کے لئے انٹرویو کئی بار ہوچکے ہیں جبکہ بنی گالہ کے باہر اسی عہدے کے لئے پوری پی ٹی آئی اور پھر مقتدر حلقے دوڑ میں لگے ہوئے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان میں جب بھی وزارت عظمی کے چناؤ کا وقت آتا ہے تو اس عہدے کے لئے انٹرویو دینے والے امیدوار الگ ہوتے ہیں اور دوڑنے والے الگ ہوتے ہیں۔

وزارت عظمیٰ کے لئے بیرسٹر سلطان کے حامیوں کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے اپنی آنکھوں سے وزارت عظمیٰ کا ”قمر“ بیرسٹر کے کندھے پر دیکھا ہے اور دوسری طرف سردار تنویر کے حامیوں کا دعویٰ ہے کہ سردار تنویر کے ساتھ اقتدار کے پیرو مرشد کا ”فیض“ ہے لہذا مقابلہ دونوں طرف بہت سخت ہے اور کچھ لوگوں کا تو یہ بھی خیال ہے کہ اگر سردار تنویر وزیراعظم بن گئے تو پھر یقینی ہے کہ ”قمر گرہن“ شروع ہو چکا ہے اور اگر بیرسٹر سلطان نے وزارت عظمیٰ کی کرسی حاصل کرلی تو پھر سمجھ جائیں کہ پیرومرشد سے ”فیض“ کی کرامت چھین لی گئی ہے۔

بہرحال اگر مندرجہ بالا دونوں امیدوار عہدہ حاصل نہ کرسکے تو اس کا مطلب ہوگا کہ عمران خان نے سب فریقین کو برابری کی سطح پر نیا بزدار لاکر راضی کر لیا ہے۔ سردار تنویر جو کہ اس وقت سب سے زیادہ طاقتور سمجھے جا رہے ہیں لیکن بیرسٹر سلطان نے بہت ہی باریک کام کر کے ان کو کافی نقصان پہنچایا ہے۔ مثال کے طور پر سردار تنویر کی تین ماہ پہلے کچھ نازیبا ویڈیو شیئر ہوئیں تو سب نے ایک طرف یہ یقین کیا کہ سردار تنویر کسی اور شوق کے حامل ہیں اور دوسری طرف یہ بھی یقین کر لیا گیا کہ یہ واردات بیرسٹر سلطان نے کروائی ہے۔

یہ مقابلہ ختم نہیں ہوا بلکہ مارچ میں ایک نوجوان خواجہ فہیم نے سردار تنویر کے خلاف ایف آئی اے کو درخواست دی جس میں الزام لگایا گیا کہ سردار تنویر نے اس کو ہم جنس پرستی کی طرف مائل کرنے کے لئے پورن ویڈیو بھیجی ہیں لیکن ایف آئی اے نے حسب معمول اپنا جھکاؤ طاقتور کی طرف رکھا اور مقدمہ درج کرنے کی بجائے اس نوجوان کو چکر لگواتے رہے بعد ازاں خواجہ فہیم نے اپنے وکیل عمران فیروز کے ذریعے عدالت سے رجوع کیا اور عدالت نے سردار تنویر کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیدیا۔

معاملہ جب ایف آئی اے کے اختیار سے نکل گیا تو سردار تنویر نے مقدمہ کا اندراج رکوانے کے لئے اسلام آباد ہائیکورٹ سے حکم امتناعی حاصل کر لیا۔ یہ عدالتی حکم ابھی تک برقرار ہے لیکن گندی تلوار سردار تنویر کے سر پر لٹکتی رہے گی اور اگر وہ وزیراعظم بن گئے تو پھر آزاد کشمیر کی اپوزیشن اور اندر کھاتے بیرسٹر سلطان اس قدر پریشر کو بڑھائیں گے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا یہ حکم امتناعی اسی دباؤ کے سیلابی ریلے میں بہہ جائے گا اور سردار تنویر کو ایک ”داغدار“ وزیراعظم سمجھا جانے لگے گا۔

یہ کہانی ہے سردار تنویر کی اور اب بیرسٹر سلطان کی کہانی یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے ذہن میں بٹھا دیا گیا ہے کہ موصوف آصف علی زرداری کے ساتھ مل کر کام کرنے کا ہر طرح کا تجربہ رکھتے ہیں اور بیرسٹر سلطان مبینہ طور پر شام سات بجے کے بعد کم ہی فون سننے کے قابل ہوتے ہیں اور بلاناغہ ”شہد“ کی گنڈا پوری بوتلیں ان کے ہاں استعمال ہوتی ہیں۔

اس لئے وزیراعظم بیرسٹر سلطان سے بھی بچ نکلنے کی خواہش رکھتے ہیں ویسے بھی وزیراعظم کو ایسے بندے کی تلاش رہتی ہے جو ان کا فون کرسی سے کھڑے ہو کر سنے اور بزدار پلس کی خوبیوں سے مالا مال ہو جبکہ سردار تنویر کو ایک طرف دولت کا نشہ ہے اور ساتھ ہی مبینہ بری لت نے انہیں بدنام کر دیا ہے اور بیرسٹر سلطان کے حوالے سے تو مشہور ہے کہ وہ تھوڑی سی پینے پر یقین ہی نہیں رکھتے یہ ایک اور طرح کا نشہ ہے۔

ان دونوں کے مقابلے میں خواجہ فاروق، انوارالحق، اظہر صادق اور سردار قیوم نیازی کافی بہتر شہرت رکھتے ہیں اور ”بزدارانہ“ کمال بھی دکھا سکتے ہیں لہذا یہ ایک سیاسی تجزیہ ہے اور ہمارے ہاں کچھ بھی ہو سکتا ہے اور نہ ہونا چاہے تو ستر سال کی طرح نعروں کے سوا کچھ بھی نہیں ہو سکتا ۔ قارئین اور وزارت عظمیٰ کے امیدواروں کا راقم سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ وزیراعظم نے وزارت عظمیٰ کے لئے جاری انٹرویوز کے دوران اپنا ہیلی کاپٹر بھیج کر اظہر صادق کو بھی امیدواروں کی صف میں شامل کیا تھا تو اس وقت سب امیدواروں کی گھوگی بندھ گئی تھی۔

Latest posts by شمشاد مانگٹ (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words