ایچ آئی وی: کیا سندھ کے شہر رتوڈیرو کے والدین اپنے متاثرہ بچوں کو زندہ رکھ پائیں گے؟

عمر دراز ننگیانہ - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، رتوڈیرو، سندھ


ایچ آئی وی

BBC

محمد اسلم (فرضی نام) نے اس بیماری کا سن ضرور رکھا تھا۔ انھیں پتہ چلا تھا کہ جسے یہ بیماری ہو جائے ’وہ کبھی شادی نہیں کر سکتا۔‘ انھیں یہ بھی اندازہ تھا کہ یہ بیماری جان لیوا ہے مگر یہ کیسے مارتی ہے، یہ دو سال قبل تک انھیں معلوم نہیں تھا۔

ان کی دو کمسن بیٹیوں کی زندگی ان کے سامنے ختم ہوئی۔ ان دنوں وہ گاؤں میں رہتے تھے۔ ان کے بچے سارا دن کھیلتے کودتے، پھرتے، پھراتے تھے اور بظاہر مکمل طور پر صحت مند تھے۔ معممولی کھانسی، بخار کے لیے وہ انھیں صوبہ سندھ کے شہر رتو ڈیرو میں ایک نجی ڈاکٹر سے دوا دلوا دیتے تھے۔

پھر یوں ہوا کہ ان کی دو بڑی بچیوں کو اکثر بخار رہنے لگا۔ ان کا پیٹ خراب ہوتا تھا تو کئی، کئی دن ٹھیک نہیں ہوتا تھا۔ نزلہ زکام کئی روز تک چلتا رہتا تھا۔ رتو ڈیرو کے ڈاکٹر انھیں ٹیکہ لگاتے یا ڈرپ لگاتے تھے تو وہ وقتی طور پر ٹھیک ہو جاتی تھیں۔

لیکن پھر ان کی حالت اتنی تیزی سے خراب ہوئی کہ وہ ’ہڈیوں کا ڈھانچہ بن کر رہ گئی تھیں۔‘ وہ وقت یاد کرتے ہوئے آج بھی محمد اسلم کی آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔ ایک طرف ان کی بیٹیوں کو دست اور قے رک نہیں رہی تھی اور دوسری طرف انھوں نے کھانا پینا بالکل ترک کر دیا تھا۔

’میری بڑی بیٹی نے مسلسل 17 دن کچھ نہیں کھایا پیا۔ میں حیران تھا وہ زندہ کیسے ہے‘ لیکن وہ زیادہ دن زندہ نہیں رہیں۔ ان کی موت کے کچھ ہی دن بعد یہ خبر سامنے آئی کہ صرف رتوڈیرہ کے علاقے میں سینکڑوں افراد میں ایچ آئی وی کا وائرس پایا گیا تھا جن میں زیادہ تر بچے تھے۔

مقامی ذرائع ابلاغ میں رتو ڈیرہ کے انھی نجی ڈاکٹر کو موردِ الزام ٹھہرایا جا رہا تھا کہ جن کے پاس سے محمد اسلم اپنے بچوں کے لیے دوا لیتے تھے۔ انھیں تشویس لاحق ہوئی کہ کہیں ان کی بیٹی بھی ایچ آئی وی سے تو نہیں مری تھی؟

اگر ایسا ہوا تو ان کے باقی بچوں میں بھی تو ملتی جلتی علامات پائی جاتی تھیں۔ محمد اسلم نے اپنے تمام بچوں کے ایچ آئی وی ٹیسٹ کروانے کا فیصلہ کیا۔ حکومتی اور بین الاقوامی امدادی ادارے رتو ڈیرو پہنچ چکے تھے اور بڑی تعداد میں لوگوں کے ایچ آئی وی ٹیسٹ کیے جا رہے تھے۔

یہ سنہ 2019 میں جون کی سخت گرمی کے دن تھے۔ ارد گرد کے دیہاتوں سے مائیں اپنے بچوں کو لے کر رتو ڈیرو کے تلوکہ ہسپتال پہنچ گئیں تھیں اور ایک خصوصی وارڈ میں اپنی باری کا انتظار کر رہی تھیں۔

محض چند دنوں کے اندر ایک ہزار سے زائد افراد میں ایچ آئی وی تشخیص ہو چکی تھی۔ ان میں 800 سے زائد بچے شامل تھے اور ان بچوں میں زیادہ تر کی عمریں پانچ برس سے کم تھیں۔ حیران کن بات یہ تھی کہ ان بچوں کے والدین میں ایچ آئی وی وائرس موجود نہیں تھا۔

محمد اسلم کے ساتھ بھی بالکل ایسا ہی ہوا تھا۔ ان کے چار بچوں میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہوئی تھی۔ صرف ایک چھوٹا بیٹا اس سے محفوظ رہا تھا۔ اب محمد اسلم کو لگتا ہے کہ ان کی بڑی بیٹی کی موت بھی ایچ آئی وی سے ہوئی تھی کیونکہ ان میں وہی علامات تھیں جو باقی بچوں میں موجود تھیں۔

اب آگے کیا ہو گا؟ کیا یہ وائرس بچوں سے ان میں منتقل ہو سکتا تھا؟ کیا ان کے باقی بچے بھی ان کی بیٹی کی طرح مر جائیں گے؟ محمد اسلم کا یہ بدترین خوف اس وقت حقیقت میں بدلتے محسوس ہونے لگا جب چند ہی دنوں میں ان کی دوسری بیٹی بھی جان سے گزر گئیں۔

وہ بتاتے ہیں کہ ’اس بیچاری کو ایچ آئی وی کی دوا نہیں مل سکی۔ اگر دوا مل جاتی تو ہو سکتا ہے میری بچی بچ جاتی۔‘

ان کی باقی دو بیٹیاں اور ایک بیٹا دو برس بعد زندہ ہیں۔

ایچ آئی وی

BBC

’میرا اپنا باپ، میرے بھائی مجھے چھوڑ گئے‘

ڈاکٹروں سے محمد اسلم کو یہ جان کر بھی اطمینان ہوا تھا کہ اگر احتیاط کی جائے تو یہ وائرس بچوں کے ساتھ رہنے والے کسی دوسرے شخص میں منتقل نہیں ہو سکتا تاہم یہ بات انھیں سمجھ میں آئی تھی لیکن گاؤں میں رہنے والے دوسرے افراد کو نہیں آئی تھی۔

محمد اسلم کو بچیوں کی موت کے بعد دوسرا دھچکا اس وقت لگا جب ان کے والد اور ان کے سگے بھائی ان سے علیحدہ ہو گئے۔

’میں دوسروں کو کیا کہوں۔ میرا سگا باپ میرے ساتھ رہتا تھا وہ بیچارا مجھے چھوڑ کر چلا گیا۔ میرے بھائی چلے گئے۔‘

محمد اسلم کو بھی گاؤں چھوڑ کر رتو ڈیرو شہر منتقل ہونا پڑا۔ یہاں وہ شہر سے قدرے باہر ایک چھوٹی سی آبادی میں کرائے کے دو کمروں کے مکان میں اپنی اہلیہ اور چار بچوں کے ساتھ رہتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’دو سال ہو گئے ہیں مجھے شہر میں اس گھر میں منتقل ہوئے، آج تک (گاؤں سے) کوئی پوچھنے نہیں آیا کہ کس حال میں ہو۔ کوئی بچوں کا حال پوچھنے نہیں آیا۔‘

رتوڈیرو میں ایچ آئی وی کی پھوٹ کب ہوئی تھی؟

محمد اسلم نے یہ بتاتے ہوئے اپنی آواز کی کپکپاہٹ پر قابو پانے کی کوشش کی اور اپنی آنکھوں کے کناروں میں آنے والی نمی کو صاف کیا۔

ان کے بچے چارپائی پر ان کے سامنے بیٹھے اپنی اپنی کتاب پڑھ رہے تھے۔ محمد اسلم نے خود میٹرک تک تعلیم حاصل کر رکھی تھی۔ بچوں کو وہ خود گھر پر تعلیم دے رہے تھے۔ وہ خود محنت مزدوری کرتے تھے جس سے ان کا گزر بسر ہوتا تھا۔

اس محلے میں زیادہ تر افراد کو معلوم نہیں تھا کہ ان کے بچوں کو ایچ آئی وی کا مرض لاحق تھا۔ محمد اسلم کو یہ ضرور معلوم تھا کہ ان کی طرح بہت سے والدین اس محلے میں ایسے رہتے تھے جن کے بچوں میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہو چکی تھی۔

رتوڈ یرو میں گذشتہ برس نومبر تک کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 1500 سے زائد افراد میں یہ وائرس پایا گیا تھا اور ان میں 90 فیصد سے زیادہ بچے تھے۔

دسمبر سے اب تک کتنے مزید افراد ایچ آئی وی کا شکار ہوئے، حکومت نے تاحال اس کے اعداد و شمار ظاہر نہیں کیے۔

پہلی مرتبہ ایچ آی وی وائرس کی رتو ڈیرو میں پھوٹ کا علم سنہ 2019 میں مئی کے مہینے میں ہوا تھا اور اسی برس کے آخر میں کورونا کی عالمی وبا سامنے آئی تھی۔

محمد اسلم کے بچے کیسے زندہ رہ سکتے تھے؟

ڈاکٹروں سے محمد اسلم کو یہ معلوم ہو گیا تھا کہ ان کے بچے ایچ آئی وی کے ساتھ زندہ رہ سکتے تھے اور معمول کی زندگی گزار سکتے تھے۔ شرط یہ تھی کہ انھیں بلاناغہ ایچ آئی وی کی اینٹی وائرل ادویات ملتی رہیں۔

یہ وہی ادویات تھیں جو نہ ملنے کی وجہ سے محمد اسلم کی دوسری بیٹی اور شاید پہلی بھی ہلاک ہو گئی تھیں۔

رتو ڈیرو میں بڑے پیمانے پر بچوں میں وائرس کی تشخیص کے بعد بین الاقوامی اداروں کے تعاون سے شہر میں ایک مخصوص ایچ آئی وی سینٹر قائم کر دیا گیا تھا۔ یہاں سے بچے اور بڑے دونوں رجسٹرڈ مریض ادویات مفت حاصل کرتے تھے۔

یہاں انھیں جسم میں وائرس کی قوت کا اندازہ لگانے والے یعنی وائرل لوڈ ٹیسٹ اور جسم کی قوتِ مدافعت معلوم کرنے کے ٹیسٹ بھی مفت فراہم کیے جاتے تھے۔ یوں ہر رجسٹرڈ مریض ایک نارمل زندگی گزار سکتا تھا۔

تاہم کیا ایسا ہو بھی رہا تھا؟

ایچ آئی وی

BBC

ایک مقامی نجی لائسنس یافتہ طبیب ڈاکٹر عمران اربانی نے ذاتی طور پر رتو ڈیرو کے ان بچوں کے اعداد و شمار اکٹھے کر رکھے ہیں جو ایچ آئی وی مریض تھے اور گزشتہ دو برس میں موت کا شکار ہوئے۔

ڈاکٹر عمران اربانی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اب تک 50 کے لگ بھگ وائرس کا شکار بچے جان گنوا چکے تھے۔ تقریباً ہر ماہ ایک یا دو بچوں کی موت ہو جاتی تھی۔‘ حال ہی میں گذشتہ ماہ ایک چار سالہ بچے کی موت ہوئی تھی۔ ان میں ایچ آئی وی کی تشخیص مئی سنہ 2019 میں ہوئی تھی۔

ڈاکٹر عمران اربانی ہی نے سنہ 2019 میں حکام کی توجہ اس جانب مبذول کروائی تھی کہ بچوں میں بڑی تعداد میں ایچ آئی وی کے کیسز سامنے آ رہے تھے۔

حکومتی اور بین الاقوامی اداروں کی جانب سے کی جانے والی تحقیقات کے مطابق مقامی سطح پر کام کرنے والے اتائی ڈاکٹر اور حتیٰ کہ لائسنس رکھنے والے ڈاکٹروں کی جانب سے بھی استعمال شدہ سرنج کے دوبارہ استعمال کو وائرس کے پھیلاؤ کا سبب ٹھہرایا گیا تھا۔

رتو ڈیرہ میں خصوصی ایچ آئی وی سینٹر کے قیام کے باوجود محمد اسلم کو یہ اطمینان نہیں تھا کہ ان کے بچے اب مکمل طور پر محفوظ ہاتھوں میں تھے اور ایک نارمل زندگی گزار پائیں گے۔

’خدا کسی دشمن کو بھی یہ بیماری نہ دے‘

وہ اپنے کرائے کے گھر میں اپنی اہلیہ کے ساتھ چھوٹے سے صحن میں چارپائی لگائے بیٹھے تھے اور ان کے بچے قریب ہی کھیل رہے تھے۔ محمد اسلم کی نظر مسلسل بچوں پر تھی کہ وہ کہیں نیچے نہ گر چائیں اور انھیں چوٹ نہ لگ جائے۔

مزید پڑھیے

پاکستانی جیلوں میں 425 قیدی ایڈز کے مریض

پاکستان: ایڈز پر قابو پانے میں سب سے بڑی رکاوٹ کیا؟

’میں نہیں جانتا تھا ایڈز کس بَلا کا نام ہے‘

’میری دعا ہے کہ خدا کسی دشمن کو بھی یہ بیماری نہ دے۔ اس کے ساتھ زندہ رہنا ممکن تو ہے پر بہت مشکل ہے۔ پہلے تو آپ نے یہ کوشش کرنا ہوتی ہے کہ ان کو زخم نہ آئے اور اگر آ جائے تو وہ دوسرے صحت مند بچوں کے ساتھ نہ لگے۔‘

محمد اسلم کو یہ خوف شدت سے تھا کہ وائرس متاثرہ بچوں سے ان میں یا ان کے صحت مند بچوں کو منتقل نہ ہو جائے۔ حال ہی میں ان کے چند دوستوں کے ساتھ ایسا ہو چکا تھا۔

ان کے ایک دوست جو شہر میں کال سنٹر چلاتے تھے، ایچ آئی وی سے متاثرہ ان کی ایک بیٹی کی حال ہی میں موت ہوئی۔ اس کی موت کے بعد جب والدین کے ٹیسٹ کیے گئے تو دونوں میاں بیوی میں بھی وائرس پایا گیا تھا۔ کچھ ہی دنوں بعد ان کی اہلیہ کی بھی موت ہو گئی تھی۔ اب وہ خود ایچ آئی وی کے ساتھ زندہ رہ رہے تھے۔

ایچ آئی وی

BBC

اینٹی وائرل ادویات مریض کو کیسے زندہ رکھتی ہیں؟

رتو ڈیرو کے ایچ آئی وی سینٹر سے محمد اسلم اور ان جیسے سینکڑوں دوسرے والدین اپنے بچوں کے لیے اینٹی وائرل ادویات مفت لے جاتے تھے۔

ہر روز یہ دوا کھانے سے جسم میں ایچ آئی وی کے وائرس کی تعداد میں اضافہ نہیں ہوتا اور اس کی افزائش رک جاتی ہے۔ اس طرح وہ جسم کے مدافعاتی نظام کو تباہ کرنے کا عمل روک دیتا ہے اور مریض کا جسم بیماریوں سے لڑنے کی صلاحیت قائم رکھتا ہے۔

لیکن اگر ایک دو روز بھی دوا لینے میں ناغہ کیا جائے تو وائرس دوبارہ بڑھنا شروع ہو جاتا ہے۔ اگر وائرس بلا روک ٹوک بڑھتا رہے تو ایک خاص سطح پر پہنچ کر مریض کی بیماری ایڈز میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ اس کے جسم کی قوتِ مدافعت دم توڑ دیتی ہے اور پھر اس بیماری کا کوئی علاج ممکن نہیں ہوتا۔

اس لیے ضروری ہے کہ مریض باقاعدگی سے اینٹی وائرل ادویات لیتا رہے۔ ساتھ ہی اس کے جسم میں موجود ایچ آئی وی وائرس کی قوت کا پتہ لگانے کے لیے ہر تین سے چھ ماہ کے وقفے سے ٹیسٹ بھی کیے جاتے ہیں جنھیں ’وائرل لوڈ ٹیسٹ‘ کہا جاتا ہے۔

مریض کی قوتِ مدافعت کو جانچنے کے لیے بھی ہر کچھ عرصے کے بعد ٹیسٹ کیے جاتے ہیں تاکہ اس کی خوراک کو بہتر بنایا جا سکے اور وہ بیماریوں کا مقابلہ کر سکے۔

محمد اسلم جیسے افراد کے لیے یہ ادویات حاصل کرنا کتنا آسان؟

یہ تمام ادویات اور ٹیسٹ انتہائی مہنگے ہوتے ہیں جن کے اخراجات محمد اسلم یا رتوڈیروہ میں رہنے والے ان جیسے سینکڑوں دوسرے والدین کے لیے برداشت کرنا ممکن نہ ہوتا اگر یہ انھیں مفت نہ ملتیں۔

اقوامِ متحدہ کے بچوں کے فلاحی ادارے یونیسیف، عالمی ادارہ صحت اور دیگر بین الاقوامی فلاحی ادارے یہ ادویات خریدتے اور غریب ملکوں کو مفت فراہم کرتے۔ ان کی امداد سے یہ ادویات باقاعدگی سے ان تمام مریضوں کو پہنچائی جاتی ہیں جو مقامی حکومت کے پاس رجسٹرڈ تھے۔

پاکستان میں نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام (این اے سی پی) کے ذریعے یہ ادویات تمام صوبوں میں موجود صوبائی ایڈز کنٹرول پروگرام کے حوالے کی جاتی ہیں جہاں سے یہ ایچ آئی وی کے تمام رجسٹرڈ مریضوں تک پہنچائی جاتی ہیں۔

نظام کو اس طرح وضح کیا گیا ہے کہ ایچ آئی وی کا کوئی بھی مریض کسی بھی سینٹر سے ادویات حاصل کر سکتا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ اگر کوئی مریض سفر بھی کر رہا ہو اور اس کی ادویات ختم ہو جائیں تو اس کو دقت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ایچ آئی وی

BBC

رتوڈیرو کے سینٹر کے اندر کیا کچھ میسر؟

رتو ڈیرو ایچ آئی وی سینٹر کو مکمل طور پر امدادی اداروں کے تعاون سے تلوکہ ہسپتال میں تعمیر کیا گیا اور تاحال چلایا بھی جا رہا ہے۔ یہاں مریضوں کو سی ڈی فور ٹیسٹ کی سہوت بھی مفت فراہم کی جاتی ہے جبکہ ان کا وائرل لوڈ ٹیسٹ بھی کراچی کی نجی لیبارٹری کے ذریعے کراویا جاتا ہے۔

سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام اس سینٹر کی دیکھ بھال کرتا ہے اور اس ہی کی طرف سے یہاں ڈاکٹروں اور دیگر طبی عملے کی تعیناتی کی جاتی ہے۔ اس سینٹر میں چار ڈاکٹر کام کر رہے تھے جنھیں طبی عملے کی مدد حاصل ہے۔

سینٹر کو سٹیٹ آف دی آرٹ سینٹر کہا جاتا ہے اور اس میں تمام تر سہولیات کو یقینی بنایا گیا ہے جس میں مریضوں کے لیے اپنی باری کا ٹکٹ حاصل کرنے سے لے کر ٹیسٹ کروانے اور ادویات حاصل کرنے کا جدید نظام موجود ہے۔

سینٹر کو بجلی فراہم کرنے کے لیے سولر نظام لگایا گیا تھا جبکہ ہر کمرے میں ایئر کنڈیشنر بھی نصب ہیں۔ یہ ادویات کو محفوظ رکھنے کے لیے بھی ضروری اور اس انتہائی گرم علاقے میں مریضوں اور کام کرنے والے عملے کی سہولت کے لیے بھی کارآمد تھا۔

تو محمد اسلم جیسے والدین کیوں خوف زدہ ہیں؟

محمد اسلم کا سب سے بڑا خوف یہ ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ کسی روز ان کے تین بچوں کو اینٹی وائرل دوا نہ ملے۔ اس کی عدم دستیابی کیا کچھ کر سکتی تھی، وہ یہ اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے تھے اور ان کے خدشات کو تقویت گزشتہ ڈیڑھ برس میں پیدا ہونے والی کورونا وائرس کی صورتحال سے ملی تھی۔

’ان ڈیڑھ برسوں میں کم از کم 20 مرتبہ ایسا ہو چکا تھا کہ سینٹر پر دوا نہیں تھی۔ وہاں عملے کے لوگوں نے ہمیں بتایا کہ کورونا کی صورتحال کی وجہ سے ادویات کے آنے میں تاخیر ہو گئی تھی۔‘

ایسی صورت میں محمد اسلم نے اپنے ایک رشتہ دار سے ادوایات کی کچھ خوراکیں مانگ لی تھیں تاکہ ان کے بچوں کی خوراکوں میں ناغہ نہ ہو۔ ان کے رشتہ دار کے بچے بھی ایچ آئی وی سے متاثر تھے اور وہی ادویات استعمال کرتے تھے۔

جب کبھی ان کے رشتہ دار کو ادویات نہیں ملتی تھیں تو محمد اسلم بھی انھیں دے دیتے تھے۔

کیا واقعی ایچ آئی وی کی ادوایات کی قلت ہوئی تھی؟

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام کی پروگرام مینیجر ڈاکٹر عائشہ ایصانی مجید نے اس بات کا اعتراف کیا کہ کورونا وائرس کے باعث صحت کی فراہمی کی سہولیات متاثر ہوئی تھیں تاہم انھوں نے اس بات کی تردید کی کہ پاکستان میں گذشتہ ڈیڑھ سال کے دوران کسی بھی موقع پر ایچ آئی وی کی ادویات کی قلت ہوئی تھی۔

’ہمیں کبھی بھی ادویات کی قلت کا سامنا نہیں کرنا پڑا اور ہم نے اس بات کو یقینی بنایا کہ کورونا وائرس کی صورتحال کے دوران بھی تمام مریضوں تک ادویات پہنچتی رہیں۔ اس کے لیے ہم نے کوریئر سروس کو استعمال کر کے ادویات ان کے گھروں تک بھی پہنچائیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس اندیشے کے پیشِ نظر کہ ترسیل کا نظام کورونا سے متاثر ہو سکتا تھا، کچھ مقامات پر مریضوں کو پیشگی ادوایات دے دی جاتی تھیں۔

’تاہم جس قسم کی قلت کی بات ہو رہی ہے ہو سکتا ہے وہ کورونا وائرس کے دوران لگنے والے لاک ڈاؤن کے دوران کوریئر سروس کی جانب سے ادویات کی ترسیل میں تاخیر کی وجہ سے ہوئی ہو لیکن ادویات ہمارے پاس ہر وقت موجود تھیں اور مریضوں تک پہنچائی جاتی رہی تھیں۔‘

ایچ آئی وی

BBC

’رات میں اگر طبیعت بگڑ جائے تو ہم کہاں جائیں؟‘

رتو ڈیرو کے ایچ آئی وی سینٹر کے اوقات کار دن دو بجے تک ہوتے ہیں۔ سینٹر میں مریضوں کو داخل کرنے کے انتظامات بھی موجود نہیں۔ یہ سہولت ایچ آئی وی کے مریضوں کے لے تلوکہ ہسپتال میں بھی میسر نہیں۔

محمد اسلم کو یہ خوف بھی ہے کہ ایچ آئی وی کے مریضوں کی طبیعت اکثر اوقات اچانک بگڑ جاتی ہے جس کے لیے انھیں ہسپتال میں داخل ہونا پڑتا ہے۔ ’اگر رات میں ہمارے بچوں کی طبیعت بگڑ جائے تو ہم کہاں جائیں۔‘

انھیں یہ شکایت ہے کہ کہ ’جس ڈاکٹر کو پتہ چل جائے کہ بچہ ایچ آئی وی کا مریض ہے تو اس کو ہاتھ کوئی نہیں لگاتا۔ وہ کہتے ہیں اس کو ایچ آئی وی کے مریضوں والے ہسپتال لے جاؤ۔ تو ہم کہاں جائیں۔‘

ڈاکٹر نے لکھ کر لگا دیا کہ اس کو ایچ آئی وی ہے، احتیاط کریں

محمد احمد رتوڈیرو کے قریبی گاؤں میں رہتے ہیں۔ ایچ آئی وی سے متاثرہ ان کے چار سال کے بیٹے کو حال ہی میں اچانک رات میں سخت بخار ہو گیا اور وہ تڑپنا شروع ہو گیا۔ وہ اس کو تلوکہ ہسپتال لے کر گئے۔تاہم انھیں بتایا گیا کہ ان کے بچے کو داخل کرنے کی ضرورت تھی اور اس کے لیے ان کو لاڑکانہ کے ہسپتال جانا ہو گا۔

محمد احمد نے کرائے پر ٹیکسی کا بندوبست کیا اور اپنے بیٹے کو لے کر لاڑکانہ کے ہسپتال پہنچے جہاں ایمرجسنی میں ان کے بیٹے کو ایک بستر پر لٹا دیا گیا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے محمد احمد نے بتایا کہ کافی دیر تک کوئی ڈاکڑ یا نرس ان کے بیٹے کے قریب تک نہیں آیا۔

’انھوں نے ایک بورڈ اس کے بستر پر لگا دیا جس پر لکھا تھا کہ اس کو ایچ آئی وی ہے، احتیاط کریں۔ میں نے ڈاکٹر سے کہا کچھ تو لگاؤ بچے کو، وہ تڑپ رہا ہے لیکن انھوں نے کہا اس کا کچھ نہیں ہو سکتا جب تک اس کو خون نہیں لگتا۔‘

محمد احمد بلڈ بینک سے خون لے کر آئے تو ڈاکٹر نے کہا کہ یہ ٹھنڈا ہے تھوڑا گرم ہو جائے تو آدھے گھنٹے میں لگایا جائے گا۔ ’انھوں نے خون رکھ دیا اور انتظار کرنے لگے۔ اسی دوران میرے بیٹے کا انتقال ہو گیا۔‘

ایچ آئی وی

BBC

’میرے بیٹے کے خون میں کتنی ایچ آئی وی تھی، کسی نے ٹیسٹ نہیں کیا‘

محمد احمد کو ڈاکٹروں نے بتایا کہ ان کے بیٹے کی موت کی وجہ خون کی خطرناک حد تک کمی تھی لیکن محمد احمد نے ہمیشہ اپنے بیٹے کی خوراک کا خیال رکھا تھا اور بلا ناغہ انھیں اینٹی وائرل ادویات بھی دیتے رہے تھے۔

تاہم ان کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے کے وائرل لوڈ ٹیسٹ یا سی ڈی فور ٹیسٹ نہیں کیے گئے تھے۔ ’میرے بیٹے کے خون میں کتنی ایچ آئی وی تھی، انھوں نے اس کا ٹیسٹ نہیں کیا تھا۔ وہ اندر سے کمزور ہوتا گیا اور ہمیں پتہ ہی نہیں چلا۔ مجھے پہلے پتہ چل جاتا تو میں خون لگوا لیتا اس کو۔‘

این اے سی پی کی پروگرام مینیجر ڈاکڑ عائشہ ایصانی مجید نے بی بی سی کو بتایا کہ رواں برس کے پہلے تین ماہ کے دوران وائرل لوڈ ٹیسٹ کرنے والی کٹس کی قلت ہو گئی تھی۔

’یہ قلت بین الاقوامی امدادی اداروں کی طرف سے تھی، جس کے بارے میں انھیں آگاہ کر دیا گیا تھا تاہم اب یہ قلت دور ہو چکی تھی اور ٹیسٹ کیے جا رہے تھے۔‘

تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وائرل لوڈ ٹیسٹ میں تاخیر کوئی ایسی چیز نہیں جو جان لیوا ثابت ہو۔

ایچ آئی وی

BBC

’خود سانس آئے گی تو مریض کو دیکھیں گے‘

رتو ڈیرو کے ایچ آئی وی سینٹر میں انتظامی حالات بھی زیادہ حوصلہ افزا نہیں تھے۔ سینٹر کے عملے نے بی بی سی سے بات کرنے پر آمادگی ظاہر نہیں کی کیونکہ انھیں سرکاری طور پر اس کی اجازت نہیں تھی۔

تاہم سینٹر میں ایک لیبارٹری اور فارمیسی کے کمروں کے علاوہ کسی کمرے میں بجلی نہیں تھی۔ مریض سینٹر کے باہر لگے بینچوں پر سخت گرمی میں انتظار کرتے ہیں اور گرمی سے تنگ آ کر ڈاکٹروں اور عملے سے الجھ بھی پڑتے ہیں۔

سینٹر پر تعینات عملے کے ایک فرد نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ سینٹر کو بجلی فراہم کرنے والا سولر نظام اپنی عمر پوری کر چکا ہے اور کام نہیں کر رہا۔ بمشکل دو کمروں کو ایئرکنڈیشنڈ رکھا گیا تھا جہاں ادویات اور آلات کی حفاظت ضروری تھی۔

’اتنی سخت گرمی میں سینٹر کے اندر سانس لینا دشوار ہو جاتا ہے۔ خود کو سانس آئے گی تو مریض کو دیکھیں گے۔‘

انھوں نے بتایا کہ کئی بار سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام کو سینٹر کے لیے علیحدہ بجلی کے ٹرانسفارمر کے لیے درخواست دی جا چکی ہے مگر اس پر عمل نہیں ہوا۔

صوبہ سندھ کی وزیرِ صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے بی بی سی کو بتایا کہ ’حکومت سینٹر کے اس مسئلے سے آگاہ تھی اور اس کے حل کے لیے متعلقہ ادارے کو احکامات جاری کیے گئے ہیں۔‘

کیا اب ایچ آئی وی کے مریض سامنے نہیں آ رہے تھے؟

سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام کی طرف سے گذشتہ برس دسمبر کے مہینے سے اب تک رتوڈیرو میں سامنے آنے والے مریضوں کے حوالے سے اعداد و شمار شائع نہیں کیے گئے۔ مقامی طبیب ڈاکڑ عمران اربانی کو خدشہ تھا کہ حکام اعدادوشمار کو دانستاً چھپانا چاہتے ہیں۔

تاہم انھوں نے اپنے پاس ایک ریکارڈ رکھا ہوا تھا جو مریضوں کے ایچ آئی وی ٹیسٹس کی رپورٹ سے حاصل کیا گیا ہے۔ وہ جس مریض کو بھی ٹیسٹ کے لیے بھجواتے تھے اس کا ٹیسٹ رزلٹ مثبت آنے کی صورت میں اپنے پاس ریکارڈ کر لیتے ہیں۔

ڈاکٹر عمران اربانی کے مطابق وہ ہر ماہ اگر دو سے تین سو مریضوں کو ٹیسٹ کے لیے بھجواتے تھے تو ان میں سے 30 کے قریب مریضوں میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہو جاتی تھی۔

‘یہ شرح عالمی معیار کے مطابق انتہائی زیادہ تھی اور حکومت اس کی روک تھام کے لیے کچھ نہیں کر رہی تھی۔’

این اے سی پی کی پروگرام مینیجر ڈاکٹر عائشہ ایصانی مجید نے بی بی سی کو بتایا کہ ’حکومت نے نئے سامنے آنے والے مریضوں کا ریکارڈ رکھا ہوا ہے اور جلد ہی ایک رپورٹ جاری کی جائے گی جس میں دسمبر کے بعد سامنے آنے والے نئے مریضوں کے اعدادوشمار بھی موجود ہوں گے۔‘

ایچ آئی وی

BBC

’استعمال شدہ سرنج کا استعمال آج بھی جاری‘

ڈاکٹر عمران اربانی کا دعوٰی تھا کہ ایچ آئی وی کے وائرس کے پھیلاؤ کے ذمہ دار عناصر دو برس بعد بھی رتو ڈیرو میں موجود ہیں۔

’اب بھی اتائی ڈاکٹر اسی طرح کام کر رہے ہیں اور اب سرنج کا دوبارہ استعمال ہو رہا ہے جس کو چیک نہیں کیا جا رہا۔ یہی وجہ ہے کہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکا نہیں جا سکا۔ اعدادوشمار چھپانا مسئلے کا حل نہیں۔‘

تاہم صوبہ سندھ کی وزیرِ صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے بی بی سی کو بتایا کہ سندھ کا متعلقہ ادارہ اس حوالے سے فعال تھا اور ’اس بات کو یقینی بنایا جا رہا تھا کہ اتائی ڈاکٹر کام نہ کر سکیں اور استعمال شدہ سرنج کے دوبارہ استعمال کو روکا جا سکے۔‘

’کوشش کرتا ہوں ایچ آئی وی والے بچے دوسرے بچوں سے الگ سوئیں‘

محمد اسلم اس صورتحال سے آگاہ ہیں۔ وہ خود سے بچوں کا اس طرح خیال رکھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ انھیں ہسپتال جانے کی ضرورت پیش نہ آئے۔

’اگر ان کو زخم آ جائے اور میرے پاس پیسے ہوں تو بازار سے خرید کر پٹی کروا دیتا ہوں ورنہ کسی کپڑے وغیرہ سے اچھی طرح باندھ دیتا ہوں تاکہ ان کا زخم ہمارے ساتھ یا صحت مند بچوں کے ساتھ نہ ٹکرائے۔‘

محمد اسلم کا کہنا تھا کہ وہ کوشش کرتے ہیں کہ ’ایچ آئی وی والے بچے دوسروں کے ساتھ بھی نہ سوئیں‘ لیکن کبھی کبھار ایسا ہو جاتا ہے کہ ’بچے میرے پاس آ کر سو جاتے ہیں۔ میں بچوں کو خود سے علیحدہ تو نہیں کر سکتا۔‘

ان کو لگتا ہے کہ حکومت کا رتو ڈیرو ایچ آئی وی سینٹر کے مسائل پر فوری توجہ دینا ضروری ہے کیونکہ یہ ان کے بچوں کی زندگی اور موت کا مسئلہ ہے تاہم انھیں بھی معلوم ہے کہ ’یہ ایک طویل جدوجہد ہے اور ہم اس کے لیے تیار ہیں۔ اگر ضرورت پڑی تو ہم احتجاج کے لیے سڑکوں پر بھی نکلیں گے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words