سائرہ بانو اور یوسف خان کی مثالی محبت اور ”ڈیڈی ایشوز“

دلیپ کمار کی موت پہ سائرہ بانو کی مثالی محبت، خدمت اور تیمارداری کے حوالے سے لکھنے والے قلمکاروں کے قلم کی روشنائی اور تعریف کرنے والوں کے لیے الفاظ کم پڑ گئے۔ اپنے شوہر کی صحت یابی کے بعد ایک بار جب سائرہ سے گفتگو ہوئی تو انہوں نے کہا ”جس کا شوہر کوہ نور ہو وہ ست ساوتری کیسے نہ ہو گا؟ میں تو ان پہ مرتی ہوں۔ میں تو اس سے سو گنا زیادہ (خدمت) کروں۔“ ان کا یہ فخر بجا ہے کیونکہ دلیپ صاحب اس وقت کی مشہور ہیروئنوں کے دلوں میں بسے تھے اور لاکھوں نوجوان لڑکیوں نے انہیں محبت کا دیوتا تصور کیا، لیکن ہندوستان کی فلمی دنیا کا کوہ نور سر کے تاج کی صورت ان کے وجود میں کندہ ہوا۔

سائرہ نے اپنے کئی انٹرویوز میں اس بات کو بھی دہرایا کہ ”میں نے تو بارہ برس کی عمر میں یہ بات ٹھان لی تھی کہ شادی کروں کی تو“ یوسف صاحب ”سے اور یہ میرا خواب تھا۔ یہ شخصیت ہی ایسی ہیں کہ ساری دنیا دلچسپی رکھتی ہے ماشا اللہ۔“ بارہ سال کی عمر میں جب وہ ان کی محبت میں ڈوبی اور ان کو اپنانے کی خواہش میں سرشار تھیں دلیپ کمار کی عمر 34 سال تھی۔ اور پھر جب بائیس سال کی عمر میں چوالیس سالہ دلیپ کی بیوی بنیں اس وقت دلیپ کا نام کامنی کوشل، ممتاز اور وجنتی مالا کے ساتھ جڑنے کے بعد سالوں مدھو بالا جیسی بڑی فلم سٹارز سے منسوب رہا تھا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر پری چہرہ نسیم کی حسین ترین بیٹی جو لندن کے اداروں سے پڑھی ہوئی اور جس کو اپنانے کے لیے نجانے کتنے نوجوان تیار ہوں وہ اپنے سے دوگنی عمر کے مرد کے عشق میں اور وہ بھی بارہ سال کی عمر سے ہی کیوں اور کیسے مبتلا ہو گئیں؟

ویسے تو کم عمر لڑکیوں کی بڑی عمر کے مردوں کے لیے کشش کوئی بہت عجوبہ بات بھی نہیں لیکن سائرہ بانو کے سلسلے میں ہمیں ان کے بچپن میں جھانکنا پڑے گا۔

سائرہ بانو اپنے وقت کی خوبصورت اداکارہ پری چہرہ نسیم اور فلم پروڈیوسر اور ڈائریکٹر (آرکیٹیکٹ انجینئر) احسان الحق کی بیٹی تھیں جو 1944 میں پیدا ہوئیں۔ سائرہ کے علاوہ ان کی ایک اولاد سلطان بھی تھے جو سائرہ سے پانچ سال بڑے تھے۔ تقسیم کے وقت ان کے والد احسان صاحب نے پاکستان جانے کا فیصلہ کیا۔ یہ بات کچھ ناقابل فہم ہے کہ خاندان کے ہوتے ہوئے ایسا فیصلہ کیوں کیا۔ انٹرنیٹ پہ اس کی تفاصیل نہیں ملتیں ماسوا اس کے کہ ان کا انتقال 2007 میں پاکستان میں ہوا۔

نفسیات کی رو سے یہ بات البتہ قابل فہم ہے کہ اگر باپ مر جائے تو اس کے جدائی کے جذباتی اثرات اس سے کچھ مختلف ہوتے ہیں کہ جب باپ زندہ ہوتے ہوئے اپنی محبت سے محروم کردے۔ اس سلسلے میں چونکہ انٹر نیٹ کی معلومات عنقا ہیں لہٰذا اس وقت بیتے جذباتی المیہ کی صرف قیاس آرائی ہی کی جا سکتی ہے۔

بحیثیت والدہ پری چہرہ نسیم نے اپنے بچوں کو لندن میں پروان چڑھانے اور تعلیم دلانے کا فیصلہ کیا۔ ہر قدم پہ ان کا ساتھ دینے والی ان کی والدہ شمشاد بیگم بھی ان کے ساتھ ہی لندن میں رہیں۔ وہ اپنے وقت کی جانی پہچانی کلاسیکل گلوکارہ تھیں۔ وہ زمانہ دلیپ کمار کے فلموں میں عروج کا تھا۔ پری چہرہ نسیم نے بچوں کو لندن کے تعلیمی اداروں میں تعلیم دلانے کے ساتھ ساتھ اپنی قدروں سے جڑے رکھنے کے لیے اسکول کی چھٹیوں میں ہندوستان میں لمبے قیام کا سلسلہ جاری رکھا۔ ساتھ ہی فلموں میں کام بھی جاری رکھا۔

تمام تر آسائشوں کے باوجود لگتا ہے کہ والد کی کمی اور ان کی یاد میں غیر شعوری طور پہ سائرہ نے اپنے دل میں ایک بڑی عمر کے ہینڈ سم مرد کا ہیولہ سا بنایا ہوا تھا جو انہیں دلیپ جیسے کم گو سنجیدہ اور دانشور قسم کے مرد کی شکل میں نظر آیا۔ جنہوں نے پورے ہندوستان میں اپنی اداکاری کی دھوم مچائی ہوئی تھی۔ وہ لندن میں بھی ان کی ہی فلمیں دیکھتیں اور جی جان سے مرتیں۔

پھر جب سائرہ بانو نے انڈیا میں پہلی بار دلیپ کمار کو بارہ برس کی عمر میں فلم ساز اور ڈائریکٹر محبوب خان کے گھر کی دعوت میں دیکھا تو ان کی شخصیت سے اتنی متاثر ہوئیں کہ سوچ لیا کہ ایک دن نہ صرف ان کے ساتھ کام بلکہ ان سے شادی بھی کریں گی۔ ”ان کا گریس، طور طریقہ، بولنے کا اسٹائل، میں نے سوچ لیا تھا کہ کام کروں گی اور دلیپ کے ساتھ کروں گی۔“

جب 1961 میں سترہ سال کی عمر میں انہوں نے فلم جنگلی میں شمی کپور کے ساتھ فلموں میں کام کا آغاز کیا تو دلیپ کی نظر میں اس وقت بھی وہ بچی ہی تھیں۔ جبھی تو رام اور شیام میں جب سائرہ کا نام مقابل ہیروئن کے طور پہ تجویز ہوا تو دلیپ نے رد کر دیا۔ جس سے وہ دکھی تو ہوئیں مگر مایوس نہیں۔ ویسے بھی اس زمانہ میں دلیپ کا نام مدھوبالا کے ساتھ منسوب تھا۔

یہاں یہ بھی حقیقت ہے کہ ٹین ایج میں سائرہ کا دل فلمی ہیرو راجندر کمار کی جانب بھی مائل ہوا تھا، جو نہ صرف شادی شدہ بلکہ تین بچوں کے باپ بھی تھے۔ اس طرح محسوس یہ ہوتا ہے کہ بڑی عمر کے مرد کی قربت کی خواہش ان کے ساتھ رہی۔ وہ لاکھ مادی آسائشوں سے سیر، حسین ہیروئن سہی لیکن باپ کا انہیں اپنی زندگی میں ہی رد کر کے اپنی شفقت اور قربت سے محروم کرنا جذباتی سطح پہ انہیں گھائل کر چکا تھا۔ عموماً بڑی عمر کے مرد کی طرف کشش ”ڈیڈی ایشو“ بھی ہوتا جس میں کم عمر لڑکیاں عموماً لاشعوری طور پہ اپنے سے خاصی بڑی عمر کے مردوں میں کشش محسوس کرتی ہیں۔ ایسا مرد جو ان کے باپ کی غیر موجودگی میں اس کا نعم البدل ہو۔ جو انہیں مشورے اور جذباتی آسودگی دے سکے۔ ایسے مردوں کی دانشوری، تجربہ اور علم کی گہرائی میں سحر ہوتا ہے جو کم عمر نا تجربہ گار لڑکیوں کے لیے خاص کشش رکھتا ہے۔

تاہم سائرہ کی والدہ نسیم اپنی بیٹی کی اس پسند پہ بہت برہم تھیں۔ انہوں نے سائرہ کو سمجھانے کی ذمہ داری دلیپ کو دی جو پری چہرہ نسیم سے محض چار سال چھوٹے اور دانشور دوست تھے۔ وہ سائرہ کو سمجھانے میں کامیاب ہو گئے۔ آخر ان کی شخصیت کا سحر تو سائرہ پہ بچپن سے طاری تھا۔ لیکن اس وقت خود دلیپ نے تو انہیں اپنی دوست کی کمسن اور ضدی بیٹی کی طرح ہی دیکھا۔

دلیپ کے رویہ میں سنجیدگی، بزرگی، متانت، ٹھہراؤ اور وقار تھا۔ آخر کار وہ گیارہ بہن بھائیوں کے تیسرے نمبر کے بھائی تھے۔ جب ان کے والد کا پھلوں کا کاروبار مندا ہوا تو انہوں نے اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے گھر کا مالی بوجھ اٹھانے اور چھوٹے بہن بھائیوں کی تعلیم کو مقدم جانتے ہوئے ملازمت کی۔ چند سالوں بعد فلم اسٹار دیویکا رانی نے انہیں فلم میں کام کی پیشکش کی اور یوں ان کا فلمی سفر شروع ہوا۔ مگر فلمی ہیرو کے ساتھ ساتھ وہ ہمیشہ ذمہ دار اولاد اور بھائی کا کردار بھی بحسن و خوبی نبھاتے رہے۔ 1950 تک ان کے والدین دنیا سے رخصت ہوچکے تھے۔ خاص کر والدہ کی بیماری میں دلیپ نے بہت خدمت کی تھی۔ تعلیم کا سلسلہ منقطع ہوا مگر وہ انگریزی، ہند کو، اردو، پشتو، مراٹھی، فارسی، بنگالی اور گجراتی جیسی زبانوں میں دسترس رکھتے تھے۔ ان کا مطالعہ ہر موضوع خاص کر ادب میں گہرا تھا۔ وہ فلمی ہی نہیں انسانوں کے دکھ و آلام سے جڑے ہوئے ”سماجی ہیرو“ بھی تھے۔ ایسے سنجیدہ، دانشمند، سادہ اور منکسرالمزاج مثالی انسان کی قربت کی خواہش یقیناً سائرہ کے بچپن سے جڑے ”ڈیڈی ایشو“ کو حل کر سکتی ہوگی۔ یہ بھی مزے کی بات ہے کہ جس سال 1944 میں ان کی پہلی فلم ”جوار بھاٹا“ ریلیز ہوئی وہی سال سائرہ کی دنیا میں آمد کا بھی تھا۔

دلیپ کا ان کے ساتھ فلم ”رام اور شیام“ میں کام سے انکار نے سائرہ میں غصہ تو بھرا مگر مایوسی نہیں۔ وہ اپنی ماں کی بھاری ساڑھیاں پہن کر بڑی عمر کی نظر آنے کی کوششوں میں مصروف ہو گئیں۔ ادھر دلیپ اور مدھو بالا کی آٹھ سال کی طویل محبت میں دراڑیں پڑ چکی تھیں اور شہرہ آفاق فلم ”مغل اعظم“ کے سیٹ پہ انارکلی ہی نہیں بلکہ شہزادہ سلیم کی محبت بھی سماج کی دیوار میں چنی جا چکی تھی۔ دلیپ محبت ہار کر ”ٹریجیڈی کنگ“ کا روپ دھارے اداسی کے دور سے گزر رہے تھے۔ ایسے میں بالآخر سائرہ کا اپنی سچی محبت سے ان کا دل جیتنے کی خواہش رنگ لائی۔

دلیپ کی سوانح عمری ”دی سب سٹینس اینڈ دی شیڈو“ کے مطابق پہلی بار انہیں سائرہ کی خوبصورتی اور کچی عمر کی لڑکی سے مکمل دوشیزہ ہونے کا احساس سائرہ کے گھر میں ہونے والی نئے مکان اور اس کی سالگرہ کی دعوت میں ہوا، جس میں وہ بروکیڈ کی ساڑھی پہنے آنے والوں کا خیر مقدم کر رہی تھیں۔ دلیپ ان کی مسحور کن خوبصورتی دیکھتے رہ گئے ”میں بس آگے بڑھا اس سے ہاتھ ملایا اور ہمارے لیے وقت ساکت ہو گیا۔“ یہ پہلا موقع تھا کہ انہیں لگا کہ ”میری زندگی کی ساتھی میرے سامنے کھڑی ہے۔“ اور اسی سال یعنی 1966 میں دونوں کی شادی ہو گئی۔

گو اس شادی میں عام شادیوں کی طرح پیچ و خم بھی آئے ہوں گے، خاص کر جب دلیپ نے خاموشی سے، غالباً اولاد کی خواہش میں، ایک پہلے سے شادی شدہ پاکستانی عورت اسما سے شادی کی۔ جسے وہ اپنی سب سے فاش غلطی قرار دیتے اور بھول جانا چاہتے تھے۔ تاہم 1981 سے 1983 تک چلنے والی یہ شادی طلاق پہ ختم ہوئی تو وہ ندامت کا بوجھ لیے واپس سائرہ کی جانب پلٹے۔ لیکن سائرہ بانو نے انہیں کھلے دل سے معاف کر کے اپنی محبت کے نرم پروں میں پناہ دی۔

سائرہ کبھی ماں نہ بن سکیں۔ 1972 میں ان کا آٹھ ماہ کا حمل ان کے ہائی بلڈ پریشر کی وجہ سے ختم ہوا۔ جو ان دونوں کی زندگی کا شدید المیہ تھا۔ سائرہ نے اولاد کی ذمہ داری نہ ہونے کے باوجود اپنے ”صاحب“ کی دیکھ بھال کو اپنی زندگی کی سب سے بڑی ترجیحات میں رکھا۔ وہ سائے کی طرح ان کے ساتھ رہیں۔ انہوں نے اپنے فلمی کیریر کو تیاگ دیا جبکہ ان کی اداکاری کو ایوارڈز سے نوازا گیا تھا، اردو اور فارسی استاد رکھ کر ادبی زبان سیکھی، دلیپ کے پٹھانی غصہ کو اپنی غلطی کے بغیر معافی مانگنے کی عادت سے توڑا کیوں کہ وہ ان کو ناراض نہیں دیکھ سکتیں تھیں۔ گو دلیپ کو ان کی سالگرہ یاد نہیں رہتی لیکن سائرہ نے ہر سال ان کی سالگرہ کو بڑے اہتمام سے منایا۔ ان کا کہنا ہے کہ اتنی بہت ساری خوبیاں ایک شخص میں ہونا اللہ کا تحفہ ہے۔ وہ ہمیشہ دعا مانگتیں ”خدا ان کا اقبال بلند کرے۔“

سائرہ بانو کے سارے انٹرویوز ”یوسف صاحب“ کی تعریفوں سے مرصع ہوتے ہیں۔ ان کی زندگی کا ہر پہلو اپنے ”صاحب“ کی ذات سے جڑا ہوا ہے۔ اپنی ذات کی مکمل نفی نہ بھی کی ہو مگر اسے شوہر کے عکس کو کچھ ایسے ضم کیا کہ ”صاحب“ کا ہی رنگ نمایاں رہا۔ انہوں نے تو ان گول گول پتھروں کو بھی اپنے یادوں کا خزینہ بنا لیا جو کبھی دلیپ نے راستہ میں چلتے ہوئے سائرہ کو دیے۔ اب جبکہ سائرہ کے ”صاحب“ اس دنیا میں نہیں رہے۔ انہوں نے ان کی موت پہ روتے ہوئے کہا ”خدا نے مجھ سے زندہ رہنے کی وجہ چھین لی۔“ صاحب ”کے بغیر میں کچھ سوچنے کے کے قابل نہیں۔“

سائرہ بانو کی زندگی کا احوال پڑھتے، ان کی گفتگو سنتے کہ جس میں ان کی ایک شخص پہ وارفتگی اور اور اپنی ذات کی نفی ہے، نے مجھے بہت کچھ سوچنے پہ مجبور کیا۔ خاص کر یہ کہ اپنی زندگی کی خلا پر کرنے کے لیے کسی اور دیو ہیکل اور مضبوط شخصیت کے بجائے خود اپنی ذات کو اپنی صلاحیتوں سے پر کرنا اور طاقت ور ہونا ضروری ہے۔ خاص کر عورتوں کو۔ تاکہ کسی کے جانے کے بعد آپ بکھر نہ جائیں بلکہ آپ زندگی میں میں بھی معنی تلاش کرسکیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words