نیم ملا خطرہ ایمان، نیم حکیم خطرہ جان


انسان کی تخلیق میں کچھ ایسے عناصر موجود ہیں جو اس کو ہمیشہ آسانی تلاش کرنے پر اکساتے ہیں اور اسی کے ساتھ ساتھ انسان کو اپنے لحاظ سے عقلمند تسلیم کرنے کے لیے برابر اکساتے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ عقلمندی انسان کی ہی خصوصیت ہے۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ ہم خود کو حکیم بھی سمجھ بیٹھتے ہیں۔ کوئی خود کو مذہب کا حکیم، صحت کا حکیم، سائنس و ٹیکنالوجی کا حکیم وغیرہ وغیرہ۔ انسانی زندگی کے ساتھ منسلک ہر شے کا کوئی نہ کوئی حکیم میدان میں اتر آتا ہے۔ بعض اوقات تو وہ کامل حکیم بھی ہو سکتا ہے اور بعض اوقات نیم حکیم۔

اب جس سرزمین پر میں رہائش پذیر ہوں وہاں نیم حکیم کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ ہمارے ہاں ہر بندہ خود ساختہ ہنر مند ہوتا ہے۔ جس کا اپنے ہنر کی تعلیم و تربیت حاصل کرنے سے تعلق رہا ہو یا نہ رہا ہو مگر وہ ہنر مند ہو ہی جاتا ہے۔ ان لوگوں کو نیم حکیم پکارا جاتا ہے۔ ان نیم حکیموں کی تعداد کے ساتھ ساتھ اثر و رسوخ بھی بڑھ گیا ہے۔ بعض اوقات تو ان کے ٹوٹکوں کے سامنے ہمارا سر بھی خم ہو جاتا ہے۔

سب سے پہلی بات کہ نیم حکیم وجود میں کیوں آتے ہیں؟ میں ساری وجوہات تو بیان نہیں کر پاؤں گا مگر چند ایک پر روشنی ڈالنے کی کوشش کروں گا۔

پہلی وجہ ہنرمندوں کا نہ ہونا ہے۔ مثلاً اگر کسی جگہ پر ایک باقاعدہ علم رکھنے والا ہنر مند نہیں ہو گا تو اس کی جگہ کوئی نہ کوئی تو پوری کرے گا اور پھر وہ نیم حکیم ہی آئے گا۔ دوسری وجہ ہنرمندوں کا کمزور ہونا ہے۔ اگر ہنر مند کمزور ہوں گے تو نیم حکیم زور پکڑیں گے۔ نیم حکیم اس وقت تک غلط ثابت نہیں کیا جا سکتا جب تک ہنرمندوں کے بازو میں طاقت نہ ہو گی۔ تیسری وجہ وہ ٹوٹکے ہیں جو بعض اوقات اتفاقاً درست نشانے پر لگ جاتے ہیں۔ تو ان صاحب کی پذیرائی اس قدر ہو جاتی ہے کہ وہ نیم پختہ حالت ہی میں کامل سمجھے جانے لگ جاتے ہیں۔

ان نیم حکیموں کو طبقات کے لحاظ سے تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ میں چند طبقات کا ذکر کروں گا۔ کیونکہ سب طبقات کا ذکر کرنا ممکن نہیں۔ پہلا طبقہ مذہب کا نیم حکیم ہے۔ جن کو عام اصطلاح میں نیم ملا کہا جاتا ہے۔ اس طبقے کے لوگ مدرسے میں چند برس کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد خود کو مذہب کے سرپرست سمجھنے لگ جاتے ہیں۔ اگر نظر دوڑائی جائے تو سب سے زیادہ فسادات کا ذمہ دار یہی طبقہ برآمد ہو گا۔ یہ ایسا طبقہ ہے کہ جو کسی قسم کا بھی فتوی ذاتی پسند یا نا پسند کی بنیاد پر دے کر کسی کو بھی کافر قرار دے سکتا ہے۔ اس طبقے کو طاقت دینے میں براہ راست عوام ملوث ہیں۔ واضح رہے کہ نیم ملا کی بات کر رہا ہوں نہ کہ عالم کی۔ اس طبقے میں زیادہ تعداد ان لوگوں کی ہے جو کسی قابل نہ تھے تو مدرسے بھیج دیے گئے۔ وہاں سے حافظ صاحب بنے اور ساتھ شریعت کی دو چار کتابیں پڑھ کر کسی مسجد میں پیش امام بھرتی ہو گئے۔ پہلے پہل وہ قاری صاحب رہے پھر آہستہ آہستہ مولوی صاحب قرار پائے اور وقت ایسا بھی آیا کہ عالم با عمل اور مجاہد اسلام کا خطاب پایا۔

اب انھیں کھلی اجازت ہے جو مرضی فتویٰ جاری کریں۔ یہ ہے وہ موڑ جہاں یہ صورتحال پیدا ہوتی ہے جس کی بنیاد پر ٹی وی دیکھنا حرام، جدید ٹوائلٹ کا استعمال غیر شرعی، ٹائی یہودی، جہاز میں سفر کرنا گناہ، موسمی صورتحال بتانا خدائی کو چیلنج کرنا، زمین گردش نہیں کرتی بلکہ ساکن ہے وغیرہ وغیرہ فتوے سامنے آئے۔ حتیٰ کہ اس بار تو ایک صاحب نے صوفے جلا دیے کہ ان کا استعمال حرام ہے۔ یہ اسی نیم ملا کا کمال ہے کہ عورت کے لیے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا اور اور نوکری کرنا بھی غیر شرعی تصور کیا جاتا ہے۔ یہ نیم ملا ہی ہے کہ جس نے ایک منظم طریقے سے خودکش دھماکے کروائے اور کافروں کو جہنم بھیج کر خود کو جنتی تصور کرنے کا نظریہ پیش کیا۔ اسی کے تحت آدھی ملت اسلامیہ بھی کافر قرار پائی۔ ان سارے کارناموں کا سہرا نیم ملا کے سر پہ بندھتا ہے۔

دوسرا طبقہ جس کا میں ذکر کرنا چاہوں گا وہ ہے نیم صحافی طبقہ۔ ہمارے اردگرد ایسے بے شمار نیم صحافی موجود ہیں جو ماہانہ بھتہ وصول کر کے زندگی بسر کر رہے ہیں۔ یہ ایسے بے روزگار لوگوں کا طبقہ ہے جو اپنے علاقے کے غیر قانونی کاموں میں ملوث لوگوں کو جانتے ہیں اور اس بنیاد پر وہ ان سے بھتہ وصول کرتے ہیں۔ یہ نیم صحافی آپ کو رشوت خور سرکاری افسران سے ملتے جلتے بھی نظر آئیں گے۔ ان کے اندر چاپلوسی کا ہنر بھی پایا جاتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں ان کو عزت دار بھکاری کہا جا سکتا ہے۔ اگر کوئی ان کو راشن دینے سے انکار کر دے تو یہ مختصر سی خبر چھوڑ دیتے ہیں۔ اسی سبب کسی بدنامی سے دور رہنے کے لیے ان کو نواز دیا جاتا ہے۔ اگر ہنرمند صحافیوں نے ان کے خلاف ایکشن نہ لیا تو آنے والا دور صحافت کے لیے منفی اثرات سے بھرپور ہو گا۔

ایک تیسرا طبقہ جو بھرپور انداز میں معاشرے میں عزت پاتا ہے وہ طبقہ نیم طبیب ہے۔ یہ طبقہ کسی تکے کی بنیاد پر مشہور ہو جاتا ہے یا پھر کسی طب کے دفتر میں کچھ عرصہ کام کیا اور پھر اپنے گاؤں میں کلینک کھول لیا۔ حیرت یہ ہے کہ لوگ بھی اس پر اس قدر اعتماد کرتے ہیں کہ اگر کوئی انسان اس کے ہاتھوں مارا بھی جائے تو اس کو اللہ کا حکم تسلیم کر کے صبر کیا جاتا ہے۔ اس کی دو وجوہات ہیں ایک لوگوں میں شعور کا نہ ہونا اور دوسری وجہ حکومت کا ہر گاؤں میں ہنر مند ڈاکٹروں کو تعینات نہ کرنا ہے۔ دونوں صورتوں میں نیم طبیب وجود میں آتے ہیں۔

جی جہاں تک تعلق ہے چوتھے طبقے کا تعلق ہے تو ابھی ابھی بکرا عید گزری، ہر طرف قصائیوں کی قلت تھی۔ اس موقع پر ہزاروں افراد قصائی معلوم ہوئے۔ جس کے نتیجے میں کسی کھال کے ساتھ گوشت رہ گیا تو کہیں گوشت کے ساتھ کھال۔ کھال خراب ہونے کی وجہ سے معاشی نقصان کا اندازہ ہر ایک کو بخوبی ہے۔

آخر پر میں صرف اتنا کہوں گا کہ اگر ہم یوں ہی نیم حکیم کو اپنا مرشد مانتے رہے تو نتیجے میں جان ہی خطرے میں ہو گی اس کے سوا کچھ نہ ہو گا۔

Facebook Comments HS

One thought on “نیم ملا خطرہ ایمان، نیم حکیم خطرہ جان

  • 03/08/2021 at 11:09 صبح
    Permalink

    بھترین، پاکستان میں ایسے شدت پسند عناصر بہت ہیں جو کبھی ریڈیو کافر کہتے تو کبھی صوفے کو، اس جاہلیت کا قلع قمع کرنے کیلئے بھترین تحریر ہے۔

Comments are closed.