کہوں کہ نہ کہوں!

برادرم غلام مصطفی نے کالم لکھا، جس کا عنوان تھا، کراچی کی تباہی کا ذمہ دار کون ہے؟ اس میں انہوں نے اپنے تئیں کچھ وجوہات اور عوامل کا ذکر کیا۔

یہ کوئی نیا موضوع نہیں، اس عنوان پر ہزاروں کالم، تحریریں، ناول موجود ہیں۔ ہر کوئی اپنے تئیں اس کا جواب دینے کی سعی کرتا ہے۔ تجاویز مرتب کی جاتی ہیں۔ بلند و بانگ دعوے کیے جاتے ہیں، وعدے کیے جاتے ہیں۔ پلان بنائے جاتے ہیں، مگر عمل درآمد ندارد۔

خاکسار چونکہ شہر قائد کا رہائشی ہے، اس لئے اس شہر بے درماں جس نے ہمیشہ ایک ماں کی طرح سب کو اپنے دامن میں پناہ دی، اس کی موجودہ حالت دیکھ کر کڑھتا رہتا ہے۔ اپنے مضامین اور کالم میں اس کی اہمیت اور اس کے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک پر ہمیشہ لکھتا رہا ہوں، مگر حکومتوں کے پاس اس کے لئے وقت نہ پہلے تھا نہ ہی اب ہے۔

کراچی جو کبھی معاشی حب ہوا کرتا تھا، جس کی سڑکیں دھو کر شیشے کی طرح چمک جاتی ہیں۔ جہاں رات کبھی نہیں ہوتی تھی۔ امن و آشتی کا شہر، جو پورے پاکستان سے ذریعہ معاش کے لئے آنے والے بلا رنگ و نسل و زبان اپنے دامن میں جگہ دیتا تھا۔ لوگوں کے لئے امریکہ اور دبئی کا درجہ رکھتا تھا۔ کراچی کی چکاچوند روشنیاں دیکھنے کے لئے کا تانتا باندھا رہتا تھا۔ علم و ادب و ثقافت کی محفلیں جمی رہتی تھیں۔ کئی نامور شعراء، ادباء اور فن کاروں نے اس شہر کو اپنا مسکن بنائے رکھا۔ سینما، تھیٹر، پارکس عوام کو تفریح فراہم کرتے تھے۔

اب وہی کراچی کوٹہ سسٹم کی لعنت اور اپنے و پرایوں کے ظلم و زیادتی کی وجہ سے کھنڈرات کا منظر پیش کر رہا ہے۔ ٹوٹی پھوٹی سڑکیں، گندے پانی کے جوہڑ، ٹرانسپورٹ کی زبوں حالی، نکاسی آب کا فرسودہ نظام، بجلی و گیس کی لوڈشیڈنگ کے باوجود بھاری بھرکم بل، جگہ جگہ تجاوزات، لاقانونیت، اقرباء پروری، میرٹ کا قتل عام، رشوت خوری، ذخیرہ اندوزی، ناجائز منافع خوری، اور اس پر سونے پہ سہاگہ پارکنگ ایریاز اور دیگر جگہوں پر جبری بھتہ خوری، یہ کراچی کا حالیہ منظر نامہ ہے۔

کراچی سے ہمدردی کی باتیں ہر حکومت، ہر سیاسی جماعت اور ہر سیاسی راہ نما کرتا ہے، مگر حقیقتاً اور عملاً ان کے قول و فعل میں تضاد نمایاں نظر آتا ہے۔ سوائے جنرل پرویز مشرف کے، اس دور میں جو کراچی کا نقشہ ابھرا وہ قابل دید تھا، سڑکیں، پل، انڈر پاسز، نئے تفریحی پارکس کی تعمیر۔ اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی۔ 2008 ء کے بعد سے اب تک کراچی کو لاوارث جان کر ایدھی سرد خانے میں چھوڑا ہوا ہے۔

کراچی بانیان پاکستان کی اولادوں کا مرکز تھا اور ہے۔ ان کی جائے پیدائش اور جائے مدفن بھی یہی ہے۔ دوسرے لوگوں کی طرح نہیں، کماتے کھاتے کراچی سے، اور دفن ہونے اپنے وطن چلے جاتے ہیں۔ کراچی کے وسائل پر عیش سب کرتے ہیں مگر اس کو اپنانے کو کوئی تیار نہیں۔

جس طرح اردو زبان کے ساتھ نا انصافی کی جاتی رہی ہے، اسی طرح کراچی شہر کے ساتھ 75 سالوں سے زیادتی روا ہے۔ جہاں قصور وار حکومتیں ہیں، وہیں میری نظر میں زیادہ ذمہ دار کراچی کے شہری اور اس کے اسٹیک ہولڈرز ہیں۔ میں نے اسٹیک ہولڈرز کا لفظ اس لئے استعمال کیا ہے کہ یہی وہ لوگ ہیں جو کراچی کو سنوار سکتے ہیں، کراچی کو اس کا جائز مقام دلا سکتے ہیں، اس کے جائز حقوق حاصل کر سکتے ہیں، مگر افسوس اسی بات کا ہے کہ سب کی جیبیں بھر کر خاموش کرا دیا گیا ہے۔ رہی بات کراچی کے شہریوں کی تو ان کی مجرمانہ خاموشی، ظلم کے خلاف آواز نہ اٹھانا، مافیاز کے سامنے کمزور پڑ جانا، ان کے ناجائز کاموں کی پردہ پوشی کرنا، زبان و مسلک و مذہب کی بنیاد پر ناجائز ساتھ دینا۔ یہ وہ کام ہیں جن کی لعنت اس شہر کے باسیوں پر پڑ رہی ہے۔

قائد اعظم جب اپنے مزار سے چہل قدمی کے لئے باہر نکل کر اپنے شہر کا حال دیکھتے ہوں گے تو یقیناً وہ سوچتے ہوں گے اس سے بہتر تو کراچی انگریز دور میں تھا۔ اس وقت سب کو پتہ تھا کہ ایک طرف انگریز ہے تو دوسری طرف مسلمان۔ اب تو کسی کو کچھ نہیں پتہ، سامنے کون ہے، کون ہمدرد ہے، کون دشمن۔ اگر یہ کہا جائے کہ سب کو پتہ ہے دشمن کون ہے، مگر ”اپنا ہے“ کہہ کر خاموش ہو جانا بجا ہے۔

کراچی کی بڑی سیاسی جماعت ایم کیو ایم، آپ کو ماننا پڑے گا، کراچی کی سب سے بڑی جماعت ایم کیو ایم ہی رہی ہے، میں آج خدا کو حاضر و ناظر جان کر کہہ رہا ہوں کہ ایم کیو ایم نے چاہے جیسے بھی کارنامے انجام دیے ہیں، زکوٰۃ کی پرچیاں، زبردستی کھالیں لینا، چائنا کٹنگ، مگر حقیقت یہی ہے کہ کراچی کو اس نے سنبھال کر رکھا ہوا تھا، کسی کی مجال نہیں تھی کراچی کو ایسے بے یار و مددگار چھوڑ دیتے۔ ایک فون کال پر ریاستی و حکومتی اداروں میں تہلکہ مچ جاتا تھا۔ ”ہم شریف کیا ہوئے سب ہی بدمعاش بن گئے“ کے مصداق اب تو سب نے اپنی اپنی ڈیڑھ انچ کی مسجدیں بنا لیں ہیں، جس کا جہاں زور ہے، وہاں وہ اپنی بدمعاشی کر رہا ہے۔ مگر اب کراچی کا کوئی پرسان حال نہیں رہا۔

آپ زرداری صاحب کی حمایت کریں، آپ کو جیالا نہیں کہا جائے گا، آپ نواز شریف کی حمایت کریں آپ کو لوگ پٹواری نہیں کہیں گے، آپ عمران خان کو اچھا بولیں آپ کو یوتھیا نہیں کہا جائے گا لیکن آپ نے جیسے ہی ایم کیو ایم کی تعریف میں دو لفظ کیا بول دیے آپ پر دہشت گرد کا لیبل چسپاں کر دیا جائے گا۔ قانون نافذ کرنے والے آپ کو اٹھا کر لے جائیں گے، تفتیش کی جائے گی کہ کہیں سے لندن والوں سے رابطہ نکل آئے۔ اس کو کیا کہا جائے؟

اردو بولنے والوں کو اب حقیر، نیچ، کم تر، ذلیل سمجھا جا رہا ہے۔ سرکاری نوکریاں تو اب ان کے مقدر میں نہیں ہیں۔ آپ اپنے جائز کام کے لئے کسی سرکاری دفتر چلے جائیں، سرکاری ہسپتال چلے جائیں آپ کو لگ پتہ جائے گا کہ آپ کے ساتھ ہو کیا رہا ہے۔ آپ سے اس طرح برتاؤ کیا جائے گا جیسے آپ دشمن ملک بھارت میں ہوں۔

پورے کراچی میں لاک ڈاؤن کیا جا رہا ہے، زبردستی 6 بجے دکانیں بند کروائی جا رہی ہیں، پولیس ساڑھے 5 بجے ہی ایسے پھرتی دکھا رہی ہوتی ہے جیسے دشمن نے حملہ کر دیا ہو، ڈنڈے لے کر چھترول کرتے ہیں، چوری چھپے پیسے بھی بٹورتے ہیں، دیہاڑیاں بھی لگا رہے ہیں، مگر صرف اور صرف وہ علاقے جہاں اردو بولنے والوں کی اکثریت ہے۔ آپ چلے جائیں بنارس، بلدیہ، سہراب گوٹھ، لیاری، ملیر، گڈاپ، آنکھیں نہ کھل جائے تو کہنا۔

تجاوزات صرف صدر ٹاؤن اور اورنگی ٹاؤن کے علاقے میں ہی ہوئی ہیں، ملیر، لیاری، گڈاپ میں کوئی تجاوزات نہیں۔ شاید وہاں تمام تعمیرات قانون کے دائرے میں رہ کر، ریاست کو پورا ٹیکس ادا کر کے کی گئی ہوں گی۔ جبھی تجاوزات کا سارا کا سارا نزلہ گجر نالے اور اورنگی ٹاؤن کی کچی آبادیوں پر گرایا جا رہا ہے۔ جب بات ہوئی ناجائز شادی ہالز گرانے کی تو، کیا ہوا سب جانتے ہیں۔ صوبائی وزیر سعید غنی حمایت میں سامنے آ گئے، مگر کسی غریب کی جھگی کو مسمار کرتے وقت انہوں نے کبوتر کی طرح آنکھ بند کر لی تھیں۔ یہاں ویسے بھی قانون صرف غریب پر بھی برستا ہے، امیر کے پاس سے تو گزرتا بھی نہیں ہے۔ ایک کمشنر اپنے کتے کو ڈھونڈنے کے لئے پوری ضلعی مشینری لگا دیتا ہے، اور غریب کی معصوم بچی کو اغوا کر لیا جائے تو قانون ساکت پڑا رہتا ہے، جب تک اس کی نعش زیادتی اور تشدد کے بعد کسی کچرے کے ڈھیر سے نہ مل جائے۔

وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے کوٹہ سسٹم دس سال کے لئے لگایا تھا، مگر اس کی لعنت آج بھی قائم ہے۔ کوٹہ سسٹم ختم کرنا ان کے لئے ناممکن ہو چکا ہے۔ کراچی میں موجودہ کوٹہ سسٹم 2 فیصد ہے۔ سرکاری نوکریوں میں اس دو فیصد میں بھی اردو اسپیکنگ کو نظر انداز کر کے دوسری قومیتوں کو جگہ دی جاتی ہے۔ چنگیز خان نے جس طرح قتل عام کیا تھا اس سے کئی بدتر کراچی میں میرٹ کا قتل عام ہوتا ہے۔ ایسے ایسے لوگ بھرتی کیے جاتے ہیں جن کو الف ب کا بھی نہیں پتہ۔ اگر یقین نہ آئے تو میرٹ پر ٹیسٹ لے کر دیکھ لیں۔ 100 میں سے 90 فیل ہوجائیں گے۔

کہنے کو تو بہت کچھ ہے، شکایتوں کے انبار ہیں، نہ ختم ہونے والے مسائل نے جڑیں پکڑ لی ہیں، بلدیاتی نظام سے تھوڑا بہت آسرا ہو جایا کرتا تھا، مگر وہ بھی فرسودہ ہو چکا ہے۔ جس کا ہونا یا نہ ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا۔ حقیقت کا ادراک کرنا ہوگا، جائز اور ناجائز کو پہچاننا ہوگا۔ حقوق کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے، اگر وہ اس میں ناکام ہو جائے تو عوام کا فرض ہوتا کہ وہ اپنے جائز حقوق کے لئے کھڑے ہوں جائیں، اگر وہ اپنے حقوق سے خود ہی صرف نظر کر لے تو پھر کسی اور کو قصور وار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words