حذیفہ اشرف عاصمی کی کتاب: سوچ کا سفر


ہمارے بڑوں کو آج کل نوجوانوں سے یہ شکایت رہتی ہے کہ نوجوان غیر ضروری سرگرمیوں پر زیادہ فوکس کرتے ہیں اور کار آمد سرگرمیوں کو وقت نہیں دے پاتے۔ مگر خوشی اور اطمینان کی بات یہ ہے کہ اکثر اوقات انھی نوجوانوں میں سے کچھ ایسے کارنامے انجام دے جاتے ہیں کہ جنہیں دیکھ کر دل خوشی سے پھولے نہیں سماتا۔ گزشتہ برس لاہور کے رہائشی نوجوان حذیفہ اشرف عاصمی نے ’سوچ کا سفر‘ تخلیق کر کے ادبی حلقوں میں اپنی خوش گوار آمد کا اعلان کیا تو ہر طرف اس نوجوان کی کاوش کے چرچے سنائی دیے۔

حذیفہ اشرف عاصمی متنوع شعبہ جات کے نوجوان ہیں، وہ پنجاب یونیورسٹی سے ایل ایل بی کے طالب علم ہونے کے ساتھ ساتھ ایک یوٹیوبر، نعت خواں، مضمون نویس، شاعر اور مقرر بھی ہیں۔ انہوں نے ایک ادبی ذوق رکھنے والے خاندان میں آنکھ کھولی اور کتابوں کے درمیان ہی پرورش پائی، یہی وجہ ہے کہ نہایت کم عمری میں اپنی پہلی کتاب کی اشاعت میں کامیابی حاصل کی ہے اور ان کی دوسری کتاب ”دیپ من کا جلا رہے“ چھپائی کے مرحلے میں ہے، جو کہ بہت جلد پڑھنے کے لیے دستیاب ہوگی۔

’سوچ کا سفر‘ ایک مثبت سوچ اور فکر کے ساتھ لکھی گئی ایک منفرد کتاب ہے، جس میں آپ کو مختلف ادبی ذائقے پڑھنے کو ملیں گے۔ اس کتاب میں شاعری، مضامین، افسانہ اور سو لفظی کہانیاں شامل ہیں۔ کتاب پڑھتے ہوئے فقروں کی ترتیب اور پیش کیے گئے خیالات دیکھ کر لمحہ بھر کو قاری سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ ایک نوعمر لکھاری ایسی لاجواب باتیں کیسے لکھ سکتا ہے۔ یقیناً یہ ان کی کتب بینی اور ادبی مجلسوں میں شرکت کا ثمر ہے اور بلاشبہ اللہ رب العزت کی طرف سے عطا کی گئی ان پر ان گنت رحمتوں و برکتوں کا اثر ہے۔

وہ نہ صرف نعت شریف لکھنے کی سعادت رکھتے ہیں بلکہ خوبصورت آواز میں نعت خوانی بھی کرتے ہیں۔ اپنے مضامین میں انہوں نے اپنے اساتذہ کے ساتھ ساتھ نامور ملکی شخصیات کے بارے میں بھی لکھا ہے۔ جن کو پڑھ حذیفہ کی قابلیت پر رشک ہونے لگتا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے اس کتاب میں پاکستان میں موجود بہت سارے اہم سماجی مسائل اور موضوعات پر کھل کر بات کی ہے اور ان ایشوز کے ممکنہ حل بھی تجویز کیے ہیں۔

یہ کتاب پڑھتے ہوئے ہر پہلو ایک نیا موضوع اور متنوع دلائل سامنے لاتا نظر آتا ہے۔ افراتفری اور پریشانیوں کے اس دور میں یہ کتاب ایک طرف مفید نسخہ کی حیثیت رکھتی ہے، وہیں یہ کتاب بالخصوص نوجوانان ملت کے لئے آگے بڑھنے کا حوصلہ پیدا کرتی ہے۔

اس کتاب میں موجود ان کا ایک لاجواب افسانہ ’دانش کدہ عشق‘ ادبی حلقوں میں خوب داد سمیٹ چکا ہے۔ یہ افسانہ دراصل عشق مجازی سے عشق حقیقی کا ایک خوب صورت سفر ہے۔ انہوں نے نہایت مہارت سے فکشن کے ذریعے ایک مثبت پیغام دیا ہے کہ حقیقی سکون اور کامیابی اللہ پاک سے جڑے رہنے میں ہے اور دنیا کا مال و متاع اور دیگر لوازمات نہ صرف عارضی ہیں بلکہ بہت جلد فنا ہونے والے ہیں۔

اب تک بے شمار انعامات اور اسناد کے ساتھ ’سوچ کا سفر‘ کی پذیرائی جاری ہے اور ہر نیا دن اس سفر کے لئے پچھلے سے خوش آئند ثابت ہو رہا ہے۔

اگر صحیح پلیٹ فارم کی فراہمی اور مثبت گائیڈ لائن ہو تو اس ملک کے نوجوان بلاشبہ بڑے بڑے کارہائے نمایاں انجام دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words