10 سال سے لاپتا شہری نے روپوش ہو کر دوسری شادی کر رکھی تھی

مزدور کو کیسے جبری لاپتا کیا جاسکتا ہے؟ ایسے کیس دائر کرکے ریاست کو بدنام کرنے کی کوشش کی جاتی ہے،عدالت . فوٹو: فائل
 کراچی میں عدالت کو بتایا گیا ہے کہ 10 سال سے لاپتا شہری سردراز کراچی سے بھاگ کر کوہستان گیا اور وہاں دوسری شادی کر لی۔ جسٹس محمد اقبال کلہوڑو نے ریمارکس دیئے کہ اس طرح کے کیس عدالتوں میں دائر کرکے ریاست کو بدنام کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ سربراہ جے آئی ٹی کی رپورٹ پر سندھ ہائیکورٹ نے جبری گمشدگی کی درخواست نمٹا دی۔

جسٹس محمد اقبال کلہوڑو اور جسٹس فہیم احمد صدیقی پر مشتمل دو رکنی بینچ کے روبرو 10 سال سے لاپتا شہری کے کیس کی دلچسپ سماعت ہوئی۔ سربراہ جے آئی ٹی نے عدالت میں اہم معلومات پیش کر دیں۔ سربراہ جے آئی ٹی نے بتایا کہ سردراز جبری لاپتا نہیں بلکہ خود غائب ہے، کراچی سے بھاگ کر کوہستان گیا اور وہاں دوسری شادی کرلی، پولیس شہری کی تلاش میں کوہستان اور ایبٹ آباد بھی گئی تھی، شہری کی بیوی نے بھی دوسری شادی کرلی ہے۔

جسٹس اقبال کلہوڑو نے ریمارکس دیئے کہ مزدور کو کیسے جبری طور پر لاپتا کیا جا سکتا ہے؟ اس طرح کے کیس عدالتوں میں دائر کرکے ریاست کو بدنام کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ایسے کیسز دائر کرکے وسائل کا بے جا استعمال کیا جاتا ہے۔ عدالت نے شہری سردراز کی جبری گمشدگی کی درخواست نمٹا دی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words