بچپن کے تجربات کے اثرات


ہمارے بچپن کی زندگی میں بے شمار حادثات اور منفی تجربات و واقعات رونما ہوئے ہوتے ہیں جن کے اثرات کا ہمیں اس وقت بالکل بھی اندازہ نہیں ہوتا۔ بچپن کے حادثات اور منفی تجربات آگے چل کر بہت گہرے انداز میں ہماری زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ ابتدائی زندگی میں تشدد، نظر انداز کیے جانے کے واقعات اور برے تجربات ہماری پروفیشنل اور ازدواجی زندگی پر بہت گہرے اور دیرپا اثرات چھوڑتے ہیں۔ ان تجربات کا اظہار ہمیں جوانی میں کرتے ہوئے پریشانی، دکھ، کرب اور شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن اس سے بڑھ کر مناسب حالات، سازگار ماحول اور بہتر رہنمائی اور معالج کی سہولت کا میسر نہ ہو نا بھی اہم امر ہے۔

جبکہ بچپن کی زندگی کے منفی اثرات کا مناسب اور بہتر حل تلاش نہ کیا جائے تو جوانی اور پروفیشنل زندگی میں اس سے کئی مسائل جنم لیتے ہیں۔

یہ مسائل ہمارے رویوں اور مزاج کو بری طرح متاثر کرتے ہیں جس کی وجہ سے کئی نوجوان، اپنے بچپن سے فرار حاصل کرنے اور مسائل سے چھپنے اور سکون کے حصول کے لئے وقتی چیزوں کا استعمال کرتے ہیں۔

ایسے حالات کئی نوجوانوں کو نشے کی لت میں دھکیلنے کا سبب بنتے ہیں جن میں شراب نوشی، بے جا غصہ، لڑائی جھگڑے، جذبات اور احساسات کے اظہار سے محرومی، احساس کمتری، نفسیاتی مسائل اور ذہنی دباؤ کا شکار قابل ذکر ہیں۔ ہمارے ہاں چونکہ ایسے معاملات کو سمجھنے کے لئے کوئی خاطر خواہ انتظام نہیں اور نہ ہی ایسی سوچ کو قبول کرنے کے لئے کوئی ٹھوس اقدامات کیے جا رہے ہیں تاہم ترقی یافتہ معاشرے میں ذہنی صحت اور نفسیاتی صحت کو بھرپور توجہ دی جاتی ہے۔ ہمارے ہاں اگر کسی نوجوان میں ایسے نشانات اور علامات ظاہر ہوں تو اس کا علاج فرسودہ طریقوں اور سب سے آسان طریقہ شادی کر کے کر دیا جاتا ہے۔

کئی لوگ ان علامات کے باوجود بھی نارمل نظر آتے ہیں لیکن وہ اپنے اندر ایک عجیب جنگ لڑ رہے ہوتے ہیں۔ اس کی حالیہ مثال انگلینڈ کے مایہ ناز کرکٹر بین اسٹوکس کی ہے جنہوں نے حال میں پاکستان کے خلاف انگلینڈ کی بلکہ نئی ٹیم کی قیادت کی اور تاریخی کامیابی حاصل کی۔ وہ سب کو بالکل فٹ نظر آرہے تھے لیکن چند روز قبل بین اسٹوکس نے ذہنی صحت کے حوالے سے مسائل کی بنیاد پر کرکٹ سے غیر معینہ مدت کے لئے دوری اختیار کرنے کا اعلان کر کے دنیا کو حیران کر دیا۔ کئی لوگ ان علامات اور مسائل کے ساتھ جینے کی کوشش کرتے ہیں اور ذہنی سکون کے لئے وقتی حربے استعمال کرتے ہیں۔ وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ ہر حادثے کے دیرپا اثر رہتے ہیں جسے ماہر نفسیات

Post traumatic stress disorder (PTSD) کہتے ہیں۔

معروف ویب سائٹ ”سائیکالوجی ٹوڈے“ کے ایک مضمون میں ڈاکٹر رابرٹ ویسے کا کہنا ہے کہ گزشتہ 40 سالوں میں ماہر نفسیات یہ بات بہت اچھی طرح سمجھ چکے ہیں کہ ابتدائی زندگی کے حادثات کے اثرات زندگی بھر رہتے ہیں۔ آج یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ بچپن میں تشدد، منفی رویے اور نظر انداز کیے جانے کے تجربات ہماری شخصیت، قدرتی صلاحیتوں اور اعتماد کو بری طرح ٹھیس پہنچاتے ہیں۔ یہ واقعات ہمارے بھروسے، تعلقات اور قریبی رشتوں کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں جو ہمیں بہت عزیز ہوتے ہیں۔

کیا ان مسائل سے چھٹکارا ممکن ہے؟

جی ہاں! دنیا بھر میں ایسے مسائل کے حل کے لئے بے شمار کام ہو چکا ہے۔ ایسی ریسرچز، تجربات، مشاہدات اور طریقہ کار اور ہدایات موجود ہیں جن سے استفادہ حاصل کر کے بچپن کے مسائل سے نجات حاصل کر کے پر سکون زندگی بسر کی جا سکتی ہے۔ ایسے لوگوں کے لئے ایک ماہر نفسیات اور تجربہ کار انسان کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر رابرٹ ویسے کا کہنا ہے ایسا شخص جو بچپن میں ان مسائل کا شکار رہا ہے اس کے لئے یہ عمل انتہائی تکلیف دہ اور مشکل ہو گا لیکن ناممکن نہیں، ایسے انسان کو اپنے ساتھ انتہائی ذمہ داری اور ایمانداری کا مظاہرہ کرنا ہے۔

اسے اپنے ان تمام مسائل کی بخوبی جانچ پڑتال کرنی ہے جس کی وجہ سے اس کا بچپن متاثر ہوا تاکہ وہ ان مسائل اور عوامل کی جس کی وجہ سے اسے جذباتی، نفسیاتی، نظر انداز کیے جانے، تشدد اور برے رویوں کا سامنا، خاندان میں نشے کا ماحول، خیالات کی گھٹن اور کئی ایسے تجربات جو ذہنی اذیت کا باعث بنے، سمجھنے اور حل کرنے میں آسانی ہو سکے۔ اس کے علاوہ اسے ان مسائل کے پس پردہ حقائق کو جاننے کی بھی اشد ضرورت ہے تاکہ وہ ان گمبھیر مسائل کی جڑ تک پہنچ سکے جس نے اس کے بچپن اور جوانی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

جب تک ان حادثات کا جامع مطالعہ، تجزیہ اور مشاہدہ نہیں کیا جائے گا، ایسے انسان کو رشتوں، تعلقات اور زندگی کے دیگر شعبۂ جات میں مسائل کا سامنا رہے گا۔ ایسا انسان مسلسل شرمندگی اور افسردگی کا سامنا کرتے ہوئے ایسے رویے اپنائے گا جس سے دوسرے انسان اس سے دور رہنے کو ترجیح دیں گے۔ بچپن کے مسائل، رویوں اور والدین کے ساتھ تعلقات پر مبنی ”ڈیئر زندگی“ اور ”زندگی نہ ملے گی دوبارہ“ ان مسئلوں کو سمجھنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔

یہ ایک بہت وسیع، منفرد اور توجہ طلب موضوع ہے جس پر مزید اور مفصل گفتگو کرنے کی ضرورت ہے۔ ان مسائل کے اسباب کو جاننے، ان کے سدباب کرنے اور ایسے لوگوں کو مدد و رہنمائی فراہم کرنے کے لئے کئی اہم اقدامات کو سرانجام دینے کی ضرورت ہے۔ میرے خیال میں اس میں سب سے زیادہ ضرورت لوگوں میں آگہی، شعور اور معلومات کی فراہمی ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ آج کے اس جدید دور میں بے شمار ایسے ذرائع ہیں جن سے رہنمائی حاصل کر کے اپنی زندگی بہتر بنائی جا سکتی ہے۔ جب قدرت نے یہ خوبصورت زندگی کا تحفہ دیا ہے تو اپنی زندگی کے چند منفی تجربات کو اپنی زندگی نہ بننے دیں۔

Facebook Comments HS