دائیں اور بائیں بازو والے کب دائیں بائیں ہو گئے

تغلق صاحب دفتری ساتھی اور خود ساختہ محقق ہیں۔ اپنا تعارف تاریخ کے ادنی طالب علم کے طور پر کرواتے ہیں۔ حفظ مراتب ہمیشہ ملحوظ خاطر رکھتے ہیں۔ اس لیے غوری کو ہمیشہ غوری صاحب، مغل کو مغل میاں اور ناچیز کو شاہ صاحب کہہ کر مخاطب کرتے ہیں۔ تغلق صاحب جب میز پر سر دیے بیٹھے ہوں، تو سمجھ لیجیے کہ موصوف پر تاریخ کے اچھوتے اور نت نئے باب القا ہو رہے ہیں، جو کچھ دیر میں دفتری ساتھیوں کے گوش گزار کیے جائیں گے۔ ایسے موقع پر دفتری ساتھی انتظار کرتے ہیں کہ کب تغلق صاحب کرسی کی پشت سے سر ٹکائیں اور دفتری ساتھیوں کو اپنی تازہ ترین تحقیق سے آگاہ کریں۔

کرسی کی پشت سے سر ٹکانے اور دو چار انگڑائیاں لینے کے بعد تغلق صاحب نے تفتیشی نگاہ سے دفتری ماحول کا جائزہ لیا کہ دفتری ساتھی ان کی طرف متوجہ ہیں کہ نہیں۔ ایسے موقع پر دفتری ساتھی یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ تغلق صاحب سے بے خبر ہیں۔ جب کہ ہر شخص تغلق صاحب کے خیالات سے مستفید ہونے کا شدید متمنی ہوتا ہے۔ تغلق صاحب بھی یہ سب کچھ جانتے سمجھتے ہیں۔ اس لیے بات چیت کا آغاز کرنے کی خاطر بولے : یہ عبدل کہاں دائیں بائیں ہو گیا ہے؟

حالانکہ عبدل ان کی پشت پر دھری الماری سے کوئی دفتری فائل ڈھونڈنے میں مشغول تھا۔ عبدل نے تغلق صاحب کا سوال سن کر جواب دینے کی بجائے، چپ چاپ تازہ پانی کا گلاس ان کی خدمت میں پیش کر دیا۔ چسکی لے لے کر پانی پیا۔ چسکی لے لے کر پانی پینا، اس بات کی علامت ہے کہ تاریخ پر نئی اور اچھوتی تحقیق کر کے ہی کرسی کی پشت سے سر ٹکایا ہے۔ بالآخر مغل نے پوچھ ہی لیا: تغلق صاحب، کیا حال ہیں؟

کافی دیر حالت مراقبہ میں رہے۔

تغلق صاحب نے جواب دیا: الحمدللہ میں تو ٹھیک ہوں، لیکن یہ سمجھ نہیں آتا کہ وطن عزیز میں کسی زمانے میں دائیں اور بائیں بازو کی سیاست و صحافت اور انقلاب کی باتیں اور شاعری ہوتی تھی، وہ کیسے، کب اور کہاں ہوا ہو گئی؟ کچھ پتا ہی نہیں چلا۔

مغل نے کہا : ہمارے علم میں ہو نہ ہو، کم از کم آپ کے علم میں لازمی ہوگا یا آپ نے تحقیق کی ہوگی کہ ماجرا کیا ہے۔ اب آپ ہی اس راز پر سے پردہ اٹھائیں۔

تغلق صاحب بولے : ہاں کچھ حقائق تو میرے علم میں ہیں اور کچھ پر میں نے مزید تحقیق کی ہے۔ مطالعہ پاکستان کیوں کہ تمہارا پسندیدہ مضمون ہے، اس لیے میری تحقیق تمہارے کسی کام کی نہیں۔

یہ سب سن کر غوری صاحب بھی بول اٹھے اور کہا : ارے مغل کو نہیں بتاتے تو ہم کو بتا دو۔

تغلق صاحب نے کہا : غوری صاحب آپ کی میں بہت عزت کرتا ہوں اور آپ کی خاطر ہی عرض کیے دیتا ہوں۔ جہاں تک میں سمجھا ہوں اور قیام پاکستان سے قبل اور بعد کی بانی پاکستان کی تقریروں اور اقوال پر غور کیا ہے، سمجھ یہی آیا کہ بانی پاکستان موقع محل دیکھ کر بات کرتے تھے۔ یعنی آداب محفل کا خیال رکھتے تھے۔ اگر مولویوں سے ملاقات ہو رہی ہے تو مولویانہ باتیں اور ایسی باتیں کہ مولویوں نے بانی پاکستان کو اپنے سے بڑا مولوی، ولی اللہ اور رحمتہ اللہ علیہ بھی بنا دیا۔

اسی طرح لبرل اور سیکولر کے جمگھٹے میں مکمل لبرل اور سیکولر ہو جاتے تھے۔ اسی وجہ سے مولوی کہتے ہیں کہ بانی پاکستان ولی اللہ تھے اور پاکستان کو اسلام کا قلعہ بنانا چاہتے تھے۔ اور لبرل و سیکولر کہتے ہیں کہ قائد اعظم سیکولر ریاست کے حامی تھے۔ اور دونوں کے دونوں اپنے موقف کے حق میں جو دلائل دیتے ہیں، وہ قائد اعظم کی مختلف تقاریر سے ہی اخذ کرتے ہیں یا دونوں طبقے قائد اعظم سے ہونے والی اپنی ملاقاتوں کا حال بیان کرتے ہیں۔

اسی وجہ سے قیام پاکستان کے بعد ایک طبقہ پاکستان کو اسلام کا قلعہ کہتا ہے اور وطن عزیز کو اسلامی ریاست کے روپ میں دیکھنا چاہتا ہے۔ دوسرا طبقہ دائیں بائیں بازو کے سیاست دانوں کا رہا ہے۔ جو وطن عزیز کو سیکولر ریاست کے روپ میں دیکھنے کے خواہاں ہے۔ ایک آزاد اور حکومتی عمل دخل سے آزاد معیشت کا خواہاں رہا ہے تو دوسرا ملکی معیشت میں حکومتی عمل دخل کا حامی۔ لیکن ملکی سیاست جن ہاتھوں میں ہے، وہ ایک اچھوتا طبقہ ہے اور عموماً تیسری دنیا کے ممالک میں ہی پایا جاتا ہے۔

اس اچھوتے طبقے کی وجہ سے دائیں بائیں بازو کی سیاست اور صحافت کو نقصان پہنچا اور دینی جماعتوں سمیت مختلف قسم کی لسانی، مذہبی اور مسلکی تنظیموں کو تقویت پہنچی۔ قیام پاکستان سے لے کر اب تک یہی طبقہ دینی اور سیاسی جماعتوں اور سیاست دانوں پر اپنی منشا اور ضرورت کے حساب سے دست شفقت رکھتا ہے۔ اور اب تو حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ دینی و سیاسی جماعتیں دھڑے بندی اور آپسی اختلافات کا شکار ہیں۔ ایسا ملک جہاں سیاسی جماعتیں، سیاست دان اور صحافی اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہوں اور کلی سیاسی آزادی نہ ہو، وہاں دائیں بائیں بازو کی سیاست صحافت کہاں پنپ سکتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words