سندھ میں پی پی مخالف جماعتوں کا اتحاد

سندھ میں حکمران جماعت پیپلز پارٹی کو مسلسل اقتدار میں رہتے ہوئے 13 سال مکمل ہوچکے ہیں۔ سندھ میں ماضی کی طرح گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس جی ڈی اے کی طرز پر بڑا پی پی مخالف جماعتوں کے رہنماؤں کا الائنس بننے جا رہا ہے۔ سندھ میں اسٹریٹ پاور رکھنے والی جماعت جے یو آئی سمیت پی ٹی آئی، فنکشنل لیگ، جی ڈی اے میں شامل جماعتوں کے رہنماؤں نے سیاسی سرگرمیوں کا آغاز شروع کر دیا ہے۔ تازہ پی ٹی آئی میں شامل ہونے والے سابق وزیر اعلیٰ سندھ ارباب غلام رحیم کو وزیراعظم کا سندھ کے معاملات کے لئے معاون خاص بننے کے بعد کھلبلی مچی ہوئی ہے۔

وزیراعظم عمران خان سندھ کی یاترا پر عمر کوٹ اور دیگر علاقوں میں پہنچ رہے ہیں جہاں وہ تھر کے علاقے مٹھی میں بڑا جلسہ بھی کریں گے۔ جے یو آئی کے رہنما مولانا راشد محمود سومرو نے بھی پی پی مخالف جماعتوں کے رہنماؤں سے رابطہ شروع کر کے اتحاد میں شامل کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔ وہیں پر پیپلز پارٹی کی صوبائی قیادت اور وزرا سید ناصر حسین شاہ اور نثار احمد کھرو نے پی پی مخالف اتحاد کے حوالے سے تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں کہ جے یو آئی وفاقی حکومت کے خلاف پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے تحریک چلا رہی ہیں کہ وہی بڑے مولانا (فضل الرحمان) کے چھوٹے مولانا (راشد محمود سومرو) سندھ میں پی پی مخالف اتحاد کے سلسلہ میں پی ٹی آئی والوں کو ساتھ ملا رہے ہیں۔ سندھ میں پی پی مخالف جماعتوں کے رہنماؤں کے دو بڑے اجلاس ہو چکے ہیں۔

پی پی مخالف جماعتوں کا پہلا اجلاس لاڑکانہ میں جے یو آئی کے سکریٹری جنرل علامہ راشد محمود سومرو کی میزبانی میں میں ہوا۔ جبکہ دوسرا اجلاس گھوٹکی میں سردار علی گوہر مہر کی میزبانی میں ہوا، حزب اختلاف کی جماعتوں کے رہنماؤں کی کامیاب میٹنگوں کے بعد سیاسی ہلچل مچی ہوئی ہے۔ تیسرا اجلاس ارباب غلام رحیم کی صدارت عمرکوٹ یا حیدرآباد میں ہوگا۔ جس کے بعد کراچی میں اینٹی پی پی پارٹیوں کے رہنماؤں کا اجلاس ہوگا۔ اس آخری اجلاس میں اس اتحاد کا نام طے کیا جائے گا اور آئندہ انتخابات کے لئے مشاورت کی جائے گی۔

لاڑکانہ میں پیپلز پارٹی مخالف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کا پہلا اجلاس، جس کی میزبانی مولانا راشد محمود سومرو اور صفدر عباسی نے کی۔ اجلاس میں سابق وزیر اعظم اور موجودہ وفاقی وزیر محمد میاں سومرو، ایم پی اے سردار علی گوہر خان مہر، سابق وزیر اعلی لیاقت علی جتوئی، سابق صوبائی وزیر ابراہیم خان جتوئی، سابق وزیر وزیر مرتضیٰ خان جتوئی، سابق وفاقی وزیر غوث بخش مہر، شہریار خان مہر، سید طاہر حسین شاہ، ایاز لطیف پلیجو، سابق وزیر اعلی سید غوث علی شاہ، مبین احمد جتوئی، مبین احمد بلو، عبدالقیوم ہالیجوی، ڈاکٹر سید نثار احمد شاہ، ایم پی اے معظم علی عباسی، جسم رہنما مسٹر ریاض چانڈیو، ڈاکٹر قادر مگسی، امیر بخش بھٹو، سابق صوبائی وزیر آغا تیمور خان پٹھان، جے یو آئی کے اسلم غوری، بے نظیر بھٹو کے پولیٹیکل سیکرٹری ناہید خان، مسرور جتوئی، راجہ خان مہر، عادل الطاف انڑ، عبدالستار راجپر، ناصر محمود سومرو، سائیں رکھیو میرانی اور دیگر رہنما شریک ہوئے۔

تمام جماعتوں کے قائدین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ آئندہ لاڑکانہ عوامی اتحاد کے انداز پر لاڑکانہ اور سکھر ڈویژن سمیت دادو نوشھرو فیروز اور دیگر اضلاع میں ضلع سطح پر علیحدہ ضلعی اتحاد تشکیل دیا جائے گا اور مشترکہ امیدوار نامزد کیے جائیں گے۔ پیپلز پارٹی کا مقابلہ کیا جائے گا۔ اگر اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے 2018 کے الیکشن میں سندھ بھر میں مشترکہ امیدوار نامزد ہوتے تو، سندھ میں جہاں پیپلز پارٹی کے پاس 100 نشستیں ہیں، شاید 50 سے 60 نشستوں سے زائد نہ ہوتیں۔

اگر ووٹنگ کا جائزہ لیا جائے تو پی پی چیئرمین نے حلقہ این اے 200 سے 84246 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے، جے یو آئی کے امیدوار مولانا راشد محمود سومرو نے مقابلہ میں 52،000 ہزار سے زیادہ ووٹ لئے اور 18،000 ووٹ ضائع ہوئے، جبکہ حزب اختلاف کا کل ووٹ 80 ہزار سے زیادہ ہے، این اے 206 سکھر پی پی پی کے رہنما سید خورشید شاہ نے 84726 ووٹ لئے جبکہ پی ٹی آئی کے امیدوار سید طاہر حسین شاہ نے 58000 ووٹ حاصل کیے۔ اور جے یو آئی کے مولانا محمد صالح انڈھڑ نے 21،000 ہزار سے زیادہ ووٹ جبکہ دوسرے امیدوار علیحدہ ہیں، 8000 سے زیادہ ووٹ ضائع ہوئے، این اے 207 پی پی کے نعمان اسلام شیخ کو 69،389 ووٹ ملے جبکہ پی ٹی آئی کے مبین احمد جتوئی نے 60 ہزار 531 ووٹ حاصل کیے جبکہ جے یو آئی کے آغا محمد ایوب شاہ نے 21 ہزار ووٹ حاصل کیے۔

حزب اختلاف کے کل ووٹ 83،000 ہیں۔ مشترکہ امیدوار نہ ہونے کی وجہ سے 11،000 ووٹوں کی برتری حاصل کی، پھر بھی پیپلز پارٹی کا امیدوار کامیاب رہا، این اے قمبر شہداد کوٹ میں جے یو آئی کے مولانا ناصر محمود سومرو نے 36،000 ہزار سے زیادہ ووٹ حاصل کیے، این اے گھوٹکی سردار خالد احمد لنڈ نے 91،000 ملے اور کامیاب رہے۔ مخالف امیدوار میاں مٹھو کو 90 ہزار جبکہ دیگر امیدواروں کو 99،889 ووٹ ملے۔ آزاد امیدوار علی محمد مہر کو این اے گھوٹکی میں 71993 ووٹ ملے ہیں۔

پیپلز پارٹی کے امیدوار احسان سندرانی نے 41،000 اور جے یو آئی کے امیدوار مولانا عبدالقیوم ہالیجوی نے 37،000 ووٹ حاصل کیے۔ سردار علی محمد مہر کے انتقال کے بعد خالی نشست پر جے یو آئی کے اتحادی پیپلز پارٹی کے امیدوار سردار محمد بخش مہر کامیاب ہوئے۔ صوبائی اسمبلی کی نشست پر لاڑکانہ کے انتخابی حلقہ سے فریال تالپر کے مقابلے میں پی ٹی آئی کے امیر بخش بھٹو کے 37،000 ووٹ ہیں۔ اور دیگر اپوزیشن کے امیدواروں نے 40،000 سے زیادہ ووٹ حاصل کیے، لاڑکانہ عوامی اتحاد کے امیدوار معظم علی عباسی نے 32 ہزار سے زائد ووٹوں کے ساتھ کامیابی حاصل کی اور پیپلز پارٹی کے گڑھ میں پی پی امیدوار نے صرف 21،000 ووٹ حاصل کیے، وہ الیکشن میں پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے پی اے جمیل سومرو کو شکست دے کر ایم پی اے منتخب ہوئے تھے۔

جے یو آئی کے مولانا راشد محمود سومرو نے ان کی حمایت کی۔ پی پی کے امیدوار حزب اللہ بگھیو نے 44،000 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جی ڈی اے کے عادل الطاف انڑ نے 40،600 ووٹ حاصل کیے۔ حزب اختلاف کی امیدواروں کے ووٹوں کی تعداد 51،000 ہے، یعنی حزب اختلاف کے ووٹ 7000 زیادہ تھے لیکن مشترکہ امیدوار نہ ہونے کی وجہ سے ووٹ تقسیم ہوئے اور پیپلز پارٹی کا امیدوار کامیاب رہا۔ سکھر کے صوبائی حلقہ ہر پی پی کے سید فرخ شاہ نے 34198 ووٹ حاصل کیے جبکہ اپوزیشن امیدواروں کو 38 ہزار سے زیادہ ووٹ ملے، اپوزیشن امیدواروں کو چار ہزار کی برتری حاصل ہوئی، صالح پٹ کندھرا حلقہ سے پی پی کے سید اویس قادر شاہ نے 43،721 حاصل ہوئے۔

حزب اختلاف کے دیگر امیدواروں نے 43 ہزار سے زائد ووٹ حاصل کیے۔ پنوعاقل سے پی پی کے جام اکرام دھاریجو نے 32،971 ووٹ حاصل کیے جبکہ جے ڈی اے اور جے یو آئی کے امیدواروں نے مشترکہ طور پر 40 ہزار سے زیادہ ووٹ حاصل کیے۔ پیپلز پارٹی کے امیدوار کے مقابلے میں اپوزیشن کے امیدواروں کو 8 ہزار ووٹ زیادہ ملے، سکھر ٹو سے پیپلز پارٹی کے امیدوار سید ناصر حسین شاہ نے 42،490 ووٹ حاصل کیے۔ سندھ میں پیپلز پارٹی کی 13 سالہ کارکردگی بھی عجیب و غریب ہے۔

لاڑکانہ۔ سکھر۔ نوابشاہ اور دیگر شہروں میں اربوں روپے خرچ کرنے کے باوجود ڈرینج کا نظام بہتر نہ ہو سکا ہے نہ ہی پینے کے صاف پانی کا مسئلہ حل نہیں ہوسکا۔ لاڑکانہ اور سکھر شہر بشمول خیرپور، نوشیر فیروز، نواب شاہ، شکار پور، کندہ کوٹ، کشمور، گھوٹکی، قمر شہداد کوٹ، دادو، بدین، ​​میرپور خاص سانگھڑ اور دیگر شہروں میں گندگی کی لپیٹ میں ہیں۔ روڈ راستے سڑکیں خستہ حالی کا شکار ہیں، بنیادی سہولیات کا فقدان ہے، اسپتالوں میں ڈاکٹر نہیں، ادویات کی کمی ہے۔ اسکولوں کے حالات خراب ہیں۔ امن و امان کی صورتحال آپ کو وانا وزیرستان سے بدتر نظر آئے گی۔ تھر میں معصوم بچے بھوک سے مر رہے ہیں جبکہ نوجوان مرد اور خواتین بھوک بدحالی بیروزگاری کی وجہ سے خود کشی کرنے پر مجبور ہیں، حکمرانوں کی نا اہلی نالائقی اور مایوسی کی وجہ سے اب سندھ کی شناخت خوف زدہ ہوتی جا رہی ہے۔
سندھ میں پیپلز پارٹی مخالف جماعتوں کا اتحاد بن گیا تو حکمران جماعت کے لئے پریشانی کا باعث بنے گا۔ وزیراعظم بھی جلد سندھ یاترا کرنے آرہے ہیں جہاں وہ قوم پرست رہنماؤں سمیت اپنے اتحادیوں سے ملاقاتیں کریں گے اور گلگت بلتستان آزاد کشمیر سمیت تینوں صوبوں کی طرح سندھ کو بھی فتح کرنے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ وہیں پر جے یو آئی کے مولانا راشد محمود سومرو بھی پی پی مخالف جماعتوں کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ آصف علی زرداری کی پی ڈی ایم سے علیحدگی کے بعد جے یو آئی سندھ میں پیپلز پارٹی کو ٹف ٹائم دینے کے لئے کوشاں ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words