قاسم یعقوب کے ناول ’‘ خلط ملط ”کا ایک جائزہ
قاسم یعقوب کا ناول ’‘ خلط ملط ”موصول ہوا اور زیر مطالعہ آیا۔ قاسم یعقوب فیصل آباد کا وہ نام ہیں جن پہ بجا طور پہ فیصل آباد کو ناز ہے وہ ایک محقق، نقاد، شاعر اور مدیر ’‘ نقاط“ کی شناخت قائم کر چکے ہیں۔ اور ’‘ خلط ملط ”کی صورت وہ بطور ناول نگار ایک نئی شناخت کا مرحلہ طے کر رہے ہیں۔
ناول کا انتساب ’‘ اپنے تخلیقی وجود کی ان کہی کے نام ”بڑا معنی خیز ہے۔ ایک ناول نگار جب ان کہی کو انتساب کرے تو سوال اٹھتا ہے کہ کیا تخلیق نگار اپنی اظہاریت کو تخلیق سمجھتا ہے یا نا اظہاریت کو۔ ناول کا عنوان ’‘ خلط ملط“ بھی شاید اسی جانب اشارہ کرتا ہے کہ یہاں کرداروں میں وہ ان کہی محسوس ہوتی ہے جو قاری کے ساتھ کلام کرتی ہے جو تحریر نہیں ہوئی، خاص طور پہ رئیس اور صغری اور راجہ اور ایشال کے کرداروں میں۔
ناول کو ابواب کی بجائے شاعرانہ تخیل کے تحت صبح، دوپہر اور شام کی ساعتوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔
ناول کا آغاز صبح کی ساعت سے ہوتا ہے جو کہتی ہے ’‘ میں خدا کے ہاتھوں سے گر کر ٹوٹا ہوا پیالہ ہوں جو اپنے بکھرے ہوئے ٹکڑوں کو ڈھونڈتا پھرتا ہے ”۔ یہ ٹوٹا پیالہ کون ہے یہ رئیس ہے جو بظاہر ایک بینکر ہے مگر ایک حساس اور سوچ بچار کرنے والا ذہن ہے جو نہ صرف اپنی تخلیق کو لے کر سوالوں کا شکار ہے بلکہ بینکنگ پہ لگنے والے حرام حلال کے فتوے اسے مزید انتشار کا شکار کرتے ہیں۔ قاسم یعقوب مذہبی فتوؤں و مذہبی مباحث کو ناول میں چھیڑتے ضرور ہیں مگر ناول پہ مذہبی چھاپ لگنے سے پہلے ہی بخوبی پہلو بچا کر نکل جاتے ہیں۔
رئیس کی صورت میں قاسم یعقوب نے اپنے سوچتے ذہن و سوالوں کی تشکیل کی ہے یہ سطریں ملاحظہ کیجیے ’‘ کیا کسی کا نشو و نما پاتا وجود اس بات کی علامت ہے کہ اسے فطرت نے وہ سارا ماحول مہیا کر رکھا ہے جس کی ساز گاری میں وہ پھل پھول رہا ہے؟ ”
یہ سوال اپنی جگہ ناول میں حرام حلال کے کھڑے کیے گئے بہت سے سوالوں کا جواب ہے وہ حرام حلال کی حد جو بنکنگ سے وابستہ بندہ مزدور پہ لاگو کردی جاتی ہے جو اپنا رزق حق حلال کر کے اپنے گھروں میں لے جاتے ہیں وہیں یہ سوال تب بھی پیدا ہوتا ہے جب رئیس کی بھابھی جو اس کے چھوٹے بھائی وقاص کی بیوی ہے جس کا تعلق فقہ جعفریہ سے ہے اور خاندانوں کی باہمی رضامندی سے یہ شادی ہوئی تھی مگر وقاص ایک نام نہاد مفتی کے ہتھے چڑھ کر اپنی بیوی کو خود پہ حرام کر لیتا ہے اور کفو و غیر کفو کے غیر ضروری سوالوں میں الجھ جاتا ہے وہیں زیریں سطروں میں یہ سوال کہیں خلط ملط ملتا ہے کہ وہ فرقہ جسے فطرت پنپنے کا پورا موقع فراہم کر رہی ہے تو اس پہ ہم کیسے حرام حلال کی حد جاری کر سکتے ہیں۔ قاسم یعقوب نے چابکدستی سے مذہبی بیانیوں کی شدت پسندی پہ چوٹ کی ہے۔
ناول جوں جوں آگے بڑھتا ہے مصنف کی گرفت و اعتماد تحریر پہ بحال ہوتا محسوس ہوتا ہے۔ رئیس کی صغری کے شوہر ظفر مراد سے ملاقات و احوال ناول کا خوبصورت حصہ ہے جہاں مصنف نے دعوت فکر کا اہتمام کیا ہے دعوت ہے کہ شہروں سے باہر دیہات و شہروں کے سنگم پہ گھر تعمیر کیے جائیں تاکہ گھروں میں نہ صرف خوب سبزہ اگایا جاسکے بلکہ دیہاتی زندگی سے بھی لطف اندوز ہوا جاسکے وہیں ایک خوبصورت تجویز بھی پیش کی ہے ملاحظہ کیجیے ’‘ اگر نایاب درختوں کے باغ لگائے جائیں تو اپنے لیے ہی نہیں بلکہ ملک کے لیے بھی نئے ذرائع آمدن پیدا ہوسکتے ہیں جیسے زیتون کی کاشت سے ملک زیتون کو برآمد کرنے کے قابل ہو سکتا ہے مگر یہ پودا شمالی پنجاب میں زیادہ بہتر اگتا ہے البتہ محنت کی جائے تو یہاں وسطی پنجاب میں بھی اس کا پھل اچھے نتائج دے سکتا ہے ”۔
یہ وہ تجویز ہے جس پہ رئیس اخر میں عمل درآمد کر لیتا ہے اور بینک سے مستعفی ہو کر زیتون کا باغ بنا لیتا ہے۔ اسی طرح بینک جو سرمایہ کے اصل مالک ہیں مصنف کیا کہتا ہے ملاحظہ کیجیے ’‘ زندگی خواہشات کا دوسرا نام ہے اور خواہشات پوری ہوتی ہیں سرمائے کو گرفت میں لینے سے وہ تمام افراد جو بینکنگ سے وابستہ ہیں انہیں جان لینا چاہیے کہ سرمایہ صرف بینکوں کا اثاثہ ہے طاقتور افراد ہرگز طاقتور نہیں ان کا تمام پیشہ بینکوں میں پڑا ہے وہ بالواسطہ نہیں براہ راست بینکوں کے محتاج ہیں پیسہ گھر میں چھپاتے ہیں تو مجرم ہو جاتے ہیں۔ وہ صرف برائے نام پیسے کے مالک ہیں ورنہ اصل ملکیت بینکوں کی ہے لہذا بینک کاری کا یہ سارا نظام زندگی اور زندگی کی ان خواہشات کو قابو میں رکھے ہوئے ہے اب ریاستوں کے فیصلے حکومتیں نہیں بینک کیا کریں گے ”۔
ناول جب دوپہر میں داخل ہوتا ہے تو شہر کے وسطی علاقے گھنٹہ گھر سے ملحقہ منشی محلے سے راجہ نامی کردار کی کہانی شروع ہوتی ہے۔ راجہ ایک تھوک انڈے بیچنے والا ہے اور ایک ایسا کردار ہے جو خیر و شر کی سرحدوں میں خلط ملط ہے آپ فیصلہ نہیں کر پاتے کہ وہ ایک بھیڑیا ہے یا پھر میمنا جو خالدہ ڈسپنسر جیسے شاطر کردار کے ہتھے چڑھ گیا ہے۔ خالدہ ڈسپنسر جیسے کردار ہر محلے میں بکھرے پڑے ہیں جہاں حرام حلال کی بحث میں پڑے بغیر سب کچھ ہوتا ہے اور حرام حلال کے سوالوں کے بیچ ان غلط کاریوں کے بیچ بہت سے گھر اور ان کی عزت و ناموس ان کلینکس کے نازک کندھوں پہ کھڑی ہوتی ہے۔ اسی کلینک میں راجہ کو رئیس کی بھابھی اور وقاص کی بیوی نورین ٹکراتی ہے اور اس کی ہوس کی بھینٹ چڑھ جاتی ہے۔
یہاں مصنف نے پھر بڑی چابکدستی سے حرام حلال کے قضیے کو سمیٹا ہے جہاں خود ماں بھی نہیں جانتی کہ اس کے پیٹ میں پلنے والا بچہ کس کا ہے راجہ کا یا وقاص کا مگر یہ بچہ ایک ایسے رشتے کو جو حرام حلال کی بھینٹ چڑھ چکا ہے کی بقا کا ضامن بن جاتا ہے۔
رومی نے کہا تھا ’‘ غلط اور صحیح کے بیچ ایک راہ ہے جہاں تمھیں میں ملوں گا ”۔ بطور قاری یہی وہ نظریہ ہے جو کہتا ہے کہ غلط اور صحیح کا مکمل فیصلہ ناممکن ہے۔ بینکنگ جیسے شعبے پہ حرام حلال کا فتوی ہو یا پھر ایک شیعہ عورت کا سنی مرد سے شادی کا قضیہ ہو مصنف مذہبی موشگافیوں میں نہیں پڑتا۔ اسی شیعہ ماں کے بطن سے پیدا ہونے والا بچہ جن حالات میں جنم لیتا ہے وہاں حرام حلال کی سرحدیں پھر خلط ملط ہیں اور سورہ مائدہ کی یہ آیت ’‘ اور جس نے بھی ایمان کی بجائے کفر اختیار کیا اس کا وہ عمل برباد ہو گیا اور آخرت میں وہ نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا“ ناول کے اختتام پہ اس منظر نامے کی معنی خیزی میں اضافہ کرتی ہے اور سوال اٹھاتی ہے کہ جانے کتنے گھروں میں حرام حلال، غلط صحیح کا فیصلہ کیے بغیر گھروں میں ایسے بچے پرورش پا رہے ہیں۔
منظر نگاری اور کردار نگاری پہ مزید توجہ دے کر ناول کو مزید خوبصورتی عطا کی جا سکتی تھی مگر یہ کہنا چاہیے کہ فیصل آباد کے لوکیل میں قاسم یعقوب ایک کامیاب و عمدہ ناول لے کر آئے ہیں۔ یہ ناول فیصل آباد کی شان کو بڑھانے کا باعث بنے گا۔


