امریکی صدر ہمارے وزیر اعظم کو فون کیوں نہیں کرتے؟

قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف نے واشنگٹن میں ایک برطانوی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے شکوہ کیا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے پاکستان کو افغان مسئلہ کا اہم ترین فریق ماننے کے باوجود وزیر اعظم عمران خان سے فون پر بات نہیں کی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس حوالے سے جو عذر پیش کئے جاتے ہیں، انہیں لوگ تسلیم نہیں کرتے۔ یہ شکوہ اپنی جگہ اہم ہوسکتا ہے لیکن کسی حکومتی عہدے دار کی باتیں متعلقہ ملک کی حکومت تک پیغام رسانی کے علاوہ اپنے عوام تک ’خبر‘ پہنچانے کا سبب بھی بنتی ہیں۔ اسی لئے پاکستان میں یہ سوال پوچھا جارہا ہے کہ ’آخر امریکی صدر ہمارے وزیر اعظم کو فون کیوں نہیں کرتے‘؟

اصولی طور پر معید یوسف کو میڈیا کے ذریعے امریکی حکومت سے شکوہ کرتے ہوئے پاکستانی عوام کے لئے اس سوال کا جواب بھی فراہم کرنا چاہئے تھا۔ انہوں نے یہ تو کہا ہے کہ امریکہ اگر صدر کی فون کال کو رعایت سمجھتا ہے تو پاکستان کے پاس دوسرے آپشنز بھی ہیں۔ اس سے عام عقل کا آدمی تو یہی سمجھے گا کہ معید یوسف کا مقصد یہ ہے کہ اگر جو بائیڈن فون نہیں کرتے تو کیا ہؤا، عمران خان کو چین یا ترکی کے صدر یا ملائیشیا کے وزیر اعظم فون کرسکتے ہیں۔ سفارت کاری اور بین الملکی تعلقات پر زیادہ گہری نگاہ رکھنے والا یہ قیاس کرے گا کہ معید یوسف ایک ہفتہ سے واشنگٹن میں مقیم ہیں اور اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کے علاوہ کانگرس کےارکان سے بھی ملے ہیں۔ ان کی اپنے امریکی ہم منصب جیک سلیوان سے بھی ملاقات ہوئی ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ وہ امریکی صدر کے فون کی ’درخواست‘ پیش کرنے کے لئے میڈیا کی خدمات حاصل کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

اگر ایسی ہی مجبوری تھی اور امریکی حکومت کو میڈیا کے توسط سے ’دوٹوک‘ پیغام دینا ہی مقصود تھا تو پاکستانی عوام کے لئے بھی اس کی وضاحت سامنے آنی چاہئے تھی کہ آخر کیوں امریکی صدر نے اپنا عہدہ سنبھالنے کے آٹھ ماہ بعد بھی عمران خان سے فون پر بات نہیں کی جبکہ ہمارے ازلی دشمن بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھا جارہا ہے۔ بلکہ جی ۔7 کے اجلاس میں انہیں خصوصی مہمان کے طور پر مدعو کیا گیا تھا اور نریندر مودی نے ان اہم اجلاسوں میں ورچوئیل شرکت بھی کی تھی۔ پاکستانی حکومت کے اظہار ناراضی اور معید یوسف کے انٹرویو کے بعد تو اس معاملہ میں عوام الناس کی دلچسپی مزید بڑھ گئی ہے کہ آخر عمران خان سے ایسا کیا قصور سرزد ہوگیا کہ امریکی صدر ’ناراض ناراض‘ سے ہیں۔ معید یوسف نے اس سوال کا جواب نہ دے کر قیاس آرائیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے اور اہل پاکستان کی حیرت و پریشانی میں اضافہ کیا ہے۔

معید یوسف کی شکایت اور امریکہ کے ساتھ پاکستانی حکومت کی دوری کا اندازہ کرنے کے لئے سب سے پہلے یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی بنیاد اب صرف افغانستان میں امن کے لئے پاکستان کا کردار ہے۔ پاکستان اس کردار سے انکار کرتا ہے جبکہ امریکہ کا کہنا ہے کہ پاکستان اب بھی طالبان کو امن معاہدہ کرنے اور انتقال اقتدار کے فارمولے پر متفق ہونے پر آمادہ کرسکتا ہے۔ سب سے پہلے یہ دیکھنا چاہئے کہ امریکہ کا افغان امن سے کیا مفاد ہے؟ سوائے اس کے کہ ان عناصر کو تحفظ مل سکے جنہوں نے جنگ میں اس کا ساتھ دیا تھا۔ اور عالمی طور پر وہ اس ہزیمت سے بچا رہے کہ امریکہ نے افغانستان میں طویل جنگ کی لیکن اس کے فوجیں نکالتے ہی طالبان دوبارہ اقتدار پر قابض ہوگئے۔ اپنے حجم، متنوع مفادات اور سپر پاور کے طور پر دنیا بھر کے ممالک کے ساتھ تعلقات کے تناظر میں دیکھا جائے تو امریکہ اس ہزیمت کاسامنا بھی کرسکتا ہے اور اپنے افغان معاونین کو طالبان کے قبضہ سے پہلے وہاں سے باہر نکالنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ اس کام کا آغاز کیا بھی جاچکا ہے۔

 اس کے مقابلے میں افغان امن کے حوالے سے پاکستانی مفاد کو تولا جائے تو شاید بات سمجھ آجائے۔ یعنی افغان امن جس پر پاکستان ’تیس مار خان‘ بنتا ہے وہ امریکہ سے زیادہ پاکستان کی ضرورت ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت کو یاد ہوگا کہ صدر ٹرمپ نے 2018 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد پاکستان کے بارے میں کیسا ہتک آمیز طرز بیان اختیار کیا تھا اور پاکستانی لیڈروں کو دھوکے باز قرار دیتے ہوئے پاکستان کو ملنے والی ہمہ قسم امداد بند کردی تھی۔ اس کے باوجود جب پاکستان نے شدید امریکی دباؤ کے بعد طالبان کو امریکہ کے ساتھ مذاکرات اور معاہدہ پر راضی کیا تو اسی ٹرمپ نے عمران خان کو دوہ امریکہ کی دعوت دی ۔ اس دورہ کو یہ کہہ کر مسترد نہیں کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ جب تک پاکستان کے خلاف دیے گئے بیانات واپس نہیں لیتے ، اس وقت تک پاکستانی وزیر اعظم اس دعوت کو قبول نہیں کرسکتے بلکہ عمران خان نے اسے اپنی سفارتی کامیابی کے طور پر پیش کیا۔

اب بھی پاکستان سے ویسی ہی ’خدمت گزاری‘ کا تقاضہ کیا جارہا ہے لیکن پاکستان معذوری ظاہر کرکے خود کو افغان تنازعہ میں ’غیر جانبدار ‘ قرار دینے کی کوشش کررہا ہے۔ دوحہ میں بین الافغان مذاکرات تعطل کا شکار ہیں اور افغانستان میں طالبان بدستور عسکری کامیابیاں حاصل کررہے ہیں۔ پاکستان یہ بیان ضرور دیتا ہے کہ وہ طاقت کے زور پر کابل پر قبضے اور افغانستان میں اقتدار حاصل کرنے کے طریقہ کو قبول نہیں کرے گا۔ قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف نے واشنگٹن کے پاکستانی سفارت خانہ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے اس مؤقف کو دہرایا ہے لیکن عملی طور سے پاکستان یہ انتظار کررہا ہے کہ کب طالبان افغان فورسز کو شکست دے کر اقتدار پر قابض ہوجائیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے واضح طور سے کہا ہے کہ طالبان کو کامیابی دکھائی دے رہی ہے، اس لئے وہ ہماری بات نہیں سنیں گے۔

اس کے برعکس امریکی وزارت خارجہ کا بدستور مؤقف ہے کہ پاکستان امن کے لئے زیادہ متحرک اور مؤثر کردار ادا کرسکتا ہے۔ اس کا اظہار امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن بھی کرچکے ہیں اور وزارت خارجہ کے ترجمان کا بھی یہی کہنا ہے۔ فنانشل ٹائمز کے سوال کے جواب میں ترجمان نیڈ پرائس نے اخبار کو بتایا کہ’ افغان بحران میں معاونت خود پاکستان کے لئے سود مند ہوگی اور اسے اس کا فائدہ ہوگا۔ اس لئے اسے یہ کردار ادا کرتے رہنا چاہئے۔ صرف امریکہ ہی نہیں بلکہ ہمارے بین الاقوامی حلیف اور علاقے کے دیگر ممالک بھی پاکستانی تعاون کے خواہاں ہیں۔ ہم پاکستانی شراکت داروں کے ساتھ مواصلت اور تعاون کا سلسلہ جاری رکھیں گے‘۔ پاکستانی حکمران خود اس سچائی کا اعتراف کرتے ہیں کہ اگر افغانستان میں نئے مسلح تصادم کا آغاز ہوتا ہے تو اس کا سب سے زیادہ اثر پاکستان پر پڑے گا۔ اس کے باوجود اسلام آباد افغان حکومت کے ساتھ تنازعہ بڑھانے اور قیام امن کی کوششوں میں غیر مؤثر رہنے کو ہی اپنے وسیع تر مفاد میں سمجھتا ہے۔ یہ مقاصد امریکی حکومت کے اہداف سے مختلف ہیں۔ پھر امریکی صدر ایسی حکومت کے سربراہ سے کیوں بات کریں گے؟

امریکہ پاکستان کے ساتھ ورکنگ ریلشن شپ کا اعادہ کرتا رہتا ہے۔ حالیہ دنوں میں امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے جنرل قمر جاوید باجوہ اور وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے شاہ محمود قریشی کے ساتھ فون پر رابطہ رکھا ہے۔ خود معید یوسف دو بار اپنے امریکی ہم منصب سے جیک سلیوان سے ملاقات کرچکے ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ پاکستان اس مواصلت کو اس حد تک آگے بڑھانے میں ناکام ہے کہ امریکی صدر، وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ بات کرکے معاملات کو حتمی شکل دینے میں کردار ادا کریں؟ حکومتوں کے سربراہان حال چال پوچھنے یا ہیلو ہائے کےلئے ایک دوسرے کو فون نہیں کرتے۔ بلکہ جب نچلی سطح کے مذاکرات اور رابطوں میں معاملات طے ہوجاتے ہیں تو سربراہان کی بات چیت یا ملاقات میں انہیں حتمی شکل دی جاتی ہے۔ موجودہ صورت حال میں ایک تو پاکستان ابھی تک امریکہ کو کوئی ایسی پیشکش کرنے میں ناکام ہے جس کی بنیاد پر جو بائیڈن ، عمران خان سے بات کرکے اس کی حتمی منظوری کا اظہار کریں۔ دوسرے پاکستان نے امریکہ کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے اپنا سفارتی ہوم ورک مناسب طریقے سے نہیں کیا جس کی وجہ سے امریکی صدر محض خیر سگالی کے اظہار کے لئے پاکستانی وزیر اعظم کو فون کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔ وہ کون سی مشکلات ہیں جن کی وجہ سے دونوں ملکوں کے درمیان خیرسگالی کا یہ تعلق کمزور ہورہا ہے؟ خارجہ پالیسی کی کامیابی اور عالمی سطح پر پاکستانی کاز کو نمایاں کرنے کے دعوے دار شاہ محمود قریشی یا عمران خان اس بنیاد سوال کا جواب دینے پر تیار نہیں ہیں۔

مئی میں امریکی سی آئی اے کے سربراہ ولیم جوزف برنس نے اسلام آباد کا خفیہ دورہ کیا تھا۔ وہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے علاوہ دیگر اعلیٰ حکومتی عہدیداروں سے ملے تھے۔ خیرسگالی کے اظہار کے لئے وزیر اعظم سے ملاقات کا وقت بھی مانگا گیا تھا لیکن عمران خان نے یہ کہتے ہوئے ملنے سے انکار کیا تھا کہ ’سی آئی اے کے سربراہ سے ملنا میرے مرتبے سے کم ہے۔ میں اپنے ہم مرتبہ صدر سے بات کروں گا‘۔ یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ موجودہ حالات میں امریکی صدر، پاکستانی وزیر اعظم کو اسی طرح ’ہم مرتبہ‘ نہ سمجھتا ہو جیسے عمران خان نے سی آئی کے چیف کو نہیں سمجھا تھا۔ یادش بخیر سی آئی اے چیف کے دورہ کے بعد سے ہی پاکستانی حکام نے پاکستان میں امریکہ کو اڈے دینے سے انکار کا تواتر سے اعلان کرنا شروع کیا تھا۔ پاکستانی عوام یا پارلیمنٹ کو کبھی یہ بتانے کی زحمت نہیں کی گئی کہ امریکہ نے اڈوں کی درخواست کیسے اور کب کی تھی۔ حکومت کو جاننا چاہئے کہ اس قسم کی بیان بازی اکثر اوقات بین املکی تعلقات میں غیر ضروری مشکلات پیدا کرنے کا سبب بنتی ہے۔

سوال تو یہ بھی ہے کہ امریکی صدر اگر پاکستانی وزیر اعظم کو فون کریں تو عمران خان کےپاس کہنے یا دینے کو کیاہے۔ سب کچھ تو وہ تقریروں اور انٹرویوز میں کہہ چکے ہیں۔ پھر امریکی صدر اپنا وقت کیوں برباد کرے؟ پاکستانی حکومت اگر موجودہ حالات سے کوئی سبق سیکھنے پر آمادہ نہیں ہوگی تو چند ہفتوں یا ماہ میں حالات اس کے قابو سے باہر بھی ہوسکتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words