تین ماڈرن لڑکیاں اور ایک جیسی کہانیاں
میں آپ کو کچھ لڑکیوں کی کہانیاں سناتی ہوں۔۔۔ واقعات اصلی ہیں نام بدل رہی ہوں۔ میمونہ، ایک کامیاب پڑھی لکھی لڑکی اچھے عہدے پر فائز تھی۔ اس کی دوستی ایک عدد اپنی ہی فیلڈ کے کامیاب انسان کے ساتھ تھی، کہنے کو ایک دوسرے سے محبت تھی۔ مگر وہ لڑکی سانس بھی اس کی مرضی کے بغیر نہیں لیتی تھی۔ لڑکی کو اجازت نہیں تھی کہ وہ خاندان میں ہونے والی دعوتوں یا دوستوں کے ساتھ کہیں باہر جائے۔ اگر کوئی نئی دوست بناتی، تو موصوف ناراض ہو جاتے، اس لئے میمونہ نئی دوست سے معذرت کر لیتی۔ میمونہ کے پاس ورڈ، بنک اکاﺅنٹ کی تفصیلات، موبائل فون کا بیک اپ ہر شے تک اس لڑکے کو دسترس حاصل تھی۔ حتیٰ کہ اگر اسے شک گزر جاتا کہ میمونہ نے فون پر کسی سے پانچ منٹ سے زیادہ بات کی ہے تو وہ ناراض ہو جاتا اور میمونہ دوسروں کے فون سے ویڈیو کال پر اپنے فون کی تلاشی دیتی۔ ہر ایک چیز کا سکرین شارٹ، لائیو لوکیشن، ایک ایک لمحے کی رپورٹ اسے فراہم کی جاتی۔ پھر بھی اس کی تسلی نہیں ہوتی۔ وہ کردار پر سوال اٹھاتا، اسے اس بات کا احساس دلواتا کہ ایسی واجبی شکل و صورت والی لڑکی کے ساتھ وہ صرف محبت کی وجہ سے گزارا کر رہا ہے، اس سے کہیں زیادہ حسین اس کے آگے پیچھے پھرتی ہیں، اس لئے میمونہ کو اس کا شکرگزار ہو نا چاہئے۔ اس کی ناراضی پر میمونہ کی سانس اکھڑنے لگتی، اگر وہ بات نہیں کرتا تو اس کے دوستوں کو کالز کر کر کے معافی تلافی کرتی اور یوں یہ سلسلہ جاری رہتا۔
فریحہ نے نئی نئی یونیورسٹی جوائن کی، گھر سے ڈاکٹر بننے کا خواب لئے لاہور جیسے بڑے شہرمیں آئی تو یہاں کی چکا چوند میں گم ہو کر رہ گئی۔ ارسلان یونیورسٹی کا جانا مانا، جو جونیئر لڑکیوں کی تلاش میں پرانے سمسٹر دہراتا رہتا تھا۔ اسے فریحہ بھا گئی۔ فریحہ کو سنیئر لڑکیوں اور قریبی دوستوں نے سمجھانے کی کوشش کی، وہ لڑکا یوں ہی سب سے فلرٹ کر تا ہے، اس سے باز رہو، لیکن وہ کب ماننے والی تھی۔ شدید محبت کا بھوت سوار تھا۔ فریحہ میرے ساتھ وین میں یونیورسٹی آتی تھی، کورونا کی وجہ سے یونیورسٹیاں بند ہو گئی تھیں۔ کچھ دن پہلے وہ مجھے بس سٹاپ پر ملی، وہ کسی ہسپتال میں ہاﺅس جاب کر رہی ہے۔ میں نے جب ارسلان کے بارے پو چھا تو وہ رونے لگی اور کہنے لگی۔ اس نے مجھے چھوڑ دیا، میں نے دل میں کہا، ہاں یہ تو متوقع تھا۔ خیر وہ کہنے لگی، اس کی دوسری لڑکیوں سے بھی دوستی تھی۔ حتیٰ کہ مجھے کوئی بیس لڑکیوں نے اس کے میسجز دکھائے۔ اس نے کہا وہ گھر پر رشتہ بھیجے گا لیکن جس دن اس کے گھر والوں نے آنا تھا، اس نے فون ہی بند کر دیا۔ میں نے جب ناراضی دکھائی تو اس نے مجھے مارا۔۔۔ میں اس کی کہانی سن رہی تھی لیکن جوں ہی اس نے کہا، اس نے مجھے مارا تو میں چونک گئی۔ وہ اپنی ہی دھن میں بولتی جا رہی تھی، وہ مجھے پہلے بھی مارتا تھا، لیکن اس بار تو ایک ریستوران میں بیٹھے تھے، اس نے مجھے کہا اپنا فون دکھاﺅ، میں نے دے دیا، اس نے میری کزن کا نمبر اپنے موبائل میں سیو کر لیا، میں نے جب اسے روکا تو ا س نے مجھے تھپڑ مارا، بازو سے کھینچا اور دو تھپڑ مزید جڑ دئے۔ میں اٹھ کر ریستوران سے نکلنے لگی تو اس نے دروازے پر بھی مجھے تھپڑ مارا۔ چوکیدار نے آکر مجھے چھڑوایا۔ یہ سن کر میرے تو اوسان خطا ہو گئے، ایسی کیا مجبوری تھی کہ یہ لڑکی محبت کے نام پر کسی گھٹیا انسان سے سر بازار تھپڑ کھا رہی تھی۔ خیر اب وہ کہہ رہی تھی کہ مجھے سبق مل چکا ہے میں نے اس سے قطع تعلق کر لیا ہے۔
کرن، ایک پڑھی لکھی، باوقار اور دیکھنے میں بااعتماد نظر آتی ہے۔ جسے وہ پسند کرتی تھی، اس نے تین سال تعلق رکھنے کے بعد شادی کی حامی نہیں بھری، اتنے مایوسی اور ڈپریشن میں ایک رشتہ آیا جسے اس نے قبول کر لیا۔ گھر والوں کی مرضی سے اس کا رشتہ طے ہو گیا۔ منگنی کے بعد عموماَ لوگ، آپس میں بات کرتے ہیں۔ اس لڑکے نے بھی اس سے ایک دو مہینے اچھے سے بات کی۔ اب اس نے کہنا شروع کر دیا کہ شادی کے بعد ہرگز نوکری نہیں کرنی۔ کرن نے کہا ٹھیک ہے۔ وہ اکثر ناراض ہی رہتا ہے، یہ اسے آن لائن پھول بھجواتی ہے، تو کبھی تحائف۔ لڑکے کی جانب سے عجیب قسم کی شکایات کا سلسلہ اس کی طرف سے شروع ہو چکا ہے۔ کرن کے سر پر تلوارلٹکتی رہتی ہے کہیں وہ رشتہ ختم نہ کر دے، اس لئے وہ ہر الٹی سیدھی شرط پر ہاں کہتی رہتی ہے۔ دیکھنے کی بات یہ ہے کہ، یہ سلسلہ کب تک چلتا ہے۔
ان تینوں کہانیوں میں کیا مماثلت ہے؟
خدا جانتا ہے، ان تینوں کہانیوں میں ہر گز مبالغہ آرائی سے کام نہیں لیا گیا، لیکن اگر ان تینوں کہانیوں کو پڑھیں تو ان خواتین میں جو مماثلت نظر آتی ہیں
شادی نہ ہونے کا خوف انہیں اس بات پر مجبور کر رہا تھا کہ وہ ایسے زہریلے انسان کی ہر زیادتی کوبرداشت کر رہی تھیں۔ ہمارے ہاں اگر کوئی انسان اپنی ذات میں تنہا اور خوش رہنا بھی چاہے تو اس پر معاشرے کی جانب سے اتنا دباﺅ ڈالا جا تا ہے کہ پھر شادی ایک مقصد بن جاتا ہے اور اس مقصد کے حصول کیلئے پھر چاہے ایسے رشتے قبول کرنے پڑتے ہیں۔
ان مردوں نے انہیں اس بات کا احساس دلوایا دیا تھا کہ وہ بہت ہی کم تر ہیں، وہ لوگ اگر انہیں اہمیت دے رہے ہیں تو انہیں ان کا شکرگزار ہو کر رہنا چاہئے۔
تشدد جسمانی ہو یا جذباتی، تینوں ہی اس تشدد کا اپنی مرضی سے شکار ہو رہی تھیں۔
تینوں جذباتی ہیجان کا شکار تھیں، وہ جذباتی طور پر ان لڑکوں پر ضرور ت سے زیادہ انحصار کر رہی تھیں۔ کہ ان کی ذات کے منفی پہلوﺅں کو پہچان نہیں پا رہی تھیں یا پھر جان کر نظر انداز کر رہی تھیں۔
عین ممکن ہے آپ کو یہ پڑ ھ کر لگ رہا ہو، میں آپ کو تنگ دلی کا مشورہ دے رہی ہوں، یہ تنگ دلی نہیں ہے، اپنی ذات میں مگن رہنا سیکھئے، اپنی زندگی سے محظوظ ہونا سیکھئے اور اس کیلئے آپ کو کسی زہریلے سہارے کی ضرورت ہرگز ہرگز نہیں ہونی چاہئے۔ اپنے وقار اور عزت کی حفاظت آپ کی اولین ترجیح ہونی چاہئے۔


