جب مذہب نے سائنس سے معافی مانگی

جب ہم تاریخ کی کتابوں میں مذہب اور سائنس کی رقابت کی کہانی کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمارا تعارف ایک نہایت تاریک باب سے ہوتا ہے۔ اس باب کا تعلق سائنسدان گلیلیو کی زندگی سے ہے۔ گیلیلیو نے جب اپنی سائنسی تحقیقات کے نتائج عوام کے سامنے پیش کیے تو کیتھولک چرچ میں ایسا زلزلہ آیا کہ اس دور کے پوپ نے گیلیلیو پر کفر کا فتویٰ لگایا اور انہیں اتنی سخت سزا دی کہ پہلے ان کی کتابیں ضبط کیں اور پھر بقیہ عمر کے لیے انہیں اپنے ہی گھر میں قید کر دیا گیا۔

گیلیلیو کے دور سے پہلے یونانی فلسفیوں اور خاص طور پر دوسری صدی عیسوی کے فلسفی کلوڈیس پٹولومی ( 100۔ 170 AD) کا یہ موقف تھا کہ زمین کائنات کا مرکز ہے اور سورج اور ستارے زمین کے گرد گھومتے ہیں۔ یہ نظریہ اتنا مقبول ہوا کہ عیسائی مذہب نے اس نظریے کو قبول کر کے عیسائی عقیدے کا حصہ بنا دیا۔ پادریوں نے انجیل کی آیات کی ایسی تشریح کی کہ اس نظریے کو تقویت اور تقدس مل گیا۔

پٹولومی کے نظریے کی مقبولیت کے چودہ سو برس بعد ایک سائنسدان نیکولس کوپرنیکس ( 1473۔ 1543 AD) نے اس نظریے کو چیلنج کیا اور اپنے علم افلاکیات کی تحقیق کی بنیاد پر یہ نظریہ پیش کیا کہ سورج مرکز میں ہے اور زمین سورج کے گرد گھومتی ہے۔ کوپرنیکس نے اپنا نظریہ چند دوستوں تک محدود رکھا۔ انہیں خطرہ تھا کہ اگر یہ نظریہ عوام تک پہنچا تو اس دور کے پادری ان کا دائرہ حیات تنگ کر دیں گے۔

جب گیلیلیو ( 1564۔ 1642 AD) نے اپنی دوربین سے اپنے ارد گرد پھیلی کائنات کا مطالعہ اور تجزیہ کیا تو وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ کوپرنیکس کا نظریہ درست ہے۔ انہوں نے اپنے مشاہدے اور تجزیے سے ثابت کیا کہ سورج زمین کے گرد نہیں بلکہ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے۔

جب گیلیلیو کے خیالات و نظریات گرجوں کے اصحاب بست و کشاد تک پہنچے تو گرجوں میں طوفان آ گیا۔ جب گیلیلیو کی سائنسی تحقیقات پر مذہبی اعتراضات کیے گئے تو گیلیلیو نے دسمبر 1613 میں پادری کیسٹیلی کو خط لکھا اور کہا کہ انجیل اخلاقیات کی کتاب ہے سائنس کی کتاب نہیں۔

1615 میں پادری نیکولو لورینی نے گیلیلیو کے خلاف ویٹیکن میں شکایت کی کہ گیلیلیو کے نظریات عیسائیت کی تعلیمات کے خلاف ہیں۔ فروری 1616 میں پوپ نے گیلیلیو کو تنبیہ کی کہ وہ سائنسی تحقیق سے کنارہ کشی اختیار کر لے۔

گیلیلیو نے اپنی تحقیق جاری رکھی اور 1632 میں اپنی کتاب
DIALOGUE CONCERNING THE TWO CHIEF WORLD SYSTEMS

چھپوائی۔ اس کتاب سے مذہبی حلقوں میں زلزلہ آ گیا۔ چنانچہ فروری 1633 میں پادری ونسنزو میکولانی نے گیلیلیو کو مذہبی عدالت میں بلایا اور ان پر کفر کا فتویٰ لگایا کہ انہوں نے اپنی تحقیق سے خدا کے کلام کو غلط ثابت کیا ہے جو گناہ صغیرہ نہیں گناہ کبیرہ ہے جس کی سخت سزا ہے۔ گیلیلیو پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ اپنا نظریہ واپس لے لیں اور گرجے سے معافی مانگیں۔

گیلیلو نے اپنی جان بچانے کے لیے اپنے الفاظ واپس لے لیے لیکن جب وہ گرجے سے باہر جا رہے تھے تو وہ بڑبڑا رہے تھے

میرے کہنے سے فطرت کے قوانین تو نہیں بدل جائیں گے۔
زمین سورج کے گرد گھومتی رہے گی۔

گیلیلیو جانتے تھے کہ انہوں نے کائنات کا جو سچ دریافت کیا ہے اس کی روشنی جلد یا بدیر دنیا کے چاروں کونوں میں پھیل جائے گی۔

؎ راز کہاں تک راز رہے گا منظر عام پر آئے گا
جی کا داغ اجاگر ہو کر سورج کو شرمائے گا

جس طرح سقراط نے اپنے سچ کی خاطر زہر کا پیالہ پی لیا تھا اسی طرح گیلیلیو نے بھی اپنے سچ کی خاطر باقی عمر اپنے گھر میں قید ہو کر گزاری۔

گیلیلیو کا انتقال آٹھ جنوری 1642 میں ہوا جب ان کی عمر ستتر برس کی تھی۔

گیلیلیو نے اپنے مشاہدات اور تجربات میں سائنس اور علم افلاقیات کی ایسی مضبوط بنیاد رکھی کہ اس پر آنے والی نسلوں کے سائنسدانوں نے ’جن میں آئزک نیوٹن‘ البرٹ آئن سٹائن اور سٹیون ہاکنگ بھی شامل ہیں ’بلند و بالا عمارتیں تعمیر کیں۔

گیلیلیو کی دوربین چھوٹی تھی۔ بیسویں صدی میں ایک بہت ہی بڑی دوربین تعمیر کی گئی۔ جب ماہر افلاکیات ایڈون ہوبل ( 1889۔ 1953 AD) نے اس دوربین سے اپنے ماحول کا مشاہدہ کیا تو اس نے جانا کہ ہم سب یک کائناتی UNI-VERSE کی بجائے کثیرالکائناتی MULTI-VERSE دنیا میں زندگی گزار رہے ہیں۔ 1924 میں ہوبل نے ہمیں یہ بھی بتایا کہ وہ فلکی چیزیں جو نیبولا کہلاتی تھیں دراصل دیگر کائناتیں ہیں جو ہماری کائنات سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔ سائنسدان ہوبل نے یہ راز بھی جانا کہ ہماری کائنات پھیل رہی ہے۔ ایک پھیلتی ہوئی کائنات کا تصور نیا تھا۔ سائنسدانوں نے کائنات کے پھیلنے کی رفتار سے یہ جانا کہ ہماری کائنات کی عمر 13.7 ارب برس ہے۔

گیلیلیو کی سائنسی عظمت کا جب ساری دنیا نے اعتراف کر لیا تو عیسائی گرجے کو ندامت ہوئی۔ آخر کفر کا فتویٰ دینے کے تین صدیوں کے بعد عیسائی پادریوں کو احساس ہوا کہ انہوں نے گیلیلیو کے ساتھ زیادتی کی ہے چنانچہ نو مئی 1983 کو مذہب نے سائنس سے اور عیسائی پوپ نے گیلیلو سے یہ کہہ کر معافی مانگی۔

’کیتھولک چرچ نے سائنسدان گیلیلیو سے نا انصافی کی۔ کیتھولک روایت نے وقت کے ساتھ ساتھ یہ سیکھا ہے کہ ہمیں سائنس کی روایت کا احترام کرنا چاہیے‘ ۔

اکیسویں صدی میں بسنے والے نجانے کتنے لوگ سائنسی تحقیقات کا ’جنہوں نے ہماری زندگی ریڈیو‘ ٹی وی اور سیل فون ’کار‘ کشتی اور ہوائی جہاز سے آسودہ اور خوشحال بنا دی ہے ’دل کی گہرائیوں سے اعتراف نہیں کرتے۔

بیسویں صدی میں مذہب نے سائنس سے اور عیسائی پوپ نے سائنسدان گیلیلیو سے معافی مانگ لی لیکن بدقسمتی سے اکیسویں صدی میں ابھی بھی بہت سے پادری اور پنڈت ’مولوی اور ریبائی ایسے ہیں جو اپنی غلطی جاننے کے باوجود معافی نہیں مانگتے کیونکہ ان کی انا آڑے آتی ہے۔

میرا خیال ہے کہ اب وہ وقت آ گیا ہے کہ تمام آسمانی مذاہب کے رہنما اور پیروکار اس سچ کا اعتراف کر لیں کہ زمینی سائنس نے انسانی ارتقا میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words