جب مذہب نے سائنس سے معافی مانگی
جب ہم تاریخ کی کتابوں میں مذہب اور سائنس کی رقابت کی کہانی کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمارا تعارف ایک نہایت تاریک باب سے ہوتا ہے۔ اس باب کا تعلق سائنسدان گلیلیو کی زندگی سے ہے۔ گیلیلیو نے جب اپنی سائنسی تحقیقات کے نتائج عوام کے سامنے پیش کیے تو کیتھولک چرچ میں ایسا زلزلہ آیا کہ اس دور کے پوپ نے گیلیلیو پر کفر کا فتویٰ لگایا اور انہیں اتنی سخت سزا دی کہ پہلے ان کی کتابیں ضبط کیں اور پھر بقیہ عمر کے لیے انہیں اپنے ہی گھر میں قید کر دیا گیا۔
گیلیلیو کے دور سے پہلے یونانی فلسفیوں اور خاص طور پر دوسری صدی عیسوی کے فلسفی کلوڈیس پٹولومی ( 100۔ 170 AD) کا یہ موقف تھا کہ زمین کائنات کا مرکز ہے اور سورج اور ستارے زمین کے گرد گھومتے ہیں۔ یہ نظریہ اتنا مقبول ہوا کہ عیسائی مذہب نے اس نظریے کو قبول کر کے عیسائی عقیدے کا حصہ بنا دیا۔ پادریوں نے انجیل کی آیات کی ایسی تشریح کی کہ اس نظریے کو تقویت اور تقدس مل گیا۔
پٹولومی کے نظریے کی مقبولیت کے چودہ سو برس بعد ایک سائنسدان نیکولس کوپرنیکس ( 1473۔ 1543 AD) نے اس نظریے کو چیلنج کیا اور اپنے علم افلاکیات کی تحقیق کی بنیاد پر یہ نظریہ پیش کیا کہ سورج مرکز میں ہے اور زمین سورج کے گرد گھومتی ہے۔ کوپرنیکس نے اپنا نظریہ چند دوستوں تک محدود رکھا۔ انہیں خطرہ تھا کہ اگر یہ نظریہ عوام تک پہنچا تو اس دور کے پادری ان کا دائرہ حیات تنگ کر دیں گے۔
جب گیلیلیو ( 1564۔ 1642 AD) نے اپنی دوربین سے اپنے ارد گرد پھیلی کائنات کا مطالعہ اور تجزیہ کیا تو وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ کوپرنیکس کا نظریہ درست ہے۔ انہوں نے اپنے مشاہدے اور تجزیے سے ثابت کیا کہ سورج زمین کے گرد نہیں بلکہ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے۔
جب گیلیلیو کے خیالات و نظریات گرجوں کے اصحاب بست و کشاد تک پہنچے تو گرجوں میں طوفان آ گیا۔ جب گیلیلیو کی سائنسی تحقیقات پر مذہبی اعتراضات کیے گئے تو گیلیلیو نے دسمبر 1613 میں پادری کیسٹیلی کو خط لکھا اور کہا کہ انجیل اخلاقیات کی کتاب ہے سائنس کی کتاب نہیں۔
1615 میں پادری نیکولو لورینی نے گیلیلیو کے خلاف ویٹیکن میں شکایت کی کہ گیلیلیو کے نظریات عیسائیت کی تعلیمات کے خلاف ہیں۔ فروری 1616 میں پوپ نے گیلیلیو کو تنبیہ کی کہ وہ سائنسی تحقیق سے کنارہ کشی اختیار کر لے۔
گیلیلیو نے اپنی تحقیق جاری رکھی اور 1632 میں اپنی کتاب
DIALOGUE CONCERNING THE TWO CHIEF WORLD SYSTEMS
چھپوائی۔ اس کتاب سے مذہبی حلقوں میں زلزلہ آ گیا۔ چنانچہ فروری 1633 میں پادری ونسنزو میکولانی نے گیلیلیو کو مذہبی عدالت میں بلایا اور ان پر کفر کا فتویٰ لگایا کہ انہوں نے اپنی تحقیق سے خدا کے کلام کو غلط ثابت کیا ہے جو گناہ صغیرہ نہیں گناہ کبیرہ ہے جس کی سخت سزا ہے۔ گیلیلیو پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ اپنا نظریہ واپس لے لیں اور گرجے سے معافی مانگیں۔
گیلیلو نے اپنی جان بچانے کے لیے اپنے الفاظ واپس لے لیے لیکن جب وہ گرجے سے باہر جا رہے تھے تو وہ بڑبڑا رہے تھے
میرے کہنے سے فطرت کے قوانین تو نہیں بدل جائیں گے۔
زمین سورج کے گرد گھومتی رہے گی۔
گیلیلیو جانتے تھے کہ انہوں نے کائنات کا جو سچ دریافت کیا ہے اس کی روشنی جلد یا بدیر دنیا کے چاروں کونوں میں پھیل جائے گی۔
؎ راز کہاں تک راز رہے گا منظر عام پر آئے گا
جی کا داغ اجاگر ہو کر سورج کو شرمائے گا
جس طرح سقراط نے اپنے سچ کی خاطر زہر کا پیالہ پی لیا تھا اسی طرح گیلیلیو نے بھی اپنے سچ کی خاطر باقی عمر اپنے گھر میں قید ہو کر گزاری۔
گیلیلیو کا انتقال آٹھ جنوری 1642 میں ہوا جب ان کی عمر ستتر برس کی تھی۔
گیلیلیو نے اپنے مشاہدات اور تجربات میں سائنس اور علم افلاقیات کی ایسی مضبوط بنیاد رکھی کہ اس پر آنے والی نسلوں کے سائنسدانوں نے ’جن میں آئزک نیوٹن‘ البرٹ آئن سٹائن اور سٹیون ہاکنگ بھی شامل ہیں ’بلند و بالا عمارتیں تعمیر کیں۔
گیلیلیو کی دوربین چھوٹی تھی۔ بیسویں صدی میں ایک بہت ہی بڑی دوربین تعمیر کی گئی۔ جب ماہر افلاکیات ایڈون ہوبل ( 1889۔ 1953 AD) نے اس دوربین سے اپنے ماحول کا مشاہدہ کیا تو اس نے جانا کہ ہم سب یک کائناتی UNI-VERSE کی بجائے کثیرالکائناتی MULTI-VERSE دنیا میں زندگی گزار رہے ہیں۔ 1924 میں ہوبل نے ہمیں یہ بھی بتایا کہ وہ فلکی چیزیں جو نیبولا کہلاتی تھیں دراصل دیگر کائناتیں ہیں جو ہماری کائنات سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔ سائنسدان ہوبل نے یہ راز بھی جانا کہ ہماری کائنات پھیل رہی ہے۔ ایک پھیلتی ہوئی کائنات کا تصور نیا تھا۔ سائنسدانوں نے کائنات کے پھیلنے کی رفتار سے یہ جانا کہ ہماری کائنات کی عمر 13.7 ارب برس ہے۔
گیلیلیو کی سائنسی عظمت کا جب ساری دنیا نے اعتراف کر لیا تو عیسائی گرجے کو ندامت ہوئی۔ آخر کفر کا فتویٰ دینے کے تین صدیوں کے بعد عیسائی پادریوں کو احساس ہوا کہ انہوں نے گیلیلیو کے ساتھ زیادتی کی ہے چنانچہ نو مئی 1983 کو مذہب نے سائنس سے اور عیسائی پوپ نے گیلیلو سے یہ کہہ کر معافی مانگی۔
’کیتھولک چرچ نے سائنسدان گیلیلیو سے نا انصافی کی۔ کیتھولک روایت نے وقت کے ساتھ ساتھ یہ سیکھا ہے کہ ہمیں سائنس کی روایت کا احترام کرنا چاہیے‘ ۔
اکیسویں صدی میں بسنے والے نجانے کتنے لوگ سائنسی تحقیقات کا ’جنہوں نے ہماری زندگی ریڈیو‘ ٹی وی اور سیل فون ’کار‘ کشتی اور ہوائی جہاز سے آسودہ اور خوشحال بنا دی ہے ’دل کی گہرائیوں سے اعتراف نہیں کرتے۔
بیسویں صدی میں مذہب نے سائنس سے اور عیسائی پوپ نے سائنسدان گیلیلیو سے معافی مانگ لی لیکن بدقسمتی سے اکیسویں صدی میں ابھی بھی بہت سے پادری اور پنڈت ’مولوی اور ریبائی ایسے ہیں جو اپنی غلطی جاننے کے باوجود معافی نہیں مانگتے کیونکہ ان کی انا آڑے آتی ہے۔
میرا خیال ہے کہ اب وہ وقت آ گیا ہے کہ تمام آسمانی مذاہب کے رہنما اور پیروکار اس سچ کا اعتراف کر لیں کہ زمینی سائنس نے انسانی ارتقا میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔



ہم سب
EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek
ہیڈ لائن
زمین حرکت نہیں کرتی: ممتاز عالمِ دین عمران عطاری کا انکشاف
01/06/2020 نیوز ڈیسک n/b Views health, media
دعوتِ اسلامی سے تعلق رکھنے والے عالمِ دین علامہ عمران عطاری نے ایک ٹیلی ویژن پروگرام میں دعویٰ کیا ہے کہ زمین ساکن ہے اور سورج اور چاند اپنے اپنے مدار میں گھوم رہے ہیں جس کی وجہ سے دن اور رات بدلتے ہیں۔
مدنی چینل پر بچوں کے پروگرام میں ایک بچے نے جب یہ کہا کہ زمین کے مخصوص حصوں کے سورج سے دور ہو جانے کی وجہ سے موسم سرد ہو جاتا ہے اور جن حصوں سے پر سورج کی شعائیں براہِ راست اور قریب سے پڑتی ہیں وہاں گرمی زیادہ ہوتی ہے تو اس پر مولانا عمران عطاری نے ہنس کر جواب دیا کہ زمین تو ساکن ہے۔
انہوں نے اپنی بات کی مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ زمین ساکن ہے، اور سائنس کی یہ تھیوری غلط ہے کہ زمین گھوم رہی ہے۔ اس پر جب بچوں نے سوال کیا کہ مولانا اگر زمین ساکن ہے تو پھر دن اور رات کیسے ہوتے ہیں، تو انہوں نے جواب دیا کہ سورج گھوم رہا ہے۔ اگر آپ نے اس کو دیکھا ہو تو سورج گول ہوتا ہے۔ وہ گول ہوتا ہے۔ چاند اور سورج سب اپنے اپنے مدار میں گھوم رہے ہیں۔ تاہم مولانا نے زمین چپٹی ہونے کے بارے میں کھل کر بات کرنے سے گریز کرتے ہوئے یہ کہہ کر بات آگے بڑھا دی کہ ہمارا آج کا موضوع سائنس نہیں ہے
یاد رہے کہ چند برس قبل سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے ایک عالمِ دین نے بھی کہا تھا کہ اگر زمین گھوم رہی ہوتی تو ہمیں جہاز چلانے کی ضرورت ہی نہ پڑتی بلکہ جہاز فضا میں کھڑا رہتا اور زمین خود ہی گھوم کر اسے اس جگہ پہنچا دیتی جہاں اس نے جانا ہوتا۔ مشہور عالمِ دین ڈاکٹر ذاکر نائیک بھی ارتقا کا انکار کر چکے ہیں۔ مدرسہ بنوری ٹاؤن کے ممتاز عالم دین مفتی نعیم نے حال ہی میں کہا ہے کہ سائنس کا اعتبار نہیں کیا جا سکتا کیونکہ موسم کے بارے میں پیش گوئیاں اکثر غلط ثابت ہوتی ہیں۔
علامہ عمران عطاری کی متعلقہ وڈیو دیکھنے کے لئے ذیل کے لنک پر کلک کیجئے
About Latest Posts
نیوز ڈیسک
Share this:
Save
Email
Share
WhatsApp
Comments – User is solely responsible for his/her words
Like this:
Loading…
نیوز ڈیسک کی دیگر تحریریں
عون چودھری کی جرات کو سلام پیش کرتے ہیں: ترین گروپ
عون چوہدری کا استعفیٰ: جہانگیر ترین نے مری میں اجلاس طلب کر لیا
ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کے مستعفی ہونے کا بھی امکان
وزیر اعلیٰ پنجاب کے معاون خصوصی عون چوہدری عہدے سے مستعفی
← لاہور میں کرونا کے مریضوں کی تعداد 6 لاکھ 70 ہزار ہونے کا اندازہ: محکمہ صحتڈینیئل پرل کیسہ: سپریم کورٹ کا سندھ حکومت کو تمام عدالتی ریکارڈ پیش کرنے کی ہدایت →Share This Post:0
جواب دیں
آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے
تبصرہ
نام *
ای میل *
ویب سائٹ
Notify me of follow-up comments by email.
Notify me of new posts by email.
اداریہ
افغان مسئلہ: پاکستان اپنی اہمیت کھو رہا ہے
سید مجاہد علی
Loading…
’ہم سب‘ میں کیسے لکھا جائے؟
کالم
زندگی کا ٹوٹا ہوا پل (خط # 11)
مقدس مجید
پاک بھارت تعلق کی گانٹھ: جے رام اور اللہ اکبر
امتیاز عالم
می لارڈ! یہ بچی چڑیل ہے
ابو نائل
ظاہر جعفر کے پاس کونسی گیدڑ سنگھی تھی؟
ڈاکٹر طاہرہ کاظمی
مرے ہوئے کتے کا کاروبار اور ہمارے دشمن
شازار جیلانی
افغان مسئلہ: پاکستان اپنی اہمیت کھو رہا ہے
سید مجاہد علی
ڈک ڈک ڈک ڈھن ڈھنا ڈن ۔۔۔
وسعت اللہ خان
”نکتہ چیں ہے، غم دل اس کو سنائے نہ بنے“ – مکمل کالم
یاسر پیرزادہ
جب مذہب نے سائنس سے معافی مانگی
ڈاکٹر خالد سہیل
مدینہ سے چین تک
سجاد حسین بلوچ
ایک اور گم گشتہ کتاب!
آمنہ مفتی
نہ نواز شریف واپس آئیں گے اور نہ ہی حکومت انہیں برداشت کر سکتی ہے
سید مجاہد علی
کیا ڈپریشن کا علاج مذہب سے ممکن ہے؟
ڈاکٹر لبنیٰ مرزا
تین بار کے وزیرِ اعظم سے ہماری کچھ توقعات ہیں!
فیصل مسعود
نواز شریف کا ویزا اور اہل دربار کا جشن مسرت!
عرفان صدیقی
ہائے رے یہ ریاکاری!
وسعت اللہ خان
گولڈن گرلز: انہیں پسند نہیں ہے
گولڈن گرلز – رابعہ الربا اور تحریم عظیم
تنویر جہاں کا لان اور نارسائی کا اندھیرا
وجاہت مسعود
”بائیڈن میں تمھیں نہیں چھوڑوں گا“ ہم کسی ناراض پھپھی سے کم تو نہیں
عالیہ شاہ
بیانیے اور نواز شریف کی سیاست
نجم سیٹھی
سانحہ بھونگ اور جہالت کا جن
غضنفر عباس سہو ایڈوکیٹ
افغانستان میں طالبان کی پیش قدمی، پاکستان کے لئے خطرے کی گھنٹی
رضا زیدی
عمران خان کا حسنِ انتخاب: وزیراعظم آزاد کشمیر
نصرت جاوید
آزاد کشمیر کے انتخابات سے پھوٹنے والے شگوفے
الطاف حسن قریشی
Loading…
بلاگ
وہ اولمپینز جنہوں نے ‘ناممکن’ کو ممکن کر دکھایا
وائس آف امریکہ
انجینئر علی مرزا اور مفتی مسعود احمد آمنے سامنے
عبدالستار (میاں چنوں)
سامراجی وبائیں
غلام مصطفیٰ مبشر
ایک خاتون کو وزارت عظمیٰ کی نشست دلانے والی قوم
سکار جاکھرو
بلوچستان: ایسا دیس ہے میرا
طاہر حسنی
انیتا غلام علی کی سالگرہ کے حوالے سے ایک تحریر
گوہر تاج مشی گن (امریکہ)
اسلم بیگ نامہ
بشیر اعوان، ایبٹ آباد
اشرافیہ کا کمال ملک بدحال
محمد ساجد خان
وزیر اعلیٰ پنجاب کی موجودگی میں ہونے والا قتل
ملک محمد سلمان
منکر نکیر۔ ایک باغی کی ڈائری
مہناز رحمان
ہم سب کا پاکستان
راحت شنواری
لاہور لاہور ہے
ڈاکٹر محمد کلیم
جب ”بابا“ کے ہاتھوں ”بے بی“ کی حکومت برطرف ہوئی
نعیم احمد ناز
ہماری برداشت ختم ہو گئی ہے، یا ہم میں بہت برداشت آگئی ہے
قیصر نقی امام
میاں کلچر کی نئی علمبردار: صدف کنول
احسن بودلہ
لفظ ”لبرل“، لغات اور پاکستان: چند آراء
رشی خان، جرمنی
ردی (افسانہ)۔
عفت نوید
غیر حاضر دماغ
علی ارشد رانا
میں اور وہ لڑکی
وسیم جبران
تعلیم کی چھٹی اور دوسری طرف سنگل نصاب میں ہندو مسلم نفرت
پرتاب شوانی
بھکاریوں کی طرف سے جنرل (ر) اعجاز اعوان صاحب کے نام
صدام سگو
کراچی کی حساسیت
قادر خان یوسفزئی
کیا کراچی سیاسی لاوارث ہے؟
تنویر عارف
دیانت داری کی کمائی اور لوٹی ہوئی دولت
ڈاکٹر مجاہد مرزا
Loading…
کتابیں
منکر نکیر۔ ایک باغی کی ڈائری
مہناز رحمان
خاکہ زنی : اک ضرب ظریفانہ
ناصر محمود ملک
قاسم یعقوب کے ناول ’‘ خلط ملط ”کا ایک جائزہ
سیمیں کرن
Loading…
آڈیو ویڈیو کالم
سید عمران شفقت کی "بخریت” واپسی
سید عمران شفقت کی "بخریت” واپسی
سید عمران شفقت
سید عمران شفقت کی واپسی
سید عمران شفقت کی واپسی
سید عمران شفقت
عاصم باجوہ کی رخصتی اور نواز شریف بنام شہباز شریف
عاصم باجوہ کی رخصتی اور نواز شریف بنام شہباز شریف
عبدالقیوم صدیقی
عاصم سلیم باجوہ سی پیک سے فارغ اور ن لیگ میں مریم نواز تنہا؟
عاصم سلیم باجوہ سی پیک سے فارغ اور ن لیگ میں مریم نواز تنہا؟
رضا رومی
منتخب تحریریں
ظاہر جعفر کے پاس کونسی گیدڑ سنگھی تھی؟
ڈاکٹر طاہرہ کاظمی
نہ نواز شریف واپس آئیں گے اور نہ ہی حکومت انہیں برداشت کر سکتی ہے
سید مجاہد علی
کیا ڈپریشن کا علاج مذہب سے ممکن ہے؟
ڈاکٹر لبنیٰ مرزا
نواز شریف کا ویزا اور اہل دربار کا جشن مسرت!
عرفان صدیقی
ہائے رے یہ ریاکاری!
وسعت اللہ خان
ظاہر جعفر کو سر درد کیوں ہوتا ہے؟
نیلم احمد بشیر
اوریا مقبول جان اور ملا عمر صاحب کا قد
ابو نائل
بائیڈن کے فون کا انتظار کیوں؟
نصرت جاوید
طالبان، نہ ہم بدلے نہ تم بدلے
محمد حنیف
تیسرے جولاہے نے عقل لڑا کر سسرال میں عزت بچائی
عدنان خان کاکڑ
فینا رینے وسکایا کون تھیں؟
وجاہت مسعود
نور مقدم قتل کیس : یک رخا پن کیوں؟
ڈاکٹر لبنیٰ ظہیر
Loading…
فیچرز
خوبصورت ناروے
خوبصورت ناروے
نادرہ مہرنواز
سندھ کے نقاش اور 4 مارچ واقعے کے اہم کردار قاضی خضر حیات کا تعزیت نامہ
سندھ کے نقاش اور 4 مارچ واقعے کے اہم کردار قاضی خضر حیات کا تعزیت نامہ
یاسر قاضی
مقبول ترین
ظاہر جعفر کے پاس کونسی گیدڑ سنگھی تھی؟ظاہر جعفر کے پاس کونسی گیدڑ سنگھی تھی؟
نواز شریف کا ویزا اور اہل دربار کا جشن مسرت!نواز شریف کا ویزا اور اہل دربار کا جشن مسرت!
نہ نواز شریف واپس آئیں گے اور نہ ہی حکومت انہیں برداشت کر سکتی ہےنہ نواز شریف واپس آئیں گے اور نہ ہی حکومت انہیں برداشت کر سکتی ہے
جب مذہب نے سائنس سے معافی مانگیجب مذہب نے سائنس سے معافی مانگی
ڈک ڈک ڈک ڈھن ڈھنا ڈن ۔۔۔ڈک ڈک ڈک ڈھن ڈھنا ڈن ۔۔۔
کیا ڈپریشن کا علاج مذہب سے ممکن ہے؟کیا ڈپریشن کا علاج مذہب سے ممکن ہے؟
ہائے رے یہ ریاکاری!ہائے رے یہ ریاکاری!
”نکتہ چیں ہے، غم دل اس کو سنائے نہ بنے“ – مکمل کالم”نکتہ چیں ہے، غم دل اس کو سنائے نہ بنے“ – مکمل کالم
بھکاریوں کی طرف سے جنرل (ر) اعجاز اعوان صاحب کے نامبھکاریوں کی طرف سے جنرل (ر) اعجاز اعوان صاحب کے نام
می لارڈ! یہ بچی چڑیل ہےمی لارڈ! یہ بچی چڑیل ہے
The native language of the website is Urdu. Other languages are automatic machine translations, which might not be 100% accurate. However they do convey the gist of the argument.
Contact Us via Email: wm@humsub.com.pk
’ہم سب‘ میں کیسے لکھا جائے؟
ادارتی نوٹ: پوسٹ میں شائع کی گئی رائے مصنف کی ہے اور ادارے کا مصنف کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کاپی رائٹ ‘ہم سب’ ڈاٹ کام. بلا اجازت آرٹیکل نقل کر کے شائع کرنا کاپی رائٹ قوانین کے تحت ایک جرم ہے
اس بات میں ذرا برابر بھی شک نہیں کہ انسان روز بروز نئی سے نئی تحقیقات سے دنیا کو فیض یاب کر رہا ہے اور عقل کو حیران کرنے والے مظاہر فطرت کے رازوں سے پردہ اٹھا رہا ہے، مگر اس کا یہ مطلب کبھی بھی کسی دانا نے نہی لیا کہ وہ (انسان) ان تمام خیرہ کن مظاہر فطرت کا خالق creator ہے اس کا کبھی یہ دعویٰ نہ تھا اور نا ہی ہے کہ وہ معلوم کائنات کا مبدع originator ہے۔
زیادہ سے زیادہ جو اس کا دعویٰ اور حثیت ہے وہ صرف اتنی سی ہے کہ یہ انسان (جو کہ خود فطرت کا ایک شاہ کار ہے) اس فطرت کے چند رازوں کا شاہد ہے اور انہیں اپنے استعمال میں لانے کے لیے ان سے بھرپور استفادہ کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہا ہے۔ اور بس۔
ابھی تک انسان اس کائنات میں موجود مواد substance سے اضافی ایک زرہ بھی اضافی پیدا نہیں کر پایا زیادہ سے زیادہ وہ چند چیزوں سے ایک محدود حد تک واقف ہوا ہے، گلیلیو ہو یا نیوٹن، آئن سٹائن ہو یا سٹیفن ہاکنگ۔
سب پہلے سے موجود مظاہر فطرت کو ہی کھوجنے اور سمجھنے میں زندگیاں کھپا گئے۔
چچ”جب مذھب نے سائنس سے معافی مانگی”
مضمون کا اس طرح کا بیہودہ ٹائٹل رکھنے کے بجائے کوئی بھی دوسرا نام رکھا جا سکتا تھا، مگر مضمون نگار محترم کو اپنے مضمون کی ممکنہ تشہیر سے ہٹ کر کوئی دوسری بات سجھائی ہی نہیں دی، کیا کہ سکتے ہیں۔
عیسائیت کا اس وقت کے لحاظ سے گلیلیو کو سزا سنانا در حقیقت اس بات کا غماز تھا کہ اس وقت کی عیسائی مذہبی سوچ محدودیت سے متاثر تھی،
لیکن مذہب بطور مذہب اس وقت سے بلکہ جب سے روئے زمین پر دین موجود ہے وہ کائنات کو اللہ تعالیٰ کا فعل مانتا ہے اور باری تعالیٰ کو فاعل مطلق۔
یہی ہے در اصل مذہب اور اس کے سامنے عقلیت پرستوں نے یا ملحدین نے جتنے بھی دعوے رکھے وہ سب کے سب انکار محض پر محمول ہیں جن کا کوئی بھی حقیقی اور شعوری وجود نہیں، بالکل ویسے ہی جیسے میں یہ انکار کر دوں کہ دنیاں میں کوئی الاسکا نامی علاقہ بھی ہے اور میرے انکار کی واحد وجہ اور سبب یہ ہے کہ میں اس علاقے میں نہیں گیا۔
اس طرح کے مضامین فکری بے راہ روی اور ذہنی خلجان کا سبب بنتے ہیں۔
امید ہے کہ آئندہ احتیاط برتی جائے گی۔
والسلام مع الختام۔
قیمتی مشورے کا شکریہ۔۔۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مسلمانوں نے پچھلے ایک ہزار سال میں سائنس میں کتنی تحقیق کی ہے۔۔۔؟ انہوں نے ترقی کی ہے یا ترقیِ معکوس۔۔۔؟ آپ کی نگاہ میں اس کی کیا وجہ ہے؟ مخلص۔۔۔۔خالد سہیل