منکر نکیر۔ ایک باغی کی ڈائری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عبید نے اپنی کتاب کا انتساب خود کو پہچاننے کی کوشش میں سرگرداں ہر انسان کے نام کیا ہے۔ اس کے بعد وہ کہتا ہے ”اگر کوئی شخص مجھے نہ جانے اور نہ پہچانے تو مجھے کوئی دکھ نہیں لیکن اگر میں خود کو نہ جان سکوں اور خود کو ہی نہ پہچان سکوں تو مجھے بہت افسوس ہو گا۔“

کچھ عرصہ پہلے سوشل میڈیا پر ایک ایرانی شاعرہ کی نظم کا ترجمہ وائرل ہوا تھا۔ عبید نے اپنی کتاب کا آغاز اسی نظم سے کیا ہے بقول اس کے ’سعودی عرب کے بارے میں سچی مگر اختلافی بات کرو تو قانون کی دفعہ 302 لگتی ہے، پاکستان پر بات کرو تو آرٹیکل 6 لگتا ہے۔ ایران کی بات کرو تو فوراً یزید سے مناسبت جوڑ دی جاتی ہے۔ مگر کیا کریں۔ جو لوگ مذہب میں حل ڈھونڈتے ہیں، ان کو جواب تو دینا ہی پڑتا ہے کیونکہ یہ ہمارے بچوں کے مستقبل کا معاملہ ہے۔

15 ستمبر 2020 کو وہ کہتا ہے : حضرات ایک ضروری اعلان سنیں۔ چائنا کٹنگ کے ذریعے بنایا جانے والا نیا پاکستان 2018 سے تاحال زیر تعمیر ہے۔ نئے پاکستان کی تعمیر مکمل ہونے تک بچے، ٹرانس جینڈرز، عورتیں اور غریب عوام، اپنے اپنے گھروں میں بند رہ کر اپنا عزت، جان و مال کی خود حفاظت کریں۔ اس دوران عوام دو کی بجائے ایک روٹی کھا کر گزارہ کریں اور ارطغرل غازی کا ڈرامہ دیکھ کر دل بہلائیں۔ گھروں سے باہر نکلنے کی صورت میں نئے پاکستان کی انتظامیہ کسی بھی قسم کے نقصان کی ذمہ دار نہیں ہو گی۔ نئے پاکستان کی تعمیر مکمل ہونے کی حتمی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ اعلان ختم ہوا۔

جنسی زیادتی کرنے والے مردوں کو خصی کرنے کے بارے میں عبید کہتے ہیں : ”کاسٹریشن کی کہانی چھوڑیں وزیر اعظم صاحب! اصل مجرموں کو پکڑ کر سزا دیں اور اس معاشرے کی مردانہ سوچ بدلنے کی ترکیب کریں کیونکہ اس مسئلے کے حل کا کوئی بھی شارٹ کٹ نہیں ہے۔“

سانحہ موٹر وے اور مردوں کی ذمہ داری کے عنوان سے لکھتے ہیں : ’کیا موٹروے سانحہ کا تعلق صرف عورتوں سے ہے؟ اس سانحہ پر عورتوں کو نہیں بلکہ مردوں کو بھی اپنے کرتوت پر شرمندہ ہونا چاہیے۔ یہ سانحہ پاکستانی مردوں کے دامن پر بد نما داغ ہے۔ مرد کا چاہے کسی بھی سیاسی جماعت سے تعلق ہو، کسی بھی سوشل کلاس سے ہو، اس کی تعلیم، فرقہ، مذہب، زبان، رنگ، عہدہ، ذات، نسل، مالی، حیثیت، اور چاہے کوئی سی بھی عمر ہو اس سانحہ کہ ذمہ داری میں کسی نہ کسی حد تک حصہ دار ہے۔

اس حوالے سے بہت سے اقدامات تجویز کرنے کے بعد وہ کہتا ہے، ”ان سب اقدامات کے ساتھ ساتھ تمام عدالتوں کے ججوں کی نشستوں میں عورتوں کو برابر کا کوٹہ دیا جائے۔ تمام حکومتی اور نیم سرکاری انتظامی شعبوں میں عورتوں کو برابری کا حصہ دیا جائے۔ تعلیمی نصاب میں صنفی برابری کو یقینی بنایا جائے۔ کوئی بھی نیا قانون عورتوں کی رائے کے بغیر نافذ نہ کیا جائے۔ تب جا کر ہی سوچ میں حقیقی تبدیلی آنا شروع ہو گی۔“

اور اب یہاں نگار اور عورت فاؤنڈیشن کا نام لئے بغیر بات آگے نہیں بڑھ سکتی جن کی وجہ سے عبید عورتوں کی تحریک کا حصہ بنے۔ نوے کے عشرے میں جب میں نے عورت فاؤنڈیشن میں شمولیت اختیار کی تو میں دل ہی دل میں ان مردوں کی ہمت کی داد دیا کرتی تھی کیونکہ جب بھی وہ کسی کو بتاتے تھے کہ وہ عورت فاؤنڈیشن میں کام کرتے ہیں تو لوگ ہنسنا شروع ہو جاتے تھے لیکن آہستہ آہستہ لوگوں نے اس بات کو تسلیم کر لیا کہ مرد بھی عورتوں کے حقوق کی تحریک کا حصہ بن سکتے ہیں۔

میرے ساتھ سیاسی تعلیم کے پروگرام میں خیبر پختونخوا سے اعجاز درانی، بلوچستان سے نصر اللہ اور لاہور سے عبید ہوتے تھے جبکہ قومی رابطہ کاری کی ذمہ داریاں بالترتیب چارلس امجد علی، شہلا ضیا اور زاہد اسلام نے انجام دیں۔ خیر اس وقت ذکر عبید کی کتاب کا ہو رہا ہے اپنی کتاب میں اس نے خود لکھا ہے کہ نگار احمد کی نظریاتی تربیت نے اس کی شخصیت کو ایک نئی شکل میں ڈھالنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اس کتاب میں بہت سی تحریریں وہ ہیں جو وہ فیس بک پر اپنے اسٹیٹس پر ڈالتے اور ہم سب سے داد وصول کرتے رہے ہیں۔

آپ میں سے کچھ کو یاد ہو گا کہ ایک زمانے میں اخبارات میں چھوٹے چھوٹے شذرے اور نمک پارے اور شکر پارے کے نام سے اس قسم کی تحریریں شائع ہوا کرتی تھیں۔ ایک ٹریفک سگنل سے دوسرے سگنل تک جاتے ہوئے ان کا حساس ذہن انہیں کچوکے لگاتا رہتا ہے، کسی نشئی نوجوان کو سڑک کے درمیان کھڑے پا کے، کسی کم سن بچے کو کار کا شیشہ صاف کرنے کے لئے لپکتا دیکھ کر وہ بہت کچھ سوچتے ہیں اور پھر اس نتیجے پر پہنچتے ہیں ”ہم ریاست تھوڑے ہی ہیں، ایک ہجوم ہیں، شکوہ بے سود اور شکایت بے فائدہ“ ۔

چھوٹے صوبوں کو وفاق سے اور بڑے صوبے سے عام طور پر شکایت ہی رہی ہے لیکن پنجاب کے عبیدااللہ چودھری اپنے ایک ”نمک پارے“ میں کہ عنوان جس کا ”“ صوبائی خود مختاری بمقابلہ گورنس ”ہے میں لکھتے ہیں :“ پاکستان کے کسی بھی صوبے میں آج بھی عدلیہ اور انتظامیہ آزاد نہیں۔ چیف سیکریٹری مرکز کا، گورنر مرکز کا، پولیس کا سربراہ مرکز کا، اسمبلی اور وزیر اعلیٰ صوبے کا۔ اب سندھ اور پنجاب کا موازنہ کر لیں۔ پنجاب اور مرکز کا ہمیشہ گٹھ جوڑ سیاسی اور مالی اور فوجی طاقت سے رہا ہے۔

اس کی وجہ سے پاکستان کے باقی صوبوں میں پنجاب کے خلاف شدید نفرت پائی جاتی ہے۔ ایسا اس لئے ہے کہ پنجاب میں عثمان بزدار کی حکومت میں پانچ ماہ میں پولیس کے تین سربراہ بدل جاتے ہیں۔ چیف سیکریٹری بھی فوراً بدل جاتا ہے۔ مگر جب سندھ کی بات آتی ہے تو چیف سیکریٹری ہو، ، پولیس کا سربراہ ہو، کراچی کے انتخابات، کراچی کا اختیار تیس سال سے حکومت کرنے والی پارٹی کے پاس نہیں بلکہ مرکز کے پاس ہے۔ عدلیہ، انتظامیہ اور این ایف سی کے تحت وسائل کی تقسیم پر جب بھی بات ہوتی ہے تو صوبائی حکومت کی بجائے مرکز اور اسٹیبلشمنٹ کے صوبائی نمائندوں کی بات مانی جاتی ہے اور گورنس کا حساب آپ صوبائی حکومت سے لیتے ہیں۔ مجھے تو اس حساب کی سمجھ نہیں آتی۔ ’

ایسے بہت سے نمک پارے اور شکر پارے آپ کو اس کتاب میں ملیں گے۔ عبید نے اس کتاب کی صرف ایک ہزار کاپیاں چھپوائی ہیں، قیمت پانچ سو روپے رکھی ہے۔ ملنے کا پتہ: 28۔ 29 غنی چیمبر، پٹیالہ گراؤنڈ لاہور ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments