یوم آزادی: چودہ اگست یا پندرہ اگست کا ابہام اور بی بی سی کی دانستہ غلط بیانی
قیام پاکستان کے وقت میری عمر چھ سال سے کچھ اوپر تھی اور چودہ اگست انیس سو سینتالیس کو ہم عمر بچوں کی قطار میں ایک دوسرے کے کرتے پیچھے سے پکڑے ٹرین بنا کر پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتے گلیاں گھومنا بھولا نہیں۔ پچھلے سال کلکتہ کا ایک دن ذہن میں تازہ ہوا (الحمدللٰہ یادداشت اچھی ہے) تو ”ہم سب“ میں انیس سو سینتالیس کے فسادات اور پاکستان پہنچنے کے واقعات کے میرے کچھ آرٹیکل شائع ہوئے۔ انہی دنوں ایک عزیز نے کسی کی تحریر فیس بک میں پوسٹ کی جس میں پاکستان کا یوم آزادی (برٹش گورنمنٹ نوٹیفیکیشن کے حوالہ سے) در اصل پندرہ اگست کو ہونے اور محض چودہ اگست کو رمضان کی ستائیس اور لیلۂ القدر ہونے کی وجہ سے چودہ اگست کو کی جانے کی بات کی۔
جب انٹر نیٹ کھولا تو پاکستان اور ہندوستان کو بطور آزاد ممالک انتقال اقتدار کی تقاریب اوہام، جوتش اور کنڈلیوں کے ذریعہ منحوس یا مبارک دن یا وقت ( نحش یا شبھ ) پہ یقین اور اپنے لئے سعد ہونے کے گورکھ دھندے کے جال میں بندھی ایک مضحکہ خیز داستان نکلی۔ یہ داستان میرے مضمون، ”مبارک، لکی، اور شبھ کے گورکھ دھندے میں الجھے پاکستان ہندوستان کے یوم آزادی“ بارہ جولائی 2020 کے ”ہم سب“ کے شمارہ میں شائع ہوئی، جس میں بتایا تھا کہ نہ صرف پاکستان کے یوم آزادی اور انتقال اقتدار کی تمام تقاریب اور کارروائی چودہ اگست کو ہوئی تھی اور صرف برطانوی حکومت کے نوٹیفیکیشن پر عمل قائد اعظم سے جسٹس عبدالرشید صاحب کے حلف لینے کی قانونی رسمی کارروائی سے پندرہ اگست کو ہوا بلکہ یہ حیران کن حقیقت بھی سامنے آئی کہ ہندوستان کے انتقال اقتدار اور یوم آزادی کی بنیادی تمام تقریبات ادا ہی قدیم ہندو ( شاید بکرمی ) کیلنڈر کے مطابق چودہ اگست کو ہوئیں۔
اور یہ ساری کہانی ہندو جوتش اور کنڈلی کے مطابق پندرہ اگست کا انتقال اقتدار ہندوستان کے مستقبل کے لئے منحوس یا نحس ہونے اور لارڈ ماؤنٹ بیٹن کا پندرہ اگست اپنے لئے سعد ہونے کے یقین کی وجہ سے اس تاریخ پر اصرار کی وجہ سے ایک گورکھ دھندے یا معمہ یا مذاق بن کر رہ گئی۔ مختصراً تمام حقائق دوبارہ نیچے پیش کیے جا رہے ہیں۔
چند ہفتہ قبل آئر لینڈ کے ایک دوست نے تیرہ اگست 2020 کو ہدیٰ اکرم کی آواز میں عقیل عباس جعفری کی تحریر میں ایک ”تحقیق“ اسی موضوع پر بی بی سی جیسے مؤقر ادارے سے نشر ہوئے پوڈکاسٹ کا لنک بھیجا۔ ( عنوان ہے ”یوم آزادیٔ پاکستان ہندوستان سے ایک دن پہلے کیوں منایا جاتا ہے“ ) جسے سن کر تحقیق کے نام پر بظاہر دانستہ کی گئی تخریب اور خود تقریبات آزادی چودہ اگست ہونے کا بتاتے ہوئے آخری فقروں میں ابہام کو بڑھانے کی کوشش ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔
حقائق پر ایک نظر سے ہی کھل جاتا ہے کہ یہ مبینہ تحقیق محقق نے محض کے۔ کے۔ عزیز کی انیس سو پچاسی میں شائع ہونے والی کتاب مرڈر آف ہسٹری کے بیانیہ سے شاید ہی کہیں باہر نکل کے کی ہو، اور پنجابی کی مشہور ضرب المثل ”جھوٹ بولنا نہیں تے سچ دے نیڑوں وی نہیں لنگھنا“ کی تصویر ہے کہ کوئی لفظ جھوٹ نہیں مگر سچ بھی کہیں نہیں۔ پہلے حقائق کی ترتیب ایک نظر میں۔
1۔ برطانوی حکومت نے برطانوی ہندوستان کو ہندوستان اور پاکستان کی دو آزاد مملکتوں کی حیثیت دینے کے لئے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے اصرار پر پندرہ اگست انیس سو سینتالیس رکھی ہے، کہ یہ دن وہ اپنے لئے لکی یا سعد اس لئے شمار کرتا تھا کہ دو سال قبل جنگ عظیم دوم میں اسی تاریخ کو برما کے محاذ پر جاپانی فوج نے اس کے سامنے ہتھیار ڈالے تھے۔ ساتھ ہی برطانوی تجویز کے مطابق اسے اسی دن دونوں نوزائیدہ مملکتوں کے گورنر جنرل کا عہدہ بھی سنبھالنا ہے اور دونوں مملکتوں کا گورنر جنرل اسی کے ہونے سے ایک ہی جگہ ایک ہی وقت انتقال اقتدار میں کوئی دقت نہیں۔ سو یہ دن اس کے لئے بہت اہم ہے۔ (بی بی سی کے محترم محقق یہ سب گول کر گئے ہیں)
2۔ کانگریس اور اس کی مجوزہ حکومت اس تجویز کو قبول کر لیتی ہے مگر مسلم لیگ قیادت اور قائد اعظم کی بصیرت نہ صرف لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو بطور گورنر جنرل ماننے سے انکار کر دیتی (بی بی سی پوڈکاسٹ میں یہ بھی نہیں) بلکہ انتقال اقتدار کی کارروائی بھی پاکستانی سرزمین کراچی میں منعقد کرانے کا فیصلہ کرتی ہے اور مصر ہے۔
3۔ ہندوستان کے پنڈت جوتشی زائچہ کنڈلی بنانے والے پندرہ اگست کو قیام آزاد نئی مملکت ہندوستان کے لئے منحوس اور نقصان دہ قرار دیتے ہیں اور اس دن انتقال اقتدار کے شدید مخالف ہیں۔ (سیکیولر ہونے کا دعوی؟) دیکھیں ڈیڈ لاک کیسے حل ہوتا ہے۔ ماؤنٹ بیٹن پندرہ پہ بضد ہے، کہ اس کے لئے لکی دن ہے۔ ہندو پنڈت، جوتشی، کنڈلی نکالنے والوں کے لئے یہ گھڑی شبھ یا سعد نہیں۔
یہاں ”جلو جل جلال، کھوتا کنؔاں تائیں حلال“ کا فارمولا سامنے آتا ہے۔ پنڈت، جوتشی بتاتے ہیں کہ انگریزی کیلنڈر نئے دن کی ابتدا نصف شب کے فوراً بعد جب کہ قدیم ہندو کیلنڈر دن کا آغاز طلوع آفتاب کی پہلی کرن سے کرتا ہے ( اس کی تصدیق ہندو مندر سے کر چکا ہوں) ۔ لہذا جس وقت انگریزی کیلنڈر پندرہ اگست شروع کر چکا ہو گا ہندی کیلنڈر کے مطابق ابھی پچھلے دن، یعنی چودہ اگست کے چند گھنٹے باقی ہوں گے۔ لہذا تقریب چودہ پندرہ کی نصف شپ کے فوراً بعد کر لی جائے، تو ہندی کیلنڈر اسے پچھلا دن (صاف ظاہر ہے چودہ اگست ہی انگریزی کیلنڈر کا اور اسی مناسبت سے ہندی کیلنڈر کا) قرار دیتے اسے شبھ یا مبارک گھڑی شمار کرے گا۔ لہذا اسی وقت پر اتفاق ہو گیا، یعنی لارڈ ماؤنٹ بیٹن کا پندرہ اگست، ہندو جنتا اور لیڈروں کے لئے ابھی چودہ اگست۔ مسکرانا بنتا ہے نا۔
4۔ اب آگے چلئے۔ چونکہ لارڈ ماؤنٹ بیٹن پندرہ اگست کے پہلے چند منٹوں میں گورنر جنرل ہندوستان بن جاتا ہے لہذا وہ وائسرائے نہیں رہتا۔ تو پاکستانی حکومت کو انتقال اقتدار اب نہیں کر سکتا، نہ ہی پاکستانی حکومت یا قائد اعظم ہندوستانی گورنر جنرل کے دستخطوں سے اقتدار سنبھال سکتے ہیں۔ نہ ہی اس صورت حال میں وائسرائے پہلے کراچی میں پاکستان بننے کی کارروائی مکمل کر کے ہندوستان کے مقررہ وقت کے مطابق دہلی پہنچ سکتے ہیں۔
اب یہ نیا پھڈا ہو گیا۔ لکی دن اور شبھ گھڑی کا تحفہ۔ اب تاریخ بھی پندرہ اگست ہے اور پاکستان کو انتقال اقتدار کی کارروائی بھی برطانوی وائسرائے ہوتے لازم، لہذا پاکستان کی کارروائی ایک دن قبل، چودہ اگست کو کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور منظوری لی گئی۔ ( یہ تمام پس منظر جو کمپیوٹر سے معمولی واقفیت رکھنے والا تھوڑے سے وقت میں دیکھ سکتا ہے۔ بی بی سی کے محقق کو کیوں نظر نہ آئی، سوائے ”جٹ یملا تے خدا نوں چور لے گئے“ کے محاورہ سے بہتر کوئی تبصرہ نہیں۔
اور اسی کے مطابق تیرہ اگست کی شام لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے کراچی پہنچ کر چودہ اگست کو ہی انتقال اقتدار کے تمام کاغذات اور کارروائی مکمل مطلوبہ دستخط کر کے قائد اعظم کو پاکستان کے گورنر جنرل کا اختیار حوالے کر کے چودہ اگست کی رات بارہ بجے سے قبل دہلی پہنچ کر وہاں پندرہ اگست کے پہلے منٹوں میں جو ہندوؤں کے لئے ابھی چودہ اگست تھا وہاں انتقال اقتدار اور خود گورنر جنرل کے عہدہ سنبھالنے کی کارروائی اور حلف وغیرہ مکمل کر لیا۔
گویا ہندوستان کے کے قیام کی پوری کارروائی ہی ہندوؤں کے چودہ اور انگریزوں کے پندرہ اگست کو ہوئی جب کہ پاکستان کے صرف گورنر جنرل کا برطانوی نوٹیفکیشن کے مطابق حلف ہی۔ وہ بھی پاکستانی، لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس، جسٹس عبدالرشید کے سامنے پندرہ اگست کو اٹھایا گیا اور وائسرائے کی دستاویزات کی تکمیل و دستخط اور انتقال اقتدار کی مکمل کارروائی چودہ اگست کو ہو چکے تھے۔ (یہ تمام کارروائی بی بی سی نے مکمل درست اور پوری تفصیل سے پوڈکاسٹ میں نشر کی)۔
بی بی سی کا محقق یہاں دانستہ بتاتا ہے کہ چودہ اور پندرہ اگست کی درمیانی شب بارہ بجنے سے چند لمحے قبل ریڈیو پر ”یہ آل انڈیا ریڈیو ہے“ اور بارہ بجتے ہی ہی ریڈیو ”یہ پاکستان براڈکاسٹنگ سروس ہے“ اور ”ریڈیو پاکستان“ کے الفاظ پہلی مرتبہ ادا کرتے آغاز کرتا ہے۔ ( آگے مختلف سٹیشن اردو انگریزی بنگلہ زبانوں کے نشریے اور بیان کی تفصیل ) گویا بی بی سی کے فاضل محقق کو یو ٹیوب پر ہزار ہا مرتبہ، مکمل یا جزوی شیئر کردہ، اور کروڑوں افراد کا دیکھا سنا گیا مصطفے علی ہمدانی کا اپنی آواز میں ریکارڈ کرایا انٹرویو اور تیرہ اور چودہ اگست کی نصف شب کے دو منٹ پہلے ”یہ آل انڈیا ریڈیو ہے اور فوراً بعد لاہور ریڈیو سٹیشن پہ ان کی گونجتی آواز کی ریکارڈنگ نہ نظر آئی نہ سنائی دی،“ یہ پاکستان براڈ کاسٹنگ سروس ہے۔ طلوع صبح آزادی ”اور پھر پوری تفصیل ہے۔ گو اس میں یہ“ ریڈیو پاکستان ہے ”کے الفاظ نہیں ہیں کہ اس وقت تک انتقال اقتدار کی کارروائی نہ ہوئی تھی، لیکن“ طلوع صبح آزادی ”کے الفاظ بغیر کسی ابہام کے چودہ اگست کو یوم آزادی قرار دیتے ہیں اور یہ الفاظ، ظاہر ہے، اس وقت کی حاکم برطانوی گورنمنٹ کے علم اور منظوری کے بغیر نشر اور استعمال نہ کیے جا سکتے تھے۔ جب یہی الفاظ“ طلوع صبح آزادی ”پندرہ اگست کے شروع ہونے کے پہلے لمحے میں“ یہ ریڈیو پاکستان ہے ”میں بدل گئے تو اس سے بڑا ثبوت کیا ہوا کہ قیام پاکستان کے لئے انتقال اقتدار پہلے ہی ہو چکا۔
اب بی بی سی کے محقق یوم آزادی کی تاریخ پندرہ کی بجائے چودہ اگست کرنے کے لئے انتیس جون انیس سو اڑتالیس کے وزیر اعظم جناب لیاقت علی خان کی زیر صدارت چند وزیروں کے اجلاس کا ذکر کرتے یہ بتاتے ہیں کہ اب خفیہ دستاویزات تک پہنچ میں آ جانے والے ریکارڈ کے متعلقہ محکمہ میں موجود فائل میں صرف تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز اور حتمی منظوری کے لئے جناب گورنر جنرل کو فارورڈ کرنے اور قائد اعظم کے منظور کرنے کا ذکر ہے اور وجوہات یا بحث کی تفصیل موجود نہیں۔
یہیں محترم محقق کی قابلیت صلاحیت سمجھ لیجیے یا چودہ اگست کی پوری کارروائی کا درست بیان کے باوجود دانستہ مداہنت کہ اس سے وہ تاریخ تبدیل کرنے وجوہات کا ذکر نہ ہونے کی وجہ سے ان کو نا معلوم وجوہات کہہ کے بیانیہ کو کو مکمل مبہم قرار دینے کا اپنا فریضہ سر انجام دیتے ہیں۔ یعنی ان کو یہ سمجھ نہیں آئی کہ زیادہ امکان ہے کہ کابینہ کی اس موضوع پر بحث کارروائی اور نتائج، یعنی منٹس علیحدہ منسلک فائل میں ہونا چاہیے نہ کہ سمری والی میں۔ چنانچہ محقق نہ کسی ایسی دوسری فائل کے متعلق تلاش یا استفسار کی زحمت کرتا ہے نہ ہی اس فیصلہ کے دنوں کے اخبارات کے پرانے فائل کھنگالنے کی، جن میں لازما اس کے تمام پہلو اجاگر کیے گئے اور ان پر بحث اور آرا موجود ہونا لازم ہے۔ سوائے دانستہ ابہام پیدا کرنے کے بیانیہ کے اسے کیا کہا جا سکتا ہے
ایک اور دلچسپ امر جو اس پوڈکاسٹ میں ابھرا اور قبل ازیں اس کے بالکل الٹ بیانیہ سامنے آتا رہا۔ بتایا گیا ہے کہ پندرہ اگست سینتالیس کو رمضان کا نہ صرف جمعۂ الوداع بلکہ ستائیس رمضان کے حوالہ سے لیلۂ القدر بھی تھی اور اس کے باوجود پندرہ اگست کو چودہ اگست میں تبدیل کیا گیا۔ گویا یہاں بھی شک و شبہات پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔ جب بھی اس کا ذکر ماضی میں ہوا اکثر و بیشتر پاکستان میں انتشار پیدا کرنے والے عناصر نے یہ دعوی ’کیا کہ تاریخ تبدیل ہی اس لئے کی گئی کہ چودہ اگست کو لیلۂ القدر کا مبارک دن تھا۔
غور کیا جائے تو رمضان کی تاریخ کی بحث بالکل لا یعنی اور غیر متعلق اور فتنہ انگیزی کی کوشش نکلتی ہے۔ برطانوی حکومت کے پندرہ تاریخ مقرر کرتے وقت رمضان شروع ہی نہ ہوا تھا اس لئے ستائیسویں رمضان کا تعین کیسے ہوا۔ اس زمانے میں ذرائع ابلاغ اتنے کم تھے کہ رویت ہلال صرف مقامی سطح پر ہوتی اور اسی کے رمضان اور عید منائی جاتی۔ بعض اوقات چند میل کے فاصلوں پر واقع قصبوں یا شہروں میں عید اور روزے شروع کرنے میں ایک دن کا فرق ہونا عام تھا۔ ظاہر ہے جن معترضین نے ایک دن قبل روزہ رکھا ہو ان کے لئے جمعرات ستائیس ہو اور جن شہروں میں ایک دن بعد رکھا ہو وہاں کے اخبارات نے جمعہ کو ستائیس رمضان المبارک لکھا ہو۔
تو بات یہی ہے کہ دنیا کے اس وقت کے مانے ہوئے سیاستدانوں اور لیڈروں کے بھی لکی، مبارک، یا شبھ دنوں یا گھڑیوں پر یقین یا تلاش نے پاکستان اور ہندوستان دونوں کے یوم آزادی کو مذاق اور گورکھ دھندہ بنا کے بنا کے رکھ دیا۔
اب آپ پاکستان کا یوم آزادی چودہ اگست کہیں تو صحیح کہ انتقال اقتدار کی تمام قانونی دستاویزات کارروائی اور رسوم اسی دن ادا ہونے کے علاوہ دن شروع ہوتے ہی پاکستان براڈکاسٹنگ سروس اور طلوع صبح آزادی کا باضابطہ اعلان لاہور ریڈیو سٹیشن (بعد میں دوسرے) سے ہو چکا تھا اور ہر جگہ جشن آزادی شروع تھا۔ اور آپ پندرہ اگست مانیں تو بھی غلط نہیں، کہ برطانوی حکومت کے نوٹیفیکیشن کی شرائط پر عمل کو باضابطہ بنانے کے لئے حلف برداری کی رسمی کارروائی اس دن صبح ہوئی۔ ہندوستان کے یوم آزادی کی تو مکمل کارروائی ہندو رہنماؤں اور قدیم ہندو کیلنڈر کے مطابق ہوئی ہی چودہ اگست کو تھی۔ لہذا وہاں بھی چودہ اگست اس دوڑ میں شامل ہے جب کہ برطانوی حکومت عیسوی کیلنڈر اور باقی عالم اسے پندرہ اگست قرار دیتا ہے۔ لہذا مناسب یہی کہ جس کو جس تاریخ کا یقین ہے اس پر یقین تو بے شک رکھے مگر جو چل رہا ہے اسے چلنے دے کیونکہ یہاں سب سچ ہے۔ واہموں، لکی اور مبارک کے دھاگوں میں لپٹا سچ۔
نوٹ۔ اس مضمون کو عام قاری کے لئے بھی قابل فہم ہونے کے لئے مختصر اور موضوع تک محدود رکھا۔ کمپیوٹر سے معمولی شد بد رکھنے والا فرد بھی گوگل، وکیپیڈیا وغیرہ میں چند لفظ ڈال تمام تفصیلات ڈھونڈ سکتا ہے۔

