موسمیاتی تبدیلیاں، کرہ ارض کو خطرہ


عالمی موسمیاتی تبدیلیوں نے دنیا کے ہر ملک کو متاثر کیا ہے اور یہ عمل تیزی سے جاری ہے، دیکھا جا رہا ہے کہ عالمی موسمیاتی تبدیلیوں نے ماحول کو شدید متاثر کیا، جس سے گلیشیر سکڑتے جا رہے ہیں، دریاؤں اور جھیلوں پر جمی برف ٹوٹ رہی ہے جس سے سیلابی کیفیت پیدا ہو رہی ہے، اس عمل سے پودوں کی افزائش اور جنگلی حیات کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔ ماہرین موسمیات ماضی میں ہی پیش گوئی کرچکے تھے کہ عالمی آب و ہوا میں تبدیلی کے نتیجے میں سمندری برف کے نقصان کے ساتھ ساتھ سطح سمندر میں تیز رفتار اور گرمی کی شدید لہریں اٹھ سکتی ہیں۔

اس وقت کرہ ارض کو بدترین موسمی حالات کا سامنا ہے۔ آب و ہوا کی تبدیلی سے نقصانات میں اضافہ و فوائد میں کمی کا رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ماہرین موسمیات خطرات سے آگاہ کر رہے ہیں کہ عالمی درجہ حرارت اور موسمیاتی تبدیلی کا یہ عمل کئی عشروں تک برقرار رہے گا۔ انٹر گورنمنٹ پینل آن کلائمیٹ چینج (آئی پی سی سی) کے 1300 سے زائد سائنس دانوں نے پیش گوئی کی ہے کہ اگلی صدی تک درجہ حرارت میں 2.5 سے 10 فیصد فارن ہائیٹ اضافہ ہو سکتا ہے۔

آئی پی سی سی کا یہ بھی کہنا ہے کہ ماحولیاتی نظاموں میں تبدیلی کا اثر علاقائی سطح پر مختلف درجے کے تحت واقع پذیر ہو سکتا ہے۔ یہ امر نہایت تشویش ناک ہے کہ عالمی سطح پر درج حرارت میں 1.8 سے 5.4 ڈگری فارن ہائیٹ ( 1 سے 3 سینٹی گریڈ) ہونے سے فوائد کے مقابلے میں نقصانات زیادہ ہیں اور شواہد سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ نقصانات میں وقت کے ساتھ ساتھ اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔ اس سے بچاؤ کے لئے دنیا کو موسمیاتی تبدیلیوں سے مقابلے کرنے کے لئے ہنگامی نوعیت کو اقدامات کرنا ہوں گے۔

موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے درجہ حرارت کے اثرات نے موسموں کو متاثر کرنا شروع کر دیا ہے، گرمی و سردی تو کہیں بارشیں اور سیلابوں نے دنیا بھر کے بیشتر ممالک میں تباہی مچائی ہوئی ہے۔ امریکہ اور یورپ جیسے ممالک گرمی کی بدترین لپیٹ میں آنے لگے ہیں، ریکارڈ توڑ گرمیوں نے ان ممالک کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ دنیا کے ان ممالک کا کیا حال ہوگا جہاں پہلے ہی گرمی کی وجہ سے انسانی زندگی کو دشواریوں کا سامنا ہے۔

بالخصوص غریب اور ترقی پذیر ممالک کے شہریوں کو موسمیاتی تبدیلیوں سے مقابلہ کرنے کے متبادل ذرائع دستیاب نہ ہونے سے زندگیوں کو خطرات کا سامنا ہے۔ فضا میں نمی کی سطح میں کمی اور تیز ہوائیں چلنے کی وجہ سے جنگلات میں آگ لگانا معمول بنتا جا رہا ہے، جس سے صورت حال مزید سنگین ہو رہی ہے اور اس کے اثرات سے عالمی درجہ حرارت و موسمیاتی تبدیلی میں تیزی سے اضافہ ہوا ہو رہا ہے۔ روس کے علاقے سائبیریا کے 7 لاکھ ایکڑ سے رقبے پر پھیلی جنگلات میں لگی آگ نے ان خدشات کو تقویت دی ہے کہ انسانی غلطیوں کی وجہ سے حیاتیاتی زندگیوں کو خطرات کا سامنا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق 15 لاکھ ایکڑ سے زائد رقبے پر محیط جنگلات راکھ کا ڈھیر بن چکے ہیں۔ اس کا واضح مطلب ہے کہ وسیع پیمانے پر جنگلات میں لگی آگ سے عالمی درجہ حرارت میں اضافہ ہوا ہے جس سے کاربن گیسوں کے اخراج پر قابو پانے میں ناکامی کا سامنا ہو رہا ہے۔

موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے غیر معمولی بارشوں اور سیلابوں نے انسانی زندگی کو مشکل تر بنا دیا ہے۔ سیلاب کی وجہ سے جہاں انسانی زندگی متاثر ہو رہی ہے تو دوسری جانب انفرا اسٹرکچر کو پہنچنے والے نقصان کے علاوہ ٹرانسپورٹ کے نظام سمیت بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی ایک چیلنج کا درجہ اختیار کرتی جا رہی ہے۔ عالمی موسمیاتی تبدیلیوں سے درجہ حرارت کے اضافے نے جہاں گرم موسم کو آتش فشاں بنا دیا ہے تو دوسری جانب 1980 کے بعد سے ٹھنڈے موسم میں بھی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس سے ماحولیاتی نظام کے ساتھ ساتھ زراعت بھی متاثر ہو رہی ہے۔

شدید سردی میں درخت اپنی نشو و نما کا عمل روک دیتے ہیں اور توانائی محفوظ کرنے کے لیے غیر فعال ہو جاتے ہیں۔ جمی ہوئی برف کی وجہ سے زیر زمین پانی کی قلت ایک بڑا مسئلہ بن سکتی ہے۔ مثال کے طور پر ایسے میں صنوبر کے درخت اپنے پتوں کے گرد موم جیسی تہہ بنا لیتے ہیں تاکہ ان کا اندرونی پانی پتوں کے راستے ضائع نہ ہو۔ مستقبل میں گرمی کی کمی کے لئے کیے جانے والے اقدامات کے ساتھ ساتھ سرد موسم بھی انسانی حیات کے لئے ایک چیلنج بنتا جا رہا ہے، سمندری سطح میں اضافے کا رجحان بھی دیکھنے میں آ رہا ہے، ماہرین نے 2100 تک سمندر کی سطح میں 8.1 فٹ اضافے کی پیش گوئی کی تھی، یہ ریکارڈ اضافہ 1880 کے بعد ہوا اور 2100 تک سمندری سطح میں ایک سے چار فٹ اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا۔

تاہم موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے یہ اضافہ 8 فٹ سے بھی زیادہ ہوتا جا رہا ہے، اس کی بنیادی وجہ تیزی سے برف پگھلنا اور گرم پانی کا سمندر میں جمع ہونا ہے، گمان کیا جاتا ہے کہ شدید بارشوں اور سیلابوں کی وجہ سے بہت سے علاقوں میں سمندری سطح میں اضافے دیکھنے کو مل سکتا ہے، ماہرین موسمیات اسے کئی دہائیوں تک کہیں زیادہ شرعوں سے بڑھنے کے خدشات کرتے نظر آرہے ہیں۔

یورپ میں غیر معمولی سیلاب اور شدید سیلابی سلسلے نے تباہی مچائی اور سینکڑوں انسانی جانوں کا نقصان الگ ہوا، جب کہ تباہ حال علاقوں کی بحالی و تعمیر نو کے لئے ایک خطیر رقم بھی خرچ کرنا ہوگی۔ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے بھارت، چین میں بھی غیر معمولی سیلاب و معمول سے زیادہ ریکارڈ بارشوں نے معمولات زندگی کو نقصان پہنچایا۔ موسمیاتی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے مستقبل میں شدید بارشوں کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے، گرم پانی کی بڑی مقدار بخارات کی شکل میں بادل بن کر برسیں گے اور پانی کے با افراط پھیلاؤ کی وجہ سے سمندری سطح میں اضافہ ہونے کے امکانات بڑھتے جائیں گے۔

موسمیاتی تبدیلی انسانی و جنگلی حیات کے لئے نئی مشکلات بھی سامنے لا رہی ہے، شدید بارشوں اور سیلابی و ریلوں کی طغیانی کی وجہ سے زراعت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے جس سے خوراک کی کمی جیسے خطرناک مسائل جنم لے سکتے ہیں، اس وقت کئی ممالک خشک سالی کی وجہ سے کئی ممالک کے عوام فاقہ کشی و کسمپرسی کی زندگی بسر کر رہے ہیں اور ترقی پذیر ممالک کو خوراک کی کمی کا بدترین سامنا ہے، جسے پورا کرنے کے لئے مہنگے داموں خوراک کی خریداری کی وجہ سے گرانی زور پکڑ رہی ہے اور اشیاء ضروریہ ایک عام فرد کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہے، جس سے خدشہ ہے کہ خوراک کے حصولؒ کے لئے انسانوں نے درمیان خانہ جنگیاں بڑھ سکتی ہیں۔

انسانی المیوں میں موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے سب سے دیرینہ مسئلہ مہاجرت کا ہے۔ قدرتی آفات اور مسلح تنازعوں کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگوں نے اپنے ہی ملکوں میں نقل کانی شروع کی ہوئی ہے، ایک اندازے کے مطابق اپنے ملک میں بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد 55 ملین سے بھی بڑھ چکی ہے۔ اس کے علاوہ 36 ملین افراد غیر ممالک ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے، ایک رپورٹ کے مطابق اپنے ہی ملک میں بے گھر ہونے والوں کی تین چوتھائی تعداد شدید موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہے۔

پناہ گزینوں سے متعلق اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق زبردست بارش کی وجہ سے مہاجرین کے کیمپ اور وہاں تعمیر عارضی مکانات تباہ ہوجاتی ہیں۔ کیمپوں میں پانی بھر جاتا ہے جس کی وجہ سے ہزاروں مکینوں کو کسی دوسری جگہ کیمپوں میں رہنے والے اپنے رشتہ داروں کے پاس یا پھر عارضی خیموں میں پناہ لینے کے لیے مجبور ہونا پڑتا ہے۔

واضح رہے کہ پہلے موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے مستند معلومات کا حصول مشکل امر تھا، لیکن اب جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے یہ ممکن ہو گیا ہے کہ ہم درجہ حرارت و تبدیلی ہوتی آب و ہوا کے بارے میں جان سکیں اور گزرتے وقت کے ساتھ سدباب کی تیاریاں بھی کرسکیں۔ عالمی درجہ حرارت میں تبدیلی اور موسمیاتی تبدیلیوں کی وجوہ کو جان کر زندگی کو محفوظ بنانے کے ساتھ ماحولیات کے بڑھتے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لئے حکومتوں اور عوام کو مل کر کام کرنا ہوگا، بالخصوص ایسے ممالک کو ان ممالک کے ساتھ تعاون کو بڑھانا ہوگا، جو ان کی صنعتی دوڑ یا جنگوں کی وجہ سے عالمی درجہ حرارت میں تبدیلی کا سبب بنے ہیں۔

اقوام متحدہ کو کرونا وبا کے ساتھ ساتھ ان ممالک کو موسمیاتی تبدیلیوں کی تباہ کاریوں سے بچانے کے لئے مثبت اقدامات کرنا ہوں گے جس سے انسانی، سمندری و جنگی حیات کے تحفظ کو یقینی بنائے جاسکے۔ کیونکہ یہ کسی ایک ملک کے بس کی بات نہیں، عالمگیر مسئلے کو حل کرنے کے لئے دنیا کو اپنی یکساں ذمے داری نبھانا ہوگی۔

Facebook Comments HS