سیدنا عمر فاروق ؓ کا نظام حکومت
”خدا کی قسم تمہارا جو بھی معاملہ آئے گا میں اسے خود طے کروں گا۔ جو بھلائی کرے گا اس سے بھلائی کروں گا اور جو برائی کرے گا اسے ایسے سزا دوں گا کہ لوگ اس سے عبرت حاصل کریں گے۔“
دور اول سے لے کر اس روئے زمین پر ایسی عظیم شخصیات کا جنم ہوا ہے کہ جو خدا تعالیٰ کی طرف سے عطا کی ہوئی بے پناہ صلاحیتوں کی وجہ آج بھی تاریخ کے روشن اوراق میں محفوظ ہیں۔ مذکورہ بالا الفاظ بھی ایک ایسے ہی حکمران کے ہیں جس نے اپنے دور خلافت میں ایسا نظام حکومت قائم کیا کہ چودہ سو سال گزرنے کے باوجود آج بھی اس کے کارناموں کو سراہا جا تا ہے۔ حضرت عمر ؓاپنے رعب اور دبدبے کی وجہ سے پورے عربستان میں مشہور تھے۔
خلافت کا عظیم منصب سنبھالنے کے بعد آپؓ نے اپنی تقریر کے ذریعے کمزور لوگوں کی دلوں سے اپنا رعب ختم کرنے کے لئے ایسے الفاظ کہے کہ جن میں شریف اور بدمعاش دونوں کے لئے ایک سبق موجود تھا۔ ایک طرف آپؓ اپنی رعایا کے حقوق کا تحفظ کرنے والے ایک رحمدل انسان تھے تو دوسری طرف مجرموں اور اسلام دشمنوں کے لئے تیز دھار تلوار تھے۔ مجرموں کو سبق دینے کے لئے ارشاد فرمایا کہ ”تم میں سے جو شخص کسی پر ظلم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، میں اس کا ایک رخسار زمین سے ملا کر، دوسرے رخسار پر پیر رکھ کر اسے تب تک نہیں چھوڑوں گا جب تک وہ حق کا اعلان نہ کردے۔“
حضرت عمر ؓکے دور حکومت میں اسلام کو کئی فتوحات نصیب ہوئیں اور بڑی بڑی ریاستیں اسلامی سلطنت میں داخل ہوئیں۔ جن میں شام، فارس، مصر، عراق، ایران، خراسان، مکران و دیگر ریاستیں شامل ہیں۔ آپ ؓکے فتح کیے ہوئے علاقوں کی جملہ اراضی بائیس لاکھ، اکاون ہزار تیس ( 2251030 ) مربع میل تھی۔ اتنے بڑے رقبے پر اسلامی ریاست قائم کرنا کوئی آسان کام نہیں تھا۔ لیکن آپ ؓ کے خلوص اور خوف خدا کی وجہ سے آدھی زمین پر بے مثال عدل و انصاف کا نظام قائم ہوا۔ آپ ؓ کے خوف خدا اور منصب کی ذمہ داری کا اندازہ آپ کے اس قول سے لگایا جاسکتا ہے ”اگر فرات ندی کے کنارے ایک بھی کتا پیاسا مر گیا تو اس کے متعلق بھی عمر سے سوال کیا جائے گا۔“
آپ ؓکے دور حکومت میں کئی اہم کام سرانجام دیے گئے جن کا مختصر تعارف ذکر کیا جا رہا ہے بیت المال کے شعبے کو بہتر بنایا گیا۔ اس سے پہلے جو غنیمت کا مال حاصل ہوتا تھا اسے اسی وقت تقسیم کیا جاتا تھا۔ لیکن جب بحرین سے پانچ لاکھ کی کثیر رقم بھیجی گئی تو آپ ؓ نے مجلس شوریٰ کا عام اجلاس طلب کر کے مشورہ کیا۔ مشورے میں یہ بات طے ہوئی کہ یہ رقم بیت المال میں جمع کی جائے اور ضرورت کے وقت استعمال کی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسلامی مملکت کو صوبوں اور ضلعوں میں تقسیم کیا گیا۔
مردم شماری کی بنیاد ڈالی گئی۔ پولیس کا نظام متعارف کروایا گیا اور قیدیوں کے لئے جیل بنائے گئے۔ پولیس اور فوج کے شعبے کو مستحکم بنایا گیا۔ مکہ سے مدینہ تک فوجی چوکیاں قائم کی گئیں۔ عملداروں کے رہنے کے لئے عمارتیں بنائی گئیں۔ غیر آباد زمینوں کو آباد کرنے کے لئے ایک حکم جاری کیا گیا کہ جو شخص کسی غیر آباد زمین کو تین سال میں آباد کرے گا تو وہ زمین اس کی ملکیت بن جائے گی۔ یہ حکمت عملی کارگر ثابت ہوئی اور تھوڑے ہی وقت میں زمینیں آباد ہونے لگیں۔
زرعی زمینوں کو پانی دینے کے لئے نہریں کھدوائی گئیں۔ جس کے بدلے میں مسلمانوں سے پیداوار کا عشر (دسواں حصہ) لیا جاتا تھا۔ صرف مصر میں نہریں کھودنے کے لئے ایک لاکھ بیس ہزار مزدور مقرر کیے گئے تھے، جو سارا سال صرف اسی کام میں مصروف ہوتے تھے۔ آپ ؓ کے دور میں رعیت کے ایک عام فرد کو بھی عملدار پر اعتراض کا حق حاصل تھا۔ یہاں تک کہ ایک مرتبہ ایک بدو نے خود امیرالمؤمنین سے خطبے کے دوران سوال کیا کہ ”عمر! ہر کسی کو ایک ایک چادر ملی تھی، تمہارے پاس دو چادریں کہاں سے آئیں؟“ آپ ؓ کے بیٹے حضرت عبداللہ نے اس کا جواب دیا کہ ”دوسری چادر میری ہے اور میں نے اپنی چادر امیرالمؤمنین ؓ کو دی ہے۔“
آپ ؓ کے دور میں مختلف شعبوں کو جدا جدا تقسیم کیا گیا اور ان کی نگرانی کے لئے قابل لوگوں کا انتخاب کیا گیا۔ آپ ؓ ہر شخص کو اچھی طرح دیکھنے اور پرکھنے کے بعد اس کی صلاحیتوں کے مطابق اسے عہدہ دیتے تھے۔ یہ عمل آپ کی کمال فہم و فراست اور بے مثل حکمت و دانش پر دلالت کرتا ہے۔ آپ ؓ کے دور حکومت میں تقرری کے وقت عمال کو ایک ہدایت نامہ جاری کیا جاتا تھا۔ جس کی رو سے وہ ترکی گھوڑے پر سواری نہیں کر سکتے۔ ریشم کا لباس نہیں پہن سکتے۔
چھنا ہوا آٹا نہیں کھا سکتے۔ دربان مقرر نہیں کر سکتے اور نہ ہی عام لوگوں کے لئے دروازے بند کر سکتے ہیں۔ یہ ہدایت نامہ عوام الناس کے سامنے بھی پڑھ کر سنایا جاتا تھا تاکہ کسی بھی کوتاہی کی صورت میں وہ امیرالمؤمنین سے شکایت کرسکیں۔ اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ کسی بھی ملک کو ترقی یافتہ بنانے کے لئے ضروری ہے کہ وہاں کے حکمرانوں کو سادگی اختیار کرنے کا پابند بنایا جائے۔
حضرت عمر ؓ کی خلافت کا عرصہ دس سال، چھ ماہ اور چار دن تھا۔ آپ ؓ پر 26 یا 27 ذوالحج کے دن فجر کی نماز کے دوران ایک مجوسی ابولولو فیروز نے خنجر سے حملہ کیا اور آپ ؓ پہلی محرم الحرام سن 24 ہ کو (رائج قول کے مطابق) اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ آج ہمارے مسلمان حکمران ملکی تعمیر و ترقی میں مغربی ممالک کی مثالیں پیش کرتے ہیں اور ان کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملا دیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمان ہونے کے باوجود نہ تو ہمارے نزدیک اسلامی قانون کی اہمیت ہے اور نہ ہی ہمیں اسلامی نظام کے متعلق معلومات ہے۔ حضرت عمر ؓ کا نظام حکومت آج کے تمام مسلمان حکمرانوں کے لئے مشعل راہ ہے۔ ان کے نقش قدم پر چل کر پاکستان کو ایک پرامن اور ترقی یافتہ اسلامی مملکت بنایا جاسکتا ہے۔


