لباس کا اثر: ایک تحقیقی جائزہ
آج کل ایک بحث عام ہے کہ کیا عورت کے لباس کا ریپ کے بڑھتے کیسز سے تعلق ہے؟ اور کافی لوگ کافی الگ الگ قسم کے دلائل دیتے نظر آرہے ہیں کہ کیسے ریپ کے بڑھتے کیسز میں لباس کا کوئی عمل دخل نہیں ہے اور اس کو وجہ سمجھنا قطع غلط ہے۔ مثال کے طور پر کوئی کہتا ہے کہ کیا بچوں کے ساتھ بد فعلی کی وجہ بھی لباس ہے؟ یا کوئی کہتا ہے کہ لباس وجہ ہے تو پھر باپردہ عورتوں کے ساتھ ایسا عمل کیوں ہوتا ہے؟ بظاہر یہ دلائل کافی قوی نظر آتے ہیں مگر اگر اس موضوع پر قلی طور پر نظر ڈالی جائے تو ان باتوں سے لباس کے وجہ ہونے اور اس کے اثر سے ریپ کے حادثات بڑھنے کی حقیقت پر کوئی خاص فرق نہیں پڑتا ہے۔
جب ہم کسی معاملے کی تحقیق کرتے ہیں تو عمومی طور پر ہماری نظر میں دو چیزیں ہوتی ہیں۔ ایک وجہ اور دوسرا اس کا اثر۔ اور میرا غالب گمان ہے کہ میری اس بات سے اتفاق تو آج کل کی جدید آزاد خواتین بھی کریں گی کہ ان کے لباس کے معاملے میں پرکشش اور متاثر کن لباس ہی انتخاب کے معیار تک پہنچ پاتا ہے۔ اس معیار تک پہنچنے کے لیے چاہے پھر اس کا رقبہ کتنا ہی کیوں نہ گھٹ جائے یا پھر وہ چھپانے کے ساتھ ساتھ دکھانے کا کام بھی دینے لگے۔
اور پر کشش کی کشش اور متاثرکن کا اثر قدرتی طور پر مرد کے جذبات ابھارتا ہے جو کہ سائنسی طور پر تصدیق شدہ بات ہے۔ تو پھر اگر ایسی حالت میں کسی مرد کے جذبات درندگی کی حد تک اس پر حاوی ہو جائے تو یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اس مرد کو محرک کرنے میں اس خاتون کے لباس کا بھی ایک اہم کردار ہے۔ یعنی لباس بھی ایک وجہ بنا جس کے متحرک کرنے کے اثر کی بنا پرایک مرد گر کر درندگی کی سطح پر آ گیا۔
اپنی اس بات کی وضاحت میں یوں کروں گا کہ اگر ایک شخص جو بھوک اور بے روزگاری کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں چوری کرتا ہے تو ہم کہتے ہیں کہ اس کو چوری کے راستے کی طرف آنے کے لیے مجبور کیا گیا اگر ہمارے یہاں روز گار کے وافر مواقع موجود ہوتے تو عین ممکن تھا کہ یہ اس راہ پر نہیں آتا۔ اس وجہ کے ہونے کے باوجود بھی چور کو سزا تو ملتی ہے مگر انسانی حقوق کے ادارے حکومت سے ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے بے روزگاری کے مسائل پر قابو پانے پرزور دیتے نظر آتے ہیں۔
اکثر اوقات چور کے ساتھ ہمدردی کرتے بھی دیکھتے ہیں۔ جب کہ ان کو اس بات کا علم با خوبی ہوتا ہے کہ بہت سے لوگ چوری عادت کی بنا پر یا پھر مزے کے لیے کرتے ہیں۔ مگر تب کوئی ان واقعات کو دلائل کے طور پر پیش نہیں کرتا کہ بے روزگاری کو وجہ نہیں کہہ سکتے کیوں کہ چوری تو لوگ مزے کے لیے یا عادت کے طور پربھی کرتے ہیں جب کہ پیشہ ورانہ چوروں کی بھی کوئی کمی نہیں۔ ان سب کے باوجود انسانی حقوق کے ادارے اس بات پر زور دیتے نظر آتے ہیں کہ لوگوں کے لیے بہتر روزگار مہیا ہوں تا کہ وہ غلط راہ پر متحرک ہونے سے بچ سکیں اور حکومت بھی ان مسائل پر کام کرتے یا کرنے کا وعدہ کرتی نظر آتی ہے۔
بالکل اسی طرح یہاں بھی یہ بات درست ہے کہ لباس کا بہت سے واقعات میں وجہ ہونا ثابت نہیں اور نہ ہی لباس واحد وجہ ہے مگر اس سے اس کے وجہ ہونے کی حیثیت پر کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔ چاہے سائنسی ہو یا معاشرتی ہو یا مذہبی ہر طرح سے اس کا وجہ ہونا ثابت ہے۔ اگر ہم مغرب کی اندھی تقلید چور کر سنجیدگی سے اپنی سمت پر دھیان دیں اور اپنی تہذیب کی طرف واپسی کی راہ لیں تو ممکن ہے کہ ہم کئی زندگیاں، کئی عزتیں اور اپنی تباہ ہوتی تہذیب کو بچا سکیں۔


