کاربن ڈائی آکسائڈ اور ماحولیاتی تبدیلی


ایک رپورٹ کے مطابق ماحول میں کاربن ڈائی آکسائڈ کی مقدار اس وقت گزشتہ آٹھ ہزار سال کی بلند ترین سطح پر ہے اور 1960 سے لے کر اب تک اس میں سو گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ ماحول میں موجود کاربن ڈائی آکسائڈ کا تقریباً پچاس فیصد دنیا کے دس بڑے شہر پیدا کرتے ہیں۔ کاربن ڈائی آکسائڈ کا ماحول میں توازن برقرار رکھنا آج کی دنیا کے لیے تقریباً نا ممکن ہوتا جا رہا ہے جس کا نتیجہ ماحولیاتی حرارت میں اضافے اور موسمیاتی تبدیلیوں کی صورت میں نکل رہا ہے۔

سمجھنے کا نقطہ یہ ہے کہ انسان اور اس کی سرگرمیوں کی وجہ سے کاربن ڈائی آکسائڈ ماحول کا حصہ بنتی ہے اور قدرت نے پودوں کو ماحول میں کاربن ڈائی آکسائڈ کی مقدار کم کرنے کی ذمہ داری سونپ رکھی ہے۔ انسان اور جانور اپنے سانس کے ساتھ کاربن ڈائی آکسائڈ کا اخراج کرتے ہیں اور جہاں بڑھتی ہوئی انسانی آبادی ماحولیاتی کاربن ڈائی آکسائڈ کا ذریعہ ہے وہاں انہی انسانوں کے چولھے اور بلب جلانے، گاڑیاں چلانے، فیکٹریاں چلانے اور توانائی کی دوسری ضروریات پوری کرنے کے لیے جو تیل، کوئلہ اور گیس جلائی جاتی ہے وہ بھی کاربن ڈائی آکسائڈ کے ماحول میں اضافے کا سبب ہے۔

ایک انسان دن میں تقریباً ایک کلوگرام کاربن ڈائی آکسائڈ ماحول میں خارج کرتا ہے اور اسی طرح اگر دنیا کی مکمل آبادی کے کاربن ڈائی آکسائڈ کے اخراج کو شمار کیا جائے تو یہ تیل اور گیس کو جلا کر نکلنے والی کاربن ڈائی آکسائڈ کا % 7 بنتی ہے۔ لیکن انسانی سانس سے خارج ہوتی اس کاربن ڈائی آکسائڈ کو گلوبل وارمنگ سے اس لیے نہیں جوڑا جا سکتا کیونکہ یہ ایک قدرتی سائیکل کا حصہ ہے جس میں انسان اسی خوراک کو توڑ کر کاربن ڈائی آکسائڈ خارج کرتا ہے جو پودے تقریباً اتنی ہی مقدار میں کاربن ڈائی آکسائڈ استعمال کر کے بناتے ہیں۔

لیکن پودوں کی تعداد میں اضافے کی بجائے تیزی سے کمی ماحول میں کاربن ڈائی آکسائڈ کو غیر متوازن کر رہی ہے۔ ضیائی تالیف کا عمل پودوں کے پاس قدرت کا وہ انمول تحفہ ہے جس سے نہ صرف وہ اپنی خوراک تیار کرتے ہیں بلکہ ماحول میں کاربن ڈائی آکسائڈ کی مقدار کا توازن بھی برقرار رکھتے ہیں۔ کاربن ڈائی آکسائڈ ایک خطرناک اور زیادہ مقدار میں پائی جانے والی گرین ہاؤس گیس ہے جو سورج کی شعاعوں کو جذب کرنے اور حرارت کی صورت میں ان کے اخراج کا سبب بنتی ہے۔

یہی وہ طریقہ کار ہے جس کی مدد سے کاربن ڈائی آکسائڈ اور دوسری کم مقدار میں پائی جانے والی گیسیں گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلیوں کا باعث بنتی ہیں۔ انسانی سرگرمیوں اور ان کی وجہ سے قدرتی توازن میں بگاڑ ہی ماحول میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کی اصل وجہ ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کے ہم ہر جگہ اور خاص طور پر شہری علاقوں میں انسانوں، جانوروں اور پودوں کی آبادی کے توازن کا خیال رکھیں۔ اس مقصد کے حصول کے لیے بظاہر انسانی آبادی پے قابو پانا مشکل نظر آتا ہے لیکن زیادہ سے زیادہ پودے لگانا اور ان نگہداشت کرنا نہایت آسان اور موثر عمل ہے۔

دوسری طرف ہمیں توانائی کے متبادل ذرائع تلاش کرنے ہوں گے تاکہ تیل کوئلہ اور گیس کو جلا کر توانائی کے حصول کا رجحان کم کیا جا سکے۔ بہت سے بین الاقوامی اور مقامی سائنس دان توانائی کے متبادل ذرائع کی تلاش کے اوپر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مقامی سطح پر موسمیاتی تبدیلیوں اور توانائی کے متبادل ذرائع پر کام کرنے والے اداروں اور سائنس دانوں کی حوصلہ افزائی کی جائے اور ان کو تمام ممکن وسائل فراہم کیے جائیں۔

پاکستان حکومت نے حال ہی میں موسمیاتی تبدیلیوں پر ہونے والی عالمی کانفرنس کی میزبانی کر کے احسن قدم اٹھایا ہے۔ لوگوں میں کاربن ڈائی آکسائڈ اور موسمیاتی تبدیلیوں کے بارے میں آگاہی کے لیے اسکول، کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر لیکچرز، اور ورک شاپس منعقد کی جانی چاہیں تاکہ آنے والی نسل اس مثلاً کا صحیح تجزیہ کر سکے اور اس کے حل کے لیے قدم بڑھا سکے۔

Facebook Comments HS