ایک بچے کی کہانی جس نے اپنی کمر سے زندگی کا بوجھ اُتار دیا
وہ دھیمی رفتار سے چلتا ہوا آیا اور عارضی طور پر بنائے گئے شمشان گھاٹ کے پاس آ کر رک گیا۔ وہ ننگے پاؤں تھا۔ اس کی پتھرائی ہوئی آنکھیں اور جذبات سے عاری چہرہ بتا رہا تھا کہ وہ درد کی شدت سے بھرا ہوا فاصلہ طے کر کے آیا ہے۔ اس کی عمر لگ بھگ دس سال تھی۔ یوں محسوس ہو رہا تھا کہ وہ اس جگہ کسی خاص وجہ سے آیا ہے۔ ایک ایسی جگہ جہاں موت کی گہری اداسی چھائی ہوئی تھی اور لاشوں کے جلنے کی تیز بو آ رہی تھی۔ اس نے اپنی پیٹھ پر ایک بچے کو کمر بند سے باندھ کر رکھا ہوا تھا۔ بچے کی عمر تین سال لگ رہی تھی اور وہ گہری نیند سو رہا تھا۔ دس منٹ تک وہ ایسے ہی کھڑا رہا۔
شمشان گھاٹ سے ایک شخص خاموشی سے چلتا ہوا اس کے پاس آیا۔ اس نے سفید نقاب سے اپنا چہرہ چھپایا ہوا تھا۔ قریب پہنچ کر اس نے بت بنے ہوئے لڑکے کا کمر بند کھولنا شروع کیا جو بچے کو تھامے ہوا تھا۔ گہری نیند میں سوئے ہوئے بچے کو الگ کیا اور واپس شمشان گھاٹ کی طرف چلا گیا۔ بچے نے کوئی حرکت نہیں کی۔ وہاں موجود دوسرے شخص نے آگے بڑھ کے بچے کو پکڑ لیا اور جلتی ہوئی آگ میں لٹا دیا۔ بچے کا جسم آگ میں جلنے لگا۔
لڑکے نے اسی پتھرائی ہوئی آنکھوں سے جلتے ہوئے بچے کو دیکھا اور اپنے نچلے ہونٹ کو دانتوں سے کاٹنا شروع کر دیا۔ ہونٹ سے خون کی لکیریں بہنا شروع ہو گئیں جو کہ آگ کی روشنی سے چمک رہی تھیں۔
آگ کے شعلے بچے کے جسم کو اپنی لپیٹ میں لے رہے تھے۔ وہ بالکل بے سدھ لیٹا ہوا تھا۔ پرسکون، گہری نیند میں، جیسے اپنی ماں کی آغوش میں ہو۔ اس کے جسم میں زندگی کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے تھے۔ آگ کی وجہ سے کچھ دیر کے لیے شمشان گھاٹ روشن ہوا۔ پھر روشنی مدھم ہونے لگی۔ ایک آخری شعلہ بلند ہوا، پھر وہ بھی بجھ گیا جیسے سورج غروب ہوتا ہے۔ اب وہاں اندھیرا ہونا شروع ہو گیا۔ چاروں طرف تازہ لاش کے جلنے کی بو پھیل رہی تھی۔ چھوٹا بچہ گہری نیند سے بیدار ہو کر راکھ بن گیا۔ زندگی کی راکھ، جو ہوا کے ایک جھونکے سے اڑنے لگی۔ پھر اندھیرے میں گم ہو گئی۔
وہ لڑکا بھی کچھ دیر کھڑا رہا، پھر واپس مڑا اور چلتا ہوا اندھیرے میں گم ہو گیا۔
یہ تصویر ایک امریکی ملٹری یونٹ کے نمائندہ جوئیے ڈونل نے جاپان کے شہر ناگاساکی میں ہوئے 9 اگست 1945 ء کے ایٹمی حملے کہ بعد لی تھی۔ ڈونل کو امریکہ کی طرف سے جاپان بھیجا گیا تھا تاکہ جاپانیوں پر ہوئے امریکی حملے پر ایک جامع رپورٹ مرتب کرے جو دستاویزی اور تصویر نگاری پر مشتمل ہو۔ ڈونل نے سات مہینے جاپان کے شہروں کا سفر کیا اور اپنی رپورٹ میں مرنے والوں، زخمیوں، بے گھر افراد کے متعلق معلومات اکٹھی کیں۔ ڈونل نے بے شمار تصاویر بنائیں لیکن اس تصویر نے اس کے دل پر انسانی تکلیف اور برداشت کے گہرے نقوش چھوڑے۔ کیوں کہ یہ ان تصاویر میں سے ایک ہے جو انسانی جذبات کی معراج کو ظاہر کرتی ہے کہ ایک بچہ کیسے جذباتی چوٹیوں کی بلندی تک پہنچا تھا۔
یہ اسی لڑکے کی تصویر ہے جو پیٹھ پر اپنے بھائی کی لاش لے کر آیا تھا۔ یہ تصویر دراصل ایک شکست خوردہ قوم کے جذبے کی عکاسی کرتی ہے جو بڑی سے بڑی مشکل کے سامنے بھی مضبوطی سے کھڑی ہوئی اور اپنی شکست کو بغیر کسی ذلت کے قبول کر لیا۔
06 اگست اور 09 اگست 1945 ء کے دن انسانی تاریخ کے بدترین دنوں میں شمار ہوتے ہیں جب امریکہ نے بالترتیب ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرایا تھا۔ جس نے دیکھتے ہی دیکھتے دو لاکھ سے زائد افراد کو بھیانک موت کی بھینٹ چڑھا دیا۔ بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں جو اعداد شمار بیان کیے ہیں اس کے مطابق اس واقعہ میں ریکارڈ شدہ اموات محض ایک تخمینہ ہیں لیکن یہ خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ ہیروشیما کی ساڑھے تین لاکھ آبادی میں سے تقریباً ایک لاکھ 40 ہزار افراد جبکہ ناگاساکی میں کم از کم 74 ہزار افراد ان حملوں میں ہلاک ہوئے تھے۔
لوگوں کے جسموں سے گوشت پگھل گیا، آنکھیں ابل کر باہر آ گئیں، ہڈیاں تک جل کر راکھ ہو گئیں اور جو بچ گئے وہ زندگی بھر کے لیے اپاہج ہو گئے۔ انسانوں کے ساتھ ساتھ چرند پرند بھی ایٹمی تابکاری کی زد میں آئے۔ عمارتیں، باغات، جھیل، چشمے سب کچھ ملیامیٹ ہو گیا صرف تباہی اور بربادی کی داستان باقی رہ گئی تھی۔
(اس واقعہ سے ماخوذ ایک جاپانی فلم ”جگنوؤں کی قبر“ (Grave of the Fireflies) جو کہ 1988 ء میں ریلیز ہوئی تھی اور اس کی آئی ایم ڈی بی پر ریٹنگ بھی 8، 5 / 10 ہے۔ یہ فلم ایک نوجوان لڑکے اور اس کی چھوٹی بہن کی جاپان میں زندہ رہنے کی جدوجہد پر مبنی ہے )


